اترپردیش: گاؤکشی کا قانون ہے کیا اور الہ آباد ہائی کورٹ کو اس پر کیا تحفظات ہیں؟

،تصویر کا ذریعہHindustan Times
- مصنف, سمیر آتماج مشر
- عہدہ, لکھنؤ سے بی بی سی ہندی کے لیے
انڈیا کی شمالی ریاست اترپریدش میں قائم الہ آباد ہائی کورٹ نے رواں ہفتے ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے اترپردیش میں گاؤکشی یا گائے ذبح کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے نافذ قانون کے استعمال پر سوال اٹھایا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ اس قانون کو بے گناہوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے جبکہ اس قانون کا استعمال اس میں مضمر جذبے کے تحت ہونا چاہیے۔
گاؤکشی کے قانون کے تحت گرفتار ملزمان میں سے ایک کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ کے جج جسٹس سدھارتھ نے کہا: 'اس قانون کا استعمال بے گناہوں کے خلاف کیا جارہا ہے۔ جہاں بھی گوشت ملتا ہے اسے بغیر فرانزک لیب میں جانچ کرائے گائے کا گوشت بتا دیا جاتا ہے۔ زیادہ تر معاملات میں گوشت کو جانچ کے لیے بھی نہیں بھیجا جاتا ہے۔ ملزم ایسے جرم میں جیل میں رہتے ہیں جو کہ ممکنہ طور پر ہوا ہی نہ ہو۔'
ضمانت دیے جانے کے حکم میں کہا گیا ہے کہ جب گایوں کو قبضے میں دکھایا جاتا ہے تو بازیابی کا کوئی میمو تیار نہیں کیا جاتا ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہوتا ہے کہ بازیافت کے بعد گائیں کہاں جاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہائی کورٹ نے گاؤونش یعنی گائے اور اس کی نسل یعنی بیل، سانڈ اور بچھڑے کی خراب حالت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گاؤشالائیں (جہاں گائیں رکھی اور پالی جاتی ہیں) دودھ نہ دینے والی اور بوڑھی گایوں کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ وہ سڑکوں پر بھٹکنے کے لیے چھوڑ دی جاتی ہیں اور سڑکوں پر ان مویشیوں کی وجہ سے گزرنے والوں کو بھی خطرہ ہے۔
عدالت نے کہا: 'مقامی لوگوں اور پولیس کے خوف سے ان گایوں کو ریاست کے باہر بھی نہیں لے جایا جاسکتا ہے۔ چراگاہیں اب باقی نہیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ جانور یہاں وہاں بھٹکتے ہیں اور فصلوں کو تباہ کرتے ہیں۔'
درخواست گزار رحیم الدین نے اس معاملے میں عدالت میں درخواست داخل کی تھی کہ انھیں بغیر کسی خاص الزام کے گرفتار کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق اس کی گرفتاری بھی جائے واقعہ سے نہیں ہوئی تھی اور گرفتاری کے بعد پولیس نے یہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ جس وجہ سے گرفتاری ہوئی ہے وہ گائے کا گوشت تھا بھی یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہSAJJAD HUSSAIN
گائے ذبح کرنے پر دس سال قید کی سزا
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اترپردیش حکومت نے گاؤکشی کے قانون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے لاک ڈاؤن کے دوران جون میں اس میں ترمیم کرنے کی تجویز کو منظوری دی تھی اور ایک آرڈیننس جاری کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 22 اگست کو قانون ساز اسمبلی کے مختصر اجلاس کے دوران دونوں ایوانوں سے بھی یہ آرڈیننس منظور کر لیا گیا۔
اس کے تحت یوپی میں گاؤکشی پر دس سال تک قید اور تین سے پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ گاؤونش کے اعضا کو نقصان پہنچانے کے لیے سات سال قید اور تین لاکھ تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
آرڈیننس جاری کرتے ہوئے ریاست کے ایڈیشنل داخلہ چیف سکریٹری اونیش اوستھی نے کہا تھا کہ اس آرڈیننس کا مقصد اترپردیش گاؤدھن تحفظ قانون 1955 کو مزید منظم اور موثر بنانا ہے اور گائے کی نسل کے جانوروں کے تحفظ اور گائے کے قتل یا ذبیحے کے واقعات سے متعلق جرائم کو مکمل طور پر روکنا ہے۔
اترپردیش گاؤدھن تحفظ ایکٹ-1955 چھ جنوری سنہ 1956 کو نافذ ہوا تھا اور اسی سال اس کے قواعد بھی بنے تھے۔ اب تک اس قانون میں چار بار اور اس قانون کے ضابطے میں دو بار ترمیم کی جا چکی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئی ترمیم سے گاؤونش مویشیوں کے تحفظ میں مؤثر طریقے سے عمل کرنے میں مدد ملے گی اور گاؤونش مویشیوں کی غیر قانونی تجارت کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔

،تصویر کا ذریعہFrank Bienewald
گینگسٹر ایکٹ کے تحت بھی کارروائی
اترپردیش میں بی جے پی حکومت شروع سے ہی گاؤکشی پر قابو پانے کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے اور گائے کے کھلے عام بھٹکنے کے متعلق بھی سخت رہی ہے۔ حکومت نے ہر ضلعے میں گوشالائیں بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس کے باوجود گایوں اور دیگر جانوروں کی بڑی تعداد صرف سڑکوں پر نہ صرف بھٹکتی ملتی ہے بلکہ گوشالاؤں میں بھی گائے کے بھوک اور بیماری سے مرنے کی اطلاعات آئے دن ملتی رہتی ہیں۔
گاؤکشی روکنے کے لیے حکومت نے قواعد کو بھی سخت کیا ہے اور ترمیم شدہ قانون میں بہت سختی اختیار کی گئی ہے۔ پہلی بار گوکشی کا الزام ثابت ہونے پر تین سے دس سال تک قید اور تین لاکھ سے پانچ لاکھ روپے جرمانے کی تجویز ہے جبکہ دوسری بار اس جرم کے ارتکاب میں دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صرف یہی نہیں دوسری بار اس جرم کے ارتکاب کے لیے گینگسٹر ایکٹ کے تحت کارروائی اور جائیداد قرق کرنے کی بھی تجویز موجود ہے۔
حکومت نے گاؤکشی کے الزام میں حکومت نے بڑی تعداد میں قومی سلامتی کے قوانین کے تحت بھی کارروائی کی ہے۔ گذشتہ ماہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اتر پردیش میں گاؤکشی کے سب سے زیادہ واقعات میں قومی سلامتی کے قانون کا استعمال کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک سال میں 1700 سے زیادہ معاملات
ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم) اونیش کمار اوستھی کے مطابق رواں سال اگست تک یوپی پولیس نے ریاست میں 139 افراد کے خلاف این ایس اے نافذ کیا ہے جن میں سے 76 مقدمات گاؤکشی سے تعلق رکھتے ہیں۔
گاؤکشی کے معاملے میں اتنی بڑی تعداد میں این ایس اے کے تحت کارروائی کے بارے میں اونیش کمار اوستھی کا کہنا ہے کہ یہ قانون میں سختی کی وجہ سے ہوا ہے اور بیشتر مقدمات کو ہائی کورٹ نے بھی منظور کیا ہے۔
بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اوونیش اوستھی نے کہا: 'گاؤکشی کا معاملہ بہت حساس ہے۔ اس کی وجہ سے تمام پریشانی پیدا ہوتی ہے۔ لہذا حکومت نے بہت سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ قانون بھی سخت رہا ہے اور ایسے معاملات میں سخت کارروائی کی گئی ہے۔ آج کل کہیں بھی فسادات نہیں ہو رہے ہیں۔ یہ سب اسی کا نتیجہ ہے۔'
گاؤکشی کے معاملات میں این ایس اے کے علاوہ اترپردیش گاؤونش تحفظ ایکٹ کے تحت رواں سال اب تک 1700 سے زیادہ مقدمات درج ہوئے ہیں اور چار ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تاہم ملزمان کے خلاف شواہد اکٹھا نہ ہونے کی وجہ سے پولیس نے 32 مقدمات میں کلوزر رپورٹ بھی درج کروائی ہے۔










