وادی گلوان: لداخ میں انڈیا، چین سرحدی تنازع سے متعلق اہم سوالات اوران کے جواب

،تصویر کا ذریعہTwitter/ Narendra Modi
اس وقت انڈیا اور چین کے سفارتی تعلقات انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 1962 میں ایک بار جنگ ہو چکی ہے جس میں چین کو جیت جبکہ انڈیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اس کے بعد سنہ 1965 اور سنہ 1975 میں بھی دونوں ممالک کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئی تھیں۔ اب یہ چوتھا موقع ہے جب ان ممالک کی سرحد پر کشیدگی ہے۔
پندرہ اور سولہ جون کی درمیانی شب انڈیا چین کی سرحدی گلوان وادی میں جو کچھ بھی ہوا اس سے متعلق کئی سوال آپ کے ذہن میں آتے ہوں گے ان تمام سوالوں کے جواب ہم آپ کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
سوال نمبر 1: پندرہ اور سولہ جون کی رات وادی گلوان میں کیا ہوا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پندرہ اور سولہ جون کی درمیانی شب لداخ کی گلوان وادی میں ایل ایس سی پر ہونے والی اس جھڑپ میں انڈین فوج کے ایک کرنل سمیت 20 جوان ہلاک ہو گئے تھے۔
انڈیا کا دعویٰ ہے کہ چینی فوج کا بھی نقصان ہوا ہے تاہم اس کے بارے میں چین کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ چین نے اپنی فوج کے کسی بھی طرح کے نقصان کی بات تسلیم نہیں کی ہے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کا الزام لگا رہے ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ وادی گلوان میں انڈیا اور چین لائن آف ایکچیول کنٹرول (ایل اے سی) پر دونوں طرف سے فوجیوں کے مابین جھڑپ میں، لوہے کی راڈز کا استعمال کیا گیا جن پر کیلیں لگی ہوئی تھیں۔
انڈیا چین سرحد پر موجود انڈین فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے بھی بی بی سی کو یہ تصاویر بھجوائی اور بتایا کہ چینی فوجیوں نے اس ہتھیار سے انڈین فوجیوں پر حملہ کیا۔

سوال 2: یہ پُرتشدد جھڑپیں ابھی کیوں ہوئیںاور ان کی شروعات کب اور کیسے ہوئی؟
دفاعی ماہرین کے مطابق انڈیا چین کی سرحد پر تنازع کا آغاز اپریل کے تیسرے ہفتے میں شروع ہوا جب لداخ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر چین کی جانب سے فوجی دستوں اور بڑے ٹرکوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اس کے بعد سے مئی کے مہینے میں سرحد پر چینی فوجیوں کی سرگرمیاں رپورٹ کی گئیں۔ چینی فوجیوں کے لداخ میں سرحد کو طے کرنے والی جھیل میں بھی گشت کرنے کی باتیں بھی سامنے آئیں۔
سنہ 2018-19 کی سالانہ رپورٹ میں انڈیا کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ انڈیا نے انڈیا چین سرحد پر 3812 کلومیٹر کا علاقہ سڑک کی تعمیر کے لیے مارک کیا ہے اور 3418 کلو میٹر سڑک کی تعمیر کا کام 'بارڈر روڈز آرگنائزیشن کو دیا گیا تھا اور ان میں سے زیادہ تر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔
انڈیا چین سرحدی تنازع کے ماہرین کی رائے ہے کہ یہ تعمیراتی کام دونوں ممالک کے مابین تنازع کی اصل وجہ ہے لیکن ان کا یہ بھی خیال ہے کہ صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے وہ دونوں کے درمیان کشیدگی کو مختلف حالات اور واقعات کے پس منظر میں دیکھ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے ماہرین کی رائے میں اس کے لیے گذشتہ برس اگست میں انڈیا کی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنا انڈیا کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی، چین کی داخلی سیاست اور کورونا کے دور میں عالمی سیاست میں اپنے آپ کو برقرار رکھنے کے لیے چین کی کوششوں کو تبدیل کرنا شامل ہے۔
اس سے قبل 1975 میں چینی فوج نے ریاست اروناچل پردیش میں ایل اے سی پرانڈین گشتی فوج پر حملہ کیا تھا۔ اس میں بھی انڈین فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ دریں اثنا دونوں ممالک کے سربراہوں کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ اس سے ایسا لگا کہ سرحد کے ساتھ ساتھ تجارت میں بھی سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔
جب سے نریندر مودی انڈیا کے وزیر اعظم بنے ہیں ان کی چین کے صدر سے پچھلے چھ برس میں 18 بار ملاقات ہو چکی ہے۔۔ لیکن اس پُرتشدد واقعہ کے بعد دونوں ممالک کے مابین کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
سوال 3: وادی گلوان ن میں انڈیا کے کتنے فوجی مارے گئے؟
چین اور انڈیا کی فوج کے مابین پرتشدد جھڑپوں میں انڈین فوج کے 20 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ سب بہار رجمنٹ کے 16 جوان تھے۔ پہلے تین جوانوں کی ہلاکت کی خبر آئی لیکن بعد میں خود انڈیا کی فوج نے بھی ایک بیان جاری کیا کہ 17 دیگر فوجی جو شدید زخمی ہوئے تھے وہ بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔
سوال 4: اس جھڑپ میں کتنے چینی فوجی ہلاک ہوئے؟
چین کبھی بھی کسی جنگ میں ہلاک ہونے والے اپنے فوجیوں کی تعداد نہیں بتاتا ہے۔ 17 جون کو یہی سوال چینی وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے پوچھا کہ انڈین میڈیا چینی فوجیوں کے جانی نقصان کی بات کر رہا ہے کیا آپ اس کی تصدیق کرتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاو لیجیان نے کہا کہ ’دونوں ممالک کے فوجی، مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے جو میں بتا سکوں۔ مجھے یقین ہے اور آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ جب سے ایسا ہوا ہے فریقین بات چیت کے ذریعے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ امن بحال ہو سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہPIB
سوال 5: انڈین فوجیوں نے ہتھیاروں کا استعمال کیوں نہیں کیا؟
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس کے جے شنکر نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ ’سرحد پر تعینات تمام فوجی ہتھیار لے کر چلتے ہیں اور پوسٹ چھوڑتے وقت بھی ان کے پاس اسلحہ موجود ہوتا ہے۔ 15 جون کو گلوان میں تعینات فوجیوں کے پاس اسلحہ بھی تھا۔ لیکن 1996 اور 2005 کے انڈیا چین معاہدے کی وجہ سے اب فوجی جھڑپ کے دوران آتشیں اسلحہ استعمال نہیں کرتے۔‘
سوال 6: وادی گلوان دونوں ممالک کے لیے کیوں اہم ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
وادی گلوان متنازع علاقے اکسائی چن میں ہے۔ گلوان وادی لداخ اور اکسائی چن کے درمیان انڈیا چین سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہاں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) اکسائی چن کو انڈیا سے الگ کرتی ہے۔
انڈیا اور چین دونوں ہی اکسائی چن پر اپنا دعوی کرتے ہیں۔ یہ وادی چین میں جنوبی شنجیانگ اورانڈیا میں لداخ تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علاقے انڈیا کے لیے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم ہیں کیونکہ وہ پاکستان، چین کے شنجیانگ اور لداخ کی سرحدوں سے متصل ہے۔
1962 کی جنگ کے دوران بھی دریائے گلوان کا یہ علاقہ جنگ کا مرکز تھا۔ اس وادی کے دونوں اطراف کے پہاڑ فوج کو جنگی حکمت عملی میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ یہاں جون کی گرمی میں بھی درجہ حرارت منفی صفر سے کم ہے۔
مورخین کے مطابق اس جگہ کا نام غلام رسول گلوان کے نام پر رکھا گیا تھا جو ایک عام لداخی شخص تھا۔ غلام رسول ہی نے اس جگہ کو دریافت کیا تھا۔
انڈیا کی طرف سے یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں وادی گلوان میں ایک سڑک بنا رہا ہے جسے روکنے کے لیے چین نے یہ حرکت کی ہے۔ اس سڑک سے انڈیا کو اس پورے خطے میں ایک بہت بڑا فائدہ ہو گا۔ یہ سڑک قراقرم پاس کے قریب تعینات فوجیوں کو سپلائی کی فراہمی کے لیے بہت اہم ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سوال 7: اصل کنٹرول لائن (ایل اے سی) کیا ہے؟ یہ لائن آف کنٹرول (L o C) سے کس طرح مختلف ہے؟
انڈیا کی زمینی سرحد کی کل لمبائی 15 ہزار کلومیٹر ہے، جو کل سات ممالک پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً ساڑھے سات ہزار کلومیٹر لمبی سمندری سرحد ہے۔ انڈیا کی حکومت کے مطابق یہ سات ممالک بنگلہ دیش تقریباً چار ہزار کلومیٹر، چین 3،488 کلومیٹر، پاکستان 3،323 کلومیٹر، نیپال 1،751 کلومیٹر، میانمار 1،643 کلومیٹر، بھوٹان 699 کلومیٹر اور افغانستان 106 کلومیٹر ہیں۔
انڈیا کی چین کے ساتھ 3،488 کلومیٹر کی سرحد مشترکہ ہے۔ یہ سرحد جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش سے ہوتی ہوئی گذرتی ہے۔
یہ تین سیکٹرزمیں تقسیم ہے۔ مغربی سیکٹر یعنی جموں و کشمیر، مڈل سیکٹر یعنی ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ اور مشرقی سیکٹر یعنی سکم اور اروناچل پردیش۔ تاہم، دونوں ممالک نے ابھی تک مکمل طور پر حد بندی نہیں کی ہے۔ کیونکہ بہت سے علاقوں میں دونوں کے درمیان سرحدی تنازع ہے۔
ان تنازعات کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین کبھی بھی کوئی حد بندی نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم جمود کو برقرار رکھنے کے لیے، لائن آف ایکچویئل کنٹرول یعنی ایل اے سی اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔
سات دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ جموں و کشمیر انڈیا اور پاکستان کے مابین کشیدگی کا سب سے بڑا مسئلہ رہا۔ یہ خطہ اس وقت لائن آف کنٹرول کے ذریعہ منقسم ہے جس کے ایک طرف انڈیا اور دوسرا پاکستان کے ساتھ ہے۔ اسے انڈیا پاکستان لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوال نمبر8: اس تازہ تنازع کے بعد دونوں ممالک آگے کیا کریں گے؟
17 جون کو چین نے وادی گلوان کے خطے میں خودمختاری کا دعوی کیا ہے جسے ہندوستان نے گھمنڈی اور کھوکھلا دعوی قرار دیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجان نے کہا 'وادی گلوان کی خودمختاری ہمیشہ چین کے پاس رہی ہے۔ انڈین فوجیوں نے سرحدی پروٹوکول اور ہمارے کمانڈر سطح کے مذاکرات میں ہونے والے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ چین اب مزید تنازع نہیں چاہتا۔
دوسری جانب انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے بدھ کے روز کہا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے فون پر بات کی ہے اور اتفاق کیا ہے کہ اس ساری صورتحال کو ذمہ داری کے ساتھ سبھالا جائے گا۔
انڈین ترجمان نے کہا کہ چینی فوج نے ایل اے سی کے انڈین حصے میں تعمیراتی کام کرنے کی کوشش کی تھی۔ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور فوجی سطح پر بات چیت جاری ہے۔
سوال نمبر 9: اس سے پہلے انڈیا اور چین کے درمیان کب کب جھڑپیں ہوئیں؟
1962 کی ہند چین جنگ ، یہ جنگ تقریبا ایک ماہ تک جاری رہی اوراس میں چین کی جیت اور انڈیا کو شکست ہوئی تھی۔ جواہر لال نہرو نے خود بھی پارلیمنٹ میں افسوس کے ساتھ کہا ، 'ہم جدید دنیا کی حقیقت سے بہت دور ہو گئے تھے اور ہم ایک مصنوعی ماحول میں رہ رہے تھے جسے ہم نے تیار کیا تھا'۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس طرح انھوں نے اس حقیقت کو تقریباً قبول کرلیا تھا کہ انھوں نے یہ ماننے میں ایک بہت بڑی غلطی کی ہے کہ چین سرحد پر ہونے والی کشیدگی، گشتی دستوں کی سطح پر جھڑپوں اور تو تو میں سے میں سہ زیادہ کچھ نہیں کرے گا۔ 1962 کی جنگ کے بعد انڈیا اور چین دونوں ایک دوسرے سے اپنے سفیر واپس لے گئے۔ ایک چھوٹا سا مشن یقینی طور پر دونوں دارالحکومتوں میں کام کر رہا تھا۔
سوال 10: اس کشیدگی کا دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر کیا اثر پڑے گا؟
براہ راست جواب دینا تھوڑا مشکل ہے۔ دونوں ممالک کے مابین ابھی بھی بات چیت جاری ہے۔ آنے والے چند مہینوں دونوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تازہ ترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے بات چیت فوجی سطح پر نہیں بلکہ سیاسی سطح پر ہونی چاہیے۔
دونوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔











