وادی گلوان: انڈیا، چین سرحدی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے پانچ انڈین فوجیوں کی کہانیاں

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رینو دیوی کہتی ہیں کہ اپنے بیٹے کو کھو دینے سے کہیں بہتر تھا کہ وہ روکھی سوکھی کھا کر غربت میں ہی گزارا کر لیتیں۔

رینو کے جواں سال بیٹے امن کمار ان 20 انڈین فوجی افسران اور سپاہیوں میں سے ایک تھے جو رواں ہفتے چین اور انڈیا کی افواج کے درمیان لداخ کی وادی گلوان کی متنازع سرحد پر جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

انڈیا کی مشرقی ریاست بہار میں واقع رینو دیوی کا گھر اُن کے بیٹے امن کمار کی موت پر تعزیت کے لیے آنے والوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔

امن کے والد سدھیر کمار اب بھی سکتے کے عالم میں ہیں۔

سدھیر بتاتے ہیں کہ ’مجھے اس رات ایک فون کال موصول ہوئی۔ جب میں نے فون اٹھایا تو دوسری جانب موجود شخص نے پوچھا کہ اس کی بات کس سے ہو رہی ہے۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں امن کا والد ہوں۔ دوسری جانب سے بتایا گیا کہ امن شہید ہو گئے ہیں، اور اس سے قبل کہ میں کچھ کہتا رابطہ منقطع کر دیا گیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے دوبارہ اس نمبر پر کال کی مگر کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ ’اگلی صبح ان کا دوبارہ فون آیا اور انھوں نے بتایا کہ اس کی میت جلد ہی گھر بھیج دی جائے گی۔‘

امن کی ایک سال قبل ہی مینو دیوی سے شادی ہوئی تھی۔ مینو کے میکے اور گاؤں کے لوگ بھی امن کی موت کی خبر سن کر ان کے گھر پہنچ چکے تھے۔

امن کمار
،تصویر کا کیپشنامن کمار

مینو نے آہیں اور ہچکیاں بھرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب وہ (امن) رواں برس فروری میں آخری مرتبہ گھر آئے تھے تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی دوبارہ واپس آئیں گے کیونکہ ان کے والد کا دل کا آپریشن ہونا تھا۔ بعد میں انھیں لیہہ تعینات کر دیا گیا۔ مگر اب وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔‘

امن کے والد کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کے ساتھ بہت بڑا سانحہ پیش آیا ہے مگر انھیں اپنے بیٹے پر فخر ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس سب کے باوجود میرے دل میں حکومت کے خلاف کوئی شکایت نہیں ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرا بیٹا اپنے وطن کے کام آیا اور اپنی جان دی۔ اس سے عظیم کام اور کیا ہو سکتا ہے؟‘

سرحدی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے چند فوجیوں کی آخری رسومات ادا کر دی گئی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے پانچ فوجیوں کا تعلق ریاست بہار کے مختلف شہروں سے ہے۔

نمائندہ بی بی سی ہندی سیتو تیواری نے ان پانچ فوجیوں کے اہلخانہ سے بات چیت کی ہے جو ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

کندن کمار یادو

کندن کمار یادو
،تصویر کا کیپشنکندن کمار یادو

ہلاک ہونے والوں میں کندن کمار یادو بھی شامل ہیں جنھوں نے لواحقین میں ایک بیوہ اور دو بچے چھوڑے ہیں۔ ان کے بچوں کی عمریں بالترتیب چھ اور چار برس ہیں۔

کندن کے والد نیمندر یادو نے بتایا کہ ’رات دس بجے کے لگ بھگ ہمیں اپنے بیٹے کی موت کی خبر کے بارے میں فون کال کے ذریعے مطلع کیا گیا۔‘

نیمندر ایک کسان ہیں اور ان کے خاندان کے دیگر چار افراد فوج میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کندن نے انھیں چار دن پہلے ہی فون کیا تھا۔

کندن آخری مرتبہ فروری میں اپنے گھر چھٹیوں پر آئے تھے۔ اس موقع پر ان کے بیٹے کی ’منڈن‘ نامی رسم بھی ادا کی گئی تھی۔ اس رسم میں بچے کے سر سے تمام بال کاٹ دیے جاتے ہیں۔

ان کے گھر پر موجود ایک مقامی سیاستدان پراوین انند کہتے ہیں کہ ’ہمیں اُس کی شہادت پر فخر ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے ایک بھائی کی وجہ سے ہمارا گاؤں مشہور ہوا۔‘

سنیل کمار

ریاست بہار کے ضلع پٹنا سے تعلق رکھنے والے سنیل کمار نے سنہ 2002 آرمی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ شادی شدہ تھے اور ان کے تین بچے ہیں۔

سنیل کے والد بھی سخت پریشانی کے عالم میں ہیں۔ سنیل کے اہلخانہ نے بتایا کہ جب سے سنیل کی موت کی خبر ملی ہے ان کے والد نے ایک لفظ نہیں بولا۔

سنیل کے بھائی انیل کمار نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ سنیل کے خاندان کی اچھی طرح دیکھ بھال کی ذمہ داری لیں۔

انیل کا کہنا تھا کہ ’سنیل کی بیوہ پڑھی لکھی ہیں۔ انھیں سرکاری نوکری دی جائے اور تینوں بچوں کی پڑھائی لکھائی کا بندوبست کیا جائے۔‘

چندن کمار

چندن کمار
،تصویر کا کیپشنچندن کمار

ہلاک ہونے والے ایک فوجی چندن کمار کے اہلخانہ نے فوج کی جانب سے آنے والی پہلی فون کال رات کو مِس کر دی تھی۔

اہلخانہ کو چندن کی ہلاکت کی خبر اگلی صبح ملی۔

وہ پہلے ہی پریشان تھے کیونکہ گذشتہ چھ روز سے سرحد کی صورتحال کے حوالے سے کچھ اچھی خبریں موصول نہیں ہو رہی تھیں۔

چندن نے دو برس پہلے ہی فوج جوائن کی تھی۔ وہ چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے دیگر تین بھائی بھی آرمی میں ہیں۔

جے کشور سنگھ

جے کشور کمار
،تصویر کا کیپشنجے کشور کمار

جے کشور سنگھ کے والد راج کپور سنگھ نے بتایا کہ ’مجھے ایک ماہ قبل اپنے بیٹے کی فون کال موصول ہوئی تھی۔ اس نے بتایا کہ ہمیں پہاڑی علاقے میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ اگر اس علاقے میں فون کا ٹاور نہ ہوا تو شاید آئندہ چند روز بات نہ ہو پائے۔‘

راج کپور نے مزید بتایا کہ ’میرے بیٹے نے مجھے آگاہ کیا کہ وہ اس وقت رابطہ کرے گا جب وہ پہاڑوں سے واپس آ جائے گا۔‘

مگر یہ فون کال کبھی موصول نہ ہوئی۔

گذشتہ بدھ کی صبح جے کشور کے اہلخانہ کو اطلاع دی گئی کہ وہ بہت زیادہ مضروب ہے اور دو گھنٹے بعد ہی یہ اطلاع ملی کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

جے کشور کے والد کی خواہش ہے کہ ان کے بیٹے کی یاد میں ایک میموریل قائم کی جائے اور کسی عوامی جگہ کا نام ان کے بیٹے کے نام پر رکھا جائے۔

’میرا بیٹا جا چکا ہے مگر اس کی یادیں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی۔ اس کی یادیں ہماری بچی کھچی زندگی کا سہارا ہوں گی۔‘