افغانستان کے انسانی سمگلر کے ضمیر کی آواز: ’پتا نہیں خدا معاف کرے گا یا نہیں!‘

انسانوں کی سمگلنگ کرنے والے

،تصویر کا ذریعہELHAM NOOR

    • مصنف, حفیظ اللہ معروف
    • عہدہ, بی بی سی افغان

چھپ چھپا کر سرحد پار کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہونے سے قبل شفیع اللہ نے افغانستان میں اپنے اہل خانہ کو یہ بتانے کے لیے فون کیا کہ وہ ٹھیک ہیں اور ترکی جارہے ہیں۔

اس فون کے بعد 16 سالہ شفیع اللہ کشتی پر سوار ہوئے۔ وہ گذشتہ جون اس رات تقریباً 100 مسافروں میں سے ایک تھے اور اس سال یورپ میں بہتر مستقبل کے خواب کے لیے اپنا ملک چھوڑنے والے ہزاروں مردوں میں سے ایک تھے۔

شفیع اللہ پہلے ہی ترکی کی سرحد میں داخل ہوچکے تھے لیکن جن سمگلروں کو انھوں نے استنبول لے جانے کے لیے رقم ادا کی تھی وہ پولیس سے بچنے کے لیے جھیل وان کے اس پار جا رہے تھے۔ جھیل کا پانی خطرناک ہے اور سمگلرز رات کو اس میں جا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

جھیل میں انھوں نے جس بڑی کشتی کو اپنے انسانوں پر مبنی سامان کے لیے منتخب کیا تھا وہ ڈوب گئی۔ اس پر کم از کم 32 افغان، سات پاکستانی اور ایک ایرانی سوار تھا۔ صرف 61 لاشیں برآمد کی جا سکیں اور شفیع اللہ سمیت باقی افراد لاپتہ ہیں۔ ترک حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ لاشیں سطح کے نیچے گہرائی میں دبی ہو سکتی ہیں جن کی بازیابی کا امکان نہیں ہے۔

شفیع اللہ سمیت ہلاک ہونے والے کم از کم چار افراد کو کابل کے ایک سمگلر نے بھیجا تھا۔ بی بی سی نے اس سمگلر سے رابطہ کیا اور وہ اس شرط پر بات کرنے کے لیے راضی ہوئے کہ ان کی شناخت کو پوشیدہ رکھا جائے گا۔

شفیع اللہ

،تصویر کا ذریعہSHER AFZAL

،تصویر کا کیپشنشفیع اللہ نے یورپ جانے کے لیے پیشگی رقم ادا کی تھی لیکن وہ کبھی نہ پہنچ سکا

ہر چیز کا انتظام فون پر کیا جاتا ہے

الہام نور (اصل نام نہیں) کا دوسرے مجرموں کے ساتھ اچھا رابطہ بن گیا ہے اور وہ لوگوں کو اٹلی، فرانس اور برطانیہ بھیجنے میں کامیابی کی اعلیٰ شرح کا دعوی کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا: 'سمگلنگ انفرادی کاروبار نہیں ہے، یہ بہت بڑا نیٹ ورک ہے۔ ہمارے ایک دوسرے سے رابطے ہیں۔' اگرچہ نور تارکین وطن کے ساتھ سفر نہیں کرتے لیکن وہ کہتے ہیں کہ 'ہر چیز کا انتظام فون پر کیا جاتا ہے۔'

نور کے پاس کلائنٹس کی کمی نہیں ہے۔ بہت سے افغان باشندے اپنا ملک چھوڑنے کے لیے بے تاب ہیں۔ افغانستان دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل ہے۔ کئی دہائیوں کی جنگ نے اسے تباہ حال بنا رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت 27 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی حیثیت سے بیرون ملک مقیم ہیں۔ پناہ گزینوں اور مہاجرین کے معاملے میں افغانستان صرف شام اور وینزویلا سے پیچھے ہے۔

لہٰذا نور کو اشتہار دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اُن کے کلائنٹس انھیں فون کرتے ہیں۔ سفر کرنے کے خواہشمند افغان نوجوان عام طور پر ایک ایسے سمگلر کی تلاش کرتے ہیں جو پہلے ہی اپنے علاقے سے کسی اور کو بیرون ملک بھیج چکا ہے۔

لیکن جو لوگ یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ان میں سے صرف ایک فیصد ہی اپنی پہلی کوشش میں کامیاب ہوتے ہیں اور کچھ تو کبھی واپس ہی نہیں آتے۔

شفیع اللہ کے چچا شیر افضل نے کہا کہ گھر والوں کو علم تھا کہ سفر خطرناک ہوگا۔ انھوں نے کہا تاہم 'ہمیں اس کا اندازہ بالکل نہیں تھا۔'

افضل سوگوار ہیں لیکن یہ ایک عجیب قسم کا کھوکھلا غم ہے جس میں یقین کا فقدان ہے۔ شفیع اللہ ابھی تک لاپتہ کے طور پر درج ہیں۔

مشرقی افغانستان کے جلال آباد شہر میں رہنے والا یہ خاندان شفیع اللہ کی یاد میں آخری رسومات ادا کرنا چاہتا ہے لیکن ان کے پاس شفیع اللہ کی کوئی باقیات نہیں ہیں۔ پہلے ہی ان دونوں تارکین وطن کی آخری رسومات ادا کی جا چکی ہیں جن کی لاشیں ملی تھیں۔

افضل نے کہا: 'اب ہم اس کی لاش کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں امید نہیں ہے کہ وہ زندہ ہے۔‘

قبر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشفیع اللہ کے ساتھ جو لوگ ڈوبے تھے اور جن کی لاشیں مل گئیں انھیں یہاں دفن کیا گیا ہے

شفیع اللہ کو جلال آباد میں مستقبل کی کوئی کرن نظر نہیں آئی۔ انھوں نے نور سے رابطہ کیا اور اٹلی جانے کے لیے سمگلر کو ایک ہزار ڈالر پہلی قسط کے طور پر ادا کی۔ انھیں دوسرے مہاجروں کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور وہ گاڑیوں، ٹرکوں اور انھیں کبھی کبھی پیدل چل کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا رہا۔

شفیع اللہ ایران عبور کر کے ترکی میں داخل ہوئے لیکن اپنے اہل خانہ سے فون پر بات کے کچھ ہی لمحوں بعد وان جھیل میں ان کا سفر ختم ہو گیا۔

نور نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے شفیع اللہ کے اہل خانہ اور دیگر افراد کو وہ پیشگی رقم واپس کردی کیونکہ ان کا سفر پورا نہیں ہو سکا۔ شفیع اللہ کے اہل خانہ نے تصدیق کی کہ اُنھیں یہ رقم مل گئی ہے۔

اٹلی جانے کے لیے ساڑھے آٹھ ہزار ڈالر

نور نے کہا کہ اس سانحے نے انسانی سمگلنگ کے بارے میں ان کی بدگمانیوں میں اضافہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب چیزیں غلط ہوجاتی ہیں تو انسانی جان کی قیمت کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن یہ ایک منافع بخش تجارت ہے اور اتنے سالوں کے بعد اسے چھوڑنا مشکل ہے۔

نور نے کہا: 'ہم افغانستان سے ترکی پہنچانے کے لیے ایک ہزار ڈالر وصول کرتے ہیں۔ ترکی سے سربیا تک لے جانے کے لیے مزید چار ہزار ڈالر اور وہاں سے اٹلی لے جانے کے لیے مزید تین ہزار سے ساڑھے تین ہزار ڈالر لیتے ہیں۔'

مہاجر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمہاجر پولیس سے بچنے کے لیے وان جھیل کو عبور کرتے ہیں

اور اس سب کے لیے نور کو صرف فون اٹھا کر بات کرنی ہوتی ہے اور کچھ رقم منتقل کرنا ہوتی ہے اور بعض اوقات افغان حکام کو رشوت بھی دینا ہوتی ہے۔ وہ سوائے قریبی دوست اور رشتہ دار کے کبھی بھی کسی ایسے شخص سے نہیں ملتے جسے وہ نہیں جانتے۔ وہ کلائنٹس کو لانے کے لیے اپنی ساکھ پر انحصار کرتے ہیں اور اجنبیوں سے بات کرنے سے بچتے ہیں۔

افغان معیار کے مطابق یہ ایک آرام دہ اور پرسکون زندگی ہے اور کار، کپڑے، مکانات کے ساتھ دولت بھی واضح ہے۔

نور کو علم ہے کہ بغیر دستاویزات کے تارکین وطن کے لیے سفر کرنا خطرناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ تہران، وان اور استنبول جیسے شہروں میں نیٹ ورک کے محفوظ مکانات کا استعمال کرتے ہوئے انھیں اپنے کلائنٹس کو دن کے اوقات میں پوشیدہ رکھنا ہوتا ہے، انھیں وہ رات کے وقت منتقل کرتے ہیں۔

تارکین وطن کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ قیمتی سامان جیسے مہنگے زیورات یا گھڑیاں نہ رکھیں جس سے چور ان کی جانب متوجہ ہوں۔ نور عام طور پر تارکین وطن سے کہتے ہیں کہ وہ سو ڈالر سے زیادہ نقد نہ لے جا‏ئیں۔

یورپ جانے والے افغان باشندوں کے لیے ترکی ایک اہم مرکز ہے جہاں پہنچنے کے لیے حالات کے حساب سے ایک ہفتے سے لے کر چند مہینے تک لگ سکتے ہیں۔

ایک مہاجر جو مغرب جانے کے لیے استنبول پہنچے وہ افغان فوج کے ایک سابق اہلکار حضرت شاہ تھے۔

جب ان کا گاؤں طالبان کے قبضے میں آیا تو 25 سالہ نوجوان نے اپنے کنبے پر انتقامی حملوں کے خدشے کے تحت اپنی یونٹ سے دستبردار ہو کر ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے رواں سال کے شروع میں مشرقی افغانستان کے ننگرہار سے سفر شروع کیا اور اٹلی جانے کی کوشش کی۔

شاہ نے بی بی سی کو بتایا: [ترکی اور ایران کے مابین] سرحد پر پہنچنے کے بعد استنبول پہنچنے میں تقریباً ایک مہینہ لگا۔ میں وہاں کچھ مہینے رہا اور سمگلروں کو ادائیگی کے لیے ہوٹلوں میں کام کیا۔'

الہام نور

،تصویر کا ذریعہELHAM NOOR

،تصویر کا کیپشنسمگلنگ نے نور کو دولت مند بنا دیا ہے

بحیرہ روم کا مشرقی راستہ جس میں ترکی اور یونان کے مابین سمندر عبور کرنا شامل ہے تارکین وطن کے لیے خاص طور پر موافق ہے۔

یورپی بارڈر ایجنسیوں کا اندازہ ہے کہ رواں سال کے پہلے دس مہینوں میں 17 ہزار سے زیادہ افراد اس راستے سے یورپ پہنچے جن میں سے تقریباً ایک چوتھائی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغان ہیں۔

یونان سے بوسنیا جانا مشکل تھا۔ شاہ کو وہاں پہنچنے سے پہلے متعدد بار واپس بھیجا گیا تھا کیونکہ آگے جانے کی ان کی ہر کوشش ناکام ہوتی جا رہی تھی۔

انھوں نے کہا: 'یہ خوفناک تھا۔ آخری کوشش میں میں زخمی بھی ہوا۔ پولیس نے مجھے بہت مارا۔ انھوں نے ہمارے جوتے اور کپڑے بھی لے لیے۔ ہمیں اندھیرے میں واپس آنے پر مجبور کیا گیا۔ اس سے گزرنا بہت مشکل تھا۔'

حضرت شاہ

،تصویر کا ذریعہHAZRAT SHAH

،تصویر کا کیپشنحضرت شاہ (دائیں) نے طالبان کے قبضے کے بعد اٹلی کا رخ کیا

'سمگلر کچھ نہیں کر سکتے'

حضرت شاہ کو یہ یقین نہیں ہے کہ وہ کبھی اٹلی پہنچ بھی سکیں گے یا نہیں، لیکن وہ افغانستان میں سمگلروں کو مدد کے لیے فون کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ انھوں نے کہا کہ مسئلے کا اشارہ ملتے ہی وہ سب غائب ہو جاتے ہیں اور بہت سارے لوگ جو ان پر اعتماد کرتے ہیں کو انھوں نے پچھتاتے دیکھا ہے۔

انھوں نے کہا: 'اس بات کا امکان موجود ہے کہ آپ سفر کے ہر مرحلے پر مر سکتے یا زخمی ہو سکتے یا اغوا ہو سکتے ہیں۔ اور کوئی بھی آپ کی مدد نہیں کرسکتا۔ ان (سمگلروں) کے لیے مدد کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ پولیس سے ڈرتے ہیں۔ یہ ایک گھناؤنا کھیل ہے۔'

شاہ نے بتایا کہ وہ کئی مہینوں تک انتہائی خراب حالات میں رہے اور اُنھوں نے راستے میں بہت سے لوگوں کو مرتے دیکھا ہے۔

انھوں نے کہا: 'آپ کو زندہ رکھنے کے لیے بہت کم کھانا اور پانی ملے گا۔ میں نے لوگوں کو بغیر پانی کے پیاس سے مرتے دیکھا ہے۔ دوسرے مہاجر بھی ان کی مدد نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ اگر آپ ان کو اپنا پانی دیتے ہیں تو پھر آپ کو بھی اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔'

مہاجرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبوسنیا اور کروئیشیا کے درمیان سرحد پر مہاجرین اور پولیس کے درمیان تصادم

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین (آئی او ایم) کے مطابق رواں سال بحیرہ روم کو عبور کرنے کی کوشش میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ اکثر خراب موسم کے دوران حد سے زیادہ بھری ہوئی کشتیوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

شفیع اللہ کی طرح دیگر کئی افراد بحیرہ روم تک پہنچنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں اور وہ ان اعداد و شمار میں شامل بھی نہیں ہو پاتے ہیں۔

لیکن ہجرت کے خواہشمند افغانوں کی کمی نہیں ہے۔ سنہ 2017 میں کابل میں جرمنی کے سفارت خانے کے قریب ہونے والے بم دھماکے کے بعد جس میں کم از کم 150 افراد ہلاک ہوئے تھے بیشتر یورپی ممالک نے افغانستان میں اپنے ویزا کے مراکز بند کردیے تھے جس کی وجہ سے قانونی طور پر یورپ کا سفر کرنا اور بھی مشکل ہوگیا۔

نتیجتاً نور جیسے سمگلروں کی خدمات حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

مہاجر سے سمگلر تک

نور کو خود بھی ایک بار ایسی ہی صورتحال کا سامنا تھا۔ بہت سارے دوسرے لوگوں کی طرح انھوں نے بھی ایک بار برطانیہ میں آرام و سکون کی زندگی گزارنے کا خواب دیکھا تھا۔ جب وہ محض 14 سال کے تھے تو انھوں نے بھی ایسے ہی ایک سفر کا آغاز کیا۔ ان کے والد نے سمگلروں کو پانچ ہزار ڈالر ادا کیے۔

نور نے بتایا: 'مجھے اب بھی اپنے سفر کی مشکلات یاد ہیں۔ خاص طور پر بلغاریہ میں جہاں ہمیں ٹرینوں میں پوشیدہ رکھا گیا تھا، یہاں تک کہ مجھے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگانے پر مجبور کیا گیا تھا۔'

فرانس کے شہر کیلے میں نور کو سمگلر سے متعارف کروانے والے ہر ایک مہاجر کے لیے 100 یورو کی کمیشن کی پیش کش کی گئی تھی۔ اس طرح انھوں نے سمگلنگ کے کاروبار میں قدم رکھا۔

مہاجرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک چھوٹی سے کشتی سے رات میں سفر

نور غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچے اور سمگلروں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب وہ 21 سال کی عمر میں افغانستان واپس آئے تو انھیں پتا چلا کہ پولیس ان کی تلاش کر رہی ہے۔

نور کے نیٹ ورک کے ذریعہ یورپ پہنچنے میں کامیاب ہونے والے کچھ تارکین وطن نے اپنی تفصیلات دوسروں کو دیں اور اس طرح ان کے نیٹ ورک اور ساکھ میں اضافہ ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ 'غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھی لوگ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں کہ میں انھیں ملک سے باہر پہنچا سکتا ہوں۔'

نور نے بتایا کہ تقریبا 100 افراد جنھوں نے انھیں بہتر زندگی کے لیے رقم ادا کی ہے وہ فی الحال یورپ کے راستے پر ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی آخری کھیپ ہوگی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کاروبار سے باہر ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شفیع اللہ کی کشتی سے ہونے والی تباہی نے انھیں صدمہ پہنچایا ہے لیکن تارکین وطن سفر کے خطرات سے واقف ہوتے ہیں۔

شفیع اللہ

،تصویر کا ذریعہSHER AFZAL

،تصویر کا کیپشنشفیع اللہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کی فوٹو کو عام کرنے سے دوسرے لوگوں کو مدد ملے گی

انھوں نے کہا: 'میں نے کئی بار اہل خانہ سے معافی مانگی ہے۔ میں نے ابتدا ہی میں انھیں واضح طور پر بتایا تھا کہ راستے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ انھوں نے اسے قبول کرلیا ہے۔ اب خدا ہی فیصلہ کرے گا کہ وہ مجھے معاف کرے گا یا نہیں۔'

ایک دوسرے سمگلر جو نور کو جانتے ہیں ان کا کہنا ہے ان کے لیے اس پیشے کو چھوڑنا مشکل ہوگا۔

سمگلر نے کہا: 'لوگ اسے آنے والے برسوں تک فون کرتے رہیں گے اور اس کے لیے اس کام کو چھوڑنے کے بعد بھی پیسے کمانے کا موقع ختم نہیں ہوگا۔'

خواہ نور اس سے باہر آئیں یا نہ آئیں لیکن لوگوں کی سمگلنگ جاری رہے گی۔ ہزاروں افغان باشندے اب بھی محفوظ اور بہتر زندگی کے لیے بیتاب ہوں گے۔

شفیع اللہ کی کشتی ڈوبنے کے کچھ ہی دنوں بعد موسم خزاں میں ان کے دو رشتہ دار ترکی تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ انھیں ابھی حال ہی میں وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔

جب اگلی بار موسم پھر سے گرم ہوگا تو یہ لوگ پھر سے نکلنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔