انڈیا کب تک خود ہی کورونا کی ویکسین بنانے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟

کوویکسین

،تصویر کا ذریعہBHARAT BIOTECH

    • مصنف, دیوینا گپتا
    • عہدہ, بی بی سی نمائندہ

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سنیچر کے روز ملک کے تین ویکسین ڈویلپمنٹ مراکز کا دورہ کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں وزیر اعظم احمد آباد کے زایڈس بائیوٹیک پارک، پونے میں سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور حیدرآباد میں بھارت بائیوٹیک کا دورہ کر رہے ہیں۔

اس دوران وزیر اعظم مودی ویکسین کی پیشرفت اور اس کی تیاری کے لیے جاری بڑے پیمانے پر تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ساری دنیا کی طرح انڈیا میں بھی لوگ کورونا وائرس کی ویکسین کے بے تابی سے منتظر ہیں۔ تاہم، سوال یہ بھی پیدا ہورہا ہے کہ انڈیا دنیا کا سب سے بڑا ویکسین بنانے والا ملک اس سے کتنا دور ہے اور وہ کب خود ہی کورونا کی ویکسین بنا سکے گا۔

مودی

،تصویر کا ذریعہReuters

متوقع انڈین ویکسین

بھارت بائیوٹیک انٹرنیشنل کے صدر ڈاکٹر کرشنا ایلا بھی انڈین ویکسین بننے کی امید کر رہے ہیں۔

انڈیا کورونا ویکسین تیار کررہا ہے جسے بائیوٹیک انٹرنیشنل کوویکسین نام دیا گیا ہے۔ اس کے تیسرے مرحلے کے تجربات (آزمائشی) کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

حیدرآباد میں موجود ڈاکٹر کرشنا ایلا نے بی بی سی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 'انڈیا میں کلینیکل ٹرائلز ایک بہت مشکل کام ہے۔ میں رضاکاروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کیونکہ ہم انڈیا میں واحد کمپنی ہیں جو موثر ٹرائلز کرواتی ہیں۔ اس میں وقت لگے گا لیکن ہم عالمی اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔'

ہر ویکسین کی موثر جانچ کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کے گروپ کو وہ ویکسین دی گئی ہے ان میں بیماری کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ جینیاتی اور نسلی پس منظر کے لحاظ سے یہ رینج مختلف ہوسکتی ہے۔ اسی لیے بڑی فارما کمپنیاں مل کر مختلف ممالک میں ٹیسٹ کرتی ہیں۔

چنانچہ ڈاکٹر ریڈی کی لیب روسی ویکسین سپوتنک- وی کی جانچ کر رہی ہے اور برطانیہ میں قائم آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے پونے میں سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے تاکہ وہ یہ ٹیسٹ کرائے۔

ویکسین

،تصویر کا ذریعہSOPA IMAGES

نیزل ڈراپس یا ویکسین

انڈیا کے سامنے دوسرا بڑا چیلنج محدود نقل و حمل اور کولڈ سٹوریج ہے۔ لیکن ڈاکٹر کرشنا ایلا کا خیال ہے کہ ان کی ٹیم اس معاملے میں مقامی حل تلاش کرنے میں ایک قدم آگے ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'ہم انجکشن جیسے معاملے پر کام کر رہے ہیں جو واقعی مشکل ہے۔ لہذا ہم متبادل حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ کیا ہم ناک سے دی جانے والی ویکسین کی خوراک بناسکتے ہیں جس میں ایک ہی خوراک دینی ہو؟ یہ آنگن باڑی کارکنان کو دی جاسکتی ہیں جو اسے آسانی سے لوگوں تک پہنچا سکتی ہیں۔'

خیال رہے کہ انڈیا میں 'آنگن باڑی' ایک سرکاری نظام ہے جس کے تحت اس میں کام کرنے والے افراد مختلف سرکاری سکیموں کو لے کر گھر گھر پہنچتے ہیں۔ اس سے قبل پولیو کے ٹیکے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ چین بھی ناک کے ذریعے دی جانے والی ویکسین پر تجربہ کر رہا ہے۔ اس پر ہانگ کانگ یونیورسٹی کے محققین کام کر رہے ہیں۔ اس سے صحت کے کارکنوں کی تربیت کا بوجھ بھی کم ہوگا۔

ویکسین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ویکسین کی قیمتوں میں فرق

لیکن کیا انڈیا کی دیسی ویکسین غیر ملکی ویکسینوں سے سستی ہوگی؟

اس بارے میں ڈاکٹر کرشنا ایلا کا کہنا ہے کہ 'یہاں پیداوار کی لاگت بہت کم ہے لہذا ہم اس کا فائدہ صارفین کو دے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم دنیا میں روٹا وائرس ویکسین کے سب سے بڑے پروڈیوسر ہیں اور عالمی سطح پر ہم اس کی قیمت 65 ڈالر سے ایک ڈالر فی خوراک لا سکتے ہیں۔ لہذا جب ہم پیداوار میں اضافہ کریں گے تو قیمت کم ہوجائے گی۔'

وزیر اعظم احمد آباد میں قائم دوا ساز کمپنی زایڈس کیڈیلا کا بھی دورہ کرنے جارہے ہیں۔ یہ کمپنی کورونا ویکسین بھی بنا رہی ہے۔

کیڈیلا ہیلتھ کیئر لمیٹڈ کے ایم ڈی ڈاکٹر شیرول پٹیل نے کہا: 'ہم اس کے بارے میں پرامید ہیں۔ ٹرائلز جاری ہیں اور ہم مستقل طور پر اس پر نظریں رکھے ہوئے ہیں۔ ہم اس مرحلے پر مزید معلومات نہیں دے سکتے ہیں۔'

تاہم، فی الحال کوئی بھی کمپنی ویکسین کی تیاری کے وقت کی وضاحت نہیں کرنا چاہتی ہے، لیکن وہ امید کرتے ہیں کہ اگلے سال کے دوسرے نصف تک اپنی مصنوعات کو عالمی ویکسین مارکیٹ میں لانچ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔