کرکٹ کے جڑواں بھائیوں کی مشہور جوڑیاں: ٹاس سے فیصلہ ہوا کہ کون فاسٹ بولر بنے گا اور کون سپنر؟

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

فلمی سکرین پر امیتابھ بچن، سلمان خان یا انیل کپور کو ڈبل رول میں دیکھتے ہوئے یہ ذہن میں ہوتا ہے کہ یہ سب کیمرے کا کمال ہے لیکن کرکٹ کے میدان میں جڑواں بھائیوں کی پرفارمنس کسی کیمرہ تیکنیک کی مرہون منت نہیں بلکہ سو فیصد حقیقت پر مبنی ہوتی ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی طویل تاریخ میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے والے جڑواں بھائی اگرچہ کم ہیں لیکن ان کی کہانیاں بہت دلچسپ ہیں۔

الیک بیڈسر اور ایرک بیڈسر

دونوں بھائیوں کی پیدائش میں ایرک تقریباً دس منٹ کے فرق سے بڑے تھے لیکن شہرت میں الیک ان سے بہت آگے نکل گئے تھے۔

دونوں بھائی یک جاں دو قالب تھے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہو سکتی ہے کہ وہ عمر بھر ساتھ رہے اور دونوں نے تمام عمر شادی نہیں کی اور عموماً مخصوص مواقع پر ایک جیسا لباس زیب تن کرتے۔

یہ بھی پڑھیے

یہاں تک کہ جب دونوں کو جنگِ عظیم دوم میں ایئرفورس کی ڈیوٹی پر طلب کیا گیا تو ایرک بیڈسر کو ترقی مل گئی اور وارنٹ آفیسر بنا دیے گئے لیکن الیک بیڈسر نے یہی ترقی لینے سے انکار کرتے ہوئے فلائٹ سارجنٹ رہنے کو صرف اس لیے ترجیح دی کہ ایسا کرنے سے دونوں بھائی ساتھ رہ پائیں گے۔

دونوں جب چودہ برس کے تھے تو انھوں نے ایک وکیل کے پاس کلرک کی ملازمت بھی کی۔ دونوں کے لیے کرکٹ ہی سب کچھ تھی۔

سرے کاؤنٹی کے کوچ ایلن پیچ کو دونوں بھائیوں میں غیر معمولی صلاحیت نظر آئی جس کے بعد دونوں نے جون 1939 میں انھوں نے ایک ساتھ فرسٹ کلاس کرکٹ کریئر کا آغاز کیا۔

دونوں بھائیوں کے فرسٹ کلاس کرکٹ کے آغاز کا واقعہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ دونوں اس وقت تک تیز بولنگ کیا کرتے تھے، لیکن اولین فرسٹ کلاس میچ سے قبل دونوں نے یہ طے کر لیا کہ ان میں سے کوئی ایک ہی تیز بولر بنے گا۔

فیصلہ ٹاس کے ذریعے ہوا جو الیک بیڈسر جیتے اور فاسٹ بولر بن گئے۔

ایرک بیڈسر نے آف سپنر بننے کو ترجیح دی لیکن چونکہ اس زمانے میں سرے کاؤنٹی کے پاس جم لیکر اور ٹونی لاک جیسے ورلڈ کلاس سپنرز موجود تھے لہذا ایرک بیڈسر نے اپنی بیٹنگ پر خاص توجہ دی۔

انھوں نے فرسٹ کلاس کریئر میں دس سنچریاں بھی سکور کیں اور آٹھ سو سے زائد وکٹیں بھی حاصل کیں لیکن وہ ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیل سکے۔

الیک بیڈسر انگلینڈ کی تاریخ کے چند بہترین فاسٹ بولرز میں شمار کیے جاتے ہیں جنھوں نے اپنے ٹیسٹ کریئر میں 236 وکٹیں حاصل کیں جو ایک عرصے تک ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ رہا۔

الیک بیڈسر نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 1924 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ انگلینڈ کے واحد فاسٹ بولر ہیں جنھیں سر کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔

دونوں کا قد کاٹھ تقریباً ایک جیسا تھا لہذا یہ جاننا کبھی بھی آسان نہ تھا کہ ایرک کون ہیں اور الیک کون؟ اس کا فائدہ دونوں بھائیوں نے خوب اٹھایا۔

سرے اور انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی نمائندہ ٹیم کے درمیان میچ میں الیک نے اوور کی پہلی تین گیندیں کیں اور پھر مِڈ آن پوزیشن پر ایرک کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے، اگلی تین گیندیں ایرک نے اس خاموشی کے ساتھ کرائیں کہ انگلینڈ کے مشہور بیٹسمین فرینک وولی کو بھی یہ پتا نہ چل سکا کہ یہ اوور دونوں بھائیوں نے مل کر کیا ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد دونوں بھائیوں نے بزنس کیا اور ایک سٹیشنری فرم قائم کی۔ الیک بیڈسر چیف سلیکٹر منیجر اور سرے کاؤنٹی کے صدر بھی رہے۔ ایرک کو بھی سرے کاؤنٹی کا صدر ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔

سٹیو وا اور مارک وا

ٹیسٹ کرکٹ میں جڑواں بھائیوں کی پہلی مثال قائم کرنے والے آسٹریلیا کے سٹیو وا اور مارک وا ہیں۔

جنوری 1991 میں جب مارک وا نے انگلینڈ کے خلاف ایڈیلیڈ میں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا اس وقت تک سٹیو وا 42 ٹیسٹ کھیل چکے تھے لیکن قسمت دیکھیے کہ مارک وا کو ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی بار کھیلنے کا موقع سٹیو وا کو ڈراپ کر کے دیا گیا جو اس وقت فارم میں نہیں تھے۔ مارک وا نے اپنے اولین ٹیسٹ کو سنچری سے یادگار بنا دیا۔

دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور صرف دو ماہ بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹرینیڈاڈ ٹیسٹ میں دونوں نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔

یہ پہلا موقع تھا کہ کسی ٹیسٹ میچ میں دو جڑواں بھائی ایک ساتھ کھیلے۔

سٹیو وا اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں ’ہمارے والدین کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ ان پر گھبراہٹ بھی طاری تھی لیکن وہ بجا طور پر فخر بھی محسوس کر رہے تھے۔‘

مارک وا کی سوانح حیات میں ان کے بچپن کا ذکر دلچسپ انداز میں موجود ہے۔ ان کے دو ہی شوق تھے، کھانا اور سونا۔

دونوں ایک جیسے کپڑے پہنا کرتے تھے جو ساٹھ اور ستر کی دہائی کے پرانے فیشن والے ہوا کرتے تھے۔ دونوں کے لیے ایک جیسی سائیکلیں خریدی گئی تھیں اور کرسمس پر ایک ہی جیسے کرکٹ بیٹ انھیں تحفے میں ملے تھے۔

سٹیو وا اور مارک وا نے ٹیسٹ کرکٹ میں ایک ساتھ 127 اننگز میں بیٹنگ کی اور پانچ ہزار سے زائد رنز بنائے۔ دونوں کے درمیان 14 سنچری پارٹنر شپس قائم ہوئیں۔

ہمیش مارشل اور جیمز مارشل

گھنگریالے بالوں والے یہ دونوں بھائی ایک جیسی شکل و صورت کے ہیں۔ ہمیش مارشل نے 13 ٹیسٹ، 66 ون ڈے انٹرنیشنل اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کی۔ وہ انگلش کاؤنٹی ’گلوسٹر شائر‘ کی طرف سے بھی کھیلے البتہ آئرلینڈ کی طرف سے کھیلنے کی ان کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔

جیمز مارشل کو صرف سات ٹیسٹ، دس ون ڈے انٹرنیشنل اورتین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کھیلنے کا موقع مل سکا۔

یہ دونوں بھائی سنہ 2005 میں آسٹریلیا کے خلاف آکلینڈ ٹیسٹ میں ایک ساتھ کھیلے تھے۔

نیگل برادرز

لزلے نیگل نے مشہور زمانہ باڈی لائن سیریز میں آسٹریلیا کی طرف سے صرف ایک ٹیسٹ کھیلا اور دو ہی وکٹیں حاصل کر سکے۔ انگلینڈ کے خلاف ٹور میچ میں ان کی آٹھ وکٹوں کی شاندار کارکردگی انھیں ٹیسٹ میچ کھلانے کا سبب بنی تھی لیکن اس کے بعد وہ مزید آسٹریلیا کی نمائندگی نہ کر سکے۔

ان کے بھائی ورنن وکٹوریا کی طرف سے تیز بولنگ کرتے تھے لیکن وہ بھی چند فرسٹ کلاس میچ کھیل سکے۔ یہ دونوں بھائی کبھی ایک ساتھ نہیں کھیلے۔

عطا الرحمن اور ضیا الرحمن

فاسٹ بولر عطا الرحمن نے تیرہ ٹیسٹ اور تیس ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں تین سو کے لگ بھگ وکٹیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ عطا الرحمن کا کریئر میچ فکسنگ سکینڈل کی وجہ سے متاثر ہوا اور انھیں جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن کی سفارشات کی روشنی تاحیات پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا، جو چھ سال رہنے کے بعد آئی سی سی نے ختم کر دی تھی۔

عطا الرحمن کے جڑواں بھائی ضیا الرحمن دائیں ہاتھ کے بیٹسمین تھے جنھوں نے صرف چودہ فرسٹ کلاس میچز کسی غیرمعمولی کارکردگی کے بغیر کھیلے۔

کاغذ پر جڑواں

اس مضمون کے لیے مطلوبہ معلومات کی تلاش میں یہ بات بڑی دلچسپ معلوم ہوئی کہ پاکستان کی کرکٹ میں جڑواں بھائیوں کی ایک اور جوڑی موجود ہے۔ لیکن تفصیل میں جانے کے بعد پتا چلا کہ یہ جوڑی کاغذ پر ایک جیسی تاریخ پیدائش کی وجہ سے جڑواں ضرور ہے لیکن حقیقت میں جڑواں نہیں۔

عظمت رانا اور سلطان رانا کی تاریخ پیدائش ایک جیسی یعنی تین نومبر 1951 درج ہے ۔عام طور پر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں جڑواں بھائی ہیں لیکن جب میں نے سلطان رانا سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ وہ عظمت رانا سے دو سال چھوٹے ہیں اور یہ بات قریبی لوگوں کو معلوم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پچھلے وقتوں میں بڑے بوڑھے اندازوں سے تاریخ پیدائش لکھوا دیا کرتے تھے۔

عظمت رانا اور سلطان رانا کا تعلق کرکٹ کی مشہور رانا فیملی سے ہے۔ اس فیملی میں سب سے بڑے بھائی شکور رانا کی وجہ شہرت امپائرنگ بنی جبکہ دو بھائی شفقت رانا اور عظمت رانا ٹیسٹ کرکٹ کھیلے۔

سلطان رانا ٹیسٹ کرکٹ کے بہت قریب آئے تاہم جس ٹیسٹ میں عظمت رانا نے ٹیسٹ کیپ حاصل کی اس میں سلطان رانا بارہویں کھلاڑی تھے۔ وہ ایک بااعتماد بیٹسمین تھے لیکن ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے کے باوجود انھیں ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع نہ مل سکا۔

زمبابوے، ہالینڈ اور ہانگ کانگ کی کرکٹ میں بھی جڑواں بھائیوں کی چند مثالیں موجود ہیں۔ اسی طرح خواتین انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی جڑواں بہنیں کھیلی ہیں۔