ہاتھرس ’گینگ ریپ‘: متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے راہل اور پرینکا گاندھی حراست میں

،تصویر کا ذریعہCongress/ twitter
انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ضلع ہاتھرس میں مبینہ گینگ ریپ کے بعد متاثرہ لڑکی کی موت پر خاندان سے ملاقات کے لیے جانے والے کانگریس پارٹی کے دو اہم لیڈروں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو راستے میں ہی اترپردیش کی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
جمعرات کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور ان کی بہن پرینکا گاندھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کرنے کے لیے دلی سے ہاتھرس کے لیے روانہ ہوئے تھے لیکن دلی کے نواحی علاقے گریٹر نوئیڈا ایکسپریس وے پر اترپردیش کی پولیس نے ان کی گاڑی کو روک دیا جس کے بعد راہل گاندھی گاڑی سے اتر کر پیدل ہی آگے بڑھنے لگے۔
پولیس نے انھیں پیدل چل کر آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ جب راہل گاندھی نے پولیس کی بات ماننے سے انکار کیا تو پولیس نے ان کے ساتھ زبردستی کی اور ان کو دھکے دیے۔
کانگریس کے کارکنان کا الزام ہے کہ پولیس نے ان پر لاٹھی چارج بھی کیا۔
اس موقع پر راہل گاندھی نے پولیس سے کہا ’میں اکیلا جانا چاہتا ہوں۔ پرامن طریقے سے اپنا سفر پورا کرنا چاہتا ہوں۔ اگر قانون کی دفعہ 144 کے مطابق میرے ساتھ بھیڑ جمع نہیں ہوسکتی ہے تو میں اکیلا جانے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے کس قانون کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے۔ کیا میں اکیلا نہیں جاسکتا۔ میں نے حکومت کے کون سے حکم کی خلاف ورزی کی ہے؟‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ انڈیا کی ریاست اُتر پردیش کے ضلع ہاتھرس میں مبینہ گینگ ریپ کے بعد 20 سالہ دلت لڑکی کی دلی کے ہسپتا میں موت ہوگئی تھی جس کے بعد خاندان نے پولیس حکام پر خاندان کی اجازت کے بغیر لڑکی کی آخری رسومات ادا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ہاتھرس کے بعد اترپردیش کے ہی بلرام ضلع میں ایک دوسری لڑکی کی مبینہ ریپ کے بعد موت کا معاملہ سامنا آیا ہے جس کے بعد کانگریس پارٹی کے اترپردیش کی حکومت کے خلاف لہجے میں مزید سختی آئی ہے۔
اترپردیش میں ریاستی کابینہ میں وزیر سدھارت ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ راہل اور پرینکا گاندھی اترپردیش آکر اس معاملے پر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا انھیں راجستھان جانا چاہیے جہاں ان کی پارٹی کی حکومت ہے اور وہاں جاکر دیکھیں کیا ہو رہا ہے؟ وہاں کی صورتحال کے بارے میں سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کوئی جواب دیں گی؟ یا خاموشی اختیار کرے رکھیں گی‘۔
جیسے ہی راہل اور پرینکا گاندھی کے ہاتھرس کے لیے روانہ ہونے کی خبریں آنا شروع ہوئیں ویسے ہی نوئیڈا کے ہائی وے پر اضافی سکیورٹی دستے تعینات کر دیے گئے اور وہاں سخت حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے۔
اسی دوران کانگریس کے کارکنان نے اسی ہائی وے پر بیٹھ کر اتر پردیش کی حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔
ہاتھرس کے معاملے پر کانگریس پارٹی نے اترپردیش کی حکومت کو نہ صرف تنقید کا نشانہ بنایا ہے بلکہ یوگی آدتیہ ناتھ کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ہاتھرس کے لیے روانہ ہونے سے پہلے تک کانگریس پارٹی کے اہم کارکنان ٹوئٹر کے ذریعے اپنی تشویش اور غصہ کے اظہار کر رہے تھے۔
بعض ناقدین کا کہنا تھا کہ راہل اور پرینکا گاندھی اور دیگر مختلف سیاسی جماعتوں کو ٹوئٹر پر تنقید کرنے کے بجائے پہلے ہی دن ہاتھرس جاکر متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔
اس معاملے پر راہل اور پرینکا گاندھی نے متعدد ٹویٹ کی ہیں۔ ایسے ہی ایک ٹویٹ میں راہل گاندھی نے لکھا ’انڈیا کی ایک بیٹی کا ریپ اور قتل کیا جاتا ہے، ثبوتوں کو دفن کیا جاتا ہے، اور متاثرہ لڑکی کی موت کے بعد اس کے گھر والوں کو اس کی آخری رسومات میں شامل بھی نہیں کیا جاتا۔ یہ شرمناک بات ہے اور نا انصافی بھی‘۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
پرینکا گاندھی نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے تین سوال پوچھے ہیں:
- متاثرہ خاندان سے لڑکی کی لاش زبردستی چھین کر رات و رات آخری رسومات ادا کرنے کا حکم کس نے دیا؟
- گزشتہ 14 روز سے آپ کہاں سوئے ہوئے تھے؟ کیوں کوئی کاروائی نہیں کی؟
- یہ سب کب تک ایسے ہی چلتا رہے گا؟ کیسے وزیر اعلیٰ ہیں آپ؟
سونیا گاندھی کا بیان
اس سے قبل کانگریس پارٹی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کا ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے متاثرہ لڑکی کی جلد بازی میں آخری رسومات ادا کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سونیا گاندھی نے کہا ’موت کے بعد بھی انسان کی کوئی عزت ہوتی ہے۔ ہمارا ہندو مذہب اس بارے میں ہمیں بتاتا ہے‘۔
سونا گاندھی نے کہا کہ اس بچی کی یتیموں کی طرح پولیس کی طاقت کے زور پر آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔
پولیس پر متاثرہ لڑکی کی آخری رسومات کے لیے زبردستی کرنے کا الزام

،تصویر کا ذریعہAbhishek Mathur / BBC
ہاتھرس میں مبینہ گینگ ریپ کے بعد ہلاک ہونے والی 20 سالہ دلت لڑکی کے خاندان نے پولیس حکام پر خاندان کی اجازت کے بغیر لڑکی کی آخری رسومات ادا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
20 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اونچی ذات کے چار افراد نے ریپ کیا جس کے بعد وہ بری طرح زخمی ہو گئی تھیں اور دو ہفتے زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد منگل کو دلی کے ہسپتال میں ان کی موت ہو گئی تھی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو اس ’غیر انسانی فیصلے کی‘ وضاحت دینا ہو گی۔
اس واقعے میں ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور مقدمے کی سماعت کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کی گئی ہے۔
ایک مقامی صحافی ابھیشیک ماتھر نے بی بی سی کے دلنواز پاشا کو بتایا کہ یہ رسومات ہوتے ہوئے فاصلے سے دیکھیں اور انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے خاندان اور میڈیا کے ارکان کو آخِری رسومات کی جگہ سے دور رکھا۔
متاثرہ لڑکی کے بھائی کا کہنا تھا کہ پولیس حکام ان کے خاندان پر آخری رسومات کی فوری ادائیگی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا ’جب ہم نے انکار کیا تو وہ لاش ایمبولینس میں ڈال کر لے گئے اور خود آخری رسومات ادا کر دیں۔‘
ایک سینیئر ضلعی اہلکار نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لڑکی کی آخری رسومات کی ادائیگی میں خاندان کی رضا مندی شامل تھی۔
صحافی ماتھر کے مطابق متاثرہ لڑکی کی ماں ہندو مذہب کے تحت لاش کو نذر آتش کیے جانے سے پہلے آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے گھر لے جانا چاہتی تھیں لیکن اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا ’پولیس نے احتجاج کرنے والوں، خاندان اور میڈیا کو روکنے کے لیے انسانی زنجیر بنا لی تھی۔‘
متاثرہ لڑکی کے بھائی کے مطابق چند پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدسلوکی بھی کی۔ ان کا کہنا تھا ’وہ ہماری مرضی کے بغیر لاش لے گئے اور اسے نذر آتش کر دیا۔ ہمیں آخری بار اسے دیکھنے بھی نہیں دیا گیا۔‘
انھوں نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ ’پولیس نے احتجاج کرنے والے اور لاش کو دیکھنے کے لیے جانے والے خاندان کے افراد کو مارا اور اس دوران خواتین کو بھی پیٹا گیا۔‘
یاد رہے کہ متاثرہ لڑکی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میڈیکل کالج سے سوموار کو دہلی کے صفدرجنگ ہسپتال لایا گیا تھا۔ وہ گذشتہ دو ہفتوں سے موت کے خلاف جنگ لڑ رہی تھیں۔
متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ گینگ ریپ کا یہ واقعہ 14 ستمبر کو اس وقت پیش آیا جب وہ لڑکی اپنی ماں اور بھائی کے ساتھ گھاس کاٹنے گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
متاثرہ لڑکی کے بھائی نے بتایا 'میری بہن، والدہ اور بڑے بھائی گھاس کاٹنے گئے تھے۔ بھائی گھاس لے کر گھر آیا تھا۔ ماں آگے کی طرف گھاس کاٹ رہی تھی، وہ پیچھے تھی۔ اسے گھسیٹا گیا اور گینگ ریپ کیا گیا۔ وہ میری ماں کو بے ہوشی کی حالت میں ملی تھی۔'
لواحقین کے مطابق متاثرہ لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں پہلے مقامی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا تھا جہاں سے اسے علی گڑھ میڈیکل کالج ریفر کر دیا گیا۔
وہ 13 دنوں تک میڈیکل کالج میں وینٹیلیٹر پر تھی اور پھر پیر کو انھیں صفدرجنگ ہسپتال لایا گیا جہاں تقریباً صبح تین بجے ان کی موت ہو گئی۔
لڑکی کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا 'اس کی زبان کٹ گئی تھی، ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، جسم کا ایک حصہ کام نہیں کر رہا تھا۔ وہ بولنے سے قاصر تھی۔ وہ کسی طرح اشاروں سے بات کر رہی تھی۔'
اجتماعی ریپ کا الزام اسی گاؤں کی اونچی ذات کے چار افراد پر ہے۔ ہاتھرس پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں چاروں ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
ہاتھرس کے ایس پی وکرانت ویر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چاروں ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ ہم عدالت سے جلد سماعت کا مطالبہ کریں گے۔ متاثرہ کے اہل خانہ کو گاؤں میں سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔'
ہاتھرس کے ضلع مجسٹریٹ نے بھی ٹویٹ کر کے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔
انھوں نے ٹویٹ کیا 'چاندپا پولیس سٹیشن والے معاملے میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو پہلے چار لاکھ 12 ہزار 500 روپے کی مالی امداد دی گئی تھی۔ آج پانچ لاکھ 87 ہزار 500 روپے کی امداد دی جا رہی ہے۔ اس طرح 10 لاکھ روپے کی مجموعی مالی امداد دی گئی ہے۔'

پولیس پر غفلت کے الزامات
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی کے بھائی کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور یہ کہ واقعے کے دس دن بعد تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ریپ کی دفعات بھی اس وقت شامل کی گئی جب ’میری بہن نے سرکل آفیسر کو ایک بیان دیا اور اشارے سے اپنے ساتھ ہونے والی درندگی کے بارے میں بتایا۔‘
ابتدائی طور پر پولیس نے قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کیا تھا اور صرف ایک ملزم کا نام لیا تھا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ متاثرہ بے ہوش تھی اور ان لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔
متاثرہ کے بھائی نے بتایا 'میری ماں اور بھائی بدحواسی میں تھانے پہنچے تھے۔ انھوں نے وہی شکایت کی جیسا کہ اس وقت انھیں سمجھ آیا۔ لیکن پولیس نے دس دن تک کوئی کارروائی نہیں کی۔'
پولیس پر غفلت برتنے کے الزام پر ایس پی کا کہنا ہے کہ 'مقدمہ ابتدائی طور پر کنبے کی جانب سے دیے جانے والے بیان پر درج ہوا۔ جب تفتیش کے دوران بچی کا بیان لیا گیا تو گینگ ریپ کا انکشاف ہوا اور اسے شامل کیا گیا۔'
کیا میڈیکل رپورٹ میں گینگ ریپ کی تصدیق ہوئی ہے؟ اس سوال پر ایس پی نے کہا کہ ابھی ان معلومات کو شیئر نہیں کیا جاسکتا۔
دلت تنظیموں کا احتجاجی مظاہرہ
آزاد سماج پارٹی کے بانی چندر شیکھر آزاد سنیچر کے روز متاثرہ لڑکی سے ملنے علی گڑھ پہنچے تھے۔ انھوں نے متاثرہ لڑکی سے بہتر سلوک نہ کرنے اور تحقیقات میں غفلت برتنے کا معاملہ اٹھایا تھا۔
بھیم آرمی کے کارکنوں نے واقعے کے بعد متعدد شہروں میں مظاہرہ بھی کیا ہے۔ پارٹی کے ایک کارکن نے بی بی سی کو بتایا 'دلت لڑکی کو نشانہ بنایا گیا ہے اس لیے سب خاموش ہیں۔ ایک دلت لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ اور پھر اس کی موت سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ریاست کی اہم پارٹی بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مایاوتی نے بھی اس واقعے کے بارے میں اترپردیش حکومت پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔
مایاوتی نے ایک ٹویٹ میں لکھا 'یو پی کے ضلع ہاتھرس میں پہلے ایک دلت لڑکی کو بری طرح سے پیٹا گیا، پھر اس کے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا، جو انتہائی شرمناک اور انتہائی قابل مذمت ہے۔ جبکہ معاشرے کی دیگر بہن اور بیٹیاں بھی اب یہاں محفوظ نہیں ہیں۔ حکومت کو اس طرف دھیان دینا چاہیے، یہ بی ایس پی کا مطالبہ ہے۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
متاثرہ لڑکی کی موت کے بعد مایاوتی نے کیس کو فاسٹ ٹریک عدالت میں چلانے اور ملزم کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ یو پی کے ضلع ہاتھرس میں اجتماعی ریپ کا شکار دلت لڑکی کی موت کی خبر بہت افسوسناک ہے۔ بی ایس پی کا یہ مطالبہ ہے کہ حکومت متاثرہ کنبے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے اور فاسٹ ٹریک عدالت میں قانونی چارہ جوئی کر کے مجرموں کی سزا پر جلد عملدرآمد کو یقینی بنائے۔'
اہل خانہ میں خوف و ہراس
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی کے بھائی کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ملزمان کی جانب سے انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ پولیس کو اطلاع دینے کے بعد پی اے سی گاؤں میں تعینات کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا 'ہم بہت خوفزدہ ہیں۔ وہ بہت طاقتور ہیں۔ ہمیں گاؤں سے بھی بھاگنا پڑ سکتا ہے۔'
کیا حکومت نے ان کے اہل خانہ کو کوئی مدد فراہم کی ہے؟ اس سوال پر وہ کہتے ہیں 'ابھی تک کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ سانسد جی (رکن پارلیمنٹ) نے وزیر اعلیٰ سے ملنے لکھنؤ جانے کا کہا تھا۔ ہم اپنی بہن کا علاج کراتے یا وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے جاتے؟'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریپ کے واقعات رک نہیں رہے ہیں
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن یوگیتا بھایانہ اس معاملے پر کئی دنوں سے مسلسل ٹویٹ کر رہی ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا 'حکومت کے تمام دعوؤں کے باوجود اس طرح کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں کیونکہ کہیں نہ کہیں انتظامیہ اور حکومت خواتین کے تحفظ کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔'
وہ کہتی ہیں 'ایک طرف ہم خواتین کو دیوی کہتے ہیں اور دوسری طرف اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں یو پی میں اس طرح کے بہت سے سنگین واقعات ہوئے ہیں۔ بارہ بنکی میں ریپ کے بعد ایک 13 سالہ دلت لڑکی کا قتل کیا گیا تھا۔ ہاپوڑ میں چھ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد آنکھیں پھوڑ دی گئیں۔ ایسے واقعات وقفے وقفے سے پیش آرہے ہیں لیکن پولیس انتظامیہ کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کر رہی ہے۔'









