رفال جنگی طیاروں کی انڈیا آمد پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی انڈین فضائیہ کو مبارکباد

،تصویر کا ذریعہtwitter.com/IAF
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، دلی
جنگی طیارے رفال کے انڈیا پہنچنے کے بعد وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے انڈین فضائیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ فضائیہ کی طاقت صحیح وقت پر بڑھائی گئی ہے اور اس بارے میں ان کو فکر ہونی چاہیے جو انڈیا کی علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔
دنیا کے جدید ترین لڑاکا جیٹس میں شمار ہونے والے فرانسیسی جنگی طیارے رفال بدھ کو انڈیا پہنچے، جہاں ان طیاروں کو ریاست ہریانہ میں واقع امبالہ کے فضائی اڈے پر انڈین فضائیہ میں شامل کیا گیا۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’رفال طیاروں اور ہتھیاروں کی وقت پر ڈلیوری کے لیے وہ فرانس کی حکومت اور دساؤ ایویئیشن کے شکر گزار ہیں۔ فرانس نے وبا کے باوجود ڈلیوری میں دیر نہیں کی۔‘
اس سے پہلے انڈین وزیر دفاع کے آفس سے کی جانے والی ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ ’پرندے انڈین فضائی حدود میں داخل ہو چکے ہیں، امبالہ میں لینڈنگ مبارک ہو۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
انھوں نے سلسلہ وار ٹویٹس میں اس حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی کی خوب تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ رفال کی خریداری اس لیے ممکن ہو سکی کیوں کہ ’وزیرا عظم نریدر مودی نے صحیح فیصلہ کیا‘۔
انہوں نے لکھا کہ ’ان طیاروں میں پرواز کی زبردست صلاحیت کے علاوہ ان میں موجود ہتھیاروں کا نشانہ چوکتا نہیں ہے۔ ان کے ریڈار، سینسرز اور الیکٹرانک قوت دنیا بھر میں سب سے بہترین ہے‘۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
انہوں نے کہا کہ ’رفال کے آنے سے انڈین فضائیہ کسی بھی چیلینج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے گی۔‘
انہوں نے لکھا کہ 'اگر کسی کو اس نئی صلاحیت کے بارے میں فکر یا تنقید کرنی چاہیے تو اسے جو ہماری علاقائی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کی نیت رکھتے ہیں۔‘
انڈین فضائیہ نے بھی ٹویٹ کر کے رفال طیاروں کا استقبال کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
اس سے پہلے انڈیا کی خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے ان پانچ رفال طیاروں کی انڈیا کی فضائی حدود میں لی گئی چند تصاویر شیئر کی تھیں۔
اس سے قبل انڈین فضائیہ نے فضا میں 30 ہزار فٹ کی بلندی پر ان طیاروں میں ایندھن بھرنے کی تصاویر بھی شیئر کی تھیں۔اطلاعات ہیں کہ انڈیا ان جنگی طیاروں کے لیے ہیمر مزائل خریدنے کے ایک سودے کو بھی حتمی شکل دے رہا ہے۔
رفال جنگی طیارے فرانس کے میریانا فضائی اڈے سے منگل کو انڈیا کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ یہ جنگی طیارے تقریباً سات ہزار کلو میٹر کا سفر طے کرتے ہوئے انڈیا پہنچے ہیں۔
ان جنگی طیاروں کو انڈین فضائیہ کے پائلٹس اڑا کر انڈیا لائے ہیں۔ طیارہ ساز کمپنی دساؤ کمپنی نے انڈین فضائیہ کے پائلٹس اور انجینئرز کو اس طیارے اور اس میں نصب میزائل اور بموں کے بارے میں مکمل تربیت فراہم کی ہے۔
یہ جنگی طیارے ایک دن میں ہی انڈیا پہنچ سکتے تھے لیکن انھیں یہاں لانے سے پہلے ابوظہبی کے نزدیک فرانس کے فضائی اڈے پر اتارا گیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
ان جنگی جہازوں کو فصائیہ میں شامل کیے جانے کی باضابطہ تقریب آئندہ مہینے کسی وقت متوقع ہے۔
پیرس میں انڈین سفارتخانے کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق فرانس نے یہ جنگی طیارے مقررہ وقت کے اندر انڈین فضائیہ کے حوالے کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت پہلے بیچ میں انڈیا کو دس رفال طیارے دیے گئے ہیں۔ جن میں سے پانچ آج انڈیا پہنچے ہیں جبکہ باقی پانچ انڈین فضائیہ کے پائلٹس کی تربیت کے لیے فرانس میں ہی رہیں گے۔
انڈین حکومت نے فرانس کی دساؤ رفال کمپنی سے تقریباً 58 ہزار کروڑ روپے (نو ارب ڈالر) مالیت کے 36 رفال جنگی جہاز خریدنے کا سودا سنہ 2016 میں کیا تھا۔ معاہدے کے تحت سبھی 36 طیارے سنہ 2021 تک انڈیا کے حوالے کیے جائیں گے۔
انڈیا نے جو طیارے خریدے ہیں ان میں سنگل سیٹر اور ڈبل سیٹرر دونوں ہی ساخت کے رفال شامل ہیں۔
یہ جنگی طیارے ایک ایسے وقت میں انڈین فضائیہ میں شامل کیے جا رہے ہیں جب لداخ کی سرحد پر خونریز ٹکراؤ کے بعد انڈیا اور چین کے درمیان زبردست کشیدگی ہے۔
جون میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان ٹکراؤ میں کم از کم بیس انڈین فوجی ہلاک اور ستر سے زیادہ زحمی ہوئے تھے۔ اس وقت سے اس سرحدی خطے میں کشیدگی بنی ہوئی ہے۔
بعض اطلاعات کے مطابق ٹکراؤ کے درمیان چینی فوجی انڈین خطے میں داخل ہو گئے تھے۔ یہ چینی فوجی کئی دور کے مذکرات کے بعد بھی کئی علاقوں سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہINDIAN AIR FORCE
سرحدی ٹکراؤ کے بعد انڈیا میں چین کی ایپس پر پابندی عائد کیے جانے اور چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری پر روک اور سازوسامان کے بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
اس پس منظر میں فرانسیسی ساخت کے رفال طیاروں کی شمولیت کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔ انڈیا میں غالباً یہ پہلا موقع ہے جب کسی جنگی سازوسامان کو پاکستان کے تناظر میں نہیں بلکہ خصوصی طور پر چین کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین رفال جنگی طیارے کو گیم چینجر سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان طیاروں کی شمولیت سے انڈیا کو اونچے فضائی محاذوں پر حملے کرنے میں چین پر برتری حاصل ہو گئی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اس طیارے میں جو میزائل اور بم نصب ہیں، ان کے ہدف پر وار کرنے کی غیر معمولی صلاحیت اسے منفرد بناتی ہے۔
اس دوران خبر ملی ہے کہ انڈیا رفال طیاروں میں نصب کرنے کے لیے فرانس سے تباہ کن ہیمر مزائل خریدنے کا سودا بھی کر رہا ہے ۔ یہ سودا انڈیا کی فوج ’ایمرجنسی پاور‘ یعنی ہنگامی حالات میں استعمال کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے دیے گئے خصوصی اختیارات کے تحت کر رہی ہے۔
یہاں یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ انڈیا 60 سے 70 کلو میٹر تک وار کرنے والے ان میزائلوں کی خریداری چین سے تناؤ کے مدنظر کر رہا ہے۔ ہیمر مزائل بنانے والی کمپنی سیفران الیکٹرانک اینڈ ڈیفنس کے مطابق ’ہیمر مزائل دور سے ہی آسانی سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔‘
انڈیا کی حکومت نواز خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے ’شارٹ نوٹس کے باوجود فرانس ہمارے رفال جنگی طیاروں کے لیے ہیمر مزائل فراہم کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔‘ انڈین فضائیہ نے ان خبروں کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ تردید۔












