انڈیا: نابالغ لڑکی اور اسے ’ریپ‘ کرنے والے کو اکٹھے باندھ کر جلوس نکالا گیا

تھانہ
،تصویر کا کیپشنریاست مدھیہ پردیش کے قبائلی اکثریتی علاقے علی راج پور میں ایک معاملہ سامنے آیا ہے
    • مصنف, شورہ نیازی
    • عہدہ, بھوپال، بی بی سی ہندی

انڈین ریاست مدھیہ پردیش کے قبائلی اکثریتی علاقے علی راج پور میں ایک نوجوان لڑکی کو ایک لڑکے کے ساتھ رسی سے باندھ کر پیٹا گیا اور پھر انھیں علاقے کا چکر لگوایا گیا۔ نوجوان پر الزام ہے کہ اس نے لڑکی کا ریپ کیا ہے لیکن متاثرہ لڑکی کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کام میں اس کے اپنے گھر والے بھی شامل تھے۔

یہ واقعہ اس کی وڈیو وائرل ہونے کے بعد منظر عام پر آیا اور پولیس نے اس کا نوٹس لیا۔

مزید پڑھیے:

ضلعی سپرنٹنڈنٹ پولیس وجئے بھاگوانی نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعے کے تمام ملزموں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اس دوران جلوس میں موجود کچھ افراد 'بھارت ماتا کی جے' کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔

انہوں نے کہا 'اس معاملے کے تمام ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں، مجموعی طور پر چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بچی کے گھر کے ان افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو اس کام میں شامل تھے اور لڑکے پر ریپ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔‘

پولیس کے مطابق یہ واقعہ علی راج پور کا ہے جہاں اتوار کے روز ایک 16 سالہ بچی کو 21 سالہ آدمی کے ساتھ رسیوں سے باندھ کر گھمایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق لڑکا اور لڑکی دونوں ریاست گجرات میں کام کرتے تھے اور اپنے اپنے گاؤں واپس آئے ہوئے تھے۔ اس کے بعد نوجوان لڑکی سے ملنے اس کے گاؤں آیا جہاں لڑکی کے گھر والوں نے اسے پکڑ لیا اور انہیں رسی سے باندھ کر ان کا ’جلوس‘ نکالا۔

نابالغ لڑکی کی طرف سے پہلا مقدمہ اس 21 سالہ شخص کے خلاف درج کروایا گیا ہے۔ دوسرا کیس متاثرہ لڑکی اور ملزم کو رسی سے باندھ کر ان کا جلوس نکالنے کے لیے درج کیا گیا ہے۔ ریپ کے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ وہ پہلے ہی سےشادی شدہ ہے اور اس کے دو بچے ہیں۔

واقعہ کے انکشاف کے بعد سپرنٹنڈنٹ پولیس وجئے بھگنانی اور دیگر پولیس افسران موقع پر پہنچے اور متاثرہ لڑکی سے بات کی۔

وجئے بھاگوانی نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ لڑکی پہلے ہی اس نوجوان کو جانتی تھی اور دونوں کی ملاقات پہلے ہی گجرات میں ہوئی تھی اور یہ نوجوان اس سے ملنے گاؤں گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور او پی ایچ آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش کا ضلع علی پور ملک کے غریب ترین اضلاع میں سے ایک ہے اور یہاں قبائلی اکثریت ہے۔ ضلع غریب ہونے کے علاوہ تعلیم کے معاملے میں بھی بہت پسماندہ ہے۔ یہاں کی بیشتر آبادی اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے کام کرنے گجرات کی فیکٹریوں یا کھیتوں میں جاتی ہے۔

اس سے پہلے بھی کچھ ایسے معاملات سامنے آچکے ہیں جن میں قبائلی معاشرے کے لوگوں نے خواتین کو سخت سزا دی ہے۔

ایسے ہی ایک معاملے میں جب ایک لڑکی کو دوسری ذات کے قبائلی نوجوان سے محبت ہوئی تو گھر والے حیران ہوگئے اور اس کی ویڈیو وائرل کردی گئی۔

ویڈیو کی بنیاد پر پولیس نے اس وقت بھی کارروائی کی تھی۔ ناخواندگی کی وجہ سے قبائلی معاشرے کے لوگوں نے خود ہی اپنے قانون بنائے ہیں اور اسی کے مطابق وہ سزا دیتے ہیں۔