فرانس میں واقع ’جنگل‘ کیمپ کو خالی کروانے کا کام شروع

فرانس میں 1200 سے زیادہ پولیس اور دوسرے حکام نے کیلے میں پناہ گزینوں کے کیمپ 'جنگل' کو خالی کرانے کا آپریشن شروع کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کیمپ میں تقریباً سات ہزار افراد انتہائی خراب حالات میں رہتے ہیں۔
درجنوں پناہ گزین صبح سے ہی ریسپشن کی جگہ پر قطار میں لگ گئے تاکہ ان کے کاغذات کو پراسیس کیا جا سکے اور انھیں فرانس میں موجود مختلف پناہ گزین کیمپوں میں بسوں کے ذریعے منتقل کیا جا ئے۔
تاہم یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ پناہ گزین کہیں جانے سے انکار کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ابھی بھی برطانیہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہفتے کے آخری دنوں میں وہاں جھڑپ کی بھی اطلاعات ہیں۔
امدادی ادارے اس کیمپ میں رہ جانے والے بچوں کو منتقل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ جس کے لیے انٹرویوز کیے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے بچوں کے دو گروہ برطانیہ بھیجے جا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRex Features
فرانسیسی وزراتِ داخلہ کے مطابق کیمپ کو خالی کروائے جانے کے دوران تحفظ کے پیشِ نظر بچوں کو شپنگ کنٹینرز میں بنے کیمپ میں منتقل کیا گیا ہے۔
جنگل کیمپ سے نکالے جانے والے افراد کے لیے فرانس کے مختلف علاقوں میں 7500 بستروں پر مشتمل قیام گاہیں مہیا کی گئی ہیں۔
ان افراد کو وہاں منتقل کرنے کے لیے 60 بسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل سے کیمپ میں موجود خیموں کو ہٹانے کے لیے بھاری مشینری بھجوا دی جائے گی۔
فرانسیسی وزراتِ داخلے کا کہنا ہے کہ وہ 'طاقت کا استعمال کرنا نہیں چاہتے تاہم اگر پناہ گزینوں نے وہاں سے نکلنے سے انکار کیا یا کوئی این جی او اس کام میں رکاوٹ بنی تو پولیس کو معاملے میں مداخلت کا حکم دے دیا جائے گا۔'

،تصویر کا ذریعہEPA
اس سے پہلے فرانسیسی پولیس اور پناہ گزینوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ کیمپ میں نظم قائم کرنے کے لیے پولیس نے دھوئیں کے گرنیڈ پھینکے۔
حکام نے کیمپ میں ہزاروں کی تعداد میں اعلانیہ پرچے تقسیم کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کیمپ کو بلڈوز کیے جانے سے پہلے پہلے وہ سب یہاں سے چلے جائیں۔
کیمپ میں موجود کئی لاوارث بچوں کا گروہ برطانیہ بھیجا گیا ہے۔
اس کیمپ میں قریباً دس ہزار افراد مقیم ہیں جنہیں پیر کے بعد فرانس کے مختلف علاقوں میں بھیجا جائے گا۔
سنیچر کو کم از کم 50 کے قریب افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا جواباً پولیس نے ان پر لاٹھیاں برسائی اور دھوئیں کے گرنیڈ پھینکے۔
امدادی اداروں کو خدشہ ہے کہ بعض پناہ گزین فرانس کے دیگر علاقوں میں جانے سے انکار کر دیں گے کیونکہ وہ کیلے میں برطانیہ کے زیادہ قریب ہیں کیونکہ وہ وہاں جانے کے خواہشمند بھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کیلے میں بی بی سی کے نامہ نگار سیمن جونس کا کہنا ہے کہ کئی پناہ گزینوں کو اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ اس کیمپ میں ان کے دن اب ختم ہو چکے ہیں۔
اتوار کو قریبا دس ہزار پرچے تقسیم کیے جائیں گے جن میں لوگوں کو بتایا جائے گا کہ انہیں بسوں کے ذریعے فرانس کے کن کن علاقوں میں بھیجا جائے گا اور یہ کہ انہیں وہاں پناہ کی درخواست کے لیے موقع بھی دیا جائے گا۔
ایک اندازے کے مطابق دس ہزار میں سے تقریباً دو ہزار افراد جانے سے انکار کریں گے۔








