نمروز: افغانستان کے جنوب مغربی صوبے کے دارالحکومت زرنج پر طالبان کا قبضہ

طالبان

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشندیگر صوبائی دارالحکومت جہاں اس وقت شدید لڑائی جاری ہے ان میں مغربی صوبہ ہرات بھی شامل ہے

افغانستان کے جنوب مغربی صوبے نمروز کے مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان نے صوبائی دارالحکومت زرنج پر قبضہ کر لیا ہے۔

حالیہ برسوں میں یہ افغانستان کے کسی صوبے کا پہلا دارالحکومت ہے جس پر طالبان قابض ہوگئے ہیں۔ جمعے کو کئی مقامی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ زرنج پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب جمعے کو افغان مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں تمام فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ لڑائی بند کر کے امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کریں۔

افغآنستان کے دیگر صوبائی دارالحکومت جہاں اس وقت شدید لڑائی جاری ہے ان میں مغرب میں ہرات اور جنوب میں لشکر گاہ شامل ہیں۔

نمروز پر طالبان کا قبضہ

ایران کے ساتھ سرحد کے قریب واقع زرنج ایک اہم تجارتی شہر ہے۔ اس کے ارد گرد کے اضلاع پر قابض ہونے کے بعد طالبان اس شہر پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے مسلسل حملے کر رہے تھے۔

نمروز کی نائب گورنر گل خیرزاد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ زرنج ’مزاحمت کے بغیر‘ طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے۔

اُن سمیت دیگر حکام نے مرکزی حکومت کی جانب سے اضافی نفری نہ بھیجنے کی شکایت کی ہے۔

گل خیرزاد نے کہا کہ ’شہر کو کچھ عرصے سے خطرہ تھا لیکن مرکزی حکومت میں سے کسی نے بھی ہماری بات نہیں سنی۔‘

اس سے پہلے نمروز پولیس کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا تھا کہ حکومت کی جانب سے اضافی نفری نہیں بھیجی گئی جس کی وجہ سے طالبان شہر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے آخری بار سنہ 2016 میں طالبان کسی صوبائی دارالحکومت پر قبضۃ کرنے میں اس وقت کامیاب ہوئے تھے جب انھوں نے ایک مختصر عرصے کے لیے شمالی شہر قندوز پر قبضہ کر لیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے اطلاعات کے مطابق صوبہ نمروز کے دارالخلافہ زرنج پر طالبان نے حملہ کیا تھا اور جمعرات کی رات شہر میں داخل ہو گئے تھے۔ تاہم صوبائی کونسل کے سربراہ باز محمد ناصری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ افغان فورسز کے پاس اب بھی شہر کا کنٹرول ہے اور طالبان کی یہاں موجودگی کی اطلاعات میں حقیقت نہیں ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق طالبان نے شہر کے ائیرپورٹ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں لوگوں کو سرکاری عمارتوں میں لوٹ مار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

زرنج پر قبضے کو طالبان کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو پہلے ہی امریکی افواج کا انخلا شروع ہونے کے بعد سے ملک کے طول و عرض میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔

طالبان نے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں فتح کا دعویٰ کیا ہے۔ روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک طالبان کمانڈر نے کہا ہے کہ ’یہ آغاز ہے اور دیکھیے گا کہ کس طرح دوسرے صوبے بھی جلد ہی ہمارے قبضے میں ہوں گے۔‘

بعض اطلاعات کے مطابق طالبان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت سرکاری حکام کو اپنے خاندانوں سمیت ایران فرار ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

افغانستان

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس

انڈیا کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل نمائندے غلام محمد اسحاق زئی نے کہا کہ طالبان نے دوحا معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک میں پرتشدد کارروائیں شروع کر رکھی ہیں جس میں لوگ ہلاک اور بے گھر ہو رہے ہیں اور شہری ڈھانچوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

اس وقت سکیورٹی کونسل کی صدارت انڈیا کے پاس ہے اور اقوام متحدہ میں اس کے مستقل نمائندے مورتی نے افغانستان میں صورتحال پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی نمائندے نے اجلاس میں کہا کہ ان کا ملک افغانستان میں ایک ایسی حکومت کی حمایت کرے گا جس کے لیڈروں کا انتخاب عوام کریں گے، جو انسانی حقوق خاص کر خواتین اور اقلیتوں کے حقوق پر یقین رکھتے ہوں اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ہوری کریں گے۔

روس کا کہنا ہے کہ اسے افغانستان میں بدامنی سے متعلق خدشات ہیں اور اس بار پر زور دیا کہ وسھی ایشیائی ممالک کو بھی اس حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔

جہاں فرانس نے امن مذاکرات میں خواتین کے کرداد پر بات کی وہیں برطانیہ نے افغانستان کے ہمسایہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن سے متعلق مثبت کرداد ادا کریں۔

محکمہ اطلاعات کے عہدیدار کا قتل

دوا خان مینہ پال

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشنافغانستان میں ملک کے میڈیا اینڈ انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر دوا خان مینہ پال کو دارالحکومت کابل میں طالبان جنگجوؤں نے قتل کر دیا ہے

اس سے پہلے جمعے کو افغانستان میں ملک کے میڈیا اینڈ انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر دوا خان مینہ پال کو دارالحکومت کابل میں طالبان جنگجوؤں نے قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ افغانستان کے وزیر دفاع کے گھر پر حملے کے دو روز بعد پیش آیا ہے۔ طالبان نے وزیر دفاع کے گھر پر حملے کے بعد مزید حکومتی شخصیات کو نشانہ بنانے کی بات کی تھی۔

افغان حکومت کے میڈیا اینڈ انفارمیشن سینٹر کے قتل ہونے والے ڈائریکٹر دوا خان مینہ پال کو مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کابل کے دارالامان روڈ پر قتل کیا گیا۔

وہ باقاعدگی سے افغان حکومت کی اطلاعات ٹوئٹر پر پوسٹ کیا کرتے تھے اور اُن کے ایک لاکھ 42 ہزار سے زیادہ فالوور تھے۔

بدھ کے روز ملک کے وزیر دفاع کے گھر پر ہونے والا حملہ تقریباً ایک سال میں شدت پسندوں کی طرف سے کابل میں پہلی بڑی کارروائی تھی۔

میڈیا سنٹر کے ڈائریکٹر کے قتل پر رد عمل میں افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان میروائس ستانیکزئی نے کہا: 'بدقسمتی سے ظالم دہشتگردوں نے ایک مرتبہ پھر بزدلانہ کارروائی کی اور ایک محبِ وطن افغان کو ہلاک کر دیا۔'

پاکستان افغانستان سرحد سپین بولدک کے مقام پر بند

طالبان نے جمعے سے پاکستان، افغانستان کی سرحد کو سپین بولدک کے مقام پر ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے بند کر دیا ہے۔

طالبان کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ جب تک پاکستان ایسے افغان پناہ گزینوں کو آنے جانے کی اجازت نہیں دیتا جن کے پاس مطلوبہ دستاویزات موجود ہیں، تب تک یہ سرحد بند رہے گی۔

اس حوالے سے افغان طالبان کے قندھار کے کمشنر حاجی وفا کی جانب سے ایک پمفلٹ جاری کیا گیا ہے جس میں سرحد کی بندش کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز سے سپین بولدک میں ویش کے مقام پر سرحد پاکستان اور افغانستان آنے جانے والے تمام افراد کے لیے بند کی جاتی ہے۔

دریں اثنا افغان ملٹری کا کہنا ہے کہ جنوبی صوبے ہلمند کے دارالخلافہ لشکرگاہ میں ایک سینیئر طالبان کمانڈر اور درجنوں جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔ طالبان نے اس کی تردید کی ہے۔

طالبان نے سرحد کی بندش سے متعلق بیان میں مزید کیا کہا ہے؟

سرحدی بندش کے حوالے سے طالبان کے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جب تک پاکستان ان افغان پناہ گزینوں کے لیے سرحد نہیں کھول دیتا جن کے پاس مہاجر کارڈ یا تذکرہ (سفری اجازت نامہ) موجود ہو تب تک سرحد کو نہیں کھولا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صبح سے شام تک بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین سرحد پر اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب پاکستان کی جانب جانے والا راستہ کھولا جاتا ہے تاکہ وہ پاکستان جا سکیں۔‘

پاک افغان سرحد کچھ عرصے سے لوگوں کے آمدو رفت کے لیے بند ہے، صرف تجارتی سامان کی اجازت ہے اور ایسی اطلاعات ہیں کہ چمن اور سپین بولدک کے دمریان سرحد چند گھنٹوں کے لیے عام لوگوں کی آمدو رفت کے لیے کھولی جاتی ہے۔

سپین

،تصویر کا ذریعہAbdul Basit

افغان طالبان نے اب اپنے بیان میں کہا ہے کہ سپین بولدک میں ویش کے مقام پر سرحد آمد و رفت کے علاوہ تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں اور تجاری سامان کے لیے بھی بند رہے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے اس بارے میں افغان طالبان کے افغانستان میں ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرحد بند ہے اور اس کے لیے انھوں نے کوشش کی کہ پاکستان کی جانب سے سرحد کھول دی جائے کیونکہ ’پاکستان کی جانب سے صرف تین گھنٹوں کے لیے سرحد کھولی جاتی ہے اور اس کے لیے بڑی تعداد میں لوگ انتظار کرتے رہتے ہیں جن میں خواتین، بزرگ اور بچے شامل ہوتے ہیں اور اکثر علاج کی غرض سے پاکستان جانا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جب تین گھنٹوں کے لیے سرحد کھولی جاتی ہے تو اس میں اکثر لوگوں کو واپس کر دیا جاتا ہے کہ کارڈ صحیح نہیں ہے اور کاغذات مکمل نہیں ہیں اس لیے مجبوراً سرحد بند کر دی گئی ہے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

سپین بولدک میں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جب بھی پاکستان کی جانب سے سرحد مکمل طور پر کھول دی جائے گی تو اس کے بعد افغان طالبان کے کمشنر کی جانب سے سرحد کھولنے کا اعلان کیا جائے گا۔

سرحد پر صورتحال

چمن پر باب دوستی کے ساتھ افغانستان کے علاقے ویش منڈی سے جو تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں ان میں یہ نظر آ رہا ہے کہ افغانستان کی طرف بڑے بڑے بلاک رکھ کر باب دوستی کو بند کیا گیا ہے۔

ان تصاویر میں وہ کرین بھی نظر آ رہی ہے جس کی مد دسے ان بڑے بڑے بلاکس کو باب دوستی کے ساتھ رکھا جا رہا ہے۔

ویش منڈی اور اس کے بعد سپین بولدک کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد افغان طالبان کی جانب سے اس علاقے سے سرحد کو بند کرنے کا یہ پہلا اقدام ہے۔

اس سلسلے میں چمن کے ڈپٹی کمشنر جمعداد مندوخیل سے رابطے کے لیے ان کو متعدد بار کالز کی گئیں لیکن اُنھوں نے کال وصول نہیں کی۔

جوائنٹ پاکستان افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر عمران خان کاکڑ نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کہ افغانستان کی جانب سے طالبان نے باب دوستی کو بند کیا ہے۔

سپین بولدک

،تصویر کا ذریعہTALIBAN MEDIA

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف چمن سے پیدل آمد و رفت کا سلسلہ بند ہو گیا ہے بلکہ تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت بھی بند ہو گئی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ 'افغان طالبان کی جانب اس اقدام پر ہم نے فوری طور پر ڈپٹی کمشنر کے علاوہ سرحدی امور سے متعلق جو دیگر حکام ہیں ان سے رابطہ کیا ہے۔ ہم نے اُنھیں بتایا ہے کہ وہ سرحد پار لوگوں سے بات کریں تاکہ تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہو سکے۔'

تاجروں کے لیے پریشانی

ان کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش سے تاجروں کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔

'تاجروں کا جو مال ہے ان میں فروٹ اور سبزیاں بھی ہوتی ہیں۔ جن کا ایک دن ہوتا ہے اور اگر اس کو آپ نے بغیر کولنگ کے بہت دیر کے لیے رکھ دیا تو وہ خراب ہوجاتے ہیں۔'

عمران کاکڑ کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش تاجروں کے لیے بہت تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔ اس سے قبل جب کووڈ کے باعث سرحد کو بند کیا گیا تو تاجر برادری کو بہت زیادہ مشکلات اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اب عید پر بھی چمن سے باب دوستی سے تجارتی سرگرمیاں بند رہیں لیکن اب ایک مرتبہ پھر سرحد کی بندش سے تاجروں میں ایک مرتبہ پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے اُنھیں یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ وہ اس معاملے پر سرحد پار متعلقہ حکام سے بات کریں گے لیکن اس کے طریقہ کار میں وقت لگتا ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ تاجروں کو نقصان سے بچانے کے لیے سرحد کو جلد سے جلد کھولا جائے۔

چمن بارڈر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ویش منڈی کی کیا اہمیت ہے؟

بلوچستان کے مقامی صحافی شہزادہ ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا کہ بلوچستان سے افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں اور وسط ایشائی ریاستوں کے درمیان ویش منڈی طورخم کی طرح ایک اہم گزرگاہ ہے۔

طورخم کی طرح یہاں سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان روزانہ لوگوں اور گاڑیوں کی بڑی تعداد کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت کراچی سے افغانستان کے لیے گاڑیاں اور دوسرے غیر ملکی اشیا آتی ہیں، ان کو بارڈر کراس کروانے کے بعد ویش منڈی میں رکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منڈی کے باعث بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے روزانہ سینکڑوں پاکستانی تاجر اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی بھی آمد و رفت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سرحدی علاقے میں ماضی میں ہونے والی جھڑپیں

اس علاقے میں ماضی میں پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ ویش منڈی اور اس سے متصل علاقوں میں روسی افواج کی موجودگی کے دور میں افغانستان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی درمیان مستقل تناﺅ رہا اور بسا اوقات جھڑپیں بھی ہوتی رہیں۔

تاہم جب طالبان نے سنہ 1996 میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا تو اس کے بعد خاموشی ہو گئی۔ لیکن طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستانی اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان تناﺅ کا سلسلہ پھر شروع ہوا۔

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ یہ تناﺅ ڈیورنڈ لائن پر پاکستان کی جانب سے باڑ لگانے پر ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں ایک بڑی جھڑپ پاکستان میں گذشتہ مردم شماری کے موقع پر سرحد پر منقسم دو دیہاتوں کلی لقمان اور جہانگیر میں مردم شماری کے دوران ہوئی تھی۔

اس جھڑپ میں دونوں اطراف سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

ویش منڈی انتطامی لحاظ سے افغانستان کے صوبہ قندہار کا حصہ ہے۔ بلوچستان کے سات اضلاع کی افغانستان کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں جن میں ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبد اللہ، چمن، نوشکی اور چاغی شامل ہیں۔

ان میں سے چار اضلاع پشین، قلعہ عبد اللہ، چمن اور نوشکی کی سرحدیں قندھار سے متصل ہیں۔ ان تمام اضلاع سے لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے لیکن سب سے بڑی گزرگاہ ضلع چمن سے متصل ویش منڈی ہے۔

یہ سرحدی شہر نہ صرف بلوچستان اور قندھار کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے بلکہ یہ ہرات کے راستے پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں سے منسلک کرتا ہے۔ اس روٹ سے نہ صرف افغان ٹرانزٹ کی گاڑیوں کی آمد و رفت ہوتی ہے بلکہ قندھار اور جنوب مغربی صوبوں میں تعینات نیٹو افواج کی رسد کا ایک بڑا حصہ اسی روٹ گزرتا تھا۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اشرف غنی اور ابراہیم رئیسی کی ملاقات

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے تہران میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی ہے۔

افغان صدارتی محل کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں ابراہیم رئیسی نے افغانستان کی 'جائز حکومت' سے تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ایران افغان عوام کی سلامتی، بہبود اور عزتِ نفس چاہتا ہے۔ مدد نہ رکی ہے اور نہ رکے گی۔

غنی جمعرات کو تہران کے ایک روزہ دورے پر ایران پہنچے تھے جہاں اُنھوں نے نومنتخب صدر کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی۔

اُن کے ساتھ نائب صدر دوئم سرور دانش، وزیرِ خارجہ محمد حنیف اتمر اور چیف آف سٹاف عبدالمتین بیگ شامل تھے۔

علاقائی ممالک کیا کر رہے ہیں؟

جمعے کو ہمسایہ ممالک افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور اس پر ایک دوسرے سے بات چیت کریں گے۔

سالانہ بات چیت کے لیے قزاقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان نے ترکمانستان میں بحیرہ گیلان پر واقع علاقے آوازہ میں اپنے سفارتکار بھیجے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکمانستان کے صدر نے بدھ کو قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ افغانستان کے سوال نے 'سب کو پریشان کیا ہوا ہے۔'

دریں اثنا روس نے ازبکستان کی فوج کے ساتھ مل کر رواں ہفتے فوجی مشقیں کی تھیں۔ اس خطے میں سکیورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ گذشتہ ماہ افغان سرحد پر ایک اہم کراسنگ پر طالبان نے قبضہ کر لیا تھا۔

جمعرات کو یورپی یونین نے افغانستان میں فوری اور مستقل سیز فائر کا مطالبہ کیا تھا۔ اس نے صورتحال کو 'بے مطلب تشدد' قرار دیا تھا۔

افغانستان میں زمینی صورتحال کیا ہے؟

لشکرگاہ، فراہ، بادغیس، ہرات، سریپل اور قندھار سمیت کئی شہروں میں رات بھر لڑائی جاری رہی ہے۔ طالبان نے لغمان صوبے میں ضلع بادپش کا کنٹرول سنبھال لینے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

ہلمند

افغان فوج نے جنوبی صوبے ہلمند کے صدر مقام لشکرگاہ پر قبضے کی کوشش کرنے والے جنگجوؤں کو روکنے کے لیے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جنھیں امریکی فضائی حملوں کی صورت میں پشت پناہی بھی حاصل ہے۔

لشکر گاہ اُن متعدد اضلاع میں سے ہے جہاں حکومتی فورسز طالبان جنگجوؤں کو شہروں پر قبضے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

بی بی سی کے ایڈیٹر برائے جنوبی ایشیا ایتھراجن امبراسن کے مطابق لشکرگاہ میں لڑائی کو اب نوواں روز ہو چلا ہے اور یہاں امریکی اور افغان فضائی حملے گذشتہ رات بھر جاری رہے ہیں۔

افغان فوج کے مطابق مولوی مبارک نامی طالبان کمانڈر درجنوں دیگر جنگجوؤں سمیت ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہPresident.IR

تاہم ایک طالبان ترجمان نے بی بی سی سے گفتگو میں مولوی مبارک کے زندہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

واضح رہے کہ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کو پہنچنے والے نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

افغان فوج اور طالبان دونوں ہی اس عسکری اہمیت کے حامل شہر پر قبضے کے لیے وسائل کا استعمال کر رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کے لیے کام کرنے والے لوگوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔

اُدھر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں ایک ویڈیو ٹویٹ کی ہے جس میں بظاہر لشکرگاہ کا بازار تباہ نظر آ رہا ہے۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ افغان فضائی حملے میں تباہ ہوا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم ایکشن اگینسٹ ہنگر کا لشکرگاہ میں واقع دفتر بھی جھڑپوں کے دوران فضائی حملے میں تباہ ہوا ہے۔

نمروز

افغانستان کے جنوب مغربی صوبہ نمروز کے مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان نے صوبائی دارالحکومت زرنج پر قبضہ کر لیا ہے۔

اس سے پہلے صوبہ نمروز میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات تھیں جہاں طالبان کا دعویٰ تھا کہ اُنھوں نے ضلع کنگ پر قبضہ کر لیا ہے۔

صوبہ نمروز کے دارالخلافہ زرنج میں اطلاعات کے مطابق طالبان نے شہر پر حملہ کیا تھا اور گذشتہ رات اس میں داخل ہو گئے۔ تاہم صوبائی کونسل کے سربراہ باز محمد ناصری نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان فورسز کے پاس اب بھی شہر کا کنٹرول ہے اور طالبان کی یہاں موجودگی کی اطلاعات میں حقیقت نہیں ہے۔

باز محمد ناصری نے یہ بھی بتایا کہ بارڈر پولیس اور کسٹمز کے چند اہلکار تحفظ کی خاطر ایران فرار ہو گئے ہیں۔

طلوع نیوز کے مطابق شہر کے چند رہائشیوں نے بھی ایران جانے کی کوشش کی مگر ایرانی سرحدی حکام نے اُنھیں روک دیا۔

بلخ

بلخ کے شہر مزارِ شریف میں جمعرات کو ایک موٹرسائیکل بم پھٹنے کے باعث ایک شہری ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہو گئے۔ صوبائی پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔