ملالہ میوند: افغانستان کی وہ نوجوان مقتول ٹی وی میزبان جو سخت سوال پوچھنے سے کبھی نہ گھبرائیں

،تصویر کا ذریعہFamily photo
- مصنف, کاون خاموش، حفیظ اللہ معروف
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
’میں ابھی بیٹھا بھی نہیں تھا کہ میں نے فائرنگ کی آواز سنی۔ میری چھوٹی بہن اور میں، دونوں یہ دیکھنے کے لیے باہر بھاگے کہ کیا ہو رہا ہے۔‘
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حماد ہلال کہتے ہیں کہ جب میں باہر گیا تو میں نے دیکھا کہ ڈرائیور سٹیئرنگ وہیل کے پیچھے مردہ حالت میں تھا اور ملالہ ابھی زندہ تھی مگر وہ خون میں لت پت تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے اسے اٹھایا اور اس نے میری بانہوں میں دم توڑ دیا۔ میں نے اس کی جان اپنی آنکھوں کے سامنے نکلتی ہوئی دیکھی۔‘
26 برس کی ٹی وی میزبان ملالہ میوند حماد کی بڑی بہن تھیں جنھیں 10 دسمبر کو مشرقی افغانستان کے ننگرہار صوبے میں ان کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
وہ ملک بھر میں صحافیوں اور سماجی و سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کی نئی لہر کا تازہ ترین شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہFamily photo
اپنے قتل سے کچھ عرصہ قبل ہی ملالہ اپنے چھوٹے بھائی حماد کے پاس گئی تھیں اور ان سے اپنے مشہور پُراعتماد انداز میں کہا تھا کہ وہ مزید ذمہ داریوں کے لیے تیار ہو جائیں کیونکہ انھیں لگتا تھا کہ وہ ’ہدف‘ ہیں۔
حماد نے اپنی بہن سے کہا کہ ان کی ابھی بہت زندگی پڑی ہے۔ وہ اس کے بارے میں بالکل سننا نہیں چاہتے تھے مگر اب انھیں یاد آتا ہے کہ ان کی بہن ٹھیک کہتی تھیں۔ بلکہ وہ ہمیشہ ہی ٹھیک کہتی تھیں۔ انھیں خدشہ تھا کہ انتہاپسند انھیں ٹی وی پر دیکھ کر خوش نہیں تھے۔
اسی حملے میں ہلاک ہونے والے ملالہ کے ڈرائیور محمد طاہر انھیں عموماً روزانہ صبح سات بجے گھر سے لیا کرتے تاکہ انھیں انعکاس ٹی وی پر نشر ہونے والے مارننگ شو کے لیے دفتر لے جا سکیں۔
ملالہ اس مارننگ شو کی میزبان تھیں مگر اس دن یہ شو نشر نہیں ہوا۔
اس کے بجائے ٹی وی چینل نے ان کی ہلاکت کی خبر نشر کی: ’مسلح افراد نے انعکاس کی میزبان ملالہ میوند اور ڈرائیور محمد طاہر کو قتل کر دیا۔‘
حماد اب بھی اس بات پر حیران ہیں کہ یہ واقعہ کیسے اُس علاقے میں پیش آ گیا جسے جلال آباد کا ’گرین زون‘ کہا جاتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ حملہ آور جلدی میں نہیں تھے اور اپنی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اطمینان سے وہاں سے روانہ ہو گئے۔
ان کا گھر ایک دکانوں سے بھری ہوئی ایک پرہجوم سڑک پر واقع ہے اور افغان انٹیلیجنس سروس کا صوبائی دفتر اور ایک پولیس چیک پوائنٹ بھی قریب میں ہی ہے۔
پولیس کا ہیڈکوارٹر صرف 200 میٹر دور ہے۔

،تصویر کا ذریعہFamily photo
وہ بے خوف چہرہ
حماد کے لیے ان کی بہن کو کھونے کا دکھ اور درد ناقابلِ بیان ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’وہ صرف میری بہن نہیں تھیں، بلکہ ایک دوست تھیں، وہ میرے لیے میری امی کی طرح تھیں۔ وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ اپنے لیے میری کوئی خواہش نہیں، میں صرف اپنے خاندان کے لیے جیتی ہوں۔‘
ملالہ بالکل چھوٹی تھیں جب ان کا خاندان افغانستان میں خانہ جنگی سے بھاگ کر لاکھوں افغان شہریوں کی طرح پاکستان چلا گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً 15 لاکھ افغان شہری پاکستان کے قبائلی علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے۔
سنہ 2004 میں طالبان کا اثر ختم ہوجانے پر ان کا خاندان ننگرہار لوٹ آیا جہاں انھوں نے سکول کی تعلیم مکمل کی اور یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ وہ مینیجمنٹ اینڈ پبلک پالیسی کی ڈگری کے آخری سال میں تھیں۔
ان کے افسردہ والد گُل مولا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کے بڑے خواب تھے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کی حفاظت کے بارے میں ’مکمل طور پر خدشات کے شکار تھے۔‘
’میں اسے کبھی کبھی کہا کرتا تھا کہ کچھ حکام سے سخت سوالات نہ پوچھا کرے مگر وہ ہمیشہ یہی جواب دیتی تھی کہ سوال پوچھنا اس کا کام ہے۔‘
ملالہ کی والدہ اپنی برادری کی رہنما تھیں اور انھیں بھی معاشرے میں سرگرم کردار ادا کرنے پر 12 سال قبل قتل کر دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہMalala Maiwand/Facebook
ملالہ اپنے مشکل میں ڈال دینے والے انٹرویوز کی وجہ سے مشہور تھیں۔
انعکاس ٹی وی کے ہیڈ آف نیوز شکراللہ پسون کہتے ہیں کہ ان کی موت نہ صرف ان کے خاندان اور دوستوں کے لیے زبردست نقصان ہے بلکہ ان کے ناظرین کے لیے بھی۔
ملالہ اپنے چینل میں بہت کم خواتین صحافیوں میں سے ایک تھیں۔
’مجھے نہیں لگتا کہ ہم ان کا متبادل تلاش کر سکیں گے۔ وہ اپنی طرح کی صرف ایک تھیں۔ ہمارے پاس اور کوئی نہیں ہے اور ہمیں ایک مرد میزبان سے شو کی میزبانی کروانی پڑے گی۔‘
اس کے علاوہ کئی مشہور شخصیات نے بھی ملالہ کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مریم صافی آرگنائزیشن فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ سٹڈیز نامی تھنک ٹینک کی بانی ڈائریکٹر ہیں جو ’پالیسی بحثوں میں خواتین کی آواز بڑھانے کے لیے پلیٹ فارم بنانے‘ کے مقصد سے کام کر رہا ہے۔
انھوں نے ٹویٹ کی کہ کیسے انھوں نے ملالہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے ملک میں امن لانے کے لیے افغان آوازوں اور حقائق کو سامنے لاتے ہوئے دیکھا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ٹارگٹ کلنگ
ملالہ کی ہلاکت کے ایک دن بعد پولیس نے تصدیق کی کہ کابل کی ایک پہاڑی کے نزدیک صحافی فردین امینی کی گلا کٹی لاش برآمد ہوئی ہے۔
26 نومبر کو کابل کے نواحی علاقے میں دو میڈیا کارکنوں کی لاشیں ملی تھیں۔
اس سے دو ہفتے قبل ہلمند میں ایک جنگی رپورٹر الیاس داعی کو قتل کر دیا گیا تھا جبکہ اس کے بعد مشہور ٹی وی پریزینٹر یاما سیاوش کو کابل میں قتل کر دیا گیا تھا۔
یہ فہرست طویل ہے۔ آزادی صحافت کے لیے مشغول ایک گروہ این اے آئی کے مطابق افغانستان میں سنہ 2016 سے اب تک 70 صحافی اور میڈیا کارکن مارے گئے ہیں یا مردہ حالت میں ملے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انتہائی روایتی اور پدرشاہی معاشرے میں ملالہ جیسی خواتین کے لیے کام کی جگہ پر کامیاب ہونا آسان نہیں، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو ٹی وی پر آتی ہیں۔
افغان جرنلسٹس سیفٹی کمیٹی کے مطابق ملالہ افغانستان کے اپنے (خاص طور پر قدامت پسند) حصے میں واحد خاتون ٹی وی میزبان تھیں اور ان کی موت کے بعد مشرقی صوبوں میں کئی خواتین صحافی کام پر نہیں آئیں۔
گذشتہ دو ماہ میں افغانستان میں کم از کم چھ صحافی مارے گئے ہیں یا مردہ حالت میں پائے گئے ہیں اور ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ کیسز میں مماثلت کی وجہ سے تمام صحافیوں کو ایک سنسنی خیز پیغام گیا ہے۔
کابل میں ایک لائیو سیاسی ٹی وی شو کی میزبان فرح ناز فروتن کو بتایا گیا کہ وہ ’ممکنہ طور پر اگلا ہدف ہو سکتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہFarahnaz Forotan
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فرح ناز کہتی ہیں کہ ’پہلی بار مجھے انتہائی غیر محفوظ محسوس ہوا۔ میں اپنے گھر میں بھی محفوظ محسوس نہیں کر رہی تھی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اس سے پہلے وہ خوفزدہ نہیں تھیں کیونکہ خطرہ سبھی کو تھا اور وہ ’اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے قربان‘ ہونے کے لیے ذہنی طور پر تیار تھیں مگر حالیہ ٹارگٹ کلنگز نے انھیں دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
قتل کی دھمکیاں
’اس طرح کی موت سے کچھ تبدیل نہیں ہوتا۔ اس سے کوئی مثبت مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اس سے صرف خوف اور دہشت میں اضافہ ہوتا ہے اور حالات مزید بگاڑ کے شکار ہوتے ہیں۔‘
مگر وہ اس طرح کی خوفناک دھمکیاں پانے والی واحد صحافی نہیں ہیں۔ انٹیلیجنس ذرائع نے کئی مقامی میڈیا ہاؤسز کو ان کے عملے اور دفاتر پر حملوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
افغان حکوامت کا کہنا ہے کہ طالبان نامور شخصیات کو ہدف بنا کر افغانستان میں خوف کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر فرح ناز جیسے صحافیوں کا کہنا ہے کہ آج کل وہ ’کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔‘
میڈیا تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت اور طالبان ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہتے ہیں مگر کسی نے صحافیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہNargis Hurakhsh
افغانستان میں ایک ٹی وی نمائندہ نرگس ہرخش ایک انٹرویو کرنے کے بعد اپنے گھر لوٹ رہی تھیں جب انھوں نے ملالہ میوند کی ہلاکت کی خبر ٹوئٹر پر دیکھی۔
نرگس نے بی بی سی کو بتایا: ’میں سُن، فکرمند اور خوفزدہ محسوس کر رہی تھی۔‘ وہ کہتی ہیں کہ وہ گذشتہ کئی ماہ سے اپنے ساتھیوں کی ’پریشان کُن ہلاکتوں‘ کے بارے میں ذہنی تناؤ سے بھرپور رپورٹنگ کر رہی تھیں۔
’حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اگلا نشانہ میں ہی ہوں۔ میں اپنے خاندان کے بارے میں بھی سوچتی ہوں جنھیں میں نے گذشتہ چار برسوں سے نہیں دیکھا ہے۔ ایسا سوچنا بھی نہایت خوفناک ہے۔‘
نرگس کا خاندان ان پر اپنی ملازمت چھوڑنے کے لیے زبردست دباؤ ڈال رہا ہے۔ وہ پانچ سال قبل افغانستان میں قتل و غارت سے فرار ہو کر ایک اور ملک چلے گئے ہیں۔
’ترقی کا سفر رکے گا نہیں‘
نرگس اور فرح ناز دونوں ہی نے تین ماہ قبل دوحہ کانفرنس میں شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس کا مقصد طالبان سے مذاکرات کے ذریعے سالوں سے جاری قتل و غارت کو روکنا تھا مگر حالیہ دنوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور مزید شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
مگر خوف اور افراتفری کے اس ماحول میں بھی صحافی امن مذاکرات اور جنگوں کی سرگرمی سے کوریج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFarahnaz Forotan
اخبار اطلاعاتِ روز کے ایڈیٹر انچیف ذکی دریابی کہتے ہیں کہ صحافیوں کی ہلاکتیں پریشان کُن ہیں مگر اب یہ اس مقام پر پہنچ چکی ہیں جہاں سے ’واپسی ناممکن ہے۔‘
وہ کہتے ہیں ’دھمکیاں اور قتل میڈیا پر اثرانداز ضرور ہو سکتے ہیں مگر یہ آگے کی جانب سفر نہیں روک سکتے، یہ صحافیوں کو رپورٹنگ سے نہیں روک سکتے۔‘
ذکی اور ان کے ساتھیوں نے حال میں میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا سال 2020 کا اینٹی کرپشن ایوارڈ جیتا ہے جو ’افغانستان میں سرکاری کرپشن کو چیلنج کرنے میں کردار‘ ادا کرنے پر دیا گیا۔
ان کا اخبار صرف دس سال پرانا ہے۔
متاثر کُن شخصیت
ملالہ میوند کے ساتھی مانتے ہیں کہ ان کی موت سے دیگر خواتین صحافی شاید خوفزدہ ہیں مگر ان کی زندگی اور ان کا کام آنے والے کئی لوگوں کو متاثر کرتا رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہFamily photo
بدم احمد زئی سنہ 2006 سے ملالہ کو جانتی ہیں۔ وہ دونوں ایک ہی سکول گئے، ایک ہی یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ایک ہی ٹی وی چینل میں کام کرتے تھے۔
’وہ اپنے علاقے میں موجود تمام لوگوں کے لیے ایک مثالی شخصیت تھیں۔ میں نے کئی خواتین سے سنا کہ وہ ان کی طرح بننا چاہتی ہیں، ان کی طرح سرگرم۔ کئی لوگ درحقیقت ان سے متاثر تھے۔‘
میزبان ہونے کے علاوہ وہ افغانستان میں ایک خاتون کرکٹ کمنٹیٹر بھی تھیں جو نہایت غیر معمولی بات ہے۔ صرف دو ماہ قبل ہی وہ ٹی 20 کرکٹ میچز کی سیریز کی لائیو کمنٹری کرنے کے لیے کابل بھی گئی تھیں۔
افغان کرکٹ بورڈ کے میڈیا مینیجر حکمت حسن کہتے ہیں کہ ایک لڑکی کو کرکٹ کمنٹری کرتے ہوئے دیکھنا ’انتہائی حیران کُن‘ تھا۔
وہ کہتے ہیں: ’خواتین کے خلاف مزاحمت موجود ہے اور لوگ کسی خاتون کو ایسا کرتے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ آپ جانتے ہیں وہ سوشل میڈیا پر کیا پوسٹ کرتے ہیں۔ میں جانتا تھا کہ یہ آسان نہیں ہو گا مگر جب میں نے ان کا اعتماد دیکھا تو میں انھیں مسترد نہیں کر سکا۔‘

،تصویر کا ذریعہHamad Hillal
ملالہ نے سنہ 2016 میں انعکاس ٹی وی میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ کبھی بھی آن ایئر جانے سے گھبراتی نہیں تھیں۔ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ ٹی وی پر ان کا روزانہ موجود ہونا ایک ایسے معاشرے میں ’روایت شکن‘ ہے جہاں خواتین سر سے پاؤں تک حجاب کے بغیر شاذ و نادر ہی نظر آتی ہیں۔
مگر وہ معاشرے میں خاتون کے طور پر اپنے کردار سے بھی بخوبی واقف تھیں۔ جہاں کہیں بھی کوئی خاتون آواز نہ ہوتی، ملالہ کی آواز وہاں ضرور ہوتی اور دوسری خواتین کو متاثر کرتی۔












