انڈین کسانوں کا احتجاج: مودی کا متنازع زرعی قوانین واپس لینے کا فیصلہ، کسانوں کا عملدرآمد تک احتجاج جاری رکھنےکا اعلان

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اُن تین متنازع زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے جن کے خلاف گذشتہ ایک سال سے ملک میں کسان احتجاج کر رہے تھے۔

یونائیٹڈ کسان مورچہ نے نریندر مودی کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنا احتجاج فوری طور پر ختم نہیں کریں گے اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے اس اعلان پر عملدرآمد ہونے کا انتظار کریں گے۔

کسانوں کی تحریک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ انڈیا میں ایک سال سے زائد عرصے سے جاری کسانوں کی جدوجہد کی ایک تاریخی فتح ہوگی۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعے کو قوم سے خطاب میں متنازع زرعی قوانین واپس لینے کا اعلان کیا۔

انھوں نے کہا کہ ‘آج میں پورے ملک کو یہ بتانے آیا ہوں کہ ہم نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہینے کے اواخر میں شروع ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں ہم ان تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کا آئینی عمل مکمل کریں گے۔‘

واضح رہے کہ انڈین ریاستوں پنجاب، ہریانہ، اُترپردیش، راجستھان اور کئی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کسان ان متنازع قوانین کے خلاف گذشتہ ایک سال سے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے باہر احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے تھے۔

کسانوں کا موقف تھا کہ انڈیا کی حکومت کی جانب سے زرعی اصلاحات کے نام پر متعارف کروائے جانے والے ان قوانین کی منظوری کے بعد زراعت کے شعبے میں نجی سیکٹر کے افراد اور کمپنیوں کے داخلے کا راستہ کھل جائے گا جس سے ان کی آمدن متاثر ہو گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ان قوانین کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہماری حکومت کسانوں بالخصوص چھوٹے کسانوں کی فلاح اور شعبہ زراعت کے مفاد میں دیہی علاقوں اور غریبوں کے بہتر مستقبل کے لیے پوری نیک نیتی کے ساتھ یہ قوانین لے کر آئی تھی۔‘

‘ہم اپنی کوششوں کے باوجود کچھ کسانوں کو ان قوانین کے بارے میں صحیح سے سمجھا نہیں سکے اس بات سے قطع نظر کہ زرعی ماہرین، ماہر اقتصادیات اور ترقی پسند کسانوں نے بھی انھیں ان قوانین کی افادیت کے بارے میں سمجھانے کی پوری کوشش کی۔ یہ قوانین کسانوں کے حالات بہتر کرنے کے لیے متعارف کروائے گئے تھے۔‘

کسان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکسان رہنما یوگیندر یادو: ’اس فیصلے سے یہ واضح ہے کہ کسانوں کو اس ملک میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘

کسانوں کے ایک رہنما یوگیندر یادو نے تینوں قوانین واپس لیے جانے کے فیصلے کو ‘کسانوں کی تاریخی جیت‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘اس فیصلے سے یہ واضح ہے کہ کسانوں کو اس ملک میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

کسانوں کی نمائندہ تنظیم ’متحدہ کسان مورچہ‘ نے وزیر اعظم مودی کے اس اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا احتجاج فی الفور ختم نہیں کریں گے۔

اپنے ایک تحریری بیان میں متحدہ کسان مورچہ نے کہا ہے کہ ان کا احتجاج صرف نئے زرعی قوانین کے حوالے سے نہیں تھا بلکہ حکومت سے فصلوں کی کم از کم قیمت کی قانونی ضمانت پر بھی بات کی گئی تھی جس کے حوالے سے فی الحال کوئی یقین دہانی نہیں کروائی گئی ہے۔

نمائندہ تنظیم نے کہا کہ وہ پارلیمان سے ان قوانین کی باقاعدہ منسوخی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

کانگریس کی رہنما امبیکا سونی نے کہا کہ ‘حکومت کو کسانوں کے دباؤ میں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ حکومت نے تو ان کے خلاف ہر حربہ استعمال کیا تھا۔ یہ قوانین تو بہت پہلے واپس لیے جانے چاہیے تھے۔‘

اس احتجاج کے دوران انڈیا کی حکومت اور کسانوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بھی جاری رہا لیکن مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی کیونکہ انڈیا کے حکومتی وزرا کا یہی کہنا تھا کہ ان قوانین سے زراعت کا شعبہ ترقی کرے گا۔

وزیر اعظم نریندرا مودی کی جانب سے ان قوانین کے خاتمے کو کسانوں کی تنظیمیں ایک بڑی فتح کے طور پر دیکھ رہی ہیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کے پیچھے اصل وجہ آنے والے دنوں میں پنجاب اور اتر پردیش کی ریاست میں ہونے والے انتخابات ہیں۔

ان دونوں انڈین ریاستوں میں ان کسانوں کی بڑی تعداد ہے جو ان قوانین سے خوش نہیں اور بہت سے لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اسی لیے اس موقع پر انڈین حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

متنازع زرعی قوانین کیا تھے؟

کسان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنان قوانین کے خلاف گذشتہ ایک سال سے کسانوں کا احتجاج اور دھرنا جاری تھا

مودی سرکار نے جو تین قوانین لگ بھگ ایک برس قبل متعارف کروائے تھے ان کی تفصیل کچھ یوں ہے:

  • پہلے تو دی فارمرز پروڈیوس ٹریڈ اینڈ کامرس (پروموشن اینڈ فیلیسیٹیشن) 2020 کے قانون کے مطابق کسان اے پی ایم سی یعنی ایگری کلچر پروڈیوس مارکیٹ کمیٹی کے ذریعہ مطلع شدہ منڈیوں کے باہر اپنی پیداوار دوسری ریاستوں کو ٹیکس ادا کیے بغیر فروخت کر سکتے تھے۔
  • دوسرا قانون تھا فارمرز اگریمنٹ آن پرائز انشورنس اینڈ فارم سروس ایکٹ 2020 (ایمپاورمنٹ اینڈ پروڈکشن)۔ اس کے مطابق کسان کانٹرکٹ فارمنگ یعنی معاہدہ کاشتکاری کر سکتے ہیں اور براہ راست اس کی مارکیٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔
  • تیسرا قانون تھا سسینشیل کموڈیٹیز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2020۔ اس میں پیداوار، ذخیرہ کرنا، اناج، دال، کھانے کے تیل اور پیاز کو غیر معمولی حالات میں فروخت کے علاوہ کنٹرول سے باہر کر دیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر یہ اصلاحات زرعی اجناس کی فروخت، ان کی قیمت کا تعین اور ان کے ذخیرہ کرنے سے متعلق طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے بارے میں تھیں جو ملک میں طویل عرصے سے رائج ہیں اور جن کا مقصد کسانوں کو آزاد منڈیوں سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔

واپس لیے جانے والے قوانین کے تحت نجی خریداروں کو یہ اجازت حاصل ہونی تھی کہ وہ مستقبل میں فروخت کرنے کے لیے براہ راست کسانوں سے ان کی پیداوار خرید کر ذخیرہ کر لیں۔

پرانے طریقہ کار میں صرف حکومت کے متعین کردہ ایجنٹ ہی کسانوں سے ان کی پیداوار خرید سکتے تھے اور کسی کو یہ اجازت حاصل نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ان قوانین میں 'کانٹریٹک فارمنگ' کے قوانین بھی وضع کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے کسانوں کو وہی اجناس اگانا تھیں جو کسی ایک مخصوصی خریدار کی مانگ کو پورا کریں گی۔

ان قوانین کے ذریعے سب سے بڑی تبدیلی یہ آنی تھی کہ کسانوں کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنی پیداوار کو منڈی کی قیمت پر نجی خریداروں کو بیچ سکیں۔ ان میں زرعی اجناس فروخت کرنے والی بڑی کمپنیاں، سپر مارکیٹیں اور آئن لائن پرچون فروش شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس وقت انڈیا میں کسانوں کی اکثریت اپنی پیداوار حکومت کی زیر نگرانی چلنے والی منڈیوں میں ایک طے شدہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔

یہ منڈیاں کسانوں، بڑے زمینداروں، آڑھتوں اور تاجروں کی کمیٹیاں چلاتی ہیں جو کسانوں اور عام شہریوں کے درمیان زرعی اجناس کی ترسیل، ان کو ذخیرہ کرنے اور کسانوں کو فصلوں کے لیے پیسہ فراہم کرنے کا کام بھی کرتے ہیں۔

یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے کچھ قواعد اور اصول ہیں اور جس میں ذاتی اور کارروباری تعلقات کا بھی بہت عمل دخل ہے۔۔

نئی اصلاحات کہنے کی حد تک تو کسانوں کو یہ سہولت فراہم کرتی ہیں کہ وہ روایتی منڈیوں سے ہٹ کر بھی اپنی پیداوار فروخت کر سکتے ہیں۔

حکومت کا کہنا تھا کہ نئے قانون کی مدد سے کسانوں کو مزید آپشن ملیں گے اور ان کو قیمت بھی اچھی ملے گی۔

اس کے علاوہ زرعی منڈیوں، پروسیسنگ اور بنیادی ڈھانچے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاہم کسانوں کا موقف تھا کہ نئے قانون سے ان کا موجودہ تحفظ بھی ختم ہو جائے گا۔

نئے قوانین پر کسانوں کے اعتراضات کیا تھے؟

کسان

،تصویر کا ذریعہEPA

کسانوں کو سب سے زیادہ تشویش اس بات پر تھی کہ نئے قوانین کے تحت آڑھت کی منڈیاں ختم ہو جائیں گی۔ آڑھت سے مراد لین دین کروانے والا شخص یا مڈل مین ہے۔

نمائندہ کسان تنظیموں کے مطابق آڑھت منڈیاں کے خاتمے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگر انھیں نجی خریدار مناسب قیمت ادا نہیں کریں گے تو ان کے پاس اپنی پیداوار کو منڈی میں فروخت کرنے کا راستہ نہیں ہو گا اور ان کے پاس سودے بازی کرنے کے لیے کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔

انڈیا کی ریاست پنجاب کے ایک کسان ملتان سنگھ رانا نے بی بی سی پنجابی سروس کو وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انھیں خدشہ یہ ہے کہ ابتدا میں کسانوں کو اپنی اجناس نجی خریداروں کو فروخت کرنے کی ترغیب دی جائے گی اور چند برس میں منڈی ختم ہو جائیں گی جس کے بعد کسان ان نجی خریداروں اور کاروباری اداروں کے رحم و کرم پر ہوں گے اور وہ جو چاہیں گے وہ قیمتیں لگائیں گے۔

ایک کسان سکھ دیو سنگھ کوکری نے بی بی سی پنجابی سروس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ چھوٹے اور درمیانی سطح کے کسانوں کے لیے موت کا پروانہ ہے ۔ اس کا مقصد بڑی کارپوریشن کو زراعت اور منڈیاں حوالے کرنا ہے جس سے کسان ختم ہو جائیں گے۔ وہ ہماری زمین چھیننا چاہتا ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘