کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دنوں میں بھی انڈیا اور پاکستان لائن آف کنٹرول پر آمنے سامنے

،تصویر کا ذریعہTAUSEEF MUSTAFA
- مصنف, ایم اے جرال اور ماجد جہانگیر
- عہدہ, پاکستان اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر
اگر ایک جانب ساری دنیا کووڈ-19 سے متاثرہ افراد اور مرنے والوں کی تعداد کے حساب کتاب رکھنے اور کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مشغول ہے وہیں دوسری جانب روایتی حریف انڈیا اور پاکستان کی افواج کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سرحد کے دونوں جانب فائرنگ میں مشغول ہیں۔
دونوں جانب سے الزام لگائے جا رہے ہیں اور دونوں ہی جانب سے ان الزامات کی تردید ہو رہی ہے لیکن دونوں جانب کے عوام اس شیلنگ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں صحافی ایم اے جرال نے مقامی انتظامیہ سے بات کی، جن کے مطابق دنیا میں کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد سے انڈیا کی مبینہ فائرنگ اور گولہ باری سے اب تک دو افراد ہلاک جبکہ 59 زخمی ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں دو برس کا بچہ اور ایک خاتون شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اس سے قبل انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرینگر سے صحافی ماجد جہانگیر نے خبر دی تھی کہ اب تک سرحد پار پاکستان کی جانب سے فائرنگ میں تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ کچھ افراد زخمی بھی ہیں جبکہ ایل او سی کے آس پاس آباد گاؤں کے لوگ خوفزدہ ہیں اور کورونا کی وبا کے دوران ان کی مشکلات میں گولہ باری سے مزید اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈین فوج نے 27 اپریل کو ضلع کوٹلی کے جندروٹ سیکٹر میں کھیت میں گندم کاٹتی خاتون کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا بلکہ کھوئی رٹہ سیکٹر میں بھی آٹھ برس کی بچی فائرنگ میں زخمی ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ اس خطے میں وادی نیلم کے مختلف سیکٹرز کے علاوہ عباس پور، نکیال، سماہنی اور دیگر لائن آف کنٹرول کے علاقوں میں انڈین فوج کی جانب سے مقامی آبادی کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے مطابق ان علاقوں میں گولہ باری سے لوگوں کی املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ لاک ڈاون کی بنا پر ریاست میں گاڑیوں کی آمدورفت پہلے ہی محدود ہے جبکہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے فائرنگ کے باعث ان علاقوں میں کھانے پینے کے سازو سامان اور کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے میڈیکل کا ضروری سازوسامان بھی نہیں پہنچ پاتا، جس سے لوگوں کی مشکلات میں دگنا اضافہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب انڈین حکام کا کہنا ہے کہ 12 اپریل کو سرحد پر فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے تین عام لوگوں میں ایک آٹھ سالہ بچہ شامل ہے۔
پاکستان کی سرحد سے فائرنگ کے تبادلے میں کشمیر کے ایک سرحدی ضلع کپواڑہ میں بھی متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
12 اپریل کے واقعے سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے کپواڑہ میں ماتم برپا تھا۔ کچھ ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں، جس میں گاؤں والے پاکستانی شیلنگ سے بچنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اپنے گاؤں چوکیبل سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے سرپنچ حیدر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ گولیوں سے بچیں کہ کورونا وائرس سے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
انھوں نے کہا: ’جب اتوار کو یہ واقعہ پیش آیا تو بہت سارے لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے گاؤں سے فرار ہو گئے۔ میں ان لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھر گئے ہیں تو وہ وہاں بھی سماجی دوری قائم رکھیں۔
’ایسے وقت میں ہمارے پڑوسی ملک کو پڑوسی ہونے کا کچھ تو خیال کرنا چاہیے۔‘
حیدر خان نے کہا: ’.انڈیا اور پاکستان دونوں ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کورونا وائرس سے لڑ رہے ہیں لیکن میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ پہلے دونوں ممالک اس گولہ باری سے نمٹیں۔ سرحدی علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ غیر انسانی ہے۔‘
دووسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے انڈین فوج کے جنرل کے اس بیان کو من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثر افراد کو لائن آف کنٹرول کی جانب بھیج رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پنجاب میں ہلاک ہونے والے پہلے شخص کا تعلق اس خطے کے علاقے عباس پور سے تھا، اس کی میت کو آبائی علاقے آنے کی اجازت نہیں دی گئی اور اسے لاہور میں ہی دفنایا گیا تھا۔
’اگر ریاست کے شہری کی میت کو دفنانے کی اجازت نہ دی گئی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کورونا سے متاثر افراد کو دوسری جانب بھیجے۔‘
وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے مزید کہا کہ ’انڈین جنرل کا یہ بیان انڈیا کی بیمار ذہنیت کا عکاس ہے اور ایسے بیانات سے وہ اپنے زیر انتظام کشمیر کی مقامی آبادی میں توپ خانے کی منتقلی اور لائن آف کنٹرول پر اپنی سفاکی پر پردہ ڈال رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا 'مؤرخ ضرور لکھے گا کہ جب دنیا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مشترکہ جدوجہد میں مصروف عمل تھی اس دوران بھی نہتے کشمیریوں کو خون میں نہلایا گیا۔
’دنیا میں انسانیت کی اتنی بڑی تذلیل کی مثال نہیں ملتی۔‘
دونوں جانب ایک ہی کہانی
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کپواڑہ کے ایک مقامی طاہر احمد نے بتایا کہ علاقے میں صورتحال کشیدہ ہے۔
ضلع پونچھ کے بالاکوٹ گاؤں کے مکھیا یعنی سربراہ ایاز احمد کا کہنا ہے کہ تناؤ کی وجہ سے لوگ معاشرتی فاصلے پر عمل پیرا نہیں ہوسکتے ہیں۔
انھوں نے کہا: ’لوگوں کا زور سماجی دوری برقرار رکھنے پر ہے لیکن جب لوگ خوفزدہ ہو کر دباؤ میں کسی محفوظ جگہ کی تلاش کریں تو اس پر عمل کس طرح ہو گا۔‘
ایاز احمد نے یہ بھی کہا: ’جب بھی فائرنگ ہوتی ہے تو ہم جان بچانے کے لیے دوسری جگہوں پر بھاگتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے جان بچانے کے چیلنج کے درمیان اس چیلنج کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
انھوں نے بتایا کہ 12 اپریل کو گاؤں کی ایک خاتون فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہو گئی اور اس کی زندگی بچانے کے لیے انھیں جدوجہد کرنا پڑی۔
’ایک اور بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص زخمی ہوتا ہے یا کوئی فائرنگ سے ہلاک ہوتا ہے اور کسی کی رونے کی آواز آتی ہے تو خود کو اپنے گھروں میں ہم قید کیسے رکھ سکتے ہیں؟‘
دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام علاقے وادی نیلم میں بنتل تہجیاں سے تعلق رکھنے والے محمد آفتاب مغل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 12 اپریل ان کی بھتیجی اپنے دو برس کے بھائی حسان یوسف کو گود میں لے کر گھر کے صحن میں بیٹھی تھی کہ اچانک انڈین فوج کی جانب سے داغے جانے والا گولہ ان کے گھر کے قریب گرا، جس سے منتشر ہونے والے ٹکڑے بچے کے سر پر لگے اور وہ موقع پر ہی چل بسا۔

انھوں نے کہا کہ بچے کے والد ایک مزدور ہیں پہلے ہی لاک ڈاون نے ان کی کمر توڑ رکھی تھی اب بچے کی موت نے انھیں بالکل مفلوج کر دیا ہے۔
محمد آفتاب نے مزید کہا کہ ’کورونا کی وبا کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کر کے مقامی لوگ تعزیت کرنے گھر آتے ہیں جنھیں منع بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ ہمارے دکھ بانٹنے آرہے ہیں۔
’اب آپ ہی بتاہیں ہم کورونا کے پھیلاؤ روکنے کے لیے لڑیں یا پھر اس گولہ باری کے خلاف لڑیں۔‘
انھوں کہا کہ گولی اس پار سے چلے یا اس پار سے چلے مرے گا کشمیری مگر اس کا دنیا سمیت کسی کو احساس نہیں۔
سرینگر سے صحافی ماجد جہانگیر نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق گذشتہ ہفتے اتوار کی رات پاکستانی فوجیوں نے مبینہ طور پر رہائشی علاقوں میں کم از کم 300 گولیاں چلائیں۔
ایاز احمد کہتے ہیں کہ وہ لوگ ساری رات سو نہیں سکے اور انھیں لگا کہ یہ قیامت کی رات ثابت ہو گی۔ بالاکوٹ کے سرپنچ ماجد کھٹانہ کا کہنا ہے کہ علاقے کی آبادی کے مطابق ان کے پاس اتنے بنکر نہیں ہیں۔
’جب بھی فائرنگ ہوتی ہے تو ہمیں کہیں چھپنا پڑتا ہے۔ بنکروں میں چھپنا بہتر ہے لیکن ہمارے گاؤں میں صرف دس بنکر ہیں اور آبادی 1200 ہے۔
’ایک بنکر میں 20 افراد جاسکتے ہیں۔ لیکن اگر 20 افراد بنکروں میں گئے تو سماجی دوری کیسے برقرار رہے گی؟‘
ماجد کھٹانہ نے مزید کہا: ’ہم اپنے پڑوسی ملک سے کچھ رحم دکھانے کی اپیل کر سکتے ہیں۔ ہمارا پڑوسی ملک جو کچھ کر رہا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ میں پڑوسی ملک کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں کرونا وائرس سے لڑنا چاہیے۔‘

وادی نیلم کے حالات
وادی نیلم میں دودھنیال کے علاقے بسیاں والی میں ایک خشک نالہ لائن آف کنٹرول کو تقسیم کرتا ہے، یہاں دونوں افواج کی چوکیاں آمنے سامنے ہیں اور وادی نیلم کی مقامی آبادی ان مورچوں سے زیادہ دور نہیں ہے۔
حکام کے مطابق 11 اپریل کے روز انڈین فوج کی جانب سے بسیاں والی دودھنیال میں فائرنگ اور گولہ باری کی گئی جس میں ایک 13 برس کی بچی صبا سمیت دو افراد زخمی ہوئے اور یہاں ایک مسجد سمیت لوگوں کی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
صبا نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا: ’میں گھر کے باہر اپنے سکول کا سبق پڑھ رہی تھی کہ اچانک گولہ گھر کے بالکل پاس گرا جس کے ٹکڑے میری ٹانگ پر لگے اور میں زخمی ہو کر بے ہوش ہو گئی۔ جب ہوش آیا تو میں مقامی طبی مرکز میں تھی۔ ہمیں بنیادی طبی امداد کے بعد گھر روانہ کر دیا گیا۔
انھوں نے مزید کہا: ’میرے والد ایک مزدور ہیں جو آج کل بے روزگار ہیں اگر خدانخواستہ میں زیادہ زخمی ہو جاتی تو ان کی مالی حالت اتنی اچھی نہیں کہ وہ میرا علاج کروا سکتے۔‘
کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر حوالے سے پوچھے گئے سوال پر تلخ لہجے میں جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ہم کیسے احتیاط کریں، ہمیں ایک لمحے کا معلوم نہیں کہ گولہ کس وقت آئے گا؟ اسی خوف کی بنا پر ہم اکھٹے رہتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ جیسے ہی گولہ باری شروع ہوتی ہی یا تو ہم گھروں سے باہر مختلف مقامات پر بڑے پتھروں کی اوٹ لے کر چھپتے ہیں یا پھر گاؤں میں کسی دو منزلہ عمارت کی نیچے والی منزل میں چھپتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس بنکرز نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر ایک ایک جگہ پر 30 سے 40 افراد اکھٹے ہوں تو آپ ہی بتائیں ایسے حالات میں خاک احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
’یہ تو دونوں ملکوں کو سوچنا چاہیے کہ اگر سرحدی علاقوں میں کورونا پھیلا تو سب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے کیونکہ کورونا سے جانور بھی متاثر ہوسکتے ہیں، جن کو لائن آف کنٹرول کے آر پار آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘

فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کیوں؟
کنٹرول لائن دونوں ممالک کے درمیان وادی کشمیر کو تقسیم کرتی ہے۔
سنہ 2003 میں انڈیا اور پاکستان نے بھی ایل او سی کے علاقے میں فائر بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی اور ایک معاہدہ کیا تھا۔
انڈین فوج کے مطابق پاکستان رواں سال اب تک 650 بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔ پاکستان ان الزامات کی نہ صرف تردید کرتا آ رہا ہے بلکہ متعدد بار انڈیا کے پاکستان میں ہائی کمیشن سے اس گولہ باری اور فائرنگ پر احتجاج بھی ریکارڈ کراتا رہا ہے۔
سرحد پر تنازع رواں ماہ پانچ اپریل سے اس وقت شروع ہوا جب کیرن سیکٹر میں مبینہ طور پر انڈین فوج اور شدت پسندوں کے مابین تصادم ہوا۔
انڈین فوج کے دعوے کے مطابق اس نے دراندازی کی کوشش میں پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ اس مقابلے میں ایک جونیئر کمیشن افسر سمیت پانچ انڈین فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ ایل او سی کے علاقے میں رہنے والے لوگوں کو ہر لمحہ فوج کی کڑی نگرانی میں رہنا پڑتا ہے۔
سری نگر میں مقیم انڈین فوج کے ترجمان راجیش کالیا نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے کیرن سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ شروع کردی جس میں تین شہری ہلاک ہو گئے۔
تاہم پاکستان کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ انڈین فوج نے 12 اپریل کی رات دیر تک جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیری کوٹ اور شکرگڑھ ورکنگ باؤنڈری کے رہائشی علاقوں کی آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔
جب بھی سرحد پار سے فائرنگ ہوتی ہے دونوں ممالک ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہیں لیکن کشمیریوں کا کہنا ہے کہ اس میں مرتا کشمیری ہی ہے۔










