انڈیا، چین سرحدی تنازع: کیا چین انڈیا کے ساتھ لداخ سیکٹر میں ٹینکوں، میزائلوں اور فوجی تعمیرات میں اضافہ کر رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
انڈیا کے لداخ سیکٹر میں چین کی جانب سے ہتھیاروں اور فوجیوں کی اضافی تعیناتی کی خبروں کے درمیان چین نے الزام عائد کیا ہے کہ انڈین فوجیوں کی چینی سرزمین میں دراندازی کے سبب سرحدی ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ انڈین فوجی چین کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ماضی میں دراندازی کرتے رہے ہیں۔
انڈیا کے ایک وزیر سبکدوش جنرل وی کے سنگھ نے گذشتہ دنوں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی فوجی انڈین سرزمین پر کئی بار داخل ہوئے ہیں۔
وی کے سنگھ، جو انڈین آرمی میں فور سٹار جنرل رہ چکے ہیں، کا مزید کہنا تھا ’لیکن آپ میں سے کسی کو نہیں معلوم کہ ہم کتنی بار ایل اے سی پار کر کے ان کے خطے میں داخل ہوئے ہیں۔ ہم اس کے بارے میں نہیں بتاتے اور چین کی میڈیا میں اس کی خبر نہیں آتی۔ اگر چینی فوج نے دس بار ہمارے خطے (سرحدی حدود) کی خلاف ورزی کی ہے تو ہم یقینی طور پر کم از کم پچاس بار ایل اے سی پار کے ان کے خطے میں داخل ہوئے ہوں گے۔‘
جنرل وی کے سنگھ کے اس بیان پر چین نے کہا ہے کہ اُن کا یہ بیان ’چینی خطے میں مسلسل دراندازی کے بارے میں انڈیا کی جانب سے انجانے میں حقیقت کا اعتراف ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیجنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہماری زمین پر قبضہ کرنے کی غرض سے انڈین فوجی سرحدی علاقے میں ایک طویل عرصے سے ہمارے خطے میں دراندازی کر تے رہے ہیں جو ٹکراؤ اور تنازع کا سبب بنتا ہے۔ یہی انڈیا، چین سرحد پر کشیدگی کا بنیادی سبب ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGoogle Earth
چین کی طرف سے یہ ردعمل ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب انڈین میڈیا نے حکومت کے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ چین مشرقی لداخ میں پینگونگ سو جھیل کی فنگر چار سے فنگر سات کے درمیان بڑے پیمانے پر اضافی میزائل، ٹینک اور راکٹ وغیرہ نصب کر رہا ہے۔
یہ خطہ پہلے انڈیا کے کنٹرول میں تھا مگر گذشتہ جون میں ایک خونریز ٹکراؤ کے بعد چین نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اُس وقت سے یہاں ہزاروں چینی فوجی تعینات ہیں۔ انڈیا نے بھی اپنے موجودہ کنٹرول والے علاقے میں ہزاروں فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔
سٹیلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں چین نے اس علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجی نوعیت کی نئی تعمیرات کی ہیں۔ ان تصاویر سے اس علاقے میں نئے ہتھیاروں اور بھاری مشینوں کی موجودگی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ چینی فوج نے جھیل میں نگرانی کے لیے گشت کرنے والی کشتیوں کی تعداد بھی بڑھا دی ہے۔
گذشتہ دنوں انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ لداخ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ’انڈیا اور چین کے فوجی کمانڈروں کے درمیان مذاکرات کے نو دور ہو چکے ہیں جن میں کسی حد تک کامیابی بھی ملی ہے۔ لیکن اس بات چیت کا زمین پر کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGoogle Earth
دلی یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کی پرفیسر رتوشا تیواری کہتی ہیں کہ یہ واضح ہے کہ جو بات چیت ہو رہی ہے وہ کارگر ثابت نہیں ہو رہی ہے۔
’مشرقی لداخ میں گذشتہ چند مہینوں میں جو واقعات ہوئے ہیں وہ سرحد پر ملٹرائزیشن جاری رکھنے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں اس طرح کے امکان کم نظر آتے ہیں کہ انڈیا چین کی سرحد پر اطمینان سے بیٹھ سکے گا۔ کیونکہ انڈیا ابھی تک چین کو صحیح معنوں میں مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔‘
پینگونگ سو جھیل کے کنارے حال میں چین کی جانب سے اضافی ہتھیار نصب کیے جانے کے پس منظر میں رتوشا کہتی ہیں کہ آنے والے دنوں میں اس خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
وہ کہتی ہیں ’انڈیا اور چین نے بات چیت میں ذرا سی بھی لغزش برتی تو کشیدگی اور بڑھنے کے امکانات ہیں۔ ساتھ ہی امریکہ میں کس کی حکومت ہے اس کا بھی عالمی سیاست پر اثر پڑتا ہے۔ امریکہ میں ڈیموکریٹ کے اقتدار میں آنے کے بعد صدر ٹرمپ کی جو چائنا پالیسی تھی وہ شاید جاری نہ رہے، اس کا بھی اس خطے پر اثر پڑے گا۔‘
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ چین سرحد پر فوجی نقل وحرکت کے لیے کئی مقامات پر ریلوے لائنیں بچھا رہا ہے۔ وہ شمال مشرقی سرحدوں کے نزدیک بھی کئی مقامات پر فوجی تعمیرات کر رہا ہے۔ ابھی حال میں ارونا چل پردیش سے خبر آئی تھی کہ چین نے انڈین خطے کے کئی کلومیٹر اندر ایک گاؤں تعمیر کر لیا ہے۔
چین کی سرحد پر بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے درمیان انڈیا نے مصنوعی سیاروں اور خودکار ڈرون طیاروں کے ذریعے چین کی سرگرمیوں پر نظر رکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انڈین میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس مقصد کے لیے انڈیا اسرائیل اور امریکہ سے جدید ترین ڈرون حاصل کر رہا ہے۔











