رفال اور دیگر لڑاکا طیاروں کی فراہمی میں تاخیر: انڈین فضائیہ چین اور پاکستان کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کتنی تیار ہے؟

،تصویر کا ذریعہPRAKASH SINGH/AFP VIA GETTY IMAGES
- مصنف, رگھویندر راؤ
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی، دہلی
انڈین فضائیہ نے آٹھ اکتوبر کو اپنا 89واں یوم تاسیس منایا اور ہر سال کی طرح اس بار بھی دارالحکومت دہلی سے ملحقہ ہنڈن ایئر بیس پر ایک تقریب کے دوران فضائیہ نے اپنی صلاحیتوں اور طاقت کا مظاہرہ کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایئر فورس کے نومنتخب سربراہ ایئر چیف مارشل وی آر چودھری نے کہا: ’جب میں آج سکیورٹی کے منظر نامے کو دیکھتا ہوں، جس کا ہم آج سامنا کر رہے ہیں، تو مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ میں نے ایک انتہائی اہم دور میں ذمہ داری سنبھالی ہے۔ ہمیں اپنی قوم کو دکھانا ہے کہ بیرونی قوتوں کو ہماری سرزمین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ چیف آف ایئر سٹاف نے ایک اہم وقت پر انڈین فضائیہ کی کمان سنبھالی ہے۔ چین کے ساتھ انڈیا کی طویل عرصے سے جاری کشیدگی کم نہیں ہوئی ہے اور خود ایئر فورس چیف نے کہا ہے کہ چین تبت کے علاقے میں تین ہوائی اڈوں پر مستقل طور پر موجود ہے۔
27 فروری 2019 کو انڈین اور پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی یادیں ابھی تک دھندلی نہیں ہوئی ہیں۔
پانچ اکتوبر کو ایئر چیف مارشل وی آر چودھری کا یہ بیان آیا تھا کہ انڈین فضائیہ کے لیے اگلے 10-15 برسوں میں 42 فائٹر سکواڈرن کی منظور شدہ طاقت تک پہنچنا ممکن نہیں ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ اگلے چند برسوں میں لائٹ کامبیٹ ایئر کرافٹ (ایل سی اے) -ایم کے 1 اے کے چار سکواڈرن، ایڈوانس میڈیم کمبیٹ ایئر کرافٹ (اے ایم سی اے) کے چھ سکواڈرن اور ملٹی رول فائٹر ایئر کرافٹ (ایم آر ایف اے) کے چھ سکواڈرن انڈین ایئر فورس میں شامل ہوں گے۔
لیکن اگر کئی پرانے لڑاکا طیاروں کو مرحلہ وار ختم کیا جاتا ہے تو اگلی دہائی میں سکواڈرنز کی کل تعداد 35 رہ جائے گی اور اس میں اضافے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔
تو کیا 42 منظور شدہ سکواڈرنز کے لیے سارے کے سارے لڑاکا طیاروں کی عدم دستیابی انڈین فضائیہ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟ انڈین فضائیہ اپنی ضروریات کے مطابق لڑاکا طیارے فضائی بیڑے میں کیوں شامل نہیں کر پا رہا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@IAF_MCC
114 لڑاکا طیارے خریدنے کی تیاری
انڈین فضائیہ کے پاس تقریباً 600 لڑاکا طیارے ہیں۔ ان میں سخوئی، مگ- 29، میراج- 2000، جیگوار، مگ- 21، تیجس اور رفال شامل ہیں۔ اب تک فرانس کے ساتھ 36 رفال طیاروں کے معاہدے میں سے صرف 26 طیارے فراہم کیے گئے ہیں۔
اگلے چار سالوں میں انڈین فضائیہ چار مگ-21 سکواڈرن مرحلہ وار طریقے سے ختم کرے گی اور اس دہائی کے اختتام تک میراج-2000، جیگوار اور مگ-29 لڑاکا طیارے بھی سروس سے باہر ہو جائیں گے۔ اور یہ بڑی تشویش کی بات بنتی جا رہی ہے۔
اس کمی کو پورا کرنے کے لیے انڈین فضائیہ نے اب 114 ملٹی رول فائٹر طیاروں کی خریداری کا عمل شروع کیا ہے۔
اپریل سنہ 2019 میں فضائیہ نے تقریباً 18 ارب ڈالر کی لاگت سے 114 لڑاکا طیاروں کے حصول کے لیے ابتدائی ٹینڈر جاری کیا۔ اس خریداری کو حالیہ برسوں میں دنیا کی سب سے بڑی فوجی خریداری کے پروگرام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
فضائیہ کو امید ہے کہ 83 تیجس لائٹ کامبیٹ ایئر کرافٹ کی خریداری کے ساتھ وہ اپنی جنگی صلاحیت کو برقرار رکھ سکے گی۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@IAF_MCC
'غیر یقینی صورتحال'
گذشتہ کئی برسوں سے انڈین فضائیہ کے لیے لڑاکا طیارے خریدنے پر وقتاً فوقتاً بحث ہوتی رہی ہے۔ پھر ایئر فورس آج خود کو ایسی صورتحال میں کیوں دیکھ رہی ہے؟
ریٹائرڈ ایئر کموڈور پرشانت دیکشت کا کہنا ہے کہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب 126 لڑاکا طیارے خریدنے کے بجائے صرف 36 رفال طیارے خریدے گئے۔
وہ کہتے ہیں: 'انڈین فضائیہ کی پریشانیوں کا آغاز یہیں سے ہوا ہے۔ حکومت کا جھکاؤ اب ہلکے جنگی طیارے تیجس کی طرف ہے۔ 40 تیجس منگوائے گئے ہیں اور مزید 83 تیجس خریدے جانے کی بات کی گئی ہے اور ان طیاروں کے آنے میں 10 سال لگ جائیں گے۔'
حکومت ہند نے سنہ 2007 میں 126 میڈیم ملٹی رول کمبیٹ ایئر کرافٹ (ایم ایم آر سی اے) کی خریداری کا عمل شروع کیا تھا۔ ان طیاروں کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 20 ارب ڈالر تھا۔ اس عمل میں رفال نے مختلف طیاروں کے درمیان مقابلہ جیت لیا تھا، لیکن سنہ 2015 میں حکومت ہند نے فرانسیسی حکومت کے ساتھ براہ راست معاہدہ کر کے 36 رفال لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد 126 لڑاکا طیارے خریدنے کی تجویز ختم ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیے
کموڈور دیکشت کہتے ہیں: 'حکومت اب پرانا میراج-2000 خرید رہی ہے۔ ارادہ یہ ہے کہ ان پرانے طیاروں کے پرزے دوسرے میراج طیاروں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ ایک طرف آپ جدید طیارے لا رہے ہیں اور دوسری طرف جگاڑ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔'
لڑاکا طیاروں کی کمی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فضائیہ میں غیر یقینی صورتحال ہے۔

،تصویر کا ذریعہHINDUSTAN TIMES/GETTY IMAGES
بلند قیمت اور طویل مرحلہ
ماہرین کا خیال ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں لڑاکا طیاروں کے تکنیکی معیار میں اضافے کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ مہنگے لڑاکا طیارے خریدنا انڈیا جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک چیلنج ہے۔
انڈیا نے فرانس سے جو 36 رفال طیارے خریدے ہیں ان کی قیمت 59 ہزار کروڑ روپے ہے اور اس خریداری کے حوالے سے انڈیا میں ایک بڑا سیاسی تنازع دیکھا گیا ہے۔
ریٹائرڈ ایئر مارشل پی کے باربورا کا کہنا ہے کہ لڑاکا طیارہ خریدنا بہت طویل عمل ہے اور ’ایسا نہیں ہے کہ آپ گاڑی کی طرح شیلف سے لڑاکا طیارے خرید سکتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں: 'فرانس کو پہلے رفال طیاروں کی فراہمی میں تقریباً چار سال لگے۔ جس دن سے آپ معاہدہ کرتے ہیں اس کے بعد سے پہلے طیارے کے آنے میں چھ سے سات سالوں کا وقت لگ ہی جاتا ہے۔'
ایئر مارشل باربورا کے مطابق ہر فضائیہ اپنی ضروریات کے مطابق لڑاکا طیارے چاہتی ہے اور اسی لیے ان طیاروں میں ان کی ضروریات کو پورا کرنے والے آلات نصب کرنے میں اضافی وقت لگتا ہے۔
باربورا نے کہا: 'یہ ایک طویل عمل ہے اور طیارہ ساز اس کی پیداوار میں تیزی نہیں لا سکتے۔ اگرچہ آج 114 جیٹ طیاروں کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں لیکن آخری طیارے کے آنے تک 15 سال ہو جائیں گے اور اس کے باوجود پیسے کا مسئلہ رہے گا۔'
ان کا خیال ہے کہ انڈیا میں بنایا گیا ہلکا جنگی طیارہ تیجس ایک اچھا طیارہ ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ رینج، قوت برداشت اور ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے لحاظ سے تیجس سخوئی یا رفال طیاروں سے کم صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تیجس بنانے والی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے 83 تیجس جیٹ طیاروں کو آنے میں کافی وقت لگے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین سے خطرہ
جہاں ایک طرف انڈین فضائیہ اپنی جنگی صلاحیت بڑھانے کے لیے کوشاں ہے وہیں دوسری طرف چین کے پاس انڈیا کے مقابلے میں تقریباً دوگنا لڑاکا طیارے ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کے پیش نظر یہ بات بار بار دہرائی جا رہی ہے کہ کیا انڈین فضائیہ چین کے خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کموڈور دیکشت کا خیال ہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان روایتی جنگ چھڑنے کے بہت کم امکانات ہیں۔ 'اور اگر ایسا ہوتا ہے تو انڈین فضائیہ کو دوسرے ممالک سے مدد مل سکتی ہے۔' ان کا خیال ہے کہ کواڈ جیسا گروپ، جس میں انڈیا بھی شامل ہے، کسی بھی پریشانی کی صورت میں انڈیا کی مدد کر سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایئر مارشل باربورا کا کہنا ہے کہ انڈین فضائیہ کے پاس آج بھی ہائی ٹیک طیارے موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'میراج 2000 اور مگ 29 کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ جیگوار کو کافی حد تک اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ انڈیا کے پاس 250 سے زیادہ سخوئی طیاروں کا بیڑا ہے اور رفال طیارے بھی ہیں۔ ہمارے پاس یہ طیارے ہیں جو کہ بہت اہلیت کے حامل ہیں۔'
ایئر مارشل باربورا کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ انڈیا کا چین یا پاکستان کے ساتھ بڑے پیمانے پر کوئی تنازع ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: 'اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈیا اور یہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت والے ممالک ہیں۔ وہاں مقامی تنازعات ہو سکتے ہیں جہاں فضائی طاقت استعمال کی جا سکتی ہے۔ لیکن ایک مکمل جنگ ہونے کے بارے میں مجھے شبہ ہے۔'










