قندھار: دولت اسلامیہ نے شیعہ برادری کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی

قندھار

افغانستان کے شہر قندھار میں شیعہ برادری کی مسجد میں جمعے کی نماز کے دوران ہونے والے دھماکوں میں 40 سے زائد افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکے اس وقت ہوا جب مسجد میں نماز جمعہ کا اجتماع جاری تھا۔ طالبان حکومت کی وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستے کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے دھماکہ کے حوالے سے تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

دھماکے کی نوعیت کا تعین تاحال نہیں ہوا لیکن یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ خودکش دھماکے تھے۔

ایک عینی شاہد نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف ہی کو بتایا کہ ’اس نے مسجد کے مرکزی دروازے پر تین دھماکوں کی آوازیں سنی جہاں لوگ وضو کرتے ہیں۔‘

ایک مقامی ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمی نمازیوں کو میرواعظ ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

طلوع نیوز ٹی وی کے مطابق یہ دھماکہ قندھار شہر کے پولیس ڈسٹرکٹ ون میں جمعے کی نماز کے دوران ہوا۔ نیوز چینل کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ تاحال سرکاری ذرائع سے کوئی مصدقہ تعداد نہیں بتائی گئی۔‘

ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) نے قبول کی ہے۔ ٹیلی گرام ایپ پر اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ یہ آپریشن ’شیعہ قتل عام‘ کے حکم کی تعمیل کے لیے کیا گیا۔

اس گروپ کی طرف سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دو خود کش حملہ آوروں نے مسجد میں داخلے سے قبل وہاں سکیورٹی پر مامور گارڈز کو قتل کیا اور پھر اندر پہنچ کر دونوں حملہ آوروں نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔

انھوں نے طالبان پر ہلاک ہونے والے افراد کی اصل تعداد ظاہر نہ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

خیال رہے کہ طالبان کے کابل میں اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں طالبان مخالف نام نہاد دولت اسلامیہ کے خراسان گروپ نے ملک میں حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ آٹھ اکتوبر کو افغانستان کے شہر قندوز میں شیعہ برادری کی مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع کے دوران ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔ دولت اسلامیہ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ افغانستان کی شیعہ برادری کو نشانہ بنا چکی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس خود کش حملے کے بعد وائرل ہونے والی تصاویر میں قندوز کی سید آباد مسجد میں لاشیں اور ملبہ دیکھا جا سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے خودکش بمبار نے خود کو اس وقت دھماکے سے اڑا لیا تھا جب لوگ جمعے کی نماز کے لیے مسجد میں اکٹھے تھے۔ قندوز میں ہونے والے حملے کے دوران مسجد میں 300 سے زیادہ افراد موجود تھے۔

پاکستان نے قندوز میں ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کی حکومت اور عوام اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہیں۔ ہم ان خاندانوں سے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں جنھوں نے اپنے پیارے کھوئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ زخمی ہونے والے جلد صحتیاب ہوں گے۔‘

قندوز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنقندوز کی مسجد میں حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی تھی

دولت اسلامیہ خراساں کے حالیہ حملے

قندھار میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان نے قبول کی ہے، جو ماضی قریب میں افغانستان کی شیعہ برادری پر ہونے والے بیشتر حملوں میں ملوث رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ خراسان، جو کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی ایک مقامی شاخ ہے، طالبان کے خلاف ہے، اور اس تنظیم نے حال ہی میں کئی بم حملے کیے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ملک کے مشرقی حصے میں کیے گئے ہیں۔

آئی ایس نے گذشتہ ہفتے کابل میں ایک نماز جنازہ کو نشانہ بنایا تھا جس میں کئی سینئر طالبان رہنما شرکت کر رہے تھے۔ اس حملے میں بھی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ اس تنظئم نے مشرقی صوبوں ننگرہار اور کنڑ میں بھی کئی چھوٹے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ افغانستان کے یہ علاقے پہلے آئی ایس کا گڑھ ہوا کرتے تھے۔

طالبان ماضی قریب میں بتا چکے ہیں کہ انھوں نے افغانستان سے آئی ایس کے درجنوں ارکان کو گرفتار کیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس گروہ سے روابط کے شبہ میں کئی افراد کو ہلاک بھی کیا گیا ہے، تاہم طالبان آئی ایس کے خطرے کو کھلے عام اتنی اہمیت نہیں دیتے۔

اگست میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد بہت سے افغان باشندوں کو امید تھی کہ طالبان کے آنے سے آمرانہ حکومت تو آئے گی لیکن اس کے ساتھ ملک میں نسبتاً امن بھی ہو جائے گا۔ لیکن دولت اسلامیہ خراسان طالبان کے امن کے وعدے کے خلاف ایک بڑا خطرہ بن کر ابھری ہے۔