دورابجی ٹاٹا: اپنے خرچ پر ہندوستانی کھلاڑیوں کو اولمپکس میں بھیجنے والا تاجر

    • مصنف, سوریانشی پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار

ہندوستان کی آزادی سے قبل برطانوی راج کے دوران یہاں کی سرزمین پر اولمپکس کی کہانی بھی پھل پھول رہی تھی اور اس کی وجہ سر دورابجی ٹاٹا تھے۔

سر دورابجی ٹاٹا کی کاوشوں کی وجہ سے ہی سن 1920 میں، ہندوستان سے چھ کھلاڑیوں کی ٹیم 1920 انٹورپ اولمپکس میں شرکت کے لیے پہنچی۔

ہندوستان اولمپکس میں حصہ لینے والا پہلا ایشیائی نوآبادیاتی ملک تھا۔

آغاز کیسے ہوا؟

سر دورابجی ٹاٹا ہندوستان کے معروف سٹیل اور لوہے کے کاروباری جمشید جی ٹاٹا کے بڑے بیٹے تھے۔

دورابجی ٹاٹا اپنے والد جمشید جی ٹاٹا کے وہ بیٹے تھے جنھوں نے اپنے والد کا خواب پورا کیا۔ یہ خواب تھا 'ٹاٹا' کمپنی کو سٹیل اور لوہے کے کاروبار میں ایک مضبوط مقام پر پہنچانا تھا۔

دورابجی ٹاٹا کو برٹش انڈیا میں صنعتی شراکت کے لیے سنہ 1910 میں ’نائٹ‘ کے لقب سے نوازا گیا تھا۔

دوراب جی ٹاٹا کا ایک عزم انڈیا کو بین الاقوامی کھیلوں میں اہم مقام دلانا بھی تھا۔

انڈیا کے سینیئر سپورٹس جرنلسٹ بوریا مجومدار اور صحافی نلن مہتا کی کتاب ’ڈریم آف اے بلین‘ میں دورابجی ٹاٹا کے اولمپکس میں تعاون کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ممبئی میں پیدا ہونے والے دواربجی نے اپنی ابتدائی تعلیم اسی شہر میں مکمل کی اور پھر یونیورسٹی آف کیمبرج کے گون ویل اور کیز کالج سے تعلیم حاصل کی۔

انھیں اس بات نے متاثر کیا کہ انگلینڈ کے کالجوں میں کھیلوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ہندوستان لوٹ کر انھوں نے ممبئی کے سینٹ زیویرس کالج میں 1882 تک تعلیم حاصل کرنے کا سفر جاری رکھا۔

بوریا مجومدار اور نلن مہتا اپنی کتاب میں بتاتے ہیں کہ دواربجی ٹاٹا نے سکولوں اور کالجوں میں ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کو تشکیل دے کر اور ایتھلیٹکس سپورٹس میٹ کے انعقاد کے ذریعے نوجوانوں کے لیے کھیلوں میں حصہ لینے کی راہ استوار کی۔

14 سالہ سچن تندولکر اور سر دورابجی ٹاٹا

1988 میں 14 سالہ سچن تندولکر نے ایک انٹر سکول ٹورنامنٹ میں ونود کامبلی کے ساتھ 664 رنز کی شراکت قائم کی تھی۔

دنیا بھر کے اخباروں میں سچن اور ونود کامبلی کی اس ناقابل یقین کارکردگی کا تذکرہ ہوا تھا۔

سچن کی پہچان بننے والے اس ٹورنامنٹ کا نام ہیرس شیلڈ تھا۔ اس ٹورنامنٹ کا آغاز بھی سر دورابجی ٹاٹا نے 1886 میں کیا تھا۔

1920 اولمپکس: دورابجی ٹاٹا نے کھلاڑیوں کو اپنے خرچے پر بھیجا

دورابجی ٹاٹا پونے کے دکن جمخانہ کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے 1919 میں جمخانہ کا پہلا ایتھلیٹکس اجلاس کروایا۔ اس میں حصہ لینے والے کھلاڑی کسان طبقے سے تھے جنھیں صرف دوڑنا آتا تھا۔

سر دورابجی ٹاٹا نے اس مقابلے کے دوران محسوس کیا کہ ان کھلاڑیوں کو قواعد کا پتہ ہی نہیں ہے۔ لیکن اس وقت کے اولمپکس میں کوالیفائی کرنے کے لیے ٹائمنگ اہم ہوا کرتی تھی اور کچھ کھلاڑی ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

دورابجی ٹاٹا نے اس مقابلے کے مہمان خصوصی یعنی بمبئی کے گورنر ڈیوڈ لائیڈ جارج سے درخواست کی کہ ہندوستان کو 1920 کے انٹورپ اولمپکس میں حصہ لینے بھیجا جائے۔

انھوں نے ہندوستان کے اولمپکس میں حصہ لینے کے لیے برطانوی اولمپک کمیٹی کی حمایت کا مطالبہ کیا۔ دونوں کے درمیان بہت سی ملاقاتیں ہوئیں اور آخر کار گورنر نے مدد کی۔ اس کے بعد بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے ہندوستان کو شرکت کی اجازت دے دی۔ یہاں سے ہندوستانی اولمپک کمیٹی کی بنیاد رکھی گئی۔

آئی او سی (انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی) سے اجازت ملنے کے بعد سلیکشن کے لیے ایک مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس مقابلے میں خاص طور پر چھ کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی کو دیکھ کر دورابجی نے انھیں 1920 کے انٹورپ اولمپکس کے لیے منتخب کیا۔

حالانکہ جن کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا تھا انھیں اولمپکس میں ایتھلیٹکس کھیلوں کے قواعد اور طریقہ کار کا اندازہ نہیں تھا۔

'ڈریم آف اے بلین' کتاب کے مطابق جب ایک اہم جم خانہ ممبر سے پوچھا گیا کہ اولمپکس میں 100 میٹر دوڑ کے لیے کوالیفائی کرنے کا معیار کیا ہے تو انھوں نے کہا ’ایک سے دو منٹ ہوں گے۔‘ اور وہ یہ سن کر حیران ہو گئے کہ اولمپکس میں بات منٹوں کی نہیں بلکہ سیکنڈز اور ملی سیکنڈز کی ہوتی ہے۔

اب سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ ان کھلاڑیوں کی مالی مدد کون کرے گا۔ کھلاڑی کسان اور معاشی طور پر کمزور تھے۔ تقریباً 35 ہزار روپے درکار تھے۔ لوگوں سے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے اخبار میں اشتہار دیا گیا۔ حکومت نے اپنی طرف سے 6000 روپے دیے تھے۔

لیکن عوام سے اپیل کا زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ تب سر دورابجی ٹاٹا نے اپنے ذاتی اخراجات پر تین کھلاڑیوں کو اولمپکس میں شرکت کے لیے بھیجا۔ باقی کھلاڑیوں کو چندے کی رقم پر بھیجا گیا تھا۔

کسی بھی ہندوستانی کھلاڑی کی کارکردگی اچھی نہیں رہی اور اخباروں میں بھی ان کی کہانی کو جگہ نہیں ملی۔

1924 کے پیرس اولمپکس ’گیم چینجر‘ ثابت ہوئے

آہستہ آہستہ اولمپکس کے بارے میں آگاہی بڑھتی گئی۔ 1920 میں زیادہ تر پیسہ ٹاٹا، بادشاہوں اور حکومت کی جانب سے آیا۔ اس بار ملک کی کئی ریاستوں کی فوج نے بھی مدد کی۔

ریاستی سطح پر ہونے والے اولمپکس ٹرائل اخباروں کی سرخیوں میں آنے گے۔

1920 کے اولمپکس کے لیے دورابجی ٹاٹا نے اپنے تجربے کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب کیا تھا، لیکن ماضی کے برعکس اس بار کئی مراحل میں ہونے والے مقابلوں کے بعد دلی اولمپکس کے ذریعے انتخاب ہو رہے تھے۔ اس طریقہ کار کی وجہ سے آل انڈیا اولمپک ایسوسی ایشن کو تشکیل دیا جا سکا۔ آٹھ کھلاڑیوں کو 1924 کے پیرس اولمپکس میں کھیلنے کا موقع ملا۔

تاہم اس بار بھی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔

آل انڈیا اولمپک ایسوسی ایشن صرف تین برس ہی قائم رہ سکی۔ 1927 میں ایک نئے ادارے انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کو تشکیل دیا گیا جو آج تک اولمپکس میں انڈیا کی نمائندگی کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔

سر دورابجی ٹاٹا کو ہی اس وقت انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کا صدر بھی بنایا گیا تھا۔ 1928 میں منعقد ہونے والے برلن اولمپکس سے قبل سر دورابجی نے آئی او اے کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔

اس خالی کرسی پر بہت سے بادشاہوں اور بڑے تاجروں کی نگاہ تھی۔ اس وقت انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کا صدر بننے کے لیے رقم کی ضرورت تو تھی ہی، ساتھ ہی صدر کو معاشی طور پر مضبوط بھی ہونا پڑتا تھا تاکہ وہ انگلینڈ کا دورہ اور وہاں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی میں انڈیا کی نمائندگی کر سکے۔

آئی او سی (انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی) نے کپورتھلہ کے راجہ جگجیت سنگھ کو اپنی پسند کے طور پر پیش کیا۔ ٹاٹا کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔

معروف کرکٹرز اور نانا نگر کے جام صاحب، رنجی اور بردوان کے راجہ کے نام بھی سامنے آ رہے تھے۔ لیکن جب پٹیالہ کے مہاراج بھوپندر سنگھ میدان میں اترے تو اچانک سب پیچھے ہٹ گئے۔ یہاں تک کہ رنجی بھی پیچھے ہٹ گئے کیونکہ پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ نے متعدد بار رنجی کی مالی پریشانیوں میں مدد کی تھی۔

دونوں کے مابین تعلقات بہت مضبوط تھے۔ بھوپندر سنگھ ہی تھے جنھوں نے 1924 کے اولمپکس میں حصے لینے والے پنجاب کے کھلاڑی دلیپ سنگھ کی مدد کی تھی۔ دلیپ سنگھ اپنے خلاف چلنے والی سیاست کی وجہ سے ٹرائلز میں حصہ نہیں لے پا رہے تھے تو پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ نے انھیں ٹیم میں جگہ دلوائی۔

اس معاملے کے بعد پٹیالہ اولمپکس ایسوسی ایشن بھی تشکیل دی گئی۔

رنجی کے بعد اگر کوئی انڈیان بادشاہ تھا جو کھیلوں میں دلچسپی رکھتا تھا، تو وہ بھوپندر سنگھ تھے۔ سنہ 1927 میں آئی او سی نے بھوپندر سنگھ کو اولمپک ایسوسی ایشن آف انڈیا کا صدر منتخب کیا۔ اپنے عہدے کو سنبھالتے ہی انھوں نے سر دورابجی ٹاٹا کو تاحیات صدارت کے عہدے سے نوازا۔

ہندوستان کا سونے کا تمغہ

1928 کے ایمسٹرڈیم اولمپکس میں انڈیا کو پہلی بار سونے کا تمغہ ملا۔ یہ کامیابی دھیان چند اور ہاکی کی وجہ سے ممکن ہو سکی۔ اس کے بعد مردوں کی انڈین ہاکی ٹیم نے لگاتار چھ بار سونے کے تمغے جیتے۔

اب 2021 ٹوکیو اولمپکس کے لیے انڈیا کی جانب سے 77 کھلاڑی کوالیفائی کر چکے ہیں۔