انڈیا چین سرحدی تنازع: نکُولا کا محاذ انڈیا کے لیے اہم کیوں ہے؟

انڈیا چین سرحد

،تصویر کا ذریعہTAUSEEF MUSTAFA/Getty Images

    • مصنف, پروین شرما
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے

انڈیا کا دعویٰ ہے کہ کچھ دن پہلے سکم میں انڈیا چین سرحد کے قریب نکُولا میں انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان 'معمولی جھڑپ' ہوئی تھی۔ تاہم چین نے اس طرح کے کسی تصادم یا چینی فوجیوں کے زخمی ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

اس پورے معاملے کے بارے میں انڈین فوج نے ایک بیان جاری کیا تھا کہ ’20 جنوری کو شمالی سکم کے علاقے نکولا میں ہندوستانی فوج اور پیپلز لبریشن آرمی کے مابین معمولی جھڑپ ہوئی تھی اور اس معاملے کو مقامی کمانڈروں نے طے کرلیا ہے۔‘

انڈین میڈیا کے مطابق یہ جھڑپیں سکم میں ’نکُولا پاس‘ کے قریب پیش آئیں ہیں۔ سکم کا علاقے بھوٹان اور نیپال کے بیچ میں واقع ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

تاہم چینی حکومت کی حمایت یافتہ نیوز ویب سائٹ گلوبل ٹائمز نے بھارتی میڈیا میں آنے والی خبروں میں چینی فوجیوں کے زخمی ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے کہ انڈیا چین سرحد پر جھڑپ میں 20 چینی فوجیوں کے زخمی ہونے کی خبریں ’جعلی‘ ہیں۔

سکم اور نکُولا انڈیا کے لیے بہت اہم ہیں۔ سنہ 2017 میں انڈیا اور چین کے درمیان ڈوکلام میں سڑک کی تعمیر پر تنازعہ کئی مہینوں تک جاری رہا تھا۔ سلگوری راہداری کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ بہت اہم ہے۔

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حدود سے متعلق دعوے

انڈیا اور چین کے مابین 3440 کلومیٹر طویل سرحد کے ایک بڑے حصے کو متعین کرنے پر تنازع ہے۔ ندیوں، جھیلوں اور پہاڑوں کا مطلب یہ ہے کہ سرحد بدل سکتی ہے اور اس کی وجہ سے دونوں ممالک کے فوجی متعدد مقامات پر آمنے سامنے آجاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کئی بار کشیدہ حالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

گذشتہ سال مئی میں نکُولا میں ایک معمولی جھڑپ ہوئی تھی۔ یہ جگہ 5000 میٹر سے زیادہ کی اونچائی پر ہے۔ ایک مہینے کے بعد لداخ میں دونوں طرف شدید جھڑپ ہوئی۔ اس میں انڈین فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس جھڑپ میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ چین نے اس کے بارے میں آج تک کچھ نہیں کہا ہے کہ اس کے کتنے فوجی مارے گئے ہیں۔

نکُولا کی سٹریٹجک اہمیت

نکُولا ایک پاس ہے جو 19،000 فٹ کی اونچائی پر ہے۔ نکولا ایک حساس علاقے کے طور پر جانا جاتا ہے۔

نکُولا انڈیا کی شمال مشرقی ریاست سکم میں واقع ہے۔ سنہ 1962 میں یہ علاقہ جنگ کی زد میں آ گیا تھا۔ پانچ برس بعد سکم میں چین سے لگی سرحد پر لڑائی ہوئی اور اس وجہ سے دونوں حریفوں کے سینکڑوں فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت سکم انڈیا کے زیر کنٹرول علاقہ تھا اور ایک رائے شماری کے ذریعے سنہ 1975 میں ہندوستان کی 22 ویں ریاست بن گیا تھا۔

اس پورے علاقے میں چین نے سڑکوں کا جال بچھایا ہوا ہے۔

انڈیا چین سرحد

،تصویر کا ذریعہSubhendu Sarkar/Getty Images

سکم میں سرحد ایک اور وجہ سے بھی اہم ہے۔

انڈیا کے فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واحد ایسا علاقہ ہے جہاں انڈیا کو چین پر برتری حاصل ہے اس کے ساتھ ہی ہمالین فرنٹیئر میں بھی یہ علاقہ انڈین افواج کو سٹریٹیجک فائدہ دیتا ہے۔ انڈین افواج یہاں اونچائی پر موجود ہیں۔

انڈیا چین سرحد

،تصویر کا ذریعہUPASANA DAHAL/Getty

دفاعی ماہر کرنل ریٹائرڈ دانویر سنگھ نے وضاحت کی کہ ’انڈین فوج اس علاقے میں بلندی پر موجود ہے اور یہاں چین پر بھارت کی سٹریٹجک برتری ہے۔ تبت کی طرف جانے والے علاقے پر تنازعہ ہے جبکہ وہاں سرحد کی حد بندی بالکل واضح ہے۔ اس کے باوجود چین ہمارے علاقوں پر دعویٰ کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بھارت پر دباؤ ڈالنا ہے۔‘

کرنل سنگھ کہتے ہیں کہ یہ میدانی علاقہ ہے اور وہاں بھارت نے ٹینکوں سمیت دیگر اسلحہ رکھا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس علاقے میں انڈیا کی ’مضبوط پوزیشن سے چین پریشان رہتا‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشیدگی کی صورت میں بھارت اس علاقے میں ’چین پر بھاری پڑ سکتا ہے‘۔

بھوٹان کو تحفظ رینے کے لحاظ سے اہم

سکم میں انڈین فوج کی موجودگی اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ یہاں سے انڈیا بھوٹان کو بھی چین سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

کرنل سنگھ کہتے ہیں کہ ’اسے آپ ایسے سمجھ لیجیے کہ ڈوکلام بھوٹان میں موجود ہے۔ جہاں ہندوستان کی گذشتہ بار چین کے ساتھ ایک طویل محاذ آرائی ہوئی تھی۔ سکم کے اندر ہندوستان کی موجودگی کی وجہ سے ہم وہاں چین کو روکنے میں کامیاب ہوئے۔ بلکہ، سکم اور اروناچل دونوں ہی اس لحاظ سے بہت اہم ہیں۔‘

انڈیا چین سرحد

،تصویر کا ذریعہPIB

وادی گلوان معاملہ

نکُولا میں حالیہ تصادم سے قبل گذشتہ سال لداخ میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا۔

گذشتہ سال جون کے مہینے میں ملک کے شمال میں لداخ کے قریب لائن آف ایکچول کنٹرول کے قریب دونوں فریقین میں تصادم ہوا تھا، جس نے تناؤ کی صورتحال پیدا کردی تھی۔ 15 جون کو اس جھڑپ میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

انڈیا کا کہنا تھا کہ چین نے وادی گلوان کے علاقے سے متعلق لائن آف ایکچول کنٹرول پر معاہدے کا احترام نہیں کیا اور اس علاقے میں تعمیراتی کام شروع کر دیا۔ جب اسے ایسا کرنے سے روکا گیا تو اس نے پُرتشدد اقدامات اٹھائے جس میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہو گئے۔

جبکہ چین کا کہنا ہے کہ انڈین فوجی اس کے علاقے میں گُھس چکے تھے۔