برطانوی ہندوستان کے انوکھے فسادات: جب ہندو مسلمان اتحاد نے بمبئی کی اقلیتی برادریوں کو خوف میں مبتلا کر دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سو سال قبل بمبئی شہر، جسے اب ممبئی کے نام سے جانا جاتا ہے، برطانوی ہندوستان کی تاریخ کے انوکھے ترین فسادات کا شکار ہوا۔ برطانیہ کے پرنس آف ویلز کے دورہ بمبئی سے شروع ہونے والے ان فسادات کی انوکھی بات یہ تھی کہ مسلمان اور ہندو شانہ بشانہ ہو کر شہر میں آباد اقلیتی قومیتوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔
انڈین مؤرخ دنیار پٹیل لکھتے ہیں کہ سنہ 1921 میں ہونے والے ان فسادات اب ممبئی میں قصہ پارینہ بن چکے ہیں لیکن اس تاریخ سے مذہبی عدم برداشت اور اکثریت کی حکمرانی کے موجودہ ماحول میں اہم سبق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ان فسادات کا مرکز تین شخصیات تھیں جن میں سے ایک مستقبل کے برطانیہ کے بادشاہ پرنس آف ویلز تھے، ایک ہندوستان کی آذادی کے سرکردہ رہنما موہن داس کرم چندگاندھی اور ایک زوال پذیر سلطنت عثمانیہ کے سلطان تھے۔
جیسے یہ شخصیات مختلف تھیں ویسے ہی ان فسادات کے پیچھے کارفرما مقاصد اور نظریات بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔
ایک طرف گاندھی جی کا سواراج اور سوادیش کا نعرہ تھا تو دوسری طرف مسلمانوں کی تحریک خلافت۔ ایک اور متنازع معاملہ شراب کی ممانعت کا بھی تھا جس نے فسادات کے دوران عملاً جلتی پر تیل کا کام کیا۔
ہندو مسلمان اتحاد جس نے بمبئی کی اقلیتی برادریوں کو خوف میں مبتلا کر دیا
1921 میں مستقبل کے بادشاہ پرنس آف ویلز نے برطانوی ہندوستان کے دورے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستان میں سیاسی طور پر یہ کافی متحرک وقت تھا۔ ایک طرف گاندھی کی عدم تعاون کی تحریک عروج پر تھی تو دوسری طرف پہلی جنگ عظیم میں ترکی کی شکست کے بعد خلافت کے حق میں مسلمانوں کی تحریک بھی جاری تھی یعنی برطانوی راج کو ہندوستان میں ایک عرصے بعد ایک بڑے چیلنج کا سامنا تھا۔
ہندوستان میں مسلمانوں کو اس بات کا خدشہ تھا کہ برطانیہ سلطنت عثمانیہ کو شکست دینے کے بعد نظام خلافت بذور بازو ختم کرنے والا ہے۔ انھی حالات میں ہندو مسلمان اتحاد کا نعرہ لگا کر گاندھی نے تحریک خلافت کے سرکردہ رہنماوں کا ساتھ دینا شروع کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پرنس آف ویلز کا خیال تھا کہ ایسے وقت میں ہندوستان کے دورے سے عدم تعاون تحریک کمزور ہو گی اور برطانوی راج کے حامیوں کو بھی حوصلہ ملے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس غیر معمولی اتحاد نے جہاں وقتی طور پر ہندو مسلمان بھائی چارے کی ایک نئی مثال قائم کی وہیں اقلیتی گروہوں کو اس خوف کا شکار بھی کر دیا کہ وہ اکثریتی اتحاد کا نشانہ نہ بن جائیں۔ ان اقلیتوں میں بمبئی کی سکھ، پارسی اور مسیحی برادریاں شامل تھیں۔
گاندھی نے اس وقت بیان دیا کہ ہندو مسلم اتحاد کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دو اکثریتی گروہ اقیلیتی برادریوں پر غلبہ حاصل کر لیں گے اس لیے انھیں خوفذدہ ہونے کی ضرور نہیں۔
پرنس آف ویلز کے استقبال نے ہنگامہ کھڑا کر دیا
پرنس آف ویلز کے دورے کے اعلان کے ساتھ ہی کانگریس جماعت نے بمبئی میں ان کی آمد پر ہڑتال کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کپڑا جلانے کا اعلان بھی کیا جسے برطانوی سامراجیت کی علامت تصور کیا جاتا تھا۔
لیکن 17 نومبر 1921 کو بمبئی کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے ہڑتال کے باوجود پرنس آف ویلز کے استقبالیے میں شرکت کی۔ ان میں سے اکثر کا تعلق بمبئی کی پارسی، یہودی اور اینگلو اینڈین برادری سے تھا۔
گاندھی کی جانب سے ہڑتال کو پر امن رکھنے کی ہدایات کے باوجود کانگریس اور خلافت تحریک نے اس استقبالیے میں شرکت پر پرتشدد ردعمل دیا۔ انڈیا کی پہلی خاتون فوٹوجرنلسٹ ہومائی ویاراولا ان واقعات کی چشم دید گواہ تھیں۔
2008 میں مجھے انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ سکول کی طالب علم پارسی بچیوں نے پرنس آف ویلز کے استقبال میں ایک روایتی رقص بھی پیش کیا تھا۔ اگلے چند دنوں میں انھوں نے بمبئی کی گلیوں میں باقاعدہ جھڑپیں ہوتی دیکھیں۔ ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے سوڈے کی بوتلوں کے سنگ مرمر کے ڈھکن گولیوں کی طرح استعمال کیے، پارسیوں کی شراب کی دکانوں پر پتھر پھینکے اور انھیں آگ لگانے کی دھمکی دی۔
’ایک طرف ہندو اور مسلمان اور دوسری طرف پارسی اور اینگلو اینڈین‘
گاندھی نے عدم تعاون کی تحریک کے دوران کافی کوشش کی کہ وہ پارسی برادری کو اس بات پر قائل کر لیں کہ وہ اپنی شراب کی دکانیں بھی خود ہی بند کر دیں۔
جیسے ہی بمبئی میں فسادات شروع ہوئے، ہندو اور مسلمان بلوائیوں نے پارسی شراب خانوں کو نشانے پر رکھ لیا جن کو وہ ان کی معاشی برتری اور تحریک آذادی کی مخالفت کی علامت سمجھتے تھے۔
ایک جگہ تو انھوں نے ایک پارسی رہائشی عمارت کو جلا کر راکھ کرنے کی دھمکی بھی دی جس کے گراونڈ فلور پر شراب کی دکان تھی۔ وہ تب تک پیچھے نہیں ہٹے جب تک دکان کے مالک نے ساری شراب گلی کے گٹر میں بہا نہیں دی۔

اس سارے ہنگامے کے دوران پارسی اور اینگلو انڈین خاموش تماشائی نہیں بنے رہے۔ ان میں سے اکثر نے بندوقوں اور بانس کی لاتھیوں سے لیس ہو کر ہر اس شخص پر حملہ کیا جو انھیں کھاڈی پہنے مل جاتا تھا۔
یہ ہنگامے ان پارسی اور مسیحی افراد پر بھاری گزرے جن کا تعلق کانگریس سے تھا کیونکہ وہ دونوں اطراف سے ہی نشانہ بن جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
گاندھی کی پہلی بھوک ہڑتال نے فسادات کو ٹھنڈا کر دیا
ایسے میں گاندھی نے مختلف برادریوں کے سربراہان کو اکھٹا کیا اور شہر میں امن بحال کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔
19 نومبر کو گاندھی نے مذہبی فسادات کے خلاف اپنی سب سے پہلے بھوک ہڑتال کا آغاز کر دیا اور اعلان کیا کہ جب تک تشدد ختم نہیں ہو گا وہ کچھ کھائیں گے نا پئیں گے۔
اس اعلان نے کام کر دکھایا اور تین دن بعد 22 نومبر کو گاندھی نے مختلف برادریوں کے نمائندوں کے درمیان اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہندو مسلم اتحاد کے بعد ہندو، مسلم، سکھ، پارسی، مسیحی، یہودی اتحاد کا نعرہ
لیکن ان فسادات نے انھیں اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس تلخی میں انھوں نے کہا کہ ’ہم نے سواراج کا پہلا ذائقہ چکھ لیا ہے‘ کیوںکہ انھیں اس بات کا انداذہ ہو گیا تھا کہ اکثریتی حکمرانی نے اقلیتوں کے خدشات کو درست ثابت کر دیا تھا۔
گاندھی نے کانگریس اور تحریک خلافت کے مقامی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ وہ اقلیتی برادری کے حقوق کا خیال رکھیں اور انھیں ان کے نقصان کا معاوضہ ادا کریں۔
انھوں نے کہا کہ اکثریت کا فرض ہے کہ وہ اقلیت کا خیال کرے۔ یہی نہیں، گاندھی نے کانگریس کی مطبوعات اور اجلاسوں میں بھی اقلیتوی برادی کے نمائندگان کو موقع دینا شروع کیا جنھوں نے گاندھی کی تحریک اور اکثریتی حکمرانی سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
آہستہ آہستہ گاندھی نے ہندو مسلم اتحاد کے نعرے کی جگہ ہندو مسلم سکھ پارسی مسیحی یہودی اتحاد کا نعرہ لگانا شروع کر دیا۔ یہ ایک بے وزن سا نعرہ تھا لیکن اس نعرے نے اقلیتی برادری کو اس بات کا یقین دلا دیا کہ آذاد انڈیا میں ان کی بھی جگہ ہے۔
ان فسادات میں 58 اموات ہوئیں جب کہ بمبئی میں چھ شراب خانوں پر حملے ہوئے۔ پرنس آف ویلز کا دورہ ان فسادات کے بعد کامیاب نہیں ہو سکا۔ وہ ہندوستان میں جہاں بھی گئے ان کا استقبال ہڑتالوں اور قتل کی دھمکیوں سے کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بمبئی کے فسادات میں موجودہ انڈیا کے لیے کیا سبق چھپا ہے؟
بمبئی کے ان فسادات کو آج سب ہی بھول چکے ہیں لیکن اس کی ایک بڑی وجہ گاندھی کی وہ امن سفارت کاری تھی جس نے بمبئی میں لگنے والی آگ کو مزید پھیلنے سے روک دیا۔
اس میں سب سے بڑا سبق تو یہی ہے کہ نسلی فسادات کی بنیاد سیاست ہے نہ کہ قدیم اور نا ختم ہونے والے مذہبی اختلافات۔ سنہ 1921 میں سیاسی موڈ ہی تھا جس نے ہندو اور مسلمانوں کو دوسری برادریوں کے خلاف اکسایا۔ چند ہی سال بعد جب کانگریس اور خلافت تحریک کا تعاون ختم ہو چکا تھا تو ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
ایک اور سبق یہ بھی ہے کہ اکثریتی حکمرانی کی بنیاد کمزور ہوتی ہے جس کے غیر متوقع نتائج نکل سکتے ہیں جیسا کہ 1920 میں بمبئی کی گلیوں میں ہوا۔
شاید اسی لیے گاندھی نے اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ پر بہت زور دیا۔ سو سال پہلے انھوں نے خبردار کیا تھا کہ ’اگر آج اکثریت اقلیت کے خلاف اکھٹی ہو جائے گی تو پھر کل ان کا اتحاد بھی مذہبی اختلافات کے دباو تلے ٹوٹ کر بکھر سکتا ہے۔‘









