حیدرپورہ پولیس مقابلہ: چار افراد کی ہلاکت پر پولیس کے دعوؤں پر اٹھنے والے سوالات کے بعد عدالتی تحقیقات کا حکم

- مصنف, ماجد جہانگير
- عہدہ, بی بی سی، جموں
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سرینگر میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں چار افراد کی ہلاکت کے بعد پولیس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے انتہا پسندوں کے ایک نیٹ ورک کو بےنقاب کیا ہے تاہم انتظامیہ نے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پولیس نے حیدرپورہ کے علاقے میں دو شدت پسندوں اور ان کے دو ساتھیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ’حیدر پورہ پولیس مقابلے کی عدالتی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے جو اے ڈی ایم رینک کا افسر کرے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جیسے ہی رپورٹ پیش کی جائے گی حکومت اس معاملے میں مناسب کارروائی کرے گی۔‘
عدالتی تحقیقات کا حکم ہلاک ہونے والے چار میں سے تین افراد کے لواحقین کی جانب سے احتجاج اور پولیس کے دعوے مسترد کیے جانے کے بعد دیا گیا ہے۔ ان لواحقین کا مطالبہ ہے کہ ان کے پیاروں کی لاشیں ان کے حوالے کی جائیں۔
واقعے میں ہلاک ہونے والے محمد الطاف بٹ، ان کے کرایہ دار مدثر گل اور گل کے معاون عامر ماگرے کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ یہ پولیس مقابلہ نہیں نہیں بلکہ قتل ہے۔
پیر کی شام تقریباً چھ بجے پولیس نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ’سرینگر کے علاقے حیدرپورہ میں انکاؤنٹر کا آغاز کیا گیا ہے جس میں پولیس اور سکیورٹی حکام شامل ہیں۔‘
کچھ دیر بعد پولیس نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایک انتہا پسند کو ہلاک کیا ہے۔ ایک ٹویٹ میں پولیس نے بتایا کہ ’(انکاؤنٹر میں) ایک نامعلوم شدت پسند مارا گیا ہے۔‘ پھر پولیس نے ایک ٹویٹ میں ایک اور نامعلوم شدت پسند کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
گذشتہ رات پولیس نے ایک اور ٹویٹ کیا جس میں کہا گیا کہ اس گھر کا مالک جسے شدت پسندوں نے زخمی کر دیا تھا وہ ہلاک ہو گیا ہے۔
’شدت پسند افراد گھر کے اوپر والی منزل پر چھپے ہوئے ہیں۔ معلومات کے تحت یہ شخص شدت پسندوں کا سہولت کار تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہMAJID JAHANGIR/BBC
ہلاک ہونے والے شخص کے خاندان نے کیا بتایا؟
ہلاک ہونے والے شخص الطاف احمد بٹ کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’میرا بھائی برسوں سے اپنا کام کر رہا تھا۔ اس کی دکان کے قریب سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہمیشہ تعینات رہتے تھے۔ یہ اس دن پانچ بجے کا واقعہ ہے۔
’میرا بھائی الطاف احمد اپنی دکان پر بیٹھا تھا کہ سکیورٹی اہلکار اس کے پاس آئے اور کہا کہ دکان کا شٹر بند کر دو۔ اس کے بعد وہ اسے قریب ایک موٹر سائیکل شوروم پر لے گئے اور اسے وہیں رکھا۔ وہاں اور لوگ بھی رکھے گئے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس شوروم میں تقریباً 30 افراد کو رکھا گیا تھا۔ عامر اور مدثر کو بھی شوروم میں رکھا گیا تھا۔ انھوں نے میرے بھائی کو بتایا کہ یہ ایک سرچ آپریشن ہے اور اب اس عمارت کی چھان بین کی جائے گی۔ الطاف احمد بھی ان کے ساتھ گیا اور عمارت میں چھان بین کی۔ سرچ آپریشن سے واپسی پر انھیں دوبارہ شو روم پر بٹھا دیا گیا۔‘
اس واقعے کے ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ ’قریب پانچ بجے دو گاڑیوں میں پولیس اور فوج کے لوگ سادہ لباس میں آئے اور ہم تمام افراد (تقریباً 30 لوگ) کے موبائل فون ضبط کر لیے۔ انھوں نے ہمیں 50 میٹر دور ایک موٹر سائیکل شو روم پر رکھا۔۔۔ الطاف کو واپس اس عمارت میں لے جایا گیا۔ اس بار مدثر الطاف کے ساتھ گئے اور تقریباً 20 منٹ بعد ہمیں گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔ اس کے بعد وہ واپس نہیں آئے۔‘
ایک دوسرے عینی شاہد کا کہنا ہے کہ ’قریب پانچ بجے فرن (کشمیری لباس) پہنے سکیورٹی اہلکار آئے اور سب کے فون چھین لیے۔ کچھ دیر بعد وہ الطاف اور مدثر کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اور کچھ دیر بعد فائرنگ کی آواز آئی اور دونوں واپس نہیں لوٹے۔‘
مدثر گل کی اہلیہ حمیرا گل نے بدھ کو سرینگر میں احتجاج کے دوران مطالبہ کیا کہ یہ ثابت کیا جائے کہ ان کے شوہر شدت پسدنوں کی مدد کر رہے تھے۔ حمیرا گل نے بتایا ہے کہ ان کے شوہر ایک ڈینٹسٹ (دانتوں کے ڈاکٹر) ہیں اور ان کا مکمل نام ڈاکٹر مدثر گل ہے۔

’ہمیشہ شدت پسندوں کے خلاف کام کیا ہے‘
پیر کے واقعے میں 24 سالہ عامر مگرے بھی ہلاک ہوئے جو ڈاکٹر مدثر گل کے ساتھ بطور ہیلپر کام کرتے تھے۔ عامر کے والد عبدالطیف مگرے نے بی بی سی کو بتایا کہ عامر رواں سال مئی سے مدثر گل کے لیے کام کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ „میرا بیٹا دیوبند دارالعلوم میں پڑھتا تھا۔ جب کورونا کا پہلا لاک ڈاؤن لگا تو عامر گھر واپس آیا۔ اس کے بعد وہ ڈاکٹر گل کے ساتھ کام کرنے لگا۔
یہ بھی پڑھیے
’میری بیٹی اور داماد اسی عمارت میں کرائے پر رہتے تھے جہاں ڈاکٹر گل کا دفتر تھا۔ عامر نے ان کے ذریعے وہاں نوکری شروع کی۔ پولیس نے واقعے کے دوسرے روز ہمیں سرینگر بلایا اور بیٹے کی شناخت کروائی۔ جب میں نے آدھار کارڈ دیکھا تو یہ میرے بیٹے کا تھا۔ پولیس نے کہا کہ بیٹے کی لاش وہاں نہیں ہے کیونکہ وہ ایک شدت پسند تھا۔‘
سنہ 2005 میں شدت پسندوں نے عبدالطیف مگرے کے گھر پر حملہ کیا تھا اور اس میں ان کے بھائی کی ہلاکت ہوئی تھی۔ مگرے خود اس حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔ اس دوران انھوں نے اپنے دفاع میں پتھر پھینک کر ایک شدت پسند کو ہلاک کر دیا تھا۔
عبدالطیف مگرے کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ ان کا بیٹا شدت پسند تھا تو انھیں اور ان کے خاندان کو بھی ہلاک کر دیا جائے۔
حالیہ صورتحال میں مگرے کے گھر کے باہر سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ وہ رامبان ضلع کے چیتھرکا علاقے میں مقیم ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی تمام زندگی بطور انڈین شہری گزاری ہے اور ہمیشہ فوج کے ساتھ مل کر شدت پسندوں کے خلاف کام کیا ہے۔
پولیس نے کیا بتایا ہے؟
سرینگر سے 70 کلومیٹر دور ہندوارہ میں ان چار افراد کو دفن کیا گیا ہے جو حیدرپورہ میں ہلاک ہوئے تھے۔
گذشتہ دو سے تین برسوں کے دوران پولیس ہلاک ہونے والے میبنہ شدت پسندوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے نہیں کر رہی۔ تاہم اس واقعے میں ہلاک ہونے والے تین افراد کے اہل خانہ ان کی لاشوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کشمیر کے انسپیکٹر جنرل وجے کمار نے منگل کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ ’ہم اس جگہ کے مکمل پتے سے آگاہ نہیں تھے۔ مکان مالک اور کرایہ دار کو بلایا گیا تھا۔ مکان مالک کا نام الطاف احمد ڈار ہے اور جو وہاں کاروبار کرتے تھے ان کا نام مدثر گل ہے۔
’دونوں نے دروازے پر دستک دی مگر شدت پسندوں نے دروازہ نہیں کھولا۔ شدت پسندوں نے دروازہ کھول کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی تھی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری سرچ ٹیم نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی اور انکاؤنٹر شروع ہوا۔ پھر ہم نے انکاؤنٹر روکا اور وہاں سے دو شہریوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ لیکن جہاں ہم کھڑے تھے وہاں سے نکلنا مشکل تھا۔
’دونوں شدت پسند اس انکاؤنٹر میں زخمی ہوئے اور ہلاک ہو گئے۔ ان میں سے ایک بلال عرف حیدر ہے جو پاکستانی شہری ہے اور دوسرا شاید بانہال یا رام بن کا مقامی شہری ہے۔ ہم ان کے اہل خانہ کو بلا رہے ہیں تاکہ ان کی شناخت ہو سکے۔‘
وجے کمار نے کہا کہ الطاف احمد نے مدثر گل کو کرائے پر تین کمرے دے رکھے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مدثر گل ایک بزنس مین تھا جو غیر قانونی کال سیٹر چلا رہا تھا۔ ہم نے وہاں سے کافی سامان ضبط کیا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ پولیس کو دو پستول، تین میگزین، چھ موبائل فون اور کچھ کپڑے ملے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مدثر اپنے کاروبار کے نام پر شدت پسندوں کا ایک نیٹ ورک چلا رہا تھا اور وہ جنوبی کشمیر سے شمالی کشمیر تک شدت پسند لاتا تھا اور انھیں اپنے گھر پر رکھتا تھا۔
وجے کمار کے مطابق حال ہی میں ایک پولیس اہلکار کو سرینگر کے مرکزی علاقے میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا اور اس واقعے میں شدت پسند ملوث تھے۔ انھوں نے بتایا کہ مدثر حیدرپورہ میں اپنے کار میں شدت پسندوں کو اپنے دفتر لائے تھے۔

سیاسی جماعتوں کا ردعمل
سابق ممبر پارلیمان اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رہنما یوسف تاریگامی نے حیدرپورہ کیس میں جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ لواحقین کو ان کے پیاروں کی لاشیں لوٹائی جائیں۔
سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’حیدرپورہ انکاؤنٹر میں شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اس انکاؤنٹر اور اس میں ہلاک ہونے والے افراد سے متعلق کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔‘
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’معصوم شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا، انھیں کراس فائرنگ میں مار دینا اور انھیں او جی ڈبلیو (اوور گراؤنڈ ورکر) قرار دینا انڈین حکومت کی رول بُک کا حصہ بن گیا ہے۔ قابل اعتماد جوڈیشل انکوائری ضروری ہے تا کہ سچ سامنے آ سکے اور استثنیٰ کی روایت ختم ہو سکے۔‘







