شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کی گرفتاری: ’منشیات، رقص، موسیقی اور بعض اوقات سیکس‘، انڈیا کی ریو پارٹیوں میں کیا کچھ ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ماینک بھاگوت
- عہدہ, بی بی سی مراٹھی
انڈیا میں منشیات کی روک تھام کرنے والے ادارے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو ایک ’ریو پارٹی‘ سے گرفتار کیا تھا۔ آرین پر منشیات خریدنے اور استعمال کرنے کے الزامات ہیں۔
آرین خان کی درخواست ضمانت پر پیر کے روز ہونے والی سماعت کے بعد عدالت نے انھیں جمعرات تک این سی بی کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔
آرین خان کے علاوہ اس کیس میں دیگر آٹھ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
انڈین حکام کے مطابق یہ افراد ایک کروز شپ پر ہونے والی ریو پارٹی میں شریک تھے۔
شاہ رخ خان کے بیٹے کی گرفتاری کے بعد سے انڈیا اور پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین ریو پارٹیز اور اُن میں منشیات کے استعمال پر بحث کر رہے ہیں۔
ریو پارٹی کیا ہوتی ہے اور انڈیا میں ایسی پارٹیوں میں کیا کچھ ہوتا ہے؟ ہم نے صارفین کے ان سوالات کا جواب جاننے کے لیے محکمہ نارکوٹکس کنٹرول کے چند اہلکاروں اور اُن کے مخبروں سے بات کی ہے۔
ریو پارٹی کیا ہوتی ہے؟
ریو پارٹیز کو انڈیا میں عموماً خفیہ طور پر منظم کیا جاتا ہے۔ ایسی پارٹیز میں منشیات، شراب، موسیقی، رقص اور بعض اوقات سیکس جیسے عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔
این سی بی کے ایک عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ریو پارٹیوں کا اہتمام صرف پارٹی سرکٹ سے تعلق رکھنے والے چند لوگوں کے لیے کیا جاتا ہے۔ نئے آنے والوں کو ان پارٹیوں میں شرکت کی اجازت نہیں ہوتی ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پارٹی کے بارے میں معلومات عام لوگوں میں نہ پھیل جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہMATTHIEU SPOHN
انھوں نے کہا کہ انڈیا میں ریو پارٹیاں منشیات استعمال کرنے اور اسے فروخت کرنے والوں کے لیے محفوظ مقامات ہیں۔
ایک اور عہدیدار کے مطابق عموماً ریو پارٹیوں میں بڑی مقدار میں منشیات کا استعمال ہوتا ہے۔
این سی بی نے کروز پر منعقدہ ریو پارٹی سے 13 گرام کوکین، پانچ گرام میفیڈرون اور ایکسٹسی کی 22 گولیاں ضبط کیں تھیں۔
عہدیدار نے کہا کہ ’ریو پارٹیوں میں ایکسٹسی، کیٹامائن، ایم ڈی ایم اے، ایم ڈی اور چرس جیسی منشیات بھی استعمال کی جاتی ہیں۔‘
پارٹی کے دوران بلند آواز میں الیکٹرک ٹرانس میوزک چلایا جاتا ہے تاکہ منشیات استعمال کرنے والے زیادہ دیر تک اسی موڈ میں رہیں۔ لوگ منشیات لیتے ہیں اور اس تیز موسیقی پر جھومتے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق ریو پارٹیاں 24 گھنٹوں سے لے کر تین، تین دنوں تک جاری رہتی ہیں۔
این سی بی کے ایک عہدیدار نے کہا: ’اس میں ایک خاص قسم کا میوزک سسٹم ہوتا ہے، تاکہ الیکٹرک ٹرانس میوزک کو بلند آواز میں چلایا جا سکے۔‘
لیزر سے رنگین تصاویر اور ویژول ایفیکٹس کے ساتھ سموک یعنی دھواں پیدا کرنے والی مشینیں بھی ریو پارٹیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
اس کروز پر چھاپہ مارنے والے افسران کے ساتھ وہاں جانے والے ایک مخبر نے بتایا کہ ’ریو پارٹیوں میں بجائے جانے والے گیتوں میں بہت کم الفاظ ہوتے ہیں۔ ٹرانس میوزک ایک خیالی یا ابہام پیدا کرنے والا ماحول بناتا ہے اور نشے کے زیر اثر لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔‘
ان پارٹیوں کی منصوبہ بندی سے لے کر اس کے منعقد ہونے تک کوڈ لینگویج استعمال کی جاتی ہے۔
ممبئی پولیس کے ایک ریٹائرڈ پولیس افسر سمادھن دھنڈھر نے این سی بی کے ساتھ کام کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ پارٹیاں دور دراز مقامات پر منعقد کی جاتی ہیں تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔‘
عام طور پر کھنڈالہ، لونا والا، کرجات، کھالپور، پونے اور کچھ ایسی جگہوں پر ریو پارٹیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEVERT ELZINGA/ANP/AFP VIA GETTY IMAGES
لوگوں کو پارٹیوں میں کیسے مدعو کیا جاتا ہے؟
ریو پارٹیوں کا اہتمام انتہائی خفیہ انداز میں کیا جاتا ہے اور تحقیقاتی اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے کئی طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور کوڈ لینگویج ریو پارٹیوں میں مدعو کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
عادل شیخ (نام تبدیل کیا گیا ہے) ایک پولیس مخبر ہیں۔ انھوں نے اس سے قبل این سی بی کو دو ریو پارٹیوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
عادل کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ چند برسوں میں ریو پارٹی کے بارے میں معلومات دینے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کا ایک چھوٹا گروپ جو ان پارٹیوں کا حصہ ہے تشکیل دیا جاتا ہے جو پارٹی کی معلومات دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔‘
چونکہ ریو پارٹیوں میں منشیات کا زیادہ استعمال ہوتا ہے اس لیے وہ جنگلات یا ان علاقوں میں کی جاتی ہے جو پولیس کی پہنچ سے باہر ہوں۔

،تصویر کا ذریعہDAMIR ZORCIC / EYEEM
سمادھن دھنیدھر بتاتے ہیں: ’پارٹی کے منتظمین اس کے لیے کچھ خفیہ کوڈز استعمال کرتے ہیں۔ کوئی بھی جب چاہے ان پارٹیوں میں شرکت نہیں کر سکتا۔ بعض اوقات پارٹی کی معلومات صرف ایک دوسرے کے ذریعے زبانی ہی دی جاتی ہیں۔‘
بہت کم لوگوں کو پارٹیوں میں شرکت کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ یہ منتخب گروپ ہوتے ہیں۔
ان پارٹیوں میں شامل ہونے کے لیے ہزاروں اور لاکھوں خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اسی لیے عام لوگ وہاں نہیں جا سکتے۔ یہ پارٹیاں بہت ہی امیر لوگوں کے لیے ہوتی ہیں۔
سنہ 1980 کی دہائی میں نوجوانوں میں ریو پارٹیاں مقبول ہوئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہFB/RheaChakrabortyOfficial
جن ریو پارٹیوں پر چھاپے مارے گئے
سنہ 2009 میں ممبئی پولیس نے ممبئی کے جوہو علاقے میں بامبے 72 کلب میں چھاپہ مارا تھا۔ پولیس نے چھاپے میں 246 نوجوانوں کو حراست میں لیا تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کی خون کی جانچ میں منشیات لینے کی تصدیق ہوئی تھی۔
رائے گڑھ پولیس نے سنہ 2011 میں کھالا پور میں ایک ریو پارٹی پر چھاپہ مارا تھا۔ اینٹی نارکوٹکس سیل کے افسر انیل جادھو کو بھی اس معاملے میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
پارٹی میں پکڑے گئے 275 افراد کے خون کے ٹیسٹ سے منشیات کے استعمال کی تصدیق ہوئی تھی۔ سنہ 2019 میں ممبئی کے جوہو میں آک ووڈ ہوٹل پر چھاپوں کے دوران 96 افراد پکڑے گئے تھے۔












