عبداللہ عبداللہ اور شاہ محمود قریشی کی ملاقات: ’افغانستان میں امن پاکستان میں موجود استحکام کو مزید تقویت فراہم کرے گا‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/SMQ
افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے افغانستان میں امن پاکستان میں موجود استحکام کو مزید تقویت فراہم کرے گا لیکن اگر افغانستان میں تشدد کم نہ ہوا تو افغان امن عمل میں پیشرفت کو یقینی بنانا مشکل ہو گا۔
منگل کے روز اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان نے مختلف شدت پسند گروہوں کا سامنا کیا اور امن بحال کرنے کی بھاری قیمت ادا کی ہے اور یہ گروہ اب بھی معاملات کو خراب کرنے کو کوششوں میں مصروف ہیں۔ ’ہمیں ایسے عناصر/گروپس کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔‘
عبد اللہ عبد اللہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کسی بھی شدت پسند تنظیم کو کسی دوسری قوم یا ملک کے لیے خطرات پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کا آغاز ایک اہم موقع ہے، یہ وہ موقع ہے جس کی مدد سے ہم جنگ کو قصہ پارینہ بنا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ افغان حکومت نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو صبر کرنے اور سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے، جن میں دہشت گردی، انتہا پسندی، عدم رواداری اور حال ہی میں کوڈ 19 کی وبا میں شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین سکیورٹی، سیاسی اور معاشی تعاون کی بہت بڑی صلاحیت موجود ہے۔ مصالحتی کونسل کے سربراہ نے پُرامن اور خوشحال بقائے باہمی کے لیے باہمی رابطوں پر بھی زور دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN FOREIGN OFFICE
عبداللہ عبداللہ نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان امن عمل میں پاکستان کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور سرحدی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے افغانستان میں کوئی ’فیورٹس‘ (پسندیدہ گروہ یا شخصیات) نہیں ہیں اور اسی لیے پاکستان کبھی بھی افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے عوام کی مرضی کو قبول کرے گا کیونکہ پاکستان کو یقین ہے کہ صرف افغان عوام اپنا مستقبل طے کر سکتے ہیں اور ان پر زور زبردستی کسی کو مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پُرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان کے لیے تمام فریقوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کا آغاز افغانستان میں امن کے لیے ایک نادر اور تاریخی موقع ہے اور اسے افغان قیادت کو اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔
وزیر خارجہ نے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں زیادہ سے زیادہ تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان میں برسوں سے جاری مسائل کا کوئی فوجی حل نہیں نکلا اور اب سب متفق ہیں کہ افغان بحران کا واحد حل بات چیت ہے۔
ان کے بقول اگرچہ بہت سے افغان امن چاہتے ہیں لیکن اس عمل میں تخریب کار عناصر بھی موجود ہیں: ’ہمیں ایسے تخریب کاروں سے آگاہ رہنا پڑے گا۔ ایسے عناصر جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے مفادات افغان عوام کے مفادات سے مختلف ہو سکتے ہیں۔‘











