انڈیا میں شادی کے کھانے میں مٹن نہ ہونے پر جھگڑا، دولہے کا شادی سے انکار

مٹن، سالن، شادی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے شادیوں پر جانے کی ایک وجہ تو نئے جوڑے کو مبارکباد پیش کرنا ہوتی ہے اور دوسری وہاں جا کر مزے دار کھانے کھانا۔

اکثر شادیوں کے کھانے پر مہمان اپنی پسند ناپسند کے بارے میں بتاتے پائے جاتے ہیں اور بعض اوقات تو یہ عزت کا مسئلہ بھی بن سکتا ہے، یعنی کھانے کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جاتا۔

انڈین ریاست اوڈیشہ کے شہر سوکنڈہ میں گذشتہ بدھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ یہ ایک شادی کی تقریب تھی جس میں دولہا اپنے خاندان اور دوست احباب کے ہمراہ بارات لے کر اپنی ہونے والی دلہن کو لینے پہنچا۔ وہاں تمام رسمیں نبھائی گئیں مگر جب کھانا کھلا تو حالات بدل گئے۔

انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق 27 سالہ دولہا رماکانت ضلع کیونجھر کا رہنے والا ہے اور گذشتہ ہفتے شادی کے لیے باراتیوں کے ساتھ سوکنڈہ بلاک کے بانڈھا گاؤں پہنچا تھا۔

شادی کے پنڈال میں پہنچنے پر دلہن کے کنبے نے ان کا استقبال کیا اور ضروری رسومات کے بعد کھانے کے لیے ڈائننگ ہال لے گئے۔

اس سے پہلے کہ باراتی کھانا شروع کرتے لڑکے والوں کو معلوم ہوا کہ لڑکی والوں نے کھانے میں مٹن کا انتظام نہیں کیا جو ان کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔

باراتیوں نے مٹن کے سالن کا مطالبہ کیا مگر چونکہ وہ دستیاب نہیں تھا، باراتیوں کی دلہن کے خاندان اور وہاں کھانا پیش کرنے والوں کے ساتھ بحث ہو گئی اور صورتحال فوراً بگڑ گئی۔ جب رماکانت کو معلوم ہوا کہ شادی کی تقریب میں دلہن کے گھر والوں نے مٹن نہیں پکایا ہے تو انھوں نے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔

اگرچہ دلہن کے کنبے نے ان سے شادی نہ توڑنے کی التجا کی لیکن اب تک معاملہ اتنا بگڑ چکا تھا کہ وہ تیار نہیں ہوئے اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ واپس چلے گئے۔

لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی ہے۔

رماکانت وہاں سے اسی ضلع میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر گئے اور دن کے باقی حصے میں وہیں قیام کیا۔ اور واپس گھر آنے سے قبل اسی رات تقریباً 30 کلومیٹر دور پھولجارہ گاؤں میں ایک دوسری لڑکی سے شادی کر لی۔

مقامی صحافیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے کی یہ روایت ہے کہ دولہا ایک مرتبہ سہرا سجا کر گھر سے نکل گیا تو شادی کر کے ہی واپس آتا ہے۔

’دلہن مستقبل کی اذیت سے بچ گئی‘

ٹوئٹر پر صارفین نے اس واقعے کے ردعمل میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ بعض صارفین اس بات پر تعجب کا اظہار کرتے پائے گئے کہ ایسی کسی وجہ پر بات یہاں تک کیسے پہنچ گئی کہ شادی توڑنے کی نوبت آ گئی۔

ایک ٹوئٹر صارف سوزی کہتی ہیں کہ ’لڑکی کے والدین کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ ان کی بیٹی سے شادی کیے بغیر چلا گیا۔ ظاہر ہے وہ احمق شخص تھا۔‘

مٹن، سالن، شادی

،تصویر کا ذریعہTWITTER

رچنا کہتی ہیں کہ 'سچ میں؟… صرف گوشت کے لیے لڑکی کا مستقبل اور خواب توڑ دیے اور اس کے کنبے کی بے عزتی کر دی؟'

یہ بھی پڑھیے

مِس کرشنا بھالیا نے لکھا کہ ’واہ، بیٹے کی شادی کروانے آئے تھے یا مٹن کھانے؟‘

نارائین نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ دولہے کی اس حرکت سے ’دلہن مستقبل کی اذیت سے بچ گئی۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@KalpathiSN

دیپیکا ساہو نامی صارف نے طنزیہ لکھا کہ: 'اوڈیہ (اوڈیشہ کی رہنے والی) ہونے کے ناطے میں یہ بالکل سمجھ سکتی ہوں۔ شادی کی دعوت اور بغیر مٹن کے؟ نہ نہ۔'

دیپیکا

،تصویر کا ذریعہTWITTER