کورونا وائرس: انڈیا میں دنیا کی سب سے بڑی ویکسینیشن مہم کا آغاز

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا میں لوگوں میں مصنوعی طور پر کسی بیماری کے خلاف قوتِ مداقعت پیدا کرنے کی دنیا کی سب سے بڑی مہم شروع کی گئی ہے جس میں صفائی کرنے والے ایک مزدور کو کووڈ19 کے خلاف ویکسین لگائی گئی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے مہم کا آغاز کیا ہے جس کا ہدف ایک اعشاریہ تین ارب لوگوں کو حفاظتی ٹیکے لگانا ہے۔
نریندر مودی نے اس موقعے پر ملک کے فرنٹ لائن ورکز کو خراجِ تحسین پیش کیا جنھیں اس ملک میں سب سے پہلے ویکسین لگائی جانی ہے۔
انڈیا دنیا میں کورونا وائرس کی وبا سے متاثر ہونے کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے۔ اس مہم کے آغاز سے قبل گذشتہ چند روز میں دو منظور شدہ ویکسینز، کووی شیلڈ اور کویکسن، کے لاکھوں ٹیکے ملک کے مختلف حصوں میں ارسال کیے گئے ہیں۔
سنیچر کی صبح اس مہم کے آغاز کے موقعے پر وزیراعظم مودی کا کہنا تھا کہ ’ہم دنیا کی سب سے بڑی مہم کا آغاز کر رہے ہیں اور اس سے دنیا کو ہماری صلاحیت کا اندازہ ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا اپنی پوری آبادی کو یہ حفاظتی ٹیکے لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایک ایپ کی مدد سے یہ کام کیا جائے گا جس کے ذریعے حکومت اس مہم کی پیش رفت پر نظر رکھے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کوئی بھی شخص رہ نہ جائے۔
انھوں نے کہا کہ ان ڈاکٹروں، نرسوں، اور دیگر فرنٹ لائن ورکرز نے تاریک دنوں نے ہماری روشنی کی راہ دیکھائی۔ ’وہ لوگ اپنے گھر والوں سے دور رہے، انھوں نے اپنی جانیں دیں، اور یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے ان لوگوں کو یہ دوا دی جا رہی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعظم مودی نے لوگوں سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ کووڈ 19 کے حوالے سے احتیاطی تدابیر جیسے کہ ماسک پہہنا اور سماجی دوری اختیار کرنا، کا خیال رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کو ابھی سے یہ سب نہیں چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ سب لوگوں کو ویکسین لگانے میں وقت لگے گا۔
انھوں نے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ وہ ’ویکسینز کے بارے میں پروپیگنڈا اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں لوگوں کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ان ویکسینز کو منظوری تب ہی دی گئی ہے جب سائندان اور ماہرین ان کے بارے میں مطمئن تھے۔‘
پہلے راؤنڈ میں تقریباً 10 ملین ہیلتھ ورکز کو یہ ٹیکے لگائے جائیں گے۔ جس کے بعد پولیس والوں، فوجیوں، اور میونسپل ورکز کو یہ دوا دی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے بعد 50 سال کی عمر سے بڑے لوگوں یا پھر 50 سے کم عمر ایسے افراد جن کو پہلے سے کوئی شدید بیماری ہو، ان کو یہ ٹیکے لگائے جائیں گے۔ انڈیا کے الیکٹورل رول میں تقریباً 90 کروڑ لوگوں کی معلومات موجود ہیں۔
حکومت کے پلان کے مطابق اگست تک 30 کروڑ لوتگوں کو یہ ٹیکے لگائے جائیں گے۔ ایسا حکومتی ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں، کمینٹی ہالز، میونسپل دفاتر اور شادی گھروں میں کیا جائے گا۔
انڈئا میں متعدد ہسپتالوں میں کام شروع کر دیا گیا ہے۔
دلی کے میکس ہسپتال میں لگائے گئے ٹیکوں میں ڈاکٹر اٹل پیٹرز کو بھی یہ دوا دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک اہم دن ہے۔ میں ان کا مشکور ہوں جن کی کوششوں کی وجہ سے یہ دن حقیت ہو سکا ہے۔ مجھے بہت خودی ہوئی جب مجھے بتایا گیا کہ میرا نام اس لسٹ میں ہے۔‘
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے وبا کے دوران بہت محنت سے کام کیا اور جانیں بچائیں۔ اور اب ہم سب سے پہلے یہ دوا لے رہے ہیں تاکہ یہ خیالات بھی ختم ہو جائیں کہ یہ محفوظ ہے یا نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں ادویات کے نگران ادارے نے دو ویکسینز کی منظوری دی ہے۔ کووی شیلڈ (جو کہ آکسفورڈ آسٹرا زنکا کا مقامی نام ہے اور یہ برطانیہ میں بنائی گئی تھی) اور کویکسن جو کہ ایک مقامی کمپنی بھارت بائیو ٹیک نے تیار کی ہے۔
تاہم کویکسن کی افادیت پر سوال اٹھائے گئے ہیں کیونکہ اس کی منظوری فیز 3 ٹرائلز ختم ہونے سے قبل آئی تھی۔ اس ویکسین کو بنانے والے اور نگران ادارے دونوں کا کہنا ہے کہ ویکسین محفوظ ہے اور اس حوالے سے ڈیٹا فروری میں شائع کر دیا جائے گا۔
دونوں ویکسینز میں 28 دن کے وقفے کے ساتھ دو ٹیکے لگائے جاتے ہیں اور دوسرے ٹیکے کا مقصد اس دوا کی طاقت کو بڑھانا ہے۔ مریض کی قوتِ مدافعت پہلے ٹیکے کے بعد شروع ہوتی ہے مگر پوری طرح کارآمد دوسرے ٹیکے کے 14 روز کے بعد ہوتی ہے۔
اس مہم کی پیش رفت کو ریئل ٹائم میں مانیٹر کیا جائے گا۔ 80 لاکھ افراد جنھیں پہلے راؤنڈ میں یہ ویکسین دی جانی ہے ان کا اندراج کیا جا چکا ہے اور چھ لاکھ افراد کو اس مہم کے لیے تربیت دی گئی ہے۔
تاہم یہ ٹیکے لگوانا ابھی رضاکارانہ کام ہے اور جو انھیں لگوائے گا انھیں ویکسینیشن کا سرٹیفیکیٹ دیا جائے گا۔
انڈیا میں ویکسینز کے معروف ماہر ڈاکٹر گاگندیپ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں انڈئا کی یہ مہم دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر کام کرے گی کیونکہ اس میں کافی زیادہ حکومتی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور ابتدائی مراحل میں تیاری کی گئی تھی۔‘








