لداخ کی وادی گلوان میں چین انڈیا جھڑپ: چینی فوج کے ’ہتھیاروں‘ کی تصویریں منظرِ عام پر، دس انڈین فوجی رہا‘

انڈین ذرائع ابلاغ میں چلنے والی خبروں کے مطابق چینی حکام نے پیر کی شب انڈیا اور چین کے درمیان ہونے والی سرحدی جھڑپ کے بعد گرفتار کیے گئے دس انڈین فوجیوں کو رہا کیا ہے۔
اس جھڑپ میں ایک کرنل سمیت 20 انڈین فوجی ہلاک بھی ہوئے تھے اور اس دوبدو لڑائی میں مبینہ طور پر چینی فوجیوں کی جانب سے کیل لگی آہنی سلاخوں کے استعمال کی بھی اطلاعات ہیں۔
انڈین اخبار دی ہندو نے جمعے کو عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ رہا کیے جانے والے افراد میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور تین میجر بھی شامل ہیں۔
انڈین حکومت نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے فوجی لاپتہ یا چینی حراست میں تھے۔
چین نے اپنے فوجیوں میں کسی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے جبکہ انڈیا کے 76 فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر اپنی حدود میں دراندازی کا الزام لگایا ہے۔
انڈین میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق یہ جھڑپ تقریباً 14 ہزار فٹ بلند پہاڑوں کی افقی ڈھلوانوں پر ہوئی جس کی وجہ سے بعض فوجی نیچے تیز بہاؤ والے دریائے گلوان میں گر گئے جس کا درجۂ حرارت صفر سے بھی کم تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں ملکوں کے درمیان سرحد غیر واضح ہے اور جغرافیائی حالات میں تبدیلی سے اس میں رد وبدل ہوتا رہتا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کے سینیئر ایڈیٹر سیو آرُور کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں فوجیوں کی رہائی ایک اہم نکتہ تھا۔
یاد رہے کہ جمعرات کے روز اس جھڑپ میں استعمال ہونے والے دیسی ساختہ ہتھیاروں کی تصاویر سامنے ائی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جمعرات کو منظر عام پر آنے والی تصویر میں ایسے دیسی ساختہ ہتھیار نظر آ رہے ہیں جنھیں بظاہر لوہے کی سلاخوں پر کیلیں لگا کر تیار کیا گیا ہے۔ یہ تصویر انڈیا اور چین کی سرحد پر تعینات ایک اعلیٰ فوجی اہکار نے بی بی سی کو فراہم کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار چینی فوجیوں نے استعمال کیے تھے۔
دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا نے سب سے پہلے اس تصویر کو ٹوئٹر پر شائع کیا تھا اور اسے ایک وحشیانہ ہتھیار قرار دیا تھا۔
چین اور انڈیا کی سرحد پر تعینات افواج کے پاس آتشیں اسلحے کی عدم موجودگی کا سبب 1996 میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا وہ سمجھوتہ ہے جس میں متنازع سرحد پر کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی غرض سے بندوقوں اور دھماکہ خیز مواد کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
اس تصویر کو وسیع پیمانے پر ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا اور کئی سوشل میڈیا صارفین نے اس پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ البتہ چینی یا انڈین حکام نے اس پر کسی طرح کا تبصرہ نہیں کیا ہے۔
بندوقیں کہاں تھیں؟
لداخ کی گلوان وادی میں آب و ہوا انتہائی سخت ہے اور بہت زیادہ بلندی پر واقع یہ خطہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول یا ایل اے سی کے مغربی سیکٹر کے ساتھ ہوتا ہوا اکسائے چِن کے قریب تک جاتا ہے۔ اس متنازع علاقے پر انڈیا کا دعوٰی ہے مگر کنٹرول چین کا ہے۔
دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان بغیر روایتی ہتھیاروں کے یہ پہلی جھڑپ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 21 سو میل لمبی غیر واضح سرحد یا ایل اے سی پر انڈیا اور چین کے درمیان دو بدو لڑائی کی ایک تاریخ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دونوں ملکوں کے درمیان آخری بار فائرنگ کا تبادلہ 1975 میں شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے ایک دور افتادہ درّے میں ہوا تھا جس میں چار انڈین فوجی مارے گئے تھے۔ اس واقعہ کو مختلف سابق سفارتکاروں نے گھات لگا کر حملہ اور حادثہ قرار دیا تھا۔
اس کے بعد سے آج تک فریقین کے درمیان کبھی گولی نہیں چلی۔
مزید پڑھیے
اس کی وجہ 1996 کا وہ دو طرفہ معاہدہ ہے جس کے تحت ’کوئی بھی فریق ایل اے سی کے دونوں جانب دو کلو میٹر کی حدود میں گولی نہیں چلائے گا نہ ہی کوئی دھماکہ خیز مواد کے ذریعے کارروائی کرے گا۔‘
مگر حالیہ ہفتوں کے دوران کشیدگی کے دیگر واقعات پیش آئے ہیں۔ مئی میں پینگانگ جھیل، لداخ اور شمال مشرقی انڈین ریاست سِکِم کے ساتھ سرحدوں پر انڈین اور چینی فوجیوں کے مابین ہاتھاپائی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
انڈیا نے چین پر لداخ کی وادی گلوان میں ہزاروں فوجی بھیجنے اور 14,700 مربع میل کے علاقے پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
سرحدی تنازعات کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بات چیت کے کئی دور ہو چکے ہیں مگر کوئی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔











