نرسمہا راؤ کے وہ اقدامات جنھوں نے انڈیا کے معاشی مستقبل کا رخ طے کیا

،تصویر کا ذریعہSondeep Shankar/Getty Images
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
یہ بات ہے 20 جون 1991 کی شام کی جب کابینہ کے سکریٹری نریش چندر نے نو منتخب وزیر اعظم نرسمہا راؤ سے ملاقات کی اور انھیں آٹھ صفحات پر مشتمل ایک خفیہ دستاویز دی۔ اس دستاویز میں بتایا گیا تھا کہ وزیر اعظم کو کن کاموں پر فوری توجہ دینی چاہیے۔
جب نرسمہا راؤ نے وہ نوٹ پڑھا تو ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ ان کا پہلا تبصرہ تھا کہ 'کیا انڈیا کی معاشی حالت اتنی خراب ہے؟'
نریش چندر کا جواب تھا: 'نہیں جناب، اصل میں اس سے بھی زیادہ۔'
اس وقت انڈیا کے زرمبادلہ کے ذخائر کی حالت ایسی تھی کہ اگست 1990 تک یہ کم ہو کر صرف تین ارب ڈالر سے کچھ تھوڑا زیادہ رہ گئے تھے۔ جبکہ جنوری 1991 میں انڈیا کے پاس صرف 89 ملین ڈالر کا زرمبادلہ رہ گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہDouglas Graham/Getty Images
اگر عام فہم الفاظ میں بات کریں تو انڈیا کے پاس فارن ایکسچینج کے لیے صرف دو ہفتوں کا زرمبادلہ باقی تھا۔
اس کی سب سے بڑی وجہ بنی 1990 کی خلیجی جنگ جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ ہو گیا تھا۔
اس کی دوسری وجہ یہ تھی کہ کویت پر عراق کے حملے کی وجہ سے انڈیا کو اپنے ہزاروں کارکنوں کو واپس وطن لانا پڑا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے ذریعہ بھیجے جانے والا زرمبادلہ مکمل طور پر بند ہو گیا۔
پھر اس کے علاوہ انڈیا کے سیاسی عدم استحکام اور منڈل کمیشن کی سفارشات کے خلاف اٹھنے والی عوامی اشتعال انگیزی نے معیشت کو ڈوبانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منموہن سنگھ کو وزیر خزانہ بننے پر راضی کرنا
اسی وقت این آر آئیز یعنی بیرون ملک رہائش پذیر انڈین لوگوں نے انڈین بینکوں سے اپنی رقم نکالنا شروع کر دی۔
اس کے علاوہ 80 کی دہائی میں انڈیا کی طرف سے لیے گئے مختصر مدتی قرضوں پر سود کی شرح میں اضافہ ہوا تھا اور اگست 1991 تک افراط زر 16.7 فیصد تک بڑھ گیا تھا۔
وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے اپنی دوست اندرا گاندھی کے پرنسپل سکریٹری پی سی الیگزینڈر کو اشارہ کیا کہ وہ وزیر خزانہ کی حیثیت سے اپنی کابینہ میں ایک پیشہ ور ماہر معاشیات لانا چاہتے ہیں جس پر پی سی الیگزینڈر نے انھیں ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنروں آئی جی پٹیل اور ماہر معیشت منموہن سنگھ کا نام دیا۔
کیونکہ پی سی الیگزینڈر خود منموہن سنگھ کے حق میں تھے لہذا انھیں منموہن سنگھ کو منانے کی ذمہ داری دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہRupa Publications
پی سی الیگزینڈر نے اپنی سوانح عمری 'تھرو دا کوریڈورز آف پاور' میں لکھا کہ '20 جون کو میں نے منموہن سنگھ کے گھر فون کیا۔ ان کے ملازم نے مجھے بتایا کہ وہ یورپ گئے ہوئے ہیں اور ان کی آج رات گئے واپسی ہو گی۔ پھر جب میں نے 21 جون کو صبح ساڑھے پانچ بجے دوبارہ فون کیا تو اس کے نوکر نے کہا کہ صاحب خوب سو رہے ہیں اور انھیں میں جگا نہیں سکتا۔'
پی سی الیگزینڈر لکھتے ہیں: ' میرے بہت اصرار کرنے پر اس نے منموہن سنگھ کو جگایا اور جب وہ فون پر آئے تو میں نے ان سے کہا کہ میرا آپ سے ملنا بہت ضروری ہے اور میں کچھ منٹ میں آپ کے گھر پہنچ رہا ہوں۔ جب میں ان کے گھر پہنچا تو منموہن سنگھ اس وقت تک دوبارہ سونے چلے گئے تھے۔'
پھر جب انھیں دوبارہ جگایا گیا تو میں نے انھیں نرسمہا راؤ کا پیغام دیا کہ وہ انھیں وزیر خزانہ بنانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے جواب دیا کہ اگر میں اس کے خلاف ہوتا تو ایسے غیر معمولی وقت میں آپ سے ملنے نہیں آتا۔'
روپے کی قدر میں کمی
حلف اٹھانے سے پہلے نرسمہا راؤ نے منموہن سنگھ سے کہا: 'میں آپ کو کام کرنے کی مکمل آزادی دوں گا۔ اگر ہماری پالیسیاں کامیاب ہوتی ہیں تو ہم سب اس کا کریڈٹ لیں گے۔ لیکن اگر ہم ناکام ہو گئے تو آپ کو رخصت ہونا پڑے گا۔'
نرسمہا راؤ کے سامنے آنے والا سب سے پہلا چیلنج روپے کی قدر میں کمی کا تھا۔
نرسمہا راؤ اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جن کا خیال تھا کہ سنہ 1966 میں اندرا گاندھی کی جانب سے روپے کی قدر میں کمی کرنے کے فیصلے نے انڈیا پر پریشانیوں کا پہاڑ ڈھا دیا تھا۔
لیکن شاید انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ 25 سال بعد انھیں بھی ایسا ہی فیصلہ کرنا پڑ جائے گا۔
نرسمہا راؤ کے فنانس منسٹر منموہن سنگھ نے نرسمہا راؤ کو ہاتھ سے لکھا ہوا انتہائی خفیہ نوٹ بھجوایا جس میں انھوں نے وزیر اعظم کو روپے کی قدر میں کمی کا مشورہ دیا لیکن یہ بھی کہا کہ یہ دو مراحل میں ہونا چاہیے۔
جے رام رمیش اپنی کتاب 'ٹو دا برنک اینڈ بیک' میں لکھتے ہیں 'صدر وینکٹ رامن اس فیصلے کے خلاف تھے کیونکہ ان کی نظر میں اقلیتی حکومت کو اتنا بڑا فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔
روپے کی پہلی کمی یکم جولائی 1991 کو ہوئی۔ اور پھر 48 گھنٹوں کے بعد ایک بار پھر روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔ تین جولائی کی صبح نرسمہا راؤ نے منموہن سنگھ کو فون کیا اور ان سے کہا کہ وہ دوسری کمی کو روکیں۔
منموہن سنگھ نے صبح ساڑھے نو بجے ریزرو بینک آف انڈیا کے نائب گورنر ڈاکٹر سی رنگاراجن کو بلایا۔ رنگاراجن نے انھیں بتایا کہ قدر میں دوسری کمی صرف آدھے گھنٹے پہلے کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہRupa Publications
منموہن سنگھ اس بات پر اندر سے بہت خوش تھے لیکن جب انھوں نے نرسمہا راؤ کو یہ اطلاع دی تو انھوں نے ایسا عندیہ دیا کہ انھیں اس سے تکلیف ہوئی ہے۔
نرسمہا راؤ کے وزیر اعظم بننے کے دو ہفتوں بعد بند گاڑیوں کا ایک قافلہ جنوبی ممبئی میں ریزرو بینک سے باہر نکلا۔ گاڑیوں کے اس کاروان کے آس پاس اتنی بڑی سکیورٹی کا انتظام کیا گیا تھا جیسے اس قافلے میں کوئی سربراہ جا رہا ہو۔
نرسمہا راؤ کی سوانح عمری 'ہاف لائن ۔ نرسمہا راؤ نے انڈیا کو کیسے تبدیل کیا' کے مصنف ونے سیتاپتی نے لکھا: 'یہ گاڑیاں 21 ٹن سونے سے لدی ہوئی تھیں۔ قافلہ 35 کلومیٹر کے فاصلے پر سحر ہوائی اڈے پر رک گیا، جہاں اسے لینے کے لیے ایک کارگو ایئر لائن کا طیارہ کھڑا تھا۔ یہ سونا لندن پہنچایا گیا تھا اور اسے بینک آف انگلینڈ کے سیل میں رکھا گیا تھا۔ بدلے میں نرسمہا راؤ حکومت کو ملنے والے ڈالروں نے ہندوستان کو اس کے ذریعہ لیے گئے قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر کرنے کی اجازت دی۔
صنعتی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں
سنہ 1991 میں 24 جولائی کی دوپہر دہلی میں شدید گرمی تھی۔ منموہن سنگھ کی جانب سے دوپہر ساڑھے بارہ بجے بجٹ پیش کرنے سے چار گھنٹے قبل وزیر مملکت برائے صنعت پی جے کُرین کھڑے ہوئے اور معمول کا بیان دیا کہ 'میں ایوان میں صنعتی پالیسی پر بیان پیش کر رہا ہوں۔'
صنعتی پالیسی میں جس طرح کی بڑی تبدیلیاں کی گئیں اس کے لیے ضروری تھا کہ کابینہ کے وزیر اس اہم بیان کو ایوان میں پیش کریں۔
لیکن نرسمہا راؤ نے، جن کے پاس خود یہ وزارت تھی، خود کو اس سے دور رکھا۔ اس پالیسی کا سب سے اہم جملہ یہ تھا :'اب سے تمام صنعتوں میں لائسنس دینے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ صرف 18 صنعتوں میں، جن کی تفصیلات کو ضمیمہ میں دیا گیا ہے، لائسنس دینے کی شرط جاری رہے گی۔'
دوسری تبدیلی بڑی کمپنیوں پر اجارہ داری مخالف پابندیوں میں نرمی تھی۔ تیسری انقلابی تبدیلی 34 صنعتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد کو 40 فیصد سے بڑھا کر 51 فیصد کرنا تھی۔
کانگریس میں اپنے مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے اس پالیسی کا نام 'چینج ود کنٹینٹی' رکھا گیا۔
نہرو اور اندرا کی پالیسیوں کو تبدیل کر دیا گیا
چار گھنٹے بعد اسمبلی میں نہرو جیکٹ اور آسمانی رنگ کی پگڑی پہنے منموہن سنگھ نے اپنی تقریر کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ راجیو گاندھی کا دلکش اور مسکراتا چہرہ ان کو بہت یاد آ رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس تقریر سے صرف دو ماہ قبل راجیو گاندھی ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
جے رام رمیش لکھتے ہیں کہ 'اپنی تقریر کے دوران انھوں نے بار بار اسی خاندان کا نام لیا جس کی پالیسیاں اور نظریے کو وہ اپنے بجٹ کے ذریعے تبدیل کر رہے تھے۔ منموہن سنگھ نے اپنے بجٹ میں کھادوں پر دی جانے والی سبسڈی میں نہ صرف 40 فیصد کمی کی بلکہ چینی اور ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام فرانسیسی مصنف اور شاعر وکٹر ہیوگو کی مشہور لائن سے کیا، 'کوئی بھی اس خیال کو روک نہیں سکتا جس کا وقت آ گیا ہے۔'
گویا ایک ہی دن میں نرسمہا راؤ اور منموہن سنگھ نے مل کر نجی تجارت، عالمی منڈی سے الگ تھلگ ہونے کی پالیسی اور پبلک سیکٹر کی اجارہ داری کو یکسر ختم کر دیا۔
ونئے سیتاپتی اس بارے میں لکھتے ہیں کہ 'نرسمہا راؤ نے اپنے ماضی کے تجربات سے یہ سیکھا تھا کہ کچھ نیا کرتے ہوئے نہ تو بہت زیادہ جوش و جذبہ ظاہر کرنا چاہیے اور نہ ہی اس کا زیادہ سے زیادہ کریڈٹ لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منموہن سنگھ کی بجٹ تقریر کے دوران بھی انھوں نے اس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا اور بس ساتھ میں بیٹھے رہے۔ انڈیا کی آزادی کے بعد معیشت میں سب سے بڑی تبدیلی لانے والے بجٹ کو پیش کرنے کے بعد اسی رات انھوں نے ملک میں دورے پر آئے ہوئے ماریطانیہ کے وزیر اعظم کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔
صنعتکاروں کے ساتھ تعلق
صنعت کاروں کے خوف کو دور کرنے کے لیے نرسمہا راؤ نے تمام بڑے صنعتکاروں کو ملنے کا وقت دیا۔
اس کے علاوہ انھوں نے اپنے پریس سکریٹری پی وی آر کے پرساد اور پرنسپل سکریٹری امر ناتھ ورما کو بھی ملک کے بہت سے بڑے صنعتکاروں سے ملنے کے لیے بھیجا۔
انھوں نے معروف صنعتکار جے آر ڈی ٹاٹا کو انڈیا کا اعلیٰ ترین سویلین ایوارڈ بھارت رتنا بھی دیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی صنعتکار کو یہ اعزاز دیا گیا تھا۔
اگلے سال کے وسط تک انڈیا کے زرمبادلہ کے ذخائر معمول پر آ چکے تھے۔ نرسمہا راؤ کی سیاسی بصیرت کے بغیر، جس میں انہوں نے 'تبدیلی' کے عنصر پر توجہ دی، جواہر لال نہرو کے زمانے سے لے کر اب تک کی سب سے بڑی معاشی اصلاحات کی کامیابی کا سوال ہیں پیدا نہیں ہوتا۔
چینی رہنما ڈینگ ژاؤ پنگ کے ساتھ موازنہ

،تصویر کا ذریعہPVNR Family/GoI
جے رام رمیش نے نرسمہا راؤ کا موازنہ چینی رہنما ڈینگ ژاؤ پنگ سے کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ 'وہ دونوں بڑے مدبر رہنما تھے۔ ان کے کریئر میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے لیکن جب انھیں موقع ملا تو دونوں نے ہر جانب اپنا نشان چھوڑا۔'
نرسمہا راؤ نے جو کام جولائی 1991 میں کیا تھا وہ چینی وزیر اعظم پہلے 1978 میں کر چکے تھے جسے انھوں نے 1992 میں دوبارہ کیا۔
ڈینگ ژاؤ پنگ نے چینی رہنما ماؤ زے ڈونگ کی بنیاد پرستی کی پالیسیوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا۔
نرسمہا راؤ نے انڈیا کی معیشت میں اصلاحات کی جو منزلیں طے کیں وہ کچھ سال قبل تک ناقابل یقین تھا۔
جب سنہ 1988 میں راجیو گاندھی چین کے دورے پر گئے تو نرسمہا راؤ وزیر خارجہ کی حیثیت سے ان کے ساتھ تھے ۔
لیکن چینی رہنما ڈینگ ژاؤ پنگ سے ملاقاتوں میں انھوں نے اپنے وزیر خارجہ نرسمہا راؤ کو دور رکھا۔ لیکن تاریخ نے بعد میں اسی راؤ کو ہندوستان کا ڈینگ قرار دیا۔










