وادی گلوان میں چین انڈیا جھڑپ: سیٹلائٹ تصاویر میں انڈین سرحد پر ’چینی تعمیرات‘ دیکھی جا سکتی ہیں

ایک نجی خلائی ایجنسی کی سیٹلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وادی گلوان میں چین نے نئے تعمیراتی ڈھانچے تیار کیے ہیں۔
یہ ڈھانچے اسی مقام پر ہیں جہاں چند دن قبل چین اور انڈین فوجیوں میں ہونے والی جھڑپ میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
پچھلے ماہ اس علاقے میں کوئی تعمیراتی ڈھانچہ نہیں تھا جہاں اب بنکر، فوجی ساز و سامان کے لیے سٹور دیکھ جا سکتے ہیں۔
جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ملکوں کے مابین سرحدی کشیدگی کی وجہ سے خطے میں جنگ کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔
ان جھڑپوں میں انڈیا نے اپنے 20 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ چین کو بھی جانی نقصان ہوا ہے لیکن اس نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر ایسے وقت شائع ہوئی ہیں جب انڈین اور چینی حکام کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔
تازہ تصاویر پرائیویٹ سپیس ایجنسی میکسر نے 22 جون کو بنائی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہMaxar Technologies/Reuters
خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق دریائے گلوان کے اوپر بنائے جانی والی تعمیرات پچھلے ماہ نظر نہیں آ رہی تھیں۔
چین اور انڈیا نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
چین اور بھارت کی فوجوں کے مابین 15 جون کو متنازعہ علاقے لداخ کی وادی گلوان میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔
ان جھڑپوں کے بعد دونوں ملکوں نے کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔
بدھ کو انڈیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ’اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ چھ جون کو سینئر فوجی حکام کے مابین ہونے والی بات چیت کی روشنی میں دونوں فریقوں کو نیک نیتی کے ساتھ سرحد پر جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہMaxar Technologies/Reuters
تازہ تصاویر میں کیا نظر آ رہا ہے؟
انڈیا کے ایک سینئر دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ گلوان ویلی میں ’ایک بہت بڑا چینی فوجی کیمپ نظر آ رہا ہے جو لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر انڈیا کی طرف ایک عشاریہ پانچ کلومیٹر اندر قائم کیا گیا ہے‘۔
انڈین ذرائع ابلاغ نے فوجی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ علاقے میں چین کی جانب سے فوجی استعداد میں اضافہ پانچ جون کو انڈیا اور چینی فوج کے اعلیٰ فوجی افسران کے مابین ہونے والی بات چیت اور 15 جون کی جھڑپ کے درمیان کیا گیا ہے۔
مئی کے مہینے میں سیٹلائٹ تصاویر میں اس علاقے میں کوئی عمارت نظر نہیں آرہی تھی۔
سابق انڈین سفارت کار اور لداخ کے معاملات کے ماہر ستوبدان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تعمیرات پریشان کن ہیں۔
'انڈین حکومت نے نہ تو کوئی تصویر جاری کی ہے اور نہ ہی بیان جاری کیا ہے، لہذا کوئی اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن ایک نجی فرم کی جانب سے جاری ہونے والی تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ چین نے وہاں تعمیرات کی ہیں اور وہ وہاں سے پیچھے نہیں گئے ہیں۔'
خطے میں صورتحال اب بھی ’بہت کشیدہ‘ بتائی جا رہی ہے۔
دریں اثنا انڈین فوج کے سربراہ ایم ایم نراونے جمعرات کے روز سرحد کی اگلی پوزیشنوں کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس سے پہلے وہ فوجیوں کی تیاری کا جائزہ لینے کے لیے دوسری سرحدوں کے اگلے مورچوں کا دورہ کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMaxar Technologies/Reuters
سیٹلائٹ تصاویر کی کیا اہمیت ہے؟
تاہم انڈیا اور چین کے درمیان جاری سرحدی تنازع کے پیش نظر یہ کافی اہم ہے، اس لیے بی بی سی ہندی نے ان تصویروں کی اہمیت سمجھنے کے لیے لیفٹننٹ جنرل ر سنجے کلکرنی سے بات کی۔
لیفٹننٹ جنرل ر سنجے کلکرنی لداخ میں ایل اے سی پر 1982 سے 1984 تک تعینات تھے۔ پھر 2013 سے 2014 تک انھوں نے انڈین فوج کے 14 کور کے چیف آف سٹاف کے طور پر بھی کام کیا۔ 2014 سے 2016 تک وہ فوج کے انفینٹری ڈپارٹمنٹ میں ڈی جی کے عہدے پر بھی رہ چکے ہیں۔
دونوں ممالک کی سرحد پر جس علاقے سے کشیدگی کی خبریں آ رہی ہیں لیفٹننٹ جنرل سنجے کلکرنی نے وہاں کافی طویل عرصہ گزارا ہے اور اس علاقے کے بارے میں خاصی سمجھ رکھتے ہیں۔
یہ ان کے ساتھ بی بی سی کے نامہ نگار سروج سنگھ کی گفتگو کے کچھ اقتصابات ہیں:
سوال: اس طرح کی سیٹیلائٹ امیج یا تصاویر کتنی صحیح ہوتی ہیں؟
لیفٹننٹ جنرل سنجے کلکرنی: ایسی تصویروں کی وضاحت صحیح سے کرنا بےحد ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ پہلے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ یہ تصویریں کتنی اونچائی سے لی گئی ہیں، کتنی دوری سے لی گئی ہیں۔ تصاویر میں آپ کو چیزیں جتنی خوفناک دکھائی دے رہی ہیں سرحد پر اتنی ہیں بھی۔ حالات تشویش ناک ہیں لیکن سرحد کے دونوں جانب فوجی ہیں۔ انڈیا کی طرف بھی اور چین کی طرف بھی۔
ایسی تصویریں لینے والے کئی بار غلطی کر جاتے ہیں۔ یہ پتا لگانے میں دقت آتی ہے کہ جہاں بہت سارے فوجی جمع نظر آ رہے ہیں وہ دراصل چینی فوجی ہیں یا انڈین فوجی۔
یہ پتا لگانے میں مشکل اس لیے بھی آتی ہے کیونکہ ایل اے سی کہاں ہے اس بارے میں دونوں طرف اپنا اپنا تاثر ہے، اپنے اپنے دعوے ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں سیٹلائٹ تصاویر بہت حد تک صحیح ہوتی ہیں لیکن پوری طرح نہیں۔ اگر آپ کو انہیں صحیح طریقے سے پڑھنا نہ آئے تو مشکل ہو سکتی ہے۔
سوال: میکسار ٹیکنالوجی نے جو سیٹلائٹ تصاویر کل (بدھ کو) جاری کی ہیں، کیا ان کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہی کہ پندرہ جون کو جس مقام پر پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی، چینی فوجی وہاں اب بھی موجود ہیں؟
لیفٹننٹ جنرل سنجے کلکرنی: بالکل کہہ سکتے ہیں۔ گلوان وادی کی پیٹرولنگ سائٹ نمبر چودہ پر تھوڑا کنفیوژن ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کی دوسری طرف جو ہائی وے جی 219 کا علاقہ ہے، وہاں چینی فوج کی نفری دکھ رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ تصاویر بالکل صحیح لگ رہی ہیں۔ 2500 کلومیٹر طویل یہ ہائی وے لداخ کے مشرقی علاقے میں ہے، جس میں سے 180 کلومیٹر اکسائی چن سے گزرتا ہے۔ ایل اے سی سے اس کی دوری 100 کلومیٹر ہے۔ انڈیا نے بھی اس علاقے میں اپنی موجودگی بڑھائی ہے، جتنی وہ بڑھا سکتا ہے۔
سوال: کیا فوجیں فوجی آپریشنز میں اس طرح کی تصاویر کا استعمال کرتی ہیں؟
لیفٹننٹ جنرل سنجے کلکرنی: ایل اے سی پر تعینات فوجیوں تک اس طرح کی تصاویر عام طور پر نہیں پہنچتیں۔ لیکن ہاں کمانڈ کی سطح پر ایسی معلومات ضرور شئیر کی جاتی ہیں۔ اکثر اعلیٰ حکام (وزارت سے بریگیڈئر تک) ان معلومات پر عمل کرتے ہیں۔ یہ تصاویر ان تک ہی پہنچتی ہیں اور حکمت عملی تیار کی جاتی ہے۔

پھر سرحد پر تعینات فوجیوں کو منصوبے کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ زمینی سطح پر فوجی وہی دیکھ پاتے ہیں جو وہ اپنے پاس موجود ہتھیاروں اور دوربین کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں۔ ہر حکومت کے پاس اس طرح کی تصاویر کھینچنے کے لیے آلات ہوتے ہیں۔
سوال: کیا ان تصاویر سے یہ پتا لگایا جا سکتا ہے کہ انڈیا چین سرحد پر ڈی ایسکلیشن (کشیدگی کم) ہوئی ہے یا نہیں؟
لیفٹننٹ جنرل سنجے کلکرنی: ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ’ڈِس اینگیجمنٹ‘ (تصادم کا خاتمہ) ہوگی تو ہی ’ڈی ایسکلیشن‘ ہوگی۔ دونوں کا انحصار ایک دوسرے پر ہے۔ ’ڈِس اینگیجمنٹ‘ کا مطلب ہے کہ دونوں فوجیں آپس میں آمنے سامنے نہ ہوں اور تبھی کشیدگی دور ہوگی۔ ان تازہ تصاویر کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ دونوں فوجوں کے درمیان دوری ہے لیکن ان کا مقابلہ پچھلے دنوں کی تصاویر سے کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اسی علاقے کی ایک ماہ پہلے کی تصاویر میں کیا نظر آ رہا ہے۔ کچھ سیٹلائٹ پندرہ دن میں امیج یا تصویر لیتے ہیں، کچھ اکیس دن میں۔ اس کے بعد ہی پتا لگایا جا سکتا ہے کہ زمینی صورت حال کتنی مختلف ہے اور اس میں کتنا فرق آیا ہے۔ پہلے کتنے ٹینک نظر آ رہے تھے اور اب کتنے۔ پہلے کتنی گاڑیاں دکھ رہی تھیں اور اب کتنی ہیں۔ تبھی حقیقی صورت حال کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔
سوال : کیا سیٹلائٹ امیج سے پتا لگایا جا سکتا ہے کہ پندرہ جون کے بعد وادی گلوان میں تصادم کے مقام پر تعمیراتی کام ہوا ہے یا نہیں؟
لیفٹننٹ جنرل سنجے کلکرنی: پتا چل سکتا ہے لیکن اس میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ سیٹلائٹ امیج کو پڑھنے والا اچھا ہونا چاہیے ورنہ غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ چین انڈیا کو بیوقوف نہ بنا رہا ہو۔ ایسا نہ ہو کہ گتے کی گاڑی بنا کر رکھ دی ہو اور تصویر میں صرف ایک سایہ نظر آ رہی ہو۔ سیٹلائٹ تصاویر کو ٹھیک سے پڑھنے والا نہ ہو تو وہ ہر سائے کو گاڑی یا ٹینٹ سمجھ سکتا ہے۔
لداخ ایک اونچائی پر بسے ریگستان جیسا ہے۔ وہان زیادہ پیڑ پودے نہیں۔ ندیاں ہیں یا پہاڑ ہیں۔ اس لیے وہاں صرف سائے ہوتے ہیں۔ جسے ایسی تصاویر پڑھنے کی سمجھ ہوگی وہ اس کو پتا ہوگا کہ کون سے ملک کی فوج کس طرح کا ٹینٹ لگاتی ہے، بنکر کیسے بناتی ہے، گاڑیوں کے تعیناتی کیسے کرتی ہے۔ ان سب کو دیکھ کر آسانی سے پتا لگایا جا سکتا ہے کہ تعمیر کا کام ہو رہا ہے یا نہیں۔ اس کے لیے سیٹلائٹ تصاویر کا ریزولیوشن بھی کافی اہم ہے۔ فی الحال جو تصاویر ٹی وی اور اخباروں میں نظر آ رہی ہیں ان کی بنا پر واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ابھی صرف یہ پتا چل رہا ہے کہ ہائی وے جی ۔ 219 کے قریب چینی فوج جمع ہے۔
سوال : ایک طرف سیٹلائٹ تصاویر کو دیکھیں اور دوسری طرف دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہوں۔ کیا ایک ساتھ دونوں باتیں ممکن ہیں؟
لیفٹننٹ جنرل سنجے کلکرنی: مذاکرات ہو رہے ہیں اور ہوتے رہنے چاہئیں۔ بات چیت پر چین عمل کرے یا نہ کرے ایسی صورت کے لیے انڈین حکومت کی تیاری پوری ہونی چاہیے۔ یہ سوچ کر کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں کیا آپشنز بچتے ہیں، کسی بھی ملک کو ایسی صورت حال کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔ میری رائے میں چین اس وقت مذاکرات کی میز پر اور تھوڑا وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ اور کرنے کی اس کی کوشش مجھے نظر نہیں آتی۔
وادی گلوان میں کیا ہوا؟
ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان چار ہزار تین میٹر کی بلندی پر جھڑپ ہوئی جس کے دوران کئی فوجی دریائے گلوان کے یخ بستہ پانیوں میں گر گئے۔
ان جھڑپوں میں انڈیا کے 20 فوجی ہلاک ہو ئے جس کی حکومت نے تصدیق کی ہے۔ اس کے علاوہ 76 فوجی زخمی بھی ہوئے تھے۔
چین نے اپنے فوجیوں کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
یہ جھڑپیں بغیر کسی اسلحہ کے ہوئی تھیں۔ دونوں ملکوں کے مابین 1996 میں ہونے والے معاہدے کی رو سے فوجی اس علاقے میں اسلحہ و بارود کا استعمال نہیں کر سکتے۔
علاقے میں کتنی کشیدگی ہے؟
انڈیا اور چین کے مابین سرحد پر جسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کہا جاتا ہے، سرحد کا واضح تعین نہیں کیا گیا ہے۔
علاقے میں دریاؤں، جھیلوں اور برفانی چوٹیوں کی وجہ سے یہ لائن بدل سکتی ہے۔
انڈیا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ہزاوں فوجیوں کو لداخ کی گلوان ویلی میں بھیج رہا ہے۔
انڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین نے اس کے 38 ہزار سکوائر کلو میٹر پر قبضہ کر رکھا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین سرحدی معاملات کو حل کرنے کے لیے پچھلے تین عشروں میں مذاکرات کے متعدد دور ہوئے لیکن ان سرحدی تنازعوں کو حل نہیں کیا جا سکا۔
سرحدی تنازعوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین 1962 میں جنگ ہو چکی ہے جس میں انڈیا کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
2017 میں ڈوکلام میں ہونے والی جھڑپ سے کر رہے ہیں۔ ڈوکلام میں انڈیا اور چین کی افواج 73 دنوں تک آمنے سامنے تھیں۔ لیکن پھر بھی کشیدگی پر تشدد نہیں ہوئی۔ انڈیا کا الزام تھا کہ چین متنازعہ علاقے میں سڑک بنا رہا ہے۔
لداخ میں انڈیا کی جانب سے سڑکوں کی تعمیر کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کی کئی وجوہات ہیں لیکن تزویارتی مقاصد اس کی جڑ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لداخ کے علاقے میں ایل اے سی کے قریب انڈیا کی طرف نئے روڈ کی تعمیر کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس سڑک کی بدولت علاقے میں انڈین فوج تیزی سے حرکت کر سکتی ہے۔
ماہرین کے خیال میں انڈیا کی طرف سے خطے میں نئی سڑکوں اور پلوں کی تعمیر سے چین ناراض ہوا ہے۔








