’وہ لڑتے ہیں، ہم مرتے ہیں‘، افغانستان کی جنگ میں پھنسے خاندان کی کہانی

People on motorised vehicles heavily laden with carpets and blankets

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہلمند میں طالبان اورسرکاری فوجیوں میں لڑائی سے بچنے کے لیے شہری گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں
    • مصنف, کاوون خاموش
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

گل محمد کا کہنا ہے کہ یہ ’بہت خوفناک ہے اس سے برے حالات پہلے نہیں ہوئے۔ زندگی چند لمحوں میں برباد ہو گئی ہے۔‘

جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند میں ایک 25 سالہ سکول ٹیچر بتاتے ہیں کہ کس طرح وہ گولہ باری سے بچ بچا کر اپنے خاندان کے 25 افراد کو جنگ سے متاثرہ علاقے سے نکل کر لائے ہیں۔

امن مذاکرات کے باوجود طالبان کی تازہ یلغار جاری ہے۔

طالبان کی کارروائی شروع ہونے سے صرف چند دن قبل گل محمد (فرضی نام) اپنے باغ کو سجانے میں مصروف تھے۔

باغ کے بیچ میں ایک درخت ہے جس پر غبارے باندھ دیے گئے تھے کیونکہ وہ اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کی سکول کی تعلیم مکمل ہونے پر خوشی منا رہے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب ہمارا باغ جل گیا ہے اور ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے۔ ہمارا گھر ایک مورچہ بن گیا ہے۔‘

وہ، اُن کی بہنیں اور گھر کے باقی تمام افراد گھر چھوڑ کر آ گئے ہیں۔ ایک رات سڑک پر گزارنے کے بعد وہ صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ میں ایک گھر میں نو دیگر خاندانوں کے ساتھ پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

Vehicles stacked with possessions

،تصویر کا ذریعہGul Mohammad

،تصویر کا کیپشنلڑائی شروع ہونے کے بعد بہت سے لوگ رات بھر سفر کر کے لشکر گاہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے

گل محمد نے بتایا کہ 50 سے زیادہ لوگ ایگ گھر میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں باورچی خانے اور بیت الخلا کو بھی کمروں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ صحن میں ایک خیمہ لگایا گیا ہے اور حتیٰ کہ چھت پر بھی لوگ سو رہے ہیں۔

گل محمد کے گاؤں پر طالبان نے ہفتے کو اکتوبر کی دس تاریخ کو حملہ کیا تھا جس کے جواب میں افغان فوج نے جوابی کارروائی کی تھی۔ گل محمد اور ان کے خاندان والے ان 35 ہزار افراد میں شامل تھے جو لڑائی سے جان بچا کر علاقے سے نکلنے پر مجبور ہو گئے۔

گل محمد نے کہا کہ انھوں نے بہت سی لڑائیاں دیکھی ہیں لیکن اس مرتبہ جو کچھ انھوں نے دیکھا ایسا صرف فلموں میں ہوتے دیکھا تھا۔

وہ ہلمند کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے ہیں جو اس ہفتے طالبان کے حملے کی زد میں آنے والا سب سے پہلا گاؤں تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ والے گھر پر ایک راکٹ آ کر گرا جس کی وجہ سے ایک خاتون اور اس کا ایک سالہ بچہ ہلاک ہو گئے۔

A courtyard with a house in the distance

،تصویر کا ذریعہGul Mohammad

،تصویر کا کیپشنگل محمد نے کہا کہ ان کے گھر میں مورچہ بنا لیا گیا ہے

طالبان کی پیش قدمی کے دوران گل محمد نے اپنے گھر والوں کے ساتھ علاقہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے پڑوسی خاتون اور بچے کی تدفین کی وجہ سے پیچھے رک گئے۔

’ہم لڑائی سے صرف ایک کلومیٹر دور تھے۔ عشا کی نماز کے بعد جب اندھیرا پھیل چکا تھا گلی میں گولیاں چلتی نظر آ رہی تھیں۔ گولیاں میرے سر پر سے گزر رہی تھیں۔ ہم خوش قسمت رہے کیونکہ زندگی اور موت کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔‘

ان کے کچھ رشتے دار اب بھی اسی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں طالبان اور سرکاری فوجوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔

گل محمد کی والدہ شدید صدمے اور پریشانی کا شکار ہیں۔ انھیں ان رشتے داروں کی فکر ہے جو لشکر گاہ نہیں پہنچ سکے۔

علاقے میں مواصلات کا نظام تباہ ہو گیا ہے اور پیچھے رہ جانے والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

A man holding a cat travelling in a three-wheeled motorised vehicle

،تصویر کا ذریعہGul Mohammad

،تصویر کا کیپشنلشکر گاہ پہنچنے میں کامیاب ہونے والوں میں گل محمد کا بھائی بھی ہے

گل محمد کی طرح بہت سے گاؤں والے سب کچھ چھوڑ کر جو کچھ ملا مثلاً بس، ٹرک، موٹر سائیکل حتیٰ کہ ٹریکٹر، وہ اس پر سوار ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

ہلاک ہونے والا سب سے کم عمر

اس لڑائی میں ہلاک ہونے والا سب سے چھوٹا فرد ایک بچہ تھا جو اپنی ماں کی کوکھ ہی میں مارا گیا۔ اس کی ماں کو ایک اڑتی ہوئی گولی پیٹ میں آ کر لگی جس سے وہ تو بچ گئیں لیکن ان کے بطن میں پلنے والا بچہ اس دنیا میں آنے سے پہلے ہلاک ہو گیا۔

اس نوجوان ماں کی گود پانچ سال بعد ہری ہونی تھی اور وہ اس پر بہت خوش تھیں۔

محمد فروغ نے بتایا کہ ’سارا گھر اس وجہ سے اس قدر خوش تھا کہ انھوں نے اس بچے کی پیدائش سے قبل ہی اس کے لیے علیحدہ کمرہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ محمد فروغ ایک مقامی ہسپتال میں کام کرتے ہیں جہاں انھوں نے اس ماں کی جان بچائی تھی۔

فروغ کا کہنا کہ اس ماں نے انھیں بتایا کہ بچے کا نام بھی رکھ لیا گیا تھا اور اس کے لیے بہت کچھ سوچ لیا تھا۔ وہ غم زدہ ماں اپنے گھر واپس نہیں جانا چاہتی تھیں کیونکہ اس سے انھیں اپنے بچے کی یاد آئے گی۔

فروغ گزشتہ چار سال سے ہلمند کے ایک ہسپتال میں کام کر رہے ہیں اور جنگ میں زخمیوں میں ہونے والوں کا علاج کر رہے ہیں۔

A hospital in Helmand province

،تصویر کا ذریعہMSF

،تصویر کا کیپشنہلمند کا ہسپتال

’ہم بری خبریں سننے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں لیکن ہر روز ہمیں بری سے بری خبریں سننے کو ملتی ہیں۔‘

محمد فروغ کا کہنا ہے کہ جس قسم کے زخمی اب ہسپتال لائِے جا رہے ہیں ان کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صورت حال کتنی خراب ہے۔

ہلمند کے ہسپتال میں مرینہ کورٹسی نے بی بی سی کے ریڈیو پروگرام نیوز آور میں بتایا کہ ایک اور خاتون جنھیں ایک اڑتی ہوئی گولی آ کر لگی وہ اپنے آٹھ ماہ کے بچے کو دودھ پلا رہی تھیں۔ خوش قسمتی سے دونوں بچ گئے۔

خاتون اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں لیکن وہ بچے کے بارے میں فکر مند ہیں جو گھر پر ہے اور اسے دودھ پلانے والا کوئی نہیں۔

چاروں طرف سے محاصرہ

انیس سالہ کرم اللہ منگل کو لگنے والے ہفتے وار بازار میں اپنے مویشی فروخت کرنے کی تیاری کر رہے تھے لیکن اس ہفتے کا آغاز معمول کے مطابق نہیں ہوا۔

’میں گاؤں میں تھا جب میں نے یہ خبر سنی کہ طالبان نے ساتھ والے گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ہمیں لگا کہ ہمارے پاس بھاگنے کا زیادہ وقت نہیں۔‘

’جب تک ہم گھر چھوڑنے کے لیے تیار ہوئے، طالبان ہمارے گھر کے عقبی دروازے پر کھڑے تھے اور سامنے والے دروازے کے باہر سرکاری فوج پہنچ چکی تھی۔ ہم ان دونوں کے درمیان پھنس گئے۔‘

ہمارا گھر بہت بڑا ہے جس کا باغ بھی بہت بڑا ہے۔ ہم فضا میں جہازوں کی گھن گرج بھی سن سکتے تھے اور چاروں طرف سے گھر چکے تھے۔‘

کرم اللہ نے بتایا کہ ان کے بھائی نے کسی طرح طالبان اور سرکاری فوج سے بات کی تاکہ وہ گھر سے نکل سکیں۔

’ہم نے ان کی منت کی۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہمیں گولی نہ ماریں اور ہمیں یہاں سے نکلنے دیں اور اس کے بعد جو کچھ چاہیں وہ کریں۔‘

ان کا گھر افغان فوج کی ایک چوکی کے قریب واقع ہے جو تازہ لڑائی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دونوں فریقوں نے ان کے گھر پر حملہ کیا۔ ’اب جنھوں نے ہمارے گھر میں مورچہ بندی کی ہوئی یا تو وہ طالبان ہیں یا سرکاری فوجی۔‘

والدہ، آٹھ بھائیوں اور چھ بہنوں پر مشتمل کرم اللہ کا گھرانہ گاؤں سے نکلنے والا آخری خاندان تھا۔ ان کی منگنی ہو چکی ہے اور چار ماہ میں ان کی شادی ہونے والی تھی۔

’مجھ نہیں معلوم کہ اب میری شادی ہو سکے گی یا نہیں۔ میں نے جو کچھ بچایا تھا وہ سب کچھ ختم ہو گیا۔ اس وقت مجھے صرف اپنے گھر والوں کی فکر ہے۔‘

چار سال پہلے بھی ان کا گاؤں لڑائی کی زد میں آیا تھا اور ان کے رشتے کا ایک بھائی ہلاک ہو گیا تھا۔

’ہم جانتے تھے حکومت مزاحمت نہیں کر سکے گی‘

Afghan police search commuters at a checkpoint during a period of fighting in 2016

،تصویر کا ذریعہAFP

بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کے مطابق نادلی، نواح اور نہر سراج کے ضلعوں اور لشکر گاہ کے مضافات میں پانچ ہزار سے زیادہ گھرانے متاثر ہو رہے ہیں اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

لیکن ہلمند میں لڑائی ہونا کوئی نئی بات ہے جس میں لوگ ہلاک اور زخمی نہ ہوئے ہوں یا وہ گھر چھوڑنے پر مجبور نہیں ہویے۔

اگست سنہ 2016 میں طالبان نے ان اضلاع پر حملہ کیا تھا جن میں کرم اللہ اور گل محمد کے گاؤں ہیں اور ان علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ دونوں کا اس لڑائی میں سب کچھ تباہ ہو گیا تھا اور انھیں از سر نو سب کچھ کرنا پڑا تھا اور ایک مرتبہ پھر ان کا سب کچھ برباد ہو گیا ہے۔

کرم اللہ نے کہا کہ ’اس مرتبہ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم کسی حد تک اس سب کچھ کے لیے تیار تھے کیونکہ ہمیں حکومت پر اعتماد نہیں رہا جتنا ہمیں سنہ 2016 میں تھا۔ ہمیں معلوم تھا کہ اگر طالبان نے حملہ کیا تو حکومتی فوجی مزاحمت نہیں کر پائیں گے۔‘

اس وقت ہونے والی شدید لڑائی کی وجہ سے گل محمد اور ان کا خاندان دو سال اپنے گھر واپس نہیں جا سکا تھا۔

A burned out car next to a badly burned building

،تصویر کا ذریعہAbdul Aziz Safdari

،تصویر کا کیپشنسنہ 2016 میں ہونے والے حملے میں گل محمد کی گاڑی تباہ ہو گئی تھی

چار سال قبل جب حملہ ہوا تھا تو گل محمد کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا، درخت تک جل گئِے اور مال مویشی بھی مارے گئے۔ گل محمد کی گاڑی تباہ ہو گئی ان کی گائیں اور بھیڑیں مر گئی تھیں اور ان کی تعلیمی دستاویزات بھی جل گئی تھیں۔

گل محمد نے بتایا کہ ’ہم دو سال بعد گھر لوٹنے میں کامیاب ہوئے اور گھر کی تعمیر شروع کی جس میں ہمیں دو سال لگے اور اس کے بعد یہ لڑائی پھر شروع ہو گئی۔

طالبان کئی سال سے ہلمند پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن سنہ 2014 تک بڑی تعداد میں برطانوی فوجیوں کی موجودگی اور امریکہ فوج کی فضائی مدد کی وجہ سے وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

ہلمند افغانستان کا ایک اہم صوبہ ہے، دفاعی اعتبار سے بھی اور افیون کی پیداوار کا گڑھ ہونے کے حوالے سے بھی اور اسی وجہ سے یہ افغان جنگ کے دوران ہمیشہ ہی محاذ بنا رہا۔

لیکن طالبان اور حکومتی وفود کے درمیان دوحا میں بات چیت شروع ہوجانے اور اگلے چند ماہ میں امریکی فوج کے متوقع انخلا کے باوجود جنگ کا اختتام ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔

’ہم صرف جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں‘

A tree with balloons and carpets set out for a celebration

،تصویر کا ذریعہGul Mohammad

،تصویر کا کیپشنگل محمد کا گھر اس کی بہن کی گریجوشن کے موقع پر سجا ہوا ہے

گل محمد اور کرم اللہ جیسے لوگوں کے لیے قطر میں جاری معاملات اتنے مبہم اور غیر یقینی ہیں کہ وہ ان پر رائے نہیں رکھتے، لیکن وہ صرف ایک بات جانتے ہیں: انھیں دائمی جنگ بندی چاہیے۔'

گل محمد کہتے ہیں کہ 'ہم صرف جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اگر حکومت اس علاقے کا کنٹرول حاصل کر سکتی ہے تو اسے آپریشن کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔ پر اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو انھیں یہ علاقہ طالبان کے لیے چھوڑ دینا چاہیے تاکہ ہم وہاں اپنے زندگیاں جاری رکھ سکیں۔ لڑائی اُن کی ہوتی ہے مارے ہم جاتے ہیں۔'

ہلمند کے مقامی رپورٹرز کہتے ہیں کہ وہاں کے 14 ضلعوں میں سات سے زیادہ ضلع طالبان کے قبضے میں ہیں اور سرکار کی جانب سے اسلحے کی فراہمی میں کمی کے باعث طالبان بار بار حملہ کرتے ہیں۔

گل محمد کا کہنا ہے کہ جب طالبان گاؤں پہنچے تو وہاں نہ صرف موجود رہائشی بھاگنے پر مجبور ہو گئے بلکہ افغان پولیس کے اہلکار بھی بھاگ گئے۔

'میں نے افغان فوجیوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔ ہم سب سادہ سی گاڑیوں میں تھے اور وہ اپنی فوجی گاڑیوں میں ہم سے کہیں تیزی کے ساتھ وہاں سے بھاگ رہے تھے۔'

A cow running along the road with various vehicles

،تصویر کا ذریعہGul Mohammad

،تصویر کا کیپشنگل محمد کی گائے کو بھی لشکر گاہ سے بھاگنا پڑا

حکومت کا کہنا ہے کہ ان کا وہاں سے بھاگنے کا فیصلہ حکمت عملی کے تحت تھا اور دو دن کے بعد افغان فوج نے وہاں پر مزید نفری بھیج کر ضلع واپس اپنے کنٹرول میں حاصل کر لیا۔

افغانستان کے وزیر دفاع نے بھی حالات کا خود سے جائزہ لینے کے لیے لشکر گاہ کا دورہ کیا جہاں یہ جھڑپ ایک ہفتے تک جاری رہی۔

اب تک شہری ہلاکتوں کے بارے میں علم نہیں ہے لیکن ہسپتالوں زخمیوں سے بھر چکے ہیں۔

لشکر گاہ اور اس کے اطراف کے علاقے جانے والی سڑکیں پانچویں دن بھی بند رہیں اور جس سے خدشات میں اضافہ ہوا کہ اُن علاقوں تک امداد بھی شایہ نہ پہنچ سکے۔

یہ ممکن ہے کہ حکومت نے اضلاع کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو اور طالبان ہی وہاں غاصب رہیں۔

لیکن وہ افراد جو اپنی جان بچا کر اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں، ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور شاید انھیں اپنا گھر دوبارہ بسانے میں کئی سال لگیں۔ .