ہاتھرس ریپ کیس: بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ کی ویڈیو پر کیا سزا ہو سکتی ہے؟

امت مالویہ

،تصویر کا ذریعہAMIT MALVIYA/TWITTER

انڈیا کی برسر اقتدار پارٹی بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ گذشتہ کچھ دنوں سے ’ہاتھرس ریپ‘ کے واقعے پر ٹویٹ کر رہے ہیں لیکن ان کی ایک ٹویٹ پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق خواتین کے قومی کمیشن نے کہا ہے کہ وہ بی جے پی کے آئی ٹی سربراہ امت مالویہ کی اس ٹویٹ کا نوٹس لے گا جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکی کا بیان ہے۔

اس ویڈیو کو ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے امت مالویہ نے لکھا کہ ’ہاتھرس واقعہ کی متاثرہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے باہر ایک رپورٹر کو بتا رہی ہے کہ اس کا گلا گھونٹنے کی کوشش ہوئی۔‘

اس ویڈیو میں متاثر لڑکی کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا ہے جو اب اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر مر چکی ہے۔ انڈیا کے ایک قانون کے مطابق جنسی تشدد کے معاملات میں متاثرہ لڑکی کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی ہے۔ یہاں تک کہ جنسی تشدد کا شکار یا ریپ ہونے کے شبہے پر بھی متاثرہ کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے لکھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جرم کو کم سمجھا جا رہا ہے لیکن کسی سنگین جرم کو کسی دوسرے سنگین جرم کا رنگ دینا مناسب نہیں ہے۔ امت مالویہ نے دو اکتوبر کو اس ویڈیو کو ٹویٹ کیا تھا جس میں لڑکی کا چہرہ واضح طور پر نظر آرہا ہے۔

آلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا نے اس کے جواب میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'کیا اترپردیش پولیس امت مالویہ کے خلاف کارروائی کرے گی؟ کیا عدالت اس بات پر از خود نوٹس لے گی کہ بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ نے کیا کیا ہے؟'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

اس کے ساتھ انھوں نے اس کے متعلق قوانین کا حوالہ بھی پوسٹ کیا ہے۔

اس جرم کی سزا کیا ہے؟

امت مالویہ کی اس متنازع ویڈیو کو شیئر کیے جانے کے بعد اس پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں تاہم اس خبر کو لکھنے تک اسے انھوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ڈلیٹ نہیں کیا تھا۔

قومی خواتین کمیشن کی صدر ریکھا شرما نے معروف انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ 'اگر وہ ریپ کا شکار لڑکی کی ویڈیو ہے تو پھر اس کو ٹویٹ کرنا بدقسمتی اور غیر قانونی ہے۔'

ہاتھرس

،تصویر کا ذریعہHINDUSTAN TIMES/GETTY IMAGES

دوسری جانب اتر پردیش ویمن کمیشن کی چیئرپرسن وملا باتھم نے کہا ہے کہ انھوں نے ویڈیو نہیں دیکھی ہے لیکن اگر اس میں متاثرہ لڑکی کی شناخت ہو رہی ہے تو یہ قابل اعتراض ہے اور کمیشن اس کا نوٹس لے گا اور مالویہ کو نوٹس بھیجے گا۔

تعزیرات ہند (آئی پی سی) کے مطابق اگر کوئی شخص جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے یا ممکنہ متاثرہ کی شناخت ظاہر کرتا ہے تو اسے دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

سنہ 2018 میں انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے یہ واضح کیا تھا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 228 اے (2) کا مطلب صرف متاثرہ کا نام ظاہر کرنا نہیں ہے بلکہ میڈیا میں شائع ہونے والی کسی بھی معلومات سے اس کی شناخت ظاہر نہیں ہونی چاہیے۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ متاثرہ کی موت کے باوجود اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی چاہے اس کے اہل خانہ نے اس کی اجازت ہی کیوں نہ دی ہو۔

ہاتھرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امت مالویہ مسلسل اس طرح کے ٹویٹ کررہے ہیں

بہرحال امت مالویہ اپنی ٹویٹس کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ جنسی تشدد کا معاملہ ہرگز نہیں ہے۔ ہاتھرس کے مبینہ ریپ کے معاملے پر امت مالویہ نے مزيد کئی ٹویٹس کی ہیں۔

ایک ٹویٹ میں انھوں نے اشارہ کیا ہے کہ 19 ستمبر کو کانگریس رہنما شیوراج جیون سے ملاقات کے بعد 22 ستمبر کو اجتماعی ریپ کا الزام شامل کیا گیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

انھوں نے دو اکتوبر کو ہی ایک دوسری ویڈیو ٹویٹ کی جس میں انھوں نے کہا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد ہی لڑکی کی والدہ کا یہ بیان ہے۔

اس ویڈیو میں ایک خاتون ایک ملزم سندیپ کا نام لے رہی ہے اور متاثرہ 19 سالہ لڑکی روتی ہوئی زمین پر پڑی ہے۔ اس ویڈیو میں ماں کا چہرہ بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ان تمام ٹویٹس کے ذریعے امت مالویہ یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ’اتر پردیش کو بدنام کرنے کی سازش‘ تیار کی گئی ہے۔

بی جے پی کے ایم ایل اے کا اشتعال انگیز بیان

ہاتھرس ریپ کیس کے واقعے سے ہی متعلق بی جے پی کے ایک ایم ایل اے کا قابل اعتراض بیان سامنے آیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی نے اس بیان کی ویڈیو شیئر کی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

ویڈیو میں ایم ایل اے ہاتھرس کے واقعے کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ 'اس طرح کے واقعات کو صرف سنسکار (اچھی تربیت) کے ذریعہ ہی روکا جا سکتا ہے۔ یہ حکومت اور تلوار سے نہیں رک سکتے۔ والدین کو اپنی جوان بیٹیوں کو ایک مہذب ماحول میں کس طرح رہنا، جینا اور برتاؤ کرنا ہے سکھانا چاہیے۔ حکومت کا بھی فرض ہے اور کنبے کا بھی فرض ہے۔

بی جے پی ایم ایل اے کے اس بیان پر بھی کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے انناؤ ریپ واقعے میں ملزمان کی حمایت کی تھی جبکہ دوسرے نے بہت سے لوگوں نے لکھا کہ 'کیا تہذیب و تربیت کی ضرورت صرف لڑکیوں کو ہے اور لڑکوں کو نہیں جو تین سال کی معصوم کو بھی نہیں چھوڑتے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

ہاتھرس معاملے میں اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سنیچر کے روز سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کی تھی۔ تاہم اے این آئی نیوز ایجنسی کے مطابق ایس آئی ٹی کے ممبروں کا کہنا ہے کہ وہ بھی اپنی تحقیقات جاری رکھیں گے۔ اتوار کی صبح ایس آئی ٹی کی ٹیم اہل خانہ کے بیانات ریکارڈ کرنے پہنچی ہے۔

اترپردیش کے اعلیٰ عہدیدار بھی سنیچر کے روز ہاتھرس پہنچ گئے۔ سکریٹری داخلہ اونیش اوستھی اور ڈی جی پی ایچ سی اوستھی نے ہاتھرس کے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی۔ بعدازاں کانگریس قائدین راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے بھی اس کنبہ سے ملاقات کی اور پرینکا گاندھی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اہل خانہ کی جانب سے پانچ مطالبات کا ذکر کیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 5

انھوں نے لکھا: 'ہاتھرس کے متاثرہ خاندان کے سوالات:

پہلا یہ کہ سپریم کورٹ کے ذریعے پورے معاملے کی عدالتی جانچ ہو۔

دوسرا مطالبہ کہ ہاتھرس کے ضلع مجسٹریٹ کو برخاست کیا جائے اور انھیں کسی اعلی عہدے پر فائز نہیں کیا جائے۔

تیسرا مطالبہ یہ کہ ہماری بیٹی کی لاش بغیر ہماری اجازت کے پیٹرول سے کیوں جلائی گئی؟

چوتھا یہ کہ ہمیں بار بار گمراہ کیا گیا اور اب دھمکایا کیوں جا رہا ہے؟

اور پانچواں یہ کہ ہم انسانیت کے تحت چتا سے پھول چن کر لائے لیکن ہم یہ کیسے تسلیم کریں کہ یہ ہماری بیٹی کی ہی لاش ہے؟'

اس کے ساتھ انھوں نے مزید لکھا کہ 'ان سوالوں کے جواب حاصل کرنا اس خاندان کا حق ہے اور اترپردیش حکومت کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔'