بنگلہ دیش کی پہلی ٹرانس جینڈر نیوز کاسٹر: ’بچپن میں بہت غصہ آتا تھا کہ میں عام لڑکے اور لڑکیوں کی طرح نہیں‘

پہلی خواجہ سرا ٹی وی پیش کار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بنگلہ دیش میں ایک خاتون انتہائی مشکل حالات سے گزرنے کے بعد، جس میں ان کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ اتنا ڈرایا دھمکایا گیا کہ نوبت خود کشی تک پہنچ گئی، نے اب ملک کی پہلی ٹرانس جینڈر نیوز کاسٹر کی حیثیت سے اپنے کرئیر کا آغاز کیا ہے۔

29 برس کی تاشنوا انان ششہر نے پیر کو خواتین کے عالمی دن کے منقع پر پہلی مرتبہ ایک نجی ٹی وی چینل سے تین منٹ کا خبرنامہ پیش کیا۔

تاشنوا کا کہنا ہے کہ انھوں نے بڑی ثابت قدمی سے اپنی تعلیم مکمل کی تاکہ وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکیں اور اپنی سوچ کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔

انھوں نے بی بی سی بنگلہ سروس کی نجیب بہار سے بات کرتے ہوئے کہا ’آج انھیں وہ موقع مل گیا ہے۔‘

بنگلہ دیش میں تقریباً پندرہ لاکھ کے قریب لوگ ٹرانس جینڈر ہیں اور انھیں معاشرے میں تشدد اور منفی رویوں کا اس حد تک سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ان میں سے اکثر یا تو بھیک مانگ کر یا پھر جسم فروشی کر کے اپنا گزارہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تاشنوا انان کو بلوغت میں پہنچنے پر ہی احساس ہو گیا تھا کہ وہ ٹرانس جینڈر ہیں اور اس وجہ سے انھیں ’ذہنی اذیت‘ کا سامنا کرنا پڑا اور انھیں جنسی طور پر ہراساں بھی کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ سب سے اذیت ناک بات یہ تھی کہ ان کی وجہ سے ان کے گھر والوں کو بھی ہراساں کیا جاتا اور طعنے سننے پڑتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان کے والد نے ان سے بات کرنا بند کر دی۔

تاشنوا انان

تاشنوا نے بتایا کہا اس صورتحال سے بچنے کے لیے وہ اپنا گھر چھوڑ کر ڈھاکہ آ گئیں جہاں انھیں نارائن گنج کے علاقے میں ایک طویل عرصہ تنہا گزارنا پڑا۔

انھوں نے کہا ’میں نے کبھی سکول نہیں چھوڑا اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔ میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ میں پڑھائی جاری رکھوں اور اگر میں نے تعلیم جاری رکھی تو میں کہیں نہ کہیں پہنچنے میں کامیاب ہو ہی جاوں گی۔‘

’ہر روز سینکڑوں مرتبہ بے عزتی برداشت کرنے کے باوجود بھی میں نے پڑھائی جاری رکھی اور میرے ذہن میں صرف یہ تھا کہ جیسے بھی ہو، میں اپنی تعلیم مکمل کروں۔‘

تاشنوا نے بی بی سی بنگلہ سروس کو بتایا کہ بے شمار ٹی وی چینلز سے رابطہ کرنے کے باوجود انھیں کہیں نوکری نہیں ملی لیکن آخر کار ایک نجی ٹی وی چینل بوئی شکی نے ’ہمت دکھائی اور انھیں نوکری پر رکھ لیا۔‘

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس ٹی وی چینل کے ترجمان ذوالفقار علی مانک نے کہا ہے کہ ’یہ ایک تاریخی اقدام ہے اور ان کا ادارہ اس خاتون کو یہ موقع دینے کے لیے پرعزم ہے، چاہے ان کے ناظرین کی طرف سے انھیں منفی رد عمل کا ہی سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔‘

ششہر نے بتایا کہ براہ راست نشریات سے پہلے وہ بہت گھبرا رہیں تھیں لیکن انھوں نے سٹیج ڈراموں کے بارے میں سوچنا شروع کیا جن میں انھوں نے کام کیا تھا اور وہاں جو کچھ سیکھا تھا، اس سے ہی مدد حاصل کی۔

مخلوط جنس کی ٹی وی پیش کار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خبریں ختم ہونے کے بعد وہ فرط جذبات سے آب دیدہ ہو گئیں۔

تاشنوا کہتی ہیں کہ انھیں بچپن میں بہت غصہ آتا تھا کہ وہ عام لڑکے اور لڑکیوں کی طرح نہیں ہیں لیکن آج انھیں فخر ہے کہ وہ ایل جی بی ٹی کمیونٹی کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’شاید انھیں اس لیے ہی تخلیق کیا گیا تھا کہ وہ اس برادری کے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکیں۔‘

ششہر اس سال دو فلموں میں بھی اہم کردار ادا کرنے والی ہیں۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے سنہ 2013 میں ٹرانس جینڈر لوگوں کو علیحدہ جنس کے طور تسلیم کیا تھا اور پانچ سال بعد انھیں تیسری جنس کی حیثیت سے ووٹ ڈالنے کا حق بھی دے دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ تاشنوا انان ششہر جنوبی مشرقی ایشیا میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی پہلی ٹی وی میزبان نہیں۔ پاکستان میں مارویہ ملک نے سنہ 2018 میں کوہ نور نامی نجلی ٹی وی چینل پر پہلی مرتبہ ایک ٹی وی شو کی میزبانی کی تھی جبکہ انڈیا میں پدمنی پرکاش نے سنہ 2014 میں پہلی مرتبہ حالات حاضرہ کے روزانہ نشر ہونے والے شو کی میزبانی شروع کی تھی۔