آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایئر انڈیا: ٹاٹا کا نمک بنانے سے دوبارہ طیارے اڑانے کا سفر خسارے کا شکار ایئرلائنز کی کایا پلٹ پائے گا؟
- مصنف, سلمان راوی
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
انڈیا کی معروف 'ٹاٹا گروپ آف کمپنیز' دوبارہ یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ اس کی خاصیت ایک بار پھر نمک بنانے سے لے کر طیارے اڑانے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 'مہاراجہ' یعنی ایئر انڈیا کے ’میسکوٹ‘ کی باضابطہ طور پر ٹاٹا گروپ میں واپسی ہو گئی ہے۔
انڈیا کی قومی 'ایئر لائنز' ایئر انڈیا کی ڈس انویسٹمنٹ کی بولی کے دوران 'ٹاٹا سنز' نے سب سے زیادہ بولی لگائی تھی۔ 'ٹاٹا سنز' اب باضابطہ طور پر ایئر انڈیا کو اپنے کنٹرول میں لے رہی ہے۔
'ٹاٹا سنز' بھی اس حصول کے بارے میں پرجوش ہے کیونکہ اسے سب سے پہلے جے آر ڈی ٹاٹا نے شروع کیا تھا۔ اور سنہ 1953 میں نیشنلائزیشن کے باوجود ٹاٹا سنز نے ایئر انڈیا کو سنبھال رکھا تھا۔ بعد میں ستر کی دہائی میں جب جنتا پارٹی حکومت کا قیام عمل میں آیا تو اس کا انتظام مکمل طور پر ٹاٹا سنز سے لے لیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حصول کے بعد بھی سنہ 1993 تک 'ایئر انڈیا' کے چیئرمین کا انتخاب انسٹیٹیوٹ میں مختلف عہدوں پر کام کرنے والے افسران میں سے ہی ہوتا رہا۔ لیکن بعد میں اس عہدے پر صرف حکومت کے اعلیٰ افسروں کو ہی تعینات کیا جانے لگا اور وہ جب تک سول ایوی ایشن سیکٹر کے چیلنجز کو سمجھتے، انھیں تبدیل کر دیا جاتا۔
ایئر انڈیا کے حصول پر ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندرشیکرن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے ایک 'تاریخی لمحہ' قرار دیا اور کہا کہ ملک کی نمایاں ایئر لائنز کا مالک ہونا فخر کی بات ہے۔
چندرشیکرن نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا: 'ہماری کوشش ہو گی کہ ایک عالمی معیار کی ایئرلائن چلائی جائے جس پر ہر انڈیا کو فخر ہو۔‘ انھوں نے کہا کہ ’مہاراجہ کی واپسی جے آر ڈی ٹاٹا کو حقیقی خراج تحسین ہو گی جنھوں نے ہندوستان میں ہوا بازی کا آغاز کیا۔‘
دوسری سب سے بڑی سول ایوی ایشن کمپنی
ایئر انڈیا کے حصول کے بعد اب 'ٹاٹا سنز' کے پاس تین ایئر لائنز ہیں۔ 'ایئر وسٹارا' جس میں ان کی 'سنگاپور ایئر لائنز' کے ساتھ شراکت ہے اور وہ 'ایئر ایشیا' میں ملائیشیا کے ساتھ شراکت دار ہیں۔
یعنی اس حصول کے بعد 'ٹاٹا سنز' انڈیا میں سول ایوی ایشن کے میدان میں دوسری سب سے بڑی کمپنی بن گئی ہے۔ پہلے نمبر پر 'انڈیگو ایئر لائنز' ہے جس کا گھریلو مارکیٹ میں 57 فیصد حصہ ہے۔ ایئر انڈیا کے حصول کے بعد ٹاٹا سنز کا 27 فیصد مارکیٹ شیئر ہو جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین کا خیال ہے کہ ایئر انڈیا کے حصول کے بعد 'ٹاٹا سنز' کے سامنے بڑے چیلنجز بھی ہوں گے کیونکہ وہ پہلے ہی سے انڈیا میں دو 'ایئرلائنز' چلا رہی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سول ایوی ایشن امور کے ماہر اور سینیئر صحافی اشونی پھڈنیس نے کہا: 'سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ تیسری ایئر لائن یعنی ایئر انڈیا کو کیسے چلائيں گے؟ کیا وہ 'ایئر انڈیا' میں عالمی معیار کی سروسز دے سکیں گے؟'
ان کا کہنا ہے کہ جن دو ایئرلائنز کو ابھی ٹاٹا اینڈ سنز کمپنی چلا رہی ہے ان کی سروسز اچھی ہیں۔
خسارہ کیسے ختم ہو گا؟
اشونی پھڈنیس کا کہنا ہے کہ چیلنج یہ بھی ہو گا کہ وہ 'ایئر انڈیا' کے خسارے کو کیسے ختم کریں گے اور اسے منافع بخش ایئر لائنز کیسے بنائیں گے۔ پھڈنیس نے حکومتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'ایئر انڈیا' کو روزانہ اوسطاً 20 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو ڈس انویسٹمنٹ کا فیصلہ کرنا پڑا۔
انھوں نے کہا کہ ’حکومت کا بوجھ ضرور ہلکا ہوا ہے لیکن اب 'ٹاٹا سنز' کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔ نقصان میں چلنے والی ایئرلائنز کی کایا کس طرح پلٹتے ہیں۔ اس کے لیے گروپ کو پورے ڈھانچے کی اصلاح کرنی ہو گی۔‘
خیال رہے کہ حصول کے دوران ٹاٹا گروپ کے سامنے حکومتی شرائط بھی تھیں۔ شرائط کی وضاحت کرتے ہوئے انڈیا کی حکومت کی وزارت شہری ہوا بازی میں سیکریٹری راجیو بنسل نے واضح کیا کہ وہ گروپ جس نے ایئر انڈیا کو حاصل کیا ہے وہ کسی بھی ملازم کو ایک سال کے اندر نہیں نکال سکتا ہے۔
ایک سال بعد ملازمت سے نکالنے کے بجائے ملازمین کو رضاکارانہ ریٹائرمنٹ سکیم کا آپشن دینا ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی 'پروویڈنٹ فنڈ' اور 'گریچیوٹی' بھی دینا ہو گی۔
اس وقت 'ایئر انڈیا' تین حصوں میں منقسم ہے۔ ایک 'ایئر انڈیا انٹرنیشنل' جو غیر ملکی پروازیں چلاتا ہے، دوسرا 'ایئر انڈیا' جو گھریلو پروازیں چلاتا ہے اور تیسرا 'ایئر انڈیا ایکسپریس' جو خلیجی ممالک اور جنوبی ہند کی ریاست کیرالا کے درمیان پروازیں چلاتا ہے۔
بنسل کے مطابق ’ایئر انڈیا‘ کے 12 ہزار سے زیادہ ملازمین ہیں جن میں سے تقریباً چار ہزار ’کنٹریکٹ‘ پر ہیں جبکہ 8084 ’مستقل‘ ہیں۔ جبکہ 'ایئر انڈیا ایکسپریس' میں 1434 ’مستقل' ملازمین ہیں۔ اس لیے ملازمین کا انتظام بھی 'ٹاٹا سنز' کے سامنے ایک چیلنج ہو گا۔
ایک اور چیلنج جس کا اشونی پھڈنیس نے ذکر کیا ہے وہ طیاروں کے بیڑے کا انتظام ہے۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ رواں سال 31 مارچ تک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 'ایئر انڈیا' کے پاس 107 ہوائی جہازوں کا بیڑا ہے۔ ان میں چھوٹے اور بڑے طیارے شامل ہیں جو ایئر بس اور بوئنگ کے جدید طیارے ہیں۔ پھڈنیس کا کہنا ہے کہ سنہ 1971 میں جب انتظام ٹاٹا کے ہاتھوں میں ہی تھا تو جدید 'جمبو جیٹ' ایئر انڈیا کے بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔
تمام بڑی ایئرلائنز اب طیارے خریدنے کے بجائے انھیں لیز پر لیتی ہیں کیونکہ خریداری کے لیے بڑی رقم ادا کرنا پڑتی ہے جبکہ طیارے کو لیز پر لینے کے لیے صرف کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
چاہے وہ بوئنگ 737 طیارے ہوں جو گھریلو پروازوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، یا ایئربس ہوں کہ ڈریم لائنر ان سب کا کرایہ 3.5 لاکھ امریکی ڈالر ماہانہ ہوتا ہے۔ پھڈنیس کا کہنا ہے کہ تقریباً تمام 'ایئر لائنز' اسی 'ماڈل' پر کام کرتی ہیں، یعنی وہ کرائے پر طیارے لے کر ان کو چلاتی ہیں۔
ویسے ٹاٹا گروپ کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ ایئر انڈیا کے حصول کے ساتھ وہ 1500 تربیت یافتہ پائلٹوں کے ساتھ ساتھ 2000 انجینئرز بھی حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن جس چیز سے ٹاٹا گروپ کو سب سے زیادہ فائدہ ہو گا وہ ملکی اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر پروازوں کے لیے 'سلاٹس' کی دستیابی ہے۔
'سلاٹ' کیا ہے؟
ہوائی اڈوں پر پروازیں بھی بڑھ رہی ہیں اور اسی طرح مسافروں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسی صورت میں 'ایئر لائنز' کو ہر ہوائی اڈے پر سلاٹ لینا پڑتا ہے تاکہ ان کی پروازیں آسانی سے چل سکیں۔ یہ بھی ایک قسم کی کرائے کی جگہ ہے، جس کے لیے بہت زیادہ رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔
'ایئر انڈیا' کے ساتھ اچھی بات یہ ہے کہ اس وقت اس کے 6200 گھریلو سلاٹس ہیں جبکہ بیرون ملک ہوائی اڈوں پر اس کے 900 سے زیادہ سلاٹس ہیں۔
پھڈنیس اور ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 'سلاٹ' ہی ہیں جن کو خریدنے کے لیے ایئر لائنز کے درمیان ایک قسم کی جنگ ہوتی ہے۔ مثالیں دیتے ہوئے پھڈنیس نے کہا کہ 'جیٹ ایئر ویز' نے لندن ایئرپورٹ پر اپنی سلاٹ 'اتحاد ایئر ویز' کو کئی ارب ڈالر میں فروخت کیے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 'ٹاٹا سنز' نے جن شرائط پر 'ایئر انڈیا' کو حاصل کیا ہے وہ اس کے لیے حوصلہ افزا ہیں کیونکہ اس پر مجموعی طور پر 180 ارب روپے کا بوجھ آن پڑا ہے جس میں سے 150 ارب روپے قرض کی شکل میں اور 270 ارب روپے ہیں پیشگی کے طور پر ہیں۔
پھڈنیس کا کہنا ہے کہ 'ٹاٹا سنز کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ان کے پاس 'ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز' جیسی کمپنی بھی ہے جو کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صف اول کی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ یہ اس کے ساتھ پہلے سے موجود ہے جو اسے فائدہ پہنچائے گا۔‘