انڈیا کی بنگلہ دیش سے متصل ریاست تریپورہ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے واقعات کی وجہ کیا ہے؟

تریپورہ کی ایک مسجد کا ایک حصہ
    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی، دلی

'گھر میں صرف میرا چار سالہ بچہ اور بیوی تھے۔ انھیں پیچھے کے راستے سے وہاں سے اندھیرے میں بھاگنا پڑا۔‘

انڈیا کی ریاست تریپورہ کے اناکوٹی ضلع کے سرحدی قصبے کیل شہر میں رہنے والے عبدالمنان نامی تاجر بتاتے ہیں کہ منگل کی رات ساڑھے بارہ بجے ایک ہجوم نے ان کے گھر پر حملہ کر دیا اور توڑ پھوڑ کی جس کے نتیجے میں ان کی فیملی کو گھر سے بھاگنا پڑا۔ وہ خود اس وقت گھر پر نہیں تھے اور ریاستی دارالحکومت اگرتلہ میں تھے۔

بنگلہ دیش کے مشرقی حصے سے متصل انڈیا کی ریاست تریپورہ ایک ہفتے سے تشدد کی لپیٹ میں ہے جہاں بسنے والے مسلمانوں کے گھروں، کاروباروں اور مساجد پر حملے اور توڑ پھوڑ کے متعدد شواہد سامنے آرہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس اور مقامی لوگوں کے مطابق کم از کم ایک درجن مساجد میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے یا انھیں جلایا گیا ہے اور متعدد مقامات پر مسلمانوں کے گھروں اور کاروبار پر حملے کیے گئے ہیں۔ ابھی تک کسی گرفتاری کی کوئی خبر نہیں آئی ہے۔

تریپورہ میں ہندوؤں کی اکثریت ہے، جن میں سے ایک قابل ذکر تعداد بنگلہ دیش سے ہجرت کرنے والے ہندوؤں کی ہے۔ مقامی لوگ تریپورہ میں حالیہ تشدد کو پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد کے حالیہ واقعات کے ردعمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش کے ضلع کومیلا میں ایک پوجا پنڈال میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کی اطلاعات کے بعد ملک بھر میں ہندوؤں کے خلاف کئی پُرتشدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔

واضح کر دیں کہ بنگلہ دیش نے تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سختی سے کارروائی کی ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے تشدد کے واقعات کے فوراً بعد ملک کی ہندو برادری سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ حکومت نے کئی گرفتاریاں کیں اور وزرا نے متاثرہ ہندوؤں سے ملاقات بھی کی۔

عبدالمنان نے تفتیش کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کے حوالے کر دی ہے لیکن انھیں اپنی حفاظت سے متعلق تشویش ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں 44 سال کا ہوں لیکن میں نے یہاں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اب تو رہنا مشکل ہو گیا ہے، اور کوئی کام کیا کرے گا آدمی۔‘

اس حملے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے ایک رات میں مبینہ طور پر 'وشو ہندو پریشد' (وی ایچ پی) کے ارکان نے ان کے گھر پر بھگوا جھنڈا لگا دیا تھا۔

عبدالمنان ایک معروف تاجر ہیں اور ریاستی اسمبلی کے ایک ممبر کے خاص رشتہ دار ہیں لیکن پھر بھی یہ ان کے گھر پر حملے روکنے کے لیے ناکافی تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم جہاں رہتے ہیں وہاں مسلمانوں کے صرف پانچ سے 10 گھر ہیں۔ اگر ایسے ہی رہا پھر تو یہاں سے وہاں جانا پڑے گا جہاں مسلمان زیادہ آبادی میں ہیں۔‘

ریاست میں مسلمانوں کی تعداد 10 فیصد سے بھی کم ہے اور وہ کسی ایک جگہ نہیں بلکہ ان کی آبادی پوری ریاست میں پھیلی ہوئی ہے۔

اگرچہ ریاست گزشتہ کئی برسوں سے پرامن ہے لیکن ماضی میں مقامی آبادی اور ہندو مہاجرین کے درمیان تشدد کی تاریخ رہی ہے۔

گذشتہ کچھ برسوں سے قائم امن و امان سے ریاست کو اپنی معیشت کی تعمیر نو میں مدد ملی ہے اور انڈیا کی 'ایکٹ ایسٹ پالیسی' میں اس کا ایک اہم کردار ہے کیوں کہ اس سے میانمار اور بنگلہ دیش کے ساتھ دوستانہ تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تریپورہ ریاست میں جماعت علما (ہند) کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو دی گئی ایک درخواست کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے ریاست کے دارالحکومت اگرتلہ اور دیگر قصبوں میں ہندو قدامت پسند جماعت 'وشو ہندو پریشد' (وی ایچ پی) اور ہندو جاگرن منچ کے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، جو کہ مبینہ طور پر مقامی مسلمانوں کے خلاف مظاہروں میں بدل گئے۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ مظاہرین نے مساجد اور مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا ہے۔

تاحال ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم متعدد مقامات پر حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔ ریاست کے شمالی حصے میں تشدد کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ 'صورتحال قابو میں ہے'۔ انتظامیہ نے کچھ علاقوں میں انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت چار سے زیادہ افراد کو ایک جگہ پر جمع ہونے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

تریپورہ 'سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا' (ایس آئی او) کے صدر شفیق الرحمان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ بنگلہ دیش میں تشدد کے علاوہ اگلے ماہ ہونے والے میونسپلٹی کے انتخابات بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں 'میونسپلٹی کے انتخابات اس وقت ہونے والے تھے جب کورونا وبا اپنے عروج پر تھی۔ لیکن حکومت وبائی امراض کی بدانتظامی کے بعد فوری طور پر انتخابات کرانے کے خواہشمند نہیں تھی۔ لیکن تشدد کی شروعات ہوتے ہی انہوں نے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا'۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے پوری ہندو آبادی اس طرح سے ایک طرف آگئی ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں بھی تشدد کے خلاف بولنے کو تیار نہیں ہیں۔

ایک وکیل کے گھر میں توڑ پھوڑ کے بعد کا منظر

،تصویر کا ذریعہTWITTER

،تصویر کا کیپشنٹوئٹر پر ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایک مسلمان وکیل کے گھر کے باہر کا منظر ہے۔ اس شخص کے مطابق وکیل جب ریاستی دارالحکومت سے گھر پہنچے تو انھیں یہ منظر دیکھنے کو ملا

سوشل میڈیا پر مسجدوں اور مسلمانوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں۔ ان میں ایک ویڈیو میں، جس کی مقامی لوگوں نے بی بی سی سے فون پر تصدیق کی ہے، ایک خاتون پولیس افسر مسلمانوں سے احتجاج نہ کرنے اور امن برقرار رکھنے میں مدد کرنے کی اپیل کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پولیس سب کی حفاظت کرے گی۔‘ لیکن ویڈیو میں مقامی مسلمانوں کی بھیڑ، جو کہ نظر نہیں آرہی ہے، یہ الزام لگا رہی ہے کہ پولیس اس کے برعکس وی ایچ پی کو ریلیوں کی اجازت دے رہی ہے۔

تریپورہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا کے صدر شفیق الرحمان کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے چند مساجد کا دورہ کیا لیکن حالات نازک ہونے کی وجہ سے ہندو اکثریتی علاقوں کی مساجد تک نہیں جا سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'پورے تریپورہ کا مسلمان ڈرا ہوا ہے۔ انھوں نے سبھی ہندو نوجوانوں کو 'ریڈیکلائز' کر دیا ہے۔‘

شمالی تریپورہ کی رہائشی تانیہ خانم بتاتی ہیں کہ ہندو قدامت پسند جماعتیں مسلسل پوری ریاست میں ریلیاں نکال رہی ہیں اور مسلم مخالف نعرے لگا رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ حالات ایسے ہوں گے۔ تریپورہ میں ایسے کبھی نہیں ہوا تھا۔‘

مقامی لوگ تشدد کے خلاف انتطامیہ کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔ تانیہ خانم کہتی ہیں کہ ’تشدد کئی دنوں سے جاری تھا لیکن جیسے ہی مسلمانوں نے تشدد کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تو پولیس نے فوراً دفعہ 144 کا اعلان کر دیا۔‘

شفیق الرحمان ان سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’جب یہ لوگ مساجد جلا کر چلے جاتے ہیں، تب یہ لوگ 144 لگاتے ہیں۔‘