کورونا وائرس کے باعث معاشی بحران کے بعد کیا 2024 تک انڈیا پانچ کھرب کی معیشت والا ملک بن سکے گا؟

انڈیا

،تصویر کا ذریعہPUNIT PARANJPE

    • مصنف, جگل پروہت
    • عہدہ, نامہ نگار بی بی سی

اگر آپ انڈیا کی معیشت پر قریب سے نظر رکھتے ہیں یا اس سے کسی نا کسی طرح متاثر ہوتے ہیں تو یقیناً وزیرِ اعظم نریندر مودی کا یہ دعویٰ ضرور یاد ہو گا کہ 2024 تک انڈیا پانچ کھرب کی معیشت والا ملک بن جائے گا، تاہم کورونا وائرس کے باعث معاشی بحران کے بعد کیا ایسا ممکن ہے؟

اس دعوے کے علاوہ وزیرا عظم نریندر مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت 2022 تک کاشتکاروں کی آمدنی دگنی کر دے گی۔

انڈیا کے معاشی امور کے صدر مشیر پروفیسر کے وی سبرامنیم نے اس بارے میں بی بی سی کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔

پروفیسر سبرامنیم نے بتایا کہ 'ہماری توجہ صرف اس بات پر ہونا چاہیے کہ کووڈ 19 کی وبا کا ہماری صحت پر سب سے کم اثر پڑے اور ہم اچھی طرح اس سے باہر نکل سکیں۔

’غیر ضروری باتوں سے بھری اس دنیا میں کبھی کبھی چیزوں پر پھر سے غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن فی الحال ہم پو جو ذمہ داری ہے، اس پر ہم توجہ رکھیں۔‘

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

انھوں نے کہا کہ حکومت خصوصی معاشی امداد کا پیکیج لانے کی تیاری کر رہی ہے جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانہ کاروباروں میں پیسے کی قلت دور کرنا ہے اور انھیں واپس پٹڑی پر لا کر اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔

تاہم حکومت فی الحال یہ بتانے کے لیے تیار نہیں لگ رہی ہے کہ یہ پیکج کب لایا جائے گا۔ اور یہی اس کا دوسرا پہلو بھی ہے۔

پروفیسر سبرامنیم نے بتایا ’اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم اس کا اعلان ابھی کرتے ہیں یا بعد میں۔ کیوںکہ لاک ڈاوٴن کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں تو ابھی کسی قیمت پر شروع نہیں ہو سکیں گی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’لاک ڈاوٴن نے ہمیں اچھے پیکیج تیار کرنے کا وقت دیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس بہت سارے مشورے آئے ہیں۔ جب ہم نے انھیں اکٹھا کیا تو پاور پوائنٹ پریزینٹیشن پر تقریباً دو سو سلائڈز بن گئیں۔ اس لیے ان کا تجزیہ کرنے میں وقت لگے گا۔ جب لاک ڈاؤن ختم ہو گا تو ہم اس معاشی پیکیج کے ساتھ تیار ہوں گے۔‘

ان کا کیا ہوگا جو موجودہ صورت حال کی وجہ سے معاشی بحران کی زد میں ہیں یا پھر جن کی نوکریاں چھن گئی ہیں؟

پروفیسر کے وی سبرامنیم بتاتے ہیں کہ 'امریکہ میں بھی بے روزگاری اپنی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ مسئلہ صرف انڈیا کا نہیں ہے۔ 1918 کی سپینش فلو کی وبا کی ریسرچ بتاتی ہے کہ زندگیاں انہی مقامات پر بچائی جا سکیں جہاں حالات معمول پر لوٹنے پر روزگار اور خوشحالی واپس لوٹی۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمیں معاشی نقصان ہونے جا رہا ہے اور اسے ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔

’فرض کیجیے کہ لاک ڈاوٴن نافذ نہیں کیا جاتا۔ تب بھی لوگ معاشی سرگرمیوں سے دور رہتے اور اس کا نتیجہ بھی دیکھنے کو ملتا۔ طویل عرصے کی بات کریں تو جب حالات معمول پر لوٹیں گے تو فائدہ انہی کو ہو گا جو صحت مند اور محفوظ ہیں۔‘

اگر اس سے بھی بات نا بن سکی تو کیا ہو گا؟

انڈین حکومت کے معاشی امور کے مشیر کہتے ہیں کہ ہم نے 26 مارچ سے پہلے ہی سماج کے پسماندہ طبقے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا اعلان کر دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ایک اور دلچسپ بات جو ہمارے سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ'جن دھن یوجنا' کے تحت کھولے جانے والے بینک کھاتوں میں اوسط بیلینس بڑھ کر پندرہ ہزار روپیے ہو گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ نقد امداد کے طور پر حکومت جو پیسے ٹرانسفر کر رہی ہے، لوگ اسے لینے کے لیے بینک نہیں آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے راحت پیکیج میں کمزور طبقوں کی بنیادی ضروریات کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم انھیں اناج اور دال فراہم کر رہے ہیں۔ اگر لوگ بہت پریشان ہوتے تو انھوں نے اب تک اپنے کھیتوں سے پیسے نکال لیے ہوتے۔‘

کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاوٴن کے دوران حکومت نے 80 کروڑ غریبوں کو تین ماہ تک مفت راشن پہنچانے کا اعلان کیا ہے۔

ایک سچائی یہ بھی ہے کہ جب سے حکومت نے لاک ڈاوٴن کا اعلان کیا ہے راشن حاصل کرنے، اناج کی قلت اور خراب معیار کی اشیاء بانٹے جانے کی شکایات بھی مل رہی ہیں۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

،تصویر کا کیپشنایک سچائی یہ بھی ہے کہ جب سے حکومت نے لاک ڈاوٴن کا اعلان کیا ہے راشن حاصل کرنے، اناج کی قلت اور خراب معیار کی اشیاء بانٹے جانے کی شکایات بھی مل رہی ہیں

سماجی دوری سے متعلق سختی کی وجہ سے لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔

پروفیسر کے وی سبرامنیم بتاتے ہیں کہ ’ہم ایک اشاریہ چار ارب کی آبادی والا ملک ہیں۔ اگر چند ہزار لوگوں کو دشواری ہو رہی ہے تو میں یہ نہیں کہوں گا کہ اتنا تو چلتا ہے لیکن اگر ایسے دس ہزار لوگ بھی ہیں تو ہماری مجموعی آبادی کا یہ بہت چھوٹا سا حصہ ہے۔‘

حکومت زیادہ خرچ نہیں کر رہی ہے

حکومت اس تنقید کی زد میں ہے کہ معیشت کو بچانے کے لیے وہ اتنا خرچ نہیں کر رہی ہے جتنا اسے کرنا چاہیے۔

انڈین سکول آف بزنس کے شیکھر تومر، سینٹر فار ایڈوانس فائنینشیل ریسرچ اینڈ لرننگ کےانوگرہ بالا جی اور گوتم اوڈپا کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کے بعد انڈیا اپنی جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد ہی خرچ کر رہا ہے۔

کووڈ 19 کی عالمی وبا سے پیدا ہونے والے حالات میں حکومتی خرچوں کی عالمی اوسط پانچ فیصد ہے۔ انڈیا اس معیار پر بہت نیچے ہے۔ تاہم پروفیسر سبرامنیم کی نظر میں یہ اندازہ غلط ہے۔

سبرامنیم کہتے ہیں 'یہ کہنا غلط ہے کہ دنیا بھر میں سرکاری خرچ کی عالمی اوسط پانچ فیصد ہے۔ ہم نے اسے پڑھا ہے۔ جب ہم موازنہ کرتے ہیں تو دوسرے نکات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

انھیں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا جیسی ابھرتی ہوئی معیشت میں اس کے جی ڈی پی کی نسبت بہت کم ٹیکس لیا جاتا ہے۔ ہم اس کا موازنہ برطانیہ اور امریکہ سے نہیں کر سکتے ہیں۔ اس سے ہماری خرچ کرنے کی قوت پر منفی اثر پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’سووریئن ریٹنگ (کسی ملک کی سنعتکاری سے منسلک خطرات اور سیاسی جوکھم کا معیار) پر دھیان دیے جانے کی ضرورت ہے کیوں کہ پینشن فنڈ اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا انحصار اس پر ہوتا ہے۔ یہ عناصر موثر ہوتے ہیں اور رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔

کورونا کے بحران سے پہلے کی مشکلات

کووڈ 19 کی وبا کا انڈیا پر اثر پڑنے سے پہلے، یکم فروری 2020 کو نیشنل سٹیٹسٹیکل آفس نے ابتدائی اعدادوشمار جاری کیے تھے۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ مارچ میں ختم ہونے والے معاشی برس میں انڈیا کی پیداوار پانچ فیصد رہنے والی ہے۔

گذشتہ 11 برسوں میں انڈیا کی پیداوار کی قدر کی یہ سب سے نچلی سطح ہے۔

حالانکہ بعد میں جاری کیے جانے والے معاشی سروے میں گھریلو کاروباروں کی پیداوار میں چھ سے 6.5 فیصد تک اضافے کی امید ظاہر کی گئی تھی۔

اس سروے کو معاشی مشیر نے ہی تیار کیا تھا۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پہلے سے ہی سستی سے دو چار معیشت نے کیا کووڈ 19 کی وجہ سے پیداہونے والے حالات کا سامنا کرنے میں انڈیا کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے؟

پروفیسر سبرامنیم نے بتایا کہ ’حالات اتنے برے بھی نہیں تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ فروری میں ہی معیشت میں بہتری کی علامات نظر آنے لگی تھیں۔ ہمارا اقتصادی سیکٹر ضرور کمزور تھا لیکن اس کی وجہ بیڈ لونز (ایسے قرض جن کی وصولی کے امکانات نہ رہیں) اور کرونی لینڈنگ (جب قرض قابلیت کے بجائے تعلقات کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں) تھی۔ ہمارے ترقی کے بہتر امکانات ہیں۔

’یہ سچ ہے کہ ترقی پزیر معیشتوں کے مقابلے میں ترقی یافتہ ممالک کی ساورین ریٹنگ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ لیکن ترقی یافتہ معیشتوں کو جن چیلینجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ہمارے سامنے بھی ہیں۔ ہماری معیشت کی کورونا بحران سے قبل جو بھی صورت رہی ہو، میں نہیں سمجھتا کہ اس وجہ سے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔'

آگے کا راستہ

تین مئی کو جب لاک ڈاوٴن ختم ہونے کا وقت آئے گا تو بطور معاشی امور کے مشیر پروفیسر سبرامنیم کیا مشورہ دیں گے؟

پروفیسر سبرامنیم کہتے ہیں ’ہمیں بتدریج لاک ڈاوٴن ہٹانے کی ضرورت پڑے گی۔ ہمیں کچھ بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ ہاٹ سپاٹ والے علاقوں میں لاک ڈاوٴن میں توسیع کی ضرورت ہو گی۔ ایسے کاروبار یا سیکٹر جہاں لوگوں کو ایک دوسرے سے زیادہ رابطے میں آنے کی ضرورت پڑتی ہے، انھیں انتظار کرنا ہو گا۔

’سماجی دوری کے قوائد پر عمل کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ کسی کاروبار یا سیکٹر کو چھوٹ دینا اس بنیاد پر طے ہونا چاہیے کہ اس کا معیشت میں کتنا حصہ ہو گا۔‘