دیپیکا پڈوکون: انڈیا میں منشیات کے کیس میں بالی وڈ اداکارہ سے پوچھ گچھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں بالی وڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد تحقیقات سے متعلق ایک نارکوٹکس بورڈ نے اداکارہ دیپیکا پڈوکون سے پوچھ گچھ کی ہے۔
دیپیکا ان چھ افراد میں سے ہیں جنھیں طلب کیا گیا تھا۔ سنیچر کو دو مزید اداکاراؤں سے تفتیش کی جائے گی۔
رواں ماہ کے اوائل میں سوشانت سنگھ کی گرل فرینڈ ریا چکربرتی کو اُن کے لیے منشیات خریدنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ریا نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
گذشتہ مہینوں کے دوران انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ میں اس مقدمے کا کافی ذکر رہا ہے اور اس حوالے سے قیاس آرائیاں بھی ہورہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق اداکارہ سارہ علی خان اور شردھا کپور بھی سنیچر کو تفتیش کے لیے پیش ہوں گی۔ جمعے کو راکل پریت سنگھ سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔
34 سالہ سوشانت 14 جون کو ممبئی میں اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ پولیس کے مطابق انھوں نے خودکشی کی تھی۔
لیکن بعد ازاں سوشانت کے خاندان نے ریا کے خلاف شکایت درج کرائی تھی اور انھیں خودکشی میں سہولت کاری سمیت دیگر جرائم میں ملوث قرار دیا تھا۔ ریا نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
تین وفاقی ادارے اس مقدمے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ تفتیش کار ذرائع ابلاغ کو کیس سے متعلق کچھ معلومات فراہم کر رہے ہیں اور اس بارے میں کئی افواہیں موجود ہیں کہ درحقیقت کیا ہوا تھا یا اصل ذمہ داران کون ہیں۔
مقدمہ کیا ہے؟
نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) ایک ہی وقت میں دو تحقیقات کر رہا ہے۔ پہلی تحقیقات ریا، ان کے بھائی اور سوشانت کے سابق ہاؤس مینیجر کے خلاف ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دوسری تحقیقات میں بالی وڈ ستاروں کی جانب سے منشیات کے وسیع استعمال کے دعوؤں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہے۔ اور اس کا تعلق پہلی تحقیقات سے قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکام میڈیا کو کھل کر تفصیلات سے آگاہ نہیں کر رہے جس سے مزید افواہیں جنم لے رہی ہیں۔
سوشانت کی موت کے فوراً بعد ساری توجہ ریا کی طرف منتقل ہوگئی تھی۔ انھیں کئی الزامات اور سازشی نظریوں کا مرکزی کردار بتایا گیا۔
این سی بی حکام کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقات میں ریا کے واٹس ایپ پیغامات کی بھی جانچ کر رہے ہیں جس میں انھوں نے مبینہ طور پر منشیات سے متعلق بات کی تھی۔
انڈیا میں چرس پر پابندی ہے لیکن بھنگ کے پودے کے استعمال کو قانونی اجازت حاصل ہے اور اس کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔
دیپیکا سے اس کا کیا تعلق ہے؟
اس حوالے سے واضح معلومات موجود نہیں کہ دیپیکا کا اس مقدمے سے کیا تعلق ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نارکوٹکس حکام کا کہنا ہے کہ وہ دیپیکا اور ان کے مینیجرز سے ان کے واٹس ایپ پیغامات سے متعلق پوچھ گچھ کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن یہ غیر واضح ہے کہ ان پیغامات میں ایسا کیا تھا۔
کچھ کا کہنا ہے کہ انھیں اس لیے ہدف بنایا جا رہا ہے کیونکہ رواں سال جنوری میں دلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں طلبہ پر تشدد کے واقعے کے بعد انھوں نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی تھی۔ ان پُرتشدد واقعات میں حکمراں جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے افراد ملوث تھے۔
اس وقت پی جے پی کی حمایت کرنے والے افراد نے دیپیکا کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان کی فلم بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق حکام کا دعویٰ ہے کہ منشیات بیچنے والے جن افراد سے تفتیش کی گئی ہے انھوں نے کچھ مزید اداکاراؤں کے نام لیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر صارفین یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ صرف اداکارائیں ہی کیوں، اداکاروں کو کیوں نہیں طلب کیا جا رہا۔
لیکن سوشانت کی موت کے کئی ہفتوں بعد یہ کیس ایک دوسری طرف نکل پڑا ہے۔ بالی وڈ کے بڑے نام میڈیا کی توجہ کا باعث بنے ہوئے ہیں، اخباروں میں اس سے متعلق سرخیاں لگ رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی یہی سب زیر بحث ہے۔
ردعمل کیا ہے؟
انڈیا میں نیوز چینلز کی جانب سے اس مقدمے کی جارحانہ کوریج بھی زیر بحث ہے اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ کئی خبریں مضحکہ خیز ہیں۔
گذشتہ مہینوں کے دوران سوشانت کے تمام قریبی لوگوں کو میڈیا پر بلا کر انٹرویو کیے گئے ہیں جن میں ان کی تھیراپسٹ، دوست، خاندان، شعبے سے منسلک ساتھی اور سابق باورچی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرکاری سطح پر معلومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے نیوز چینل باریکی سے ہر پہلو پر غور کر رہے ہیں اور لیک ہونے والی کچھ معلومات سے منسلک سازشی عنصر پر شوز کر رہے ہیں۔
یہ دکھانے کے لیے کہ ریا مبینہ طور پر سوشانت کی دولت میں حصہ دار تھیں، ایک چینل نے ان کے فون میں موجود مبینہ پیغامات کا جائزہ بھی لینا چاہا تھا۔ اینکر نے ’ایما باؤنس‘ کے مسیج کا مطلب یہ نکالا کہ ’چیک باؤنس ہوگیا ہے‘ جس پر سوشل میڈیا صارفین نے مزاحیہ ٹویٹس کیے۔ انگریزی کے اس غیر رسمی جملے سے مراد ’میں اب چلتی ہوں‘ ہوتا ہے۔
انڈیا میں اس کیس کی میڈیا کوریج کا مذاق اڑایا گیا ہے لیکن ساتھ میں اس پر کافی تنقید بھی ہوئی ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کوریج کووڈ 19 کو دی جانی چاہیے تھی جو روز انڈیا میں کئی افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ اس وقت انڈیا دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن چکا ہے اور اس کی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے جبکہ چین کے ساتھ تناؤ برقرار ہے۔













