کیا انڈیا کی قومی فضائی سروس اپنے پرانے مالک کے پاس واپس جانے والی ہے؟

    • مصنف, سندھو واسنی اور مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی

کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ کیا انڈیا کی قومی فضائی سروس ایئر انڈیا بھی اپنی تاریخ دہرائے گی؟ کیا یہ کمپنی 88 سال بعد ایک بار پھر اپنے پرانے مالک کے پاس واپس جانے والی ہے؟

یہ تمام سوالات اس لیے جنم لے رہے ہیں کیونکہ اطلاعات کے مطابق انڈیا کے بڑے کاروباری گروپ ’ٹاٹا‘ نے ایئر انڈیا کو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ایئر انڈیا فی الحال مالی خسارے کا شکار ہے۔

انڈیا کی حکومت پہلے ہی ’ایئر انڈیا‘ کے سو فیصد حصص کو فروخت کرنے کے فیصلے کا اصولی طور پر اعلان کر چکی ہے۔ انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹاٹا گروپ نے رواں ہفتے ایئر انڈیا خریدنے کی ’خواہش کا اظہار‘ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ٹاٹا گروپ پہلے ہی انڈیا میں دو نجی ایئر لائنز چلاتا ہے۔ ان میں سے ایک سنگاپور ایئر لائن کا جوائنٹ وینچر اور دوسرا ایئر ایشیا کا۔

یہ بھی پڑھیے

انویسٹمنٹ اور پبلک ایسٹ مینیجمنٹ کے شعبے (ڈی آئی پی اے ایم) کے سیکریٹری کے جانب سے گذشتہ روز ٹویٹ کیا گیا کہ ’ایئر آنڈیا کی سٹریٹیجک فروخت کے لیے بہت سی درخواستیں موصول ہو‏ئی ہیں۔ اب یہ معاملہ دوسرے مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔‘

ٹائمز آف انڈیا نے فروری میں ایک رپورٹ شائع کی تھی کہ ٹاٹا گروپ سنگاپور ایئر لائنز کے ساتھ مل کر ایئر انڈیا کے لیے بولی لگانے کا منصوبہ بنا رہا ہے لیکن گذشتہ روز کی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نے ایئر ایشیا کے ذریعے اس کی خریداری کی اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

ایئر انڈیا اور ٹاٹا گروپ کا پرانا رشتہ

معروف صنعتکار جے آر ڈی ٹاٹا نے انڈیا کی آزادی سے قبل سنہ 1932 میں ٹاٹا ایئر لائنز قائم کی تھی۔

ٹاٹا ایئر لائنز کے لیے سنہ 1933 پہلا مالی سال تھا۔ برطانوی ’رائل ایئر فورس` کے پائلٹ ہومی بھروچا ٹاٹا ایئر لائنز کے پہلے پائلٹ تھے، جبکہ جے آر ڈی ٹاٹا اور ونسنٹ دوسرے اور تیسرے پائلٹ تھے۔

جب دوسری عالمی جنگ کے بعد فلائٹ خدمات بحال ہوئیں تو 29 جولائی 1946 کو ٹاٹا ایئر لائنز ایک ’پبلک لمیٹڈ کمپنی‘ بن گئی اور اس کا نام ’ایئر انڈیا لمیٹڈ‘ رکھ دیا گیا۔ آزادی کے بعد یعنی سنہ 1947 میں حکومت نے ٹاٹا ایئر لائنز کا 49 فیصد حصہ حاصل کر لیا۔ اور سنہ 1953 میں اسے قومیا لیا گیا۔

دی ہندو بزنس لائن کے سینیئر صحافی اشوینی پھڈنیس کا کہنا ہے کہ جے آر ڈی ہمیشہ ٹاٹا ایئر لائنز کی پیش کردہ خدمات کے معیار پر زور دیتے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’یہ آزادی سے پہلے کی بات تھی جب جے آر ڈی ٹاٹا نے اپنے ملازمین کی تربیت کے لیے امریکہ سے ماہرین کو انڈیا بلایا تھا۔ جب ٹاٹا ایئر لائنز وجود میں آئی تھی تو برٹش ایئرویز اور ایئر فرانس جیسی مشہور غیر ملکی ہوائی کمپنی پہلے سے ہی موجود تھی۔ ٹاٹا نے بڑی ایئر لائنز کمپنیوں کے سامنے چیلنج پیش کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ٹاٹا ایئر لائن کی کوئی چیز کمتر نہ ہو۔‘

اجیت پرساد جین نے انڈیا کے پہلے وزیر شہری ہوا بازی رفیع احمد قدوائی کی زندگی اور ان کے عہد پر کتاب لکھی ہے۔ اس میں وہ ذکر کرتے ہیں کہ ’جب رفیع احمد نے نئی دہلی میں شہری ہوائی بازی کا شعبہ سنبھالا تو اس وقت ہوائی سروس کی حالت بہت خراب تھی۔ ٹاٹا ایئر لا‏ئنز اور انڈین نیشنل ایئرویز دونوں کمپنیوں نے اپنے راستے بدل دیے۔ ان دونوں نے جنگ کے دوران سلطنت برطانیہ کی وفاداری کے ساتھ خدمت کی تھی۔‘

’ٹاٹا ایئر لا‏ئنز نے ایک نئی کمپنی ایئر انڈیا کے ہاتھوں 20 لاکھ روپے میں اپنے تمام طیارے، سازو سامان، انجینیئرنگ سہولتیں اور ہوائی ڈاک کے کنٹریکٹ بیچ دیے۔ حالانکہ یہ رقم دیے گئے سامان سے زیادہ تھی لیکن اسے خیرسگالی کے جذبے کے تحت فروخت سے تعبیر کیا گیا تھا۔‘

کیا ٹاٹا ائیر انڈیا خرید سکے گا؟

میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ٹاٹا گروپ واقعتاً ایئر انڈیا خریدنے کے لیے تیار ہے اور اب اس نے جب اپنی خواہش کا اظہار کر دیا ہے تو یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ٹاٹا خسارے سے دوچار ایئر انڈیا کو خرید سکے گا؟ کیا وہ اس کے لیے حکومت کی تمام شرائط پوری کر سکے گا؟

حکومت نے پہلے بھی ایئر انڈیا کو فروخت کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اسے خریدار نہ مل سکے تھے۔

اس بار حکومت نے ایئر انڈیا کو فروخت کرنے کے لیے بہت سی تبدیلیاں کی ہیں۔ فی الحال ایئر لائنز پر تقریباً 60 ہزار کروڑ کا قرض ہے لیکن اس کو حاصل کرنے کے بعد خریدار کو صرف 23 ہزار 286 کروڑ کی ادائیگی کرنا پڑے گی۔

باقی قرضوں کا بوجھ حکومت برداشت کرے گی۔ قرض کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے حکومت نے خصوصی قرض یونٹ تشکیل دیا ہے۔ نیز حکومت نے ایئر انڈیا کے 76 کے بجائے تمام 100 فیصد حصص فروخت کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے کچھ دوسری شرائط میں بھی نرمی کی ہے تاکہ اس مرتبہ انھیں خسارے میں چلنے والی فضائی کپمنی کا خریدار مل سکیں۔ انڈین حکومت نے کہا ہے کہ اگر کسی ممکنہ خریدار کو موجودہ حالات سے کوئی پریشانی ہو تو وہ اس کے بارے میں بات کرنے کو تیار ہے۔

ایئر انڈیا کے سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور ’ڈیسنٹ آف ایئر انڈیا‘ کتاب کے مصنف جتیندر بھارگوا کا کہنا ہے کہ ٹاٹا گروپ ایئر لائن کا ممکنہ خریدار ہو سکتا ہے۔

مرکزی حکومت کی شرائط کے مطابق ایئر انڈیا کے خریداروں کی مجموعی مالی حیثیت کم از کم ساڑھے تین ہزار کروڑ ہونی چاہیے۔ جتیندر بھارگوا کا خیال ہے کہ ٹاٹا کی مالی حیثیت ایئر انڈیا خریدنے کے لیے موزوں ہے۔

بمبئی سٹاک ایکسچینج کے مطابق ٹاٹا سنز پرائیویٹ لمیٹڈ کی مجموعی مالیت 6.5 کھرب روپے ہے۔

فی الحال ٹاٹا سنز پرائیویٹ لمیٹڈ سنگاپور ایئر لائنز کے ساتھ وستارا ایئر لائنز چلاتا ہے۔ اس مشترکہ کاروبار میں ٹاٹا کا 51 فیصد اور سنگاپور ایئر لائنز کا 49 فیصد حصہ ہے۔

اس کے علاوہ ایئر ایشیا انڈیا میں بھی ٹاٹا سنز کا 51 فیصد حصہ ہے۔ بقیہ 49 فیصد ایئر لائن ملائیشیا کے تاجر ٹونی فرنانڈیز کی ملکیت ہے۔

جتیندر بھارگوا کے مطابق: ’انڈیا میں وستارا کی حیثیت ایک چھوٹی ایئر لائن کی ہے۔ مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے وستارا انڈیگو، سپائس جیٹ، ایئر انڈیا اور گو ایئر کے بعد پانچویں نمبر پر آتی ہے۔ اسی طرح ایئر ایشیا انڈیا بھی چھوٹی ایئر لائن ہے جو چھٹے یا ساتویں نمبر پر آتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹاٹا گروپ ایئر لائنز کے کاروبار میں آگے بڑھنا چاہتا ہے تو ایئر انڈیا کا حصول اس کے لیے ایک اچھا آپشن ثابت ہو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اگر قرض کو تھوڑی دیر کے لیے علیحدہ رکھا جائے تو ایئر انڈیا کے بہت سارے مضبوط پہلو ہیں۔ مثال کے طور پر اس کے پاس اچھے ایروناٹیکل اثاثے ہیں، یعنی اچھے ہوائی جہاز، تربیت یافتہ پائلٹس، انجینیئر اور دیگر تربیت یافتہ عملہ۔‘

’کمپنی کے دنیا کے متعدد شہروں میں ’سلاٹس‘ ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی منڈی میں ایئر انڈیا کا تقریباً 18 فیصد حصہ ہے۔ قومی مارکیٹ میں اس کا تقریباً 13 فیصد حصہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ان تمام چیزوں کے پیش نظر ٹاٹا کا ایئر انڈیا میں دلچسپی لینا فطری بات ہے۔‘

اور اب ماہرین کا خیال ہے کہ انڈین حکومت کو ایئر انڈیا کا خریدار نہ ملنے کی صورت میں اپنی شرطوں میں بہت نرمی کی ہے یعنی اگر ٹاٹا اسے خریدنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے لیے یہ ایک بار پھر فائدے کا سودا ہو گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ٹاٹا گروپ نے ایئر انڈیا کو حاصل کر لیا تو اس کے ساتھ 'وفاداری عنصر' منسلک ہو گا اور وہ ایئر انڈیا کو اپنی پرانی شکل میں واپس لانے کی پوری کوشش کرے گا۔