کورونا سے متاثر ہونے والے کشمیری صحافی کی کہانی ان کی تصاویر کی زبانی

ستاروں سے بھرا آسمان

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشنوکار سید جب پہلی بار کورونا سے کچھ صحتیاب کے بعد اپنے کمرے سے نکلے تو باہر ستاروں سے بھرا آسمان ان کا منتظر تھا
    • مصنف, وقار سید
    • عہدہ, صحافی

میرا شمار بھی ان متعدد افراد میں ہوتا ہے جو گذشتہ ایک برس کے دوران کورونا وائرس سے متاثر ہوئے، اور اس وبا کے باعث لگائے جانے والے لاک ڈاؤن کو جھیلنے میں کامیاب رہے۔ میں آج آپ کو گذشتہ 10 ماہ کی کہانی اپنی ہی تصاویر کی زبانی سنانے جا رہا ہوں۔

اس سارے عرصے کے دوران میرے لیے زندگی دوسری لوگوں سے مختلف اس لیے تھی کیونکہ میرا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ سے ہے اور میں کشمیر میں بطور صحافی کام کر رہا ہوں۔

یہ بھی پڑھیے

گھر پر ہی باجماعت نماز

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشنمیرے والد کی امامت میں میرے بھائی اور میں جمعے کی نماز گھر پر ہی ادا کیا کرتے تھے

یہی وجہ تھی کہ اس دوران میرا کام خاصا متاثر ہوا کیونکہ میں باہر جا کر رپورٹنگ نہیں کر پایا۔

باغ

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشنمیرے بڑے بھائی وقاس اور ان کی اہلیہ گھر میں ہی سبزیوں کے بیج بو رہے ہیں کیونکہ ہمارے لیے مارکیٹ سے سبزی لانا ممکن ہی نہیں تھا

ایک ایسے صحافی کی حیثیت سے جس کا زیادہ تر کام تصاویر کے ذریعے کہانیاں بتانے پر منحصر ہے میرے گھر والے بھی میری صورتحال سے پریشان تھے اور انھوں نے مجھے گھر سے باہر نکلنے اور رپورٹنگ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

باغ

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشنیہاں یہی کام میری والدہ مبینہ بھی کر رہی ہیں، میری والدہ نے اس عالمی وبا کے دوران بہت محنت کی اور ہمارے گھر چولہا چلائے رکھا

ایسے میں میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں کووڈ کے باعث لگائے گئے لاک ڈاؤن اور بعد میں اپنی بیماری کے باعث خود ساختہ تنہائی میں رہتے ہوئے اپنے ہی گھر والوں کی تصاویر کھینچوں اور یہ کہانی بیان کروں کہ ہم نے یہ وقت کیسے گزارا۔

حجام

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشنمیرے والد رفیع احمد شاہ ایک حکومتی ملازم ہیں اور انھوں نے اپنی شیو خود ہی بنانے کا انتظام کر لیا، اس دوران کافی عرصہ وہ بھی گھر پر ہی رہے

میرے والدین نے بھی بہت سارے لوگوں کی طرح ایک نئی مصروفیت ڈھونڈ لی اور گھر پر ہی سبزیاں اگانے کی ٹھانی۔

سنسان سڑک

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشناپنی صحتیابی کے بعد جب میں پہلی مرتبہ باہر نکلا تو یہ سنسان سڑک شاید میرا انتظار کر رہی تھی، ورزش کی غرض سے میں یہ ہر روز چہل قدمی کیا کرتا تھا

اس دوران بہت ساری سروسز کی طرح حجام بھی نایاب ہو گئے تو میرے والد نے خود ہی اپنی شیو بنانے کی عادت ڈال۔

میرا بھائی جو ایک آٹوموبائل کمپنی میں کام کرتا، گھر سے ہی اپنے لیپ ٹاپ کمپیوٹر پر بیٹھا کام کرتا رہا اور میری بہن اور چھٹی کزن سکول کی جانب سے دیا گیا کام ساتھ مل کر گھر پر ہی کرنے لگیں۔

کمپیوٹر

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشنمیرا 30 سالہ بھائی وقاس ایک آٹوموبائل کمپنی میں کام کرتا ہے اور اسے بھی اس دوران گھر سے کام کرنا پڑا اور اس کی کمپنی کو اس دوران شدید نقصان بھی اٹھانا پڑا

انڈین حکام کی جانب سے خطے میں تیز انٹرنیٹ یعنی تھری اور فور جی کی بندش کے باعث ہمیں ٹو جی پر ہی اکتفا پڑا اور ہم اس انتہائی مشکل وقت کے دوران بھی رینگتے ہوئے انٹرنیٹ کا استعمال کرتے رہے۔

یقیناً آج کی نوجوان نسل ہماری تکلیف سمجھ سکے گی۔

گھر سے باہر جھانکتا شخص

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشنمیرے انکل دیوار کی دوسری جانب سے ہم سے باتیں کیا کرتے تھے، اس سے آگے نہ ہم جاتے، نہ ہی وہ آتے۔ ہم کورونا انفیکشن سے خوفزدہ تھے

خیر یہ ہمارے لیے کوئی نئی بات بھی نہیں ہے، جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ سے تعلق ہونے کے باعث ہمیں انٹرنیٹ کی بندش کا سامنا تو گذشتہ دو سالوں سے کر رہے ہیں، لیکن کورونا کی عالمی وبا نے اس بندش کو مزید کٹھن بنا دیا۔

عمر رسیدہ خاتون

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشنیہاں میری دادی رمضان کے مہینے کے دوران صحن میں بیٹھی ہیں اور اپنی بیٹی سے فون پر بات کر رہی ہیں

ہم صرف آڈیو کال کے سہارے ہی اپنے رشتہ داروں اور عزیز و اقارب سے جڑے ہوئے تھے۔

بچہ

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشنمیرا چھوٹا کزن اپنے موبائل پر آف لائن گیم کھیل رہا ہے جو اس کے لیے اس دوران تفریح کا ایک ذریعہ بنی رہی

بیماری کے دوران میری والدہ میرے لیے کھانا ایک علیحدہ کمرے میں رکھتی تھیں جہاں تقریباً دو ماہ سے زیادہ عرصہ میں نے تنہا گزارے۔

مرچیں

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشنیاد ہیں وہ بیج جو ہم نے باغ میں لگائے تھے؟ دیکھو اتنی ساری سبزیاں

زندگی خاصی پھیکی اور ناامیدی سے بھرپور تھی اور میں اس دوران صرف اپنی ماں کا ہی چہرہ دیکھتا تھا، جو ماسک اور گلوز پہنے میرے لیے کھانا لایا کرتی تھیں، اور دروازے پر ہی پلیٹیں رکھ دیتی تھیں۔

سلائی کڑھائی

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشنمارکیٹ میں بریڈ کی عدم موجودگی کے باعث میری بھابھی نے گھر پر ہی اس کا انتظام کیا اور ہم نے سات ماہ اسی پر گزارا کیا

اس دوران میں نے خوب پانی پیا، اور خشک میوے بھی کھائے۔ میرا مدافعتی نظام اتنا کمزور تھا کہ میں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل بھی نہ تھا۔

کھڑکی سے باہر کا منظر

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشنیہ میرے کمرے سے باہر کا وہ منظر ہے جو میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد دو ماہ سے بھی زیادہ عرصے تک دیکھتا رہا

تقریباً دو ماہ کے بعد جب میں باہر آیا تو میں نے شام میں دوڑنا شروع کیا اور زندگی کو ایک مرتبہ پھر دھکا دے کر چلانے کی کوشش کی۔

کچھ ہفتوں کے بعد میں پھر سے کہانیوں کی تلاش میں گھر سے نکلا اور پھر متعدد جریدوں کو ان کہانیوں کو شائع کرنے کے لیے رابطے کرنے لگا۔ اس سال میں نے اپنی پہلی کہانی الجزیرہ انگلش کے لیے دلی میں کسانوں کے احتجاج پر کی۔

میں اپنا دن عبادت کرنے، ٹیلی ویژن دیکھنے اور نیند پوری کرنے میں گزارتا اور میرا اس دوران کسی سے بات بھی کرنے کا دل نہیں کرتا تھا۔

مٹی

،تصویر کا ذریعہVikar Syed

،تصویر کا کیپشندیکھیے میرے والد کی یہاں شیو بھی بڑھی ہوئی ہے، اور وہ اور میری والدہ گھر پر ہی سبزیاں لگانے کی کوشش می مصروف ہیں

میرے لیے اپنا فون استعمال کرنا بھی ایک اذّیت ناک عمل تھا اس لیے میں کسی سے فون پر بات بھی نہیں کیا کرتا تھا۔ مجھے کبھی کبھی تو ایسا گمان ہوتا تھا کہ میں اس مہلک خیز عالمی وبا سے بچ نہیں پاؤں گا۔

اگر اللہ کے بعد میں کسی کو اپنی صحتیابی کا ذمہ دار سمجھتا ہوں تو وہ میری بیاری ماں ہی ہیں۔