ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں درخواست: انڈیا اور پاکستان کشیدگی کے باوجود کس معاملے پر ایک دوسرے کے ساتھ ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
پاکستان اور انڈیا کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی کم ہی مواقع پر انھیں ایک دوسرے کے قریب آنے میں مدد دیتی ہے لیکن کورونا وائرس کی وبا دونوں روایتی حریفوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آئی ہے۔ اب یہ اور بات ہے کہ یہ قربت عارضی نوعیت ہی کی ہے۔
کورونا کی وبا کے باعث انڈیا اور پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد متاثر اور کئی ہزار ہلاک ہوئے ہیں اور اب دونوں ممالک اپنے شہریوں کو کورونا وائرس سے تحفظ دینے کے لیے امریکہ اور یورپ میں بننے والی ویکسین کو جلد از جلد اپنے اپنے ملک لانا چاہتے ہیں۔
انڈیا نے جنوبی افریقہ کے ساتھ مل کر عالمی تجارتی تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں ویکسین کے پیٹنٹ یعنی استحقاق قوانین میں عارضی تبدیلیوں کے لیے ایک درخواست دی ہے جو اگر منظور ہو گئی تو اس سے کووڈ کی ویکسین کی قیمت میں کمی ممکن ہو سکے گی، پاکستان نے بھی اس درخواست کی حمایت کی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان وبا کے آغاز سے ہی عالمی برادری سے ٹیکنیکل مہارت اور وسائل کو کورونا کی ویکسین کی تیاری کے لیے یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیتا آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ وہ عالمی مفاد عامہ کے لیے کووڈ ویکسین پر مشترکہ موقف اپنائے اور اسے تمام دنیا کے لیے قابل حصول بنایا جائے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں کورونا ویکسین کی تیاری کے متعلق جمع کروائی گئی درخواست کا مقصد دوا ساز کمپنیوں کو اس ویکیسن کے بنیادی فارمولے سے مدد لے کر سستی ویکسین بنانے کی اجازت دینا ہے تاکہ وہ سب کی پہنچ میں ممکن ہو سکے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملہ ابھی زیر غور ہے اور اس پر اگلے برس کے آغاز پر کسی ممکنہ فیصلے کی امید ہے۔
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی اجازت کیوں ضروری؟
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شامل ممالک 1995 سے بین الاقوامی تجارت کے ایک مشترکہ اصول پر عمل پیرا ہیں۔
ان ممبران نے تجارت سے متعلقہ ’ٹریڈ ریلیٹڈ ایسپکٹس آف انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس‘ یا ٹرپس نامی ایک معاہدے پر دستخط کر رکھا ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کمپنیوں کی ’حقوقِ املاک دانش‘ کا بنا اجازت استعمال نہ ہو۔
موجودہ صورت حال میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ملک میں تیار کی جانے والی کووڈ 19 ویکسین دوسرا ملک اس وقت تک مقامی سطح پر تیار نہیں کر سکے گا جب تک کہ دونوں ممالک اس پر آمادہ نہ ہوں یا جب تک ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اس کی اجازت نہ دے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لیکن بہت سے ممالک یہ ویکسین بنانے کے قابل نہیں ہیں یا وہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن یا دو طرفہ معاہدے کے باوجود بھی اس کی تیاری کرنے کے وسائل اور اہلیت حاصل نہیں کر پائیں گے۔ جس کی وجہ سے انھیں مہنگے داموں اس ویکسین کو دیگر مملک سے درآمد کرنے پڑے گا۔
ماضی میں بہت سے ترقی پذیر ممالک نے اس طرح کے خدشات کے وجہ سے ’جنیرک میڈیسن‘ یعنی بنیادی فارمولے کے تحت ادویات تیار کی ہیں جو کہ سستی ہوتی ہیں۔ لیکن اگر کسی ملک کی جانب سےایسی درخواست قبول نہ ہو تو اس طرح کا فعل عالمی تجارتی تنظیم کے پیٹنٹ قانون یعنی حقوق استحقاق کے قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔
عالمی تجارتی تنظیم میں جمع کروائی گئی درخواست میں کیا ہے؟
عالمی تجارتی تنظیم میں زیر غور تجویز میں کہا گیا ہے کہ ’عالمی ہنگامی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ممبران کے لیے مل کر کام کرنا ضروری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ویکسین اور دوائیوں کی تحقیق، ترقی، پیداوار اور کووڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری طبی ادویات کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔‘
اس درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا کی وبا کو جلد از جلد روکنے کے لیے عالمی یکجہتی کی ضرورت ہے اور مشترکہ سطح پر ٹیکنیکل مہارت اور وسائل کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔
اس درخواست کے حامیوں کا مطالبہ ہے کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی یہ رعایت تب تک رہے گی جب تک عالمی سطح پر ویکسین دستیاب نہ ہوں اور دنیا کی اکثریت آبادی کووڈ سے محفوظ نہ ہو جائے۔
اس تجویز کو سب سے پہلے دو اکتوبر کو پیش کیا گیا تھا اور عالمی تجارتی تنظیم کے ممبران اب اس پر ایک بار پھر سے مذاکرات کریں گے۔
پاکستان کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، مصر اور انڈونیشیا جیسے ممالک نے بھی اس درخواست کی حمایت کی ہے۔ جبکہ یورپی یونین، امریکہ، برطانیہ، جاپان، آسٹریلیا اور برازیل چاہتے ہیں کہ کووڈ ویکسین کے پیٹنٹ پر عالمی تجارتی تنظیم کی عملداری جاری رہے۔
چین نے اس درخواست کی حمایت کی تھی لیکن اس پر مزید غور کرنے لیے وقت مانگا تھا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے 164 ممبران میں سے 100 سے زیادہ نے اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا ایسا ممکن ہے؟
انڈیا کی عظیم پریم جی یونیورسٹی کے ماہر معاشیات کے پروفیسر ارجن جے دیو، اس درخواست کی وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس وبائی مرض کے دوران ہمیں کسی بھی تخلیق کار کے حقوق املاک یعنی انٹلیکچوئل رائٹس کو معطل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن لازمی لائسنس کی اجازت دیتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ممالک جینیرک میڈیسن یعنی بنیادی ادویات بنا سکتے ہے۔
ایسے ہنگامی حالات میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انٹلیکچوئل رائٹس کا احترام نہیں کریں گے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس طرح کی درخواست کے خلاف عام دلیل یہ ہوتی ہے کہ دوا ساز کمپنیاں ادویات بنانے کے لیے اپنے وسائل کا استعمال کرتی ہیں اور انھیں اس کا منافع ملنا چاہیے۔
اگرچہ یہ امکان ہے کہ پیٹنٹ قوانین میں عارضی نرمی نہیں کی جائے گی اور کئی غریب ممالک کو ویکسین خریدنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن خبروں کے مطابق متعدد ترقی یافتہ ممالک نے پہلے ہی ویکسین کے لیے آرڈر دے دیا ہے۔
جریدے نیچر کے اندازے کے مطابق یورپی یونین کے 27 رکن ممالک اور پانچ دیگر امیر ممالک نے کووڈ ویکسین کا نصف حصہ پہلے ہی آرڈر کر دیا ہے اور یہ عالمی آبادی کے صرف 13 فیصد حصہ بنتے ہیں۔
سول سوسائٹی کی ایک تنظیم نے بھی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کو ایک خط کے ذریعے اس درخواست کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر کورونا کی ویکسین کی تیاری اور ہر طبقہ تک اس کی پہنچ کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔









