انڈیا میں معاشی بحران کی وجہ صرف کورونا یا حکومت کی خراب پالیسیاں بھی؟

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی

پرکاش ٹھاکر انڈیا کے ہمالیائی ضلع منالی میں دو ہوٹل اور ایک ہوم سٹے کے مالک ہیں۔ ان کا علاقہ سیاحت کا ایک مشہور مرکز ہے لیکن کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے آج ان کے ہوٹل بند پڑے ہیں۔ اس کے نتیجے میں روزی روٹی کے لیے اُنھیں اپنے گاؤں میں سیب کے کھیتوں کا سہارا لینا پڑا۔

لیکن صرف وہ یا ان کا کاروبار ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ پورے ملک کی معاشی حالت سنگین ہے اور اس کا اثر ہر علاقے اور معیشت کے ہر شعبے پر ظاہر ہو رہا ہے۔

انڈیا کے قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کی ایک رپورٹ کے مطابق 2020-21 میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں 7.3 فیصد کی کمی آئی ہے، جو کہ آزادی کے بعد سے سب سے بدترین شرح ہے۔

کووڈ 19 کی وبا سے پہلے 2019-20 میں جی ڈی پی میں نمو کی شرح 4 فیصد تھی حالانکہ انڈیا کی معیشت میں آزادی کے بعد کم از کم پانچ مرتبہ انتہائی گراوٹ ہوئی ہے مگر حالات ایسے کبھی نہیں رہے۔

گذشتہ بحرانوں کی وجوہات زیادہ تر قدرتی آفات جیسے سیلاب اور خشک سالی یا توانائی کی کمی تھی لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کی وجہ زیادہ تر انسانی غلطیاں ہیں۔

بری معیشت کا اثر سیاحت جیسے شعبوں میں سب سے زیادہ واضح طور پر دیکھنے کو ملتا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عام لوگوں کے پاس خرچ کرنے کے لیے آمدنی ہے لیکن جب وہ بچت کر رہے ہیں تو سیاحت ان کے ذہن میں آخری چیز ہوتی ہے۔

ریاست ہماچل پردیش میں ٹھاکر کے ہوٹلوں میں سال کے اس وقت سیاحوں کا مجمع رہتا تھا اور وہ چند ہفتوں میں ہی اپنی سالانہ آمدنی کا تقریباً 60 فیصد کما لیتے تھے لیکن فی الحال صورتحال اتنی خراب ہے کہ اُنھیں اپنے 22 ملازمین میں سے زیادہ تر کو ان کے گاؤں واپس بھیجنا پڑا اور ہوٹلوں کی بجلی تک منقطع کرنی پڑی۔

ان کا کہنا ہے کہ کورونا سے پہلے سے ہی ملک کی معیشت کمزوری کی طرف گامزن تھی لیکن لاک ڈاؤن نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے نوٹ بندی نے متاثر کیا، پھر شہر میں پانی کی قلت ہوئی، پھر سیاحت کے سیزن کے دوران پارلیمانی انتخابات ہوئے اور آخر کار لاک ڈاؤن ہو گیا۔

ٹھاکر ریاست میں ہوٹل مالکان کی ایک جماعت کے کنوینر بھی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ہوٹل مالکان بینکوں سے لیے ہوئے اپنے قرضوں کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں۔‘

معاشی بدحالی کا اثر صرف یہیں تک محدود نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس کا ثانوی اثر ہمارے آس پاس ہر فرد اور شعبے پر ہوا ہے، چاہے وہ ٹرانسپورٹ والا ہو، سیب کا کاشتکار ہو یا ہوٹل میں ملازمت کرتا ہو۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ سیاحت سے منسلک 40 فیصد افراد لاک ڈاؤن میں غیر یقینی حالات کی وجہ سے یا تو گاؤں واپس جا چکے ہیں یا اپنا کاروبار بند کر دیا اور اس کا اثر معیشت پر صاف ظاہر ہے۔

معاشی بحران سے ٹھاکر کا کاروبار کافی متاثر ہوا ہے، دوسری صنعتوں میں بھی حالات زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ زراعت اور گیس، بجلی اور پانی جیسی اہم ضروریات کے علاوہ تقریباً ہر شعبے میں گراوٹ آئی ہے۔

ماہرِ اقتصادیات ڈی ایم دیواکر کہتے ہیں کہ حالیہ معاشی حالات سے ’میں حیران نہیں ہوں۔‘ ان کے مطابق معیشت میں مندی کی وجہ پچھلے کچھ برسوں میں معاشی پالیسی سے متعلق کیے گئے متعدد فیصلے ہیں۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہ کہتے ہیں کہ ’نوٹ بندی، جی ایس ٹی یعنی گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (پورے ملک میں ایک بالواسطہ ٹیکس کا نظام) اور کورونا وائرس کی بدانتظامی جیسے سبھی فیصلوں نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔‘

ان سبھی فیصلوں کا اثر عام لوگوں پر ہوا ہے جنھیں بڑی صنعتوں کے برعکس عام طور پر حکومت کی طرف سے بمشکل ہی طویل مدتی مدد ملتی ہے۔

ٹھاکر کے پڑوسی گاؤں میں فتح چند پھلوں کے ایک چھوٹے تاجر ہیں۔ وہ سیب، چیری اور سٹرابیری کاشت کرتے ہیں اور بنیادی طور پر انھیں فروخت کرنے کے لیے منالی شہر پر انحصار کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک کی معاشی بدحالی کے باوجود ان کا کاروبار بہتر تھا کیونکہ نامناسب موسم میں بھی سیاحوں کی تعداد میں کمی کے باوجود کچھ ’ڈسپوزیبل‘ آمدنی والے سیاح ضرور آ جایا کرتے تھے لیکن لاک ڈاؤن نے حالات بدل دیے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ان دو برسوں میں ہمارے پاس کوئی خریدار نہیں۔ ہم بعض دفعہ تو پھلوں کو درختوں پر ہی سڑنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ حالات خراب ہونے سے قبل وہ سیب 80 سے 100 روپے فی کلو فروخت کرتے تھے لیکن فی الحال وہ اسے 30 سے 35 روپے فی کلو فروخت کرتے ہیں، وہ بھی اگر کوئی خریدار ملے تو۔

اسی طرح سٹرابیری انھوں نے 120 سے 150 روپے فی کلو تک فروخت کی مگر اب 30 سے 40 روپے فی کلو ہی فروخت کر پاتے ہیں۔ چیری جو کہ 180 سے 200 روپے فی کلو فروخت ہوتی تھی اب محض 40 سے 50 روپے میں فروخت ہوتی ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کا کہنا ہے کہ منالی سے دور دراز دیہی علاقوں میں رہنے والے زیادہ تر لوگ خود کفیل ہیں اور ان پر معاشی بدحالی کا براہ راست اور فوری طور پر اثر نہیں ہوتا لیکن شہر کے قریب رہنے والے وہ لوگ جو کہ شہر پر روزی روٹی کے لیے منحصر ہیں، اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں یہاں بے شمار لوگوں کو جانتا ہوں جو حکومت کے فراہم کردہ راشن پر منحصر ہیں۔ میرے گاؤں کے 50 سے 60 فیصد خاندانوں نے اخراجات بچانے کے لیے اپنے کھیتوں میں سبزیوں کی کاشت شروع کر دی ہے۔‘

لیکن عالمی اقتصادیات کے دور میں ضروری نہیں کہ اس طرح کی خود مختاری، معیشت کے لیے مثبت خبر ہو، خاص طور پر جب کہ شدید عدم مساوات بھرے معاشرے میں معیشت کا ایک مقصد آمدنی کو لوگوں میں دوبارہ تقسیم کرنا بھی ہو۔

کسی بھی ملک کی معیشت اپنی نوعیت کے مطابق متعدد عوامل اور متعدد سٹیک ہولڈرز پر منحصر ہوتی ہے۔ ایک عمل یا شعبے کا دوسرے پر اثر ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی پیداوار فروخت کرنے سے قاصر ہیں تو ممکن ہے کہ آپ خریدنے سے بھی قاصر ہوں گے۔ اسی طرح اگر آپ خریدنے کے قابل نہیں ہیں تو دوسرے لوگ آپ کو فروخت نہیں کرسکتے، جس کا اثر اس سے متعلقہ کاروبار پر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ماہر معاشیات دیواکر کا کہنا ہے کہ ملک میں شرح نمو خراب ہونے کے باوجود ’فی الحال زرعی شعبہ مثبت صورتحال میں ہے جس کی شرح نمو 3.5 فیصد ہے لیکن جس طرح سے حکومت کا کاشتکاروں کے لیے رویہ ہے، مثال کے طور پر کسانوں کا احتجاج کے سلسلے میں، اس شعبے کا متاثر ہونا تابوت میں آخری کیل کی مانند ہے۔‘

معاشی بدحالی کے دوران بدترین متاثر ہونے والوں میں غیر رسمی (انفارمل) ملازم بھی شامل ہیں جن کی تعداد ملک کی لیبر فورس کی تقریباً 80 فیصد ہے۔ گذشتہ برسوں میں متعارف کروائے گئے فیصلوں جیسے کہ نوٹ بندی نے اُنھیں غیر معمولی طور پر متاثر کیا کیونکہ غیر رسمی شعبہ تقریباً پوری طرح سے نقد لین دین پر منحصر ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیکن کورونا لاک ڈاؤن نے انھیں مکمل طور پر بے روزگار کر دیا اور جنوبی اور مغربی ریاستوں اور دلی میں کام کرنے والے لاکھوں افراد کو اپنے اپنے گاؤں کی طرف واپس ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا جہاں پہلے سے ہی روزگار کے مواقع کم ہیں۔ یہ علاقے زیادہ تر ’ہندی بیلٹ‘ خطے میں ہیں یعنی مشرقی اور شمالی انڈیا کی ریاستیں مثلا اترپردیش، بہار، مدھیہ پردیش اور راجستھان۔

دیواکر کا کہنا ہے کہ ان ریاستوں کے لیے یہ ایک بہت اچھا موقع تھا کہ وہ واپس آنے والے ان کارکنوں کی مہارت کو استعمال کرکے اپنی معیشت کو بہتر بناتے لیکن وہ عام طور پر ناکام رہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران ان کارکنوں کی واپسی پر ریاستوں کے ذریعے ان کی جانچ اور ان کو قرنطینہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے دیواکر کہتے ہیں کہ ’میں نے بہار حکومت سے کہا کہ آپ ان کی کورونا پروفائل بنا رہے ہیں بلکہ آپ کو ان کی مہارت کی پروفائل بنانا چاہیے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہ ریاستیں معاشی فوائد کے لیے ان کارکنوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتی تھیں۔

دیہی علاقوں میں ان کارکنوں کے پاس کوئی نوکری نہیں اور وہ لاک ڈاؤن کے دوران غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے شہروں میں واپس جانے سے قاصر ہیں۔ وہ معاشی پیداوار کا حصہ بننے کے بجائے، جس سے معیشت میں ترقی کے امکان بنتے، ان ریاستوں میں محض صارف ہیں۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان کارکنوں کے گاؤں لوٹنے کی وجہ سے ترقی یافتہ ریاستوں میں فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کی تعداد میں شدید کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کے بعد بھی وہ اپنی پوری صلاحیت پر کام کرنے کے قابل نہیں۔

لیکں لاک ڈاؤن کے دوران شہروں میں رکنے والے کارکنوں کے حالات بھی خاصے بہتر نہیں ہیں۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

محمد رضوان ایک مزدور ہیں اور دارالحکومت دلی کے جنوبی حصے میں ایک جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ ان کی روزی روٹی کا ذریعہ ایک ٹھیلہ تھا جس سے وہ لوگوں کا سامان کرائے پر منتقل کرتے تھے لیکن جب سے لاک ڈاؤن ہوا ہے وہ تقریباً پوری طرح بے روزگار ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی تھی تب بھی حالات بہت بہتر نہیں ہوئے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’اب میں آمدنی کے لیے ای رکشہ (بیٹری رکشہ) چلاتا ہوں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے آج کل کوئی باہر نہیں نکلتا۔ ای رکشے کا کرایا نکالنا ہی مشکل ہو رہا ہے۔‘

بنیادی طور پر رضوان کی پریشانی میں لاک ڈاؤن کے دوران مزید اضافہ ہوا لیکن جیسا کہ ٹھاکر اور دیواکر بتاتے ہیں کہ معیشت کی بدحالی چند سال پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح گذشتہ 45 برسوں میں سب سے زیادہ ہے اور جی ڈی پی کی شرح میں تقریباً نصف دہائی سے کمی آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ماہرین اور تاجر معاشی بدحالی کا ذمہ دار گزشتہ کچھ برسوں میں حکومت کے ذریعے متعارف مختلف پالیسیوں کو مانتے ہیں۔ سنہ 2016 میں ہونے والی نوٹ بندی نے غیر رسمی شعبے (انفارمل سیکٹر) کو تو متاثر کیا ہی، اس نے رسمی شعبے کو بھی غیر معمولی طور پر متاثر کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس فیصلے نے ملک میں چلنے والے زیادہ تر نقد نوٹوں کو مسترد کر دیا جبکہ ملک میں بیشتر لوگ نقد سودا کرتے ہیں۔

نوٹ بندی کے بعد حکومت نے جی ایس ٹی کا اعلان کیا جسے عوام کے سامنے ٹیکس نظام میں ایک بڑی اصلاح کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کا مقصد بالواسطہ ٹیکس کے نظام کو آسان بنانا تھا کیونکہ پہلے مختلف ریاستوں میں مختلف ٹیکس تھے لیکن اس کے متعارف کروانے کے فورا بعد ہی متعدد تبدیلیوں نے اسے مزید پیچیدہ بنا دیا۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹیکس جمع کرنے اور ریاستوں میں تقسیم کرنے کی ذمہ داری مرکزی حکومت کی تھی لیکن جب معاشی حالات خراب ہوئے تو اس نے ریاستوں کا پورا حصہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے ریاستوں کی معاشی حالت بھی متاثر ہوئی۔

دہلی کے قریبی شہر نوئیڈا میں مقیم چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ (سی اے) روبی مشرا کا کہنا ہے کہ یہ نظام کافی پیچیدہ ہے بلکہ پہلے والا نظام اس سے آسان تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے کبھی بھی اپنے والد یا چچا سے ان کے انکم ٹیکس ریٹرن بھرنے کے لیے سی اے کی خدمات حاصل کرنے کے بارے میں نہیں سنا تھا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس نظام کے آنے کے تقریباً چار سال بعد بھی اس میں ہر روز ترامیم ہوتی رہتی ہیں جس نے اسے اس طرح پیچیدہ بنا دیا ہے کہ ان کے جیسے پیشہ ور کے لیے بھی ان تبدیلیوں پر نگاہ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہر ہفتے ضابطے میں ترامیم ہو رہے ہیں۔ بس ایک نوٹس سے پورے سیکشنز میں ترمیم کر دی جاتی ہے۔ حکومت نے گذشتہ ماہ کے دوران ہی جی ایس ٹی قانون میں چار ترمیم کی ہیں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ موجودہ ڈھانچے میں آپ کنسلٹنٹ کی مدد کے بغیر اپنے مالی معاملات کو حل نہیں کر سکتے اور اس سے معیشت کو نقصان ہوتا ہے کیونکہ اس میں بے وجہ وقت اور محنت ضائع ہوتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’تاجر اپنے کاموں کے ماہر ہیں لیکن وہ ایسے پیچیدہ امور کے لیے مکمل طور پر اہل نہیں ہیں۔‘

سی اے کی حیثیت سے ان کے مختلف گاہکوں کے ساتھ معاملات رہتے ہیں۔ وہ اپنے تجربے کی بنا پر کہتی ہیں کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر کے علاوہ ہر کوئی کورونا کے پہلے سے ہی متاثر تھا۔ حکومت کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’اُنھیں معاشی بدحالی کی ذمہ داری کے لیے کورونا وائرس ایک اچھا عذر مل گیا ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہے ’ہم فی کس جی ڈی پی کے معاملے میں بنگلہ دیش سے پیچھے ہیں۔ یہ اب کوئی مضحکہ خیز بات نہیں۔‘

اگرچہ ماہرین معاشیات کو یہ واضح طور پر معلوم تھا کہ معیشت کم از کم 2016 سے ہی تیزی سے نیچے کی طرف گامزن ہے تاہم حکومت نے اہم اعداد و شمار کو متنازع قرار دیا ہے اور بعض اوقات انھیں عام کرنے سے بھی روک دیا۔

دیواکر کہتے ہیں کہ ’این ایس او‘ کے حالیہ اعداد و شمار اگرچہ معاشی بدتری کو واضح طور پر نمودار کرتے ہیں مگر یہ اعداد و شمار ابھی بھی پوری طرح سے قابل اعتبار نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ معیشت اور اشتہار میں کافی فرق ہوتا ہے۔

’مجھے یقین ہے کہ اگر اس کا تنقیدی طور پر جائزہ لیا جائے تو حالات اور بھی خراب نظر آئیں گے۔‘