مکبانگ ویڈیوز: چین انٹرنیٹ پر کھانے کی لائیو سٹریمنگ کرنے والے ’ایٹنگ انفلوئنسرز‘ پر پابندی کیوں لگا رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہA.bite
- مصنف, جو ٹائیڈی
- عہدہ, سائبر رپورٹر، بی بی سی ورلڈ سروس
کیا کبھی آپ کو کسی خانسامے یا شیف نے بتایا ہے کہ ہم اپنے کھانے کو اپنی آنکھوں سے بھی کھاتے ہیں۔ لہذا وہ لوگ جو اپنا روزگار سوشل میڈیا پر کھانا کھانے سے کرتے ہیں ان کی کامیابی کا راز ان کا کھانے پیش کرنے کی نفاست اور سلیقہ ہے۔
کوریا کی ثنا نامی ایٹنگ انفلوئنسر جو ’اے بائٹ‘ کے نام سے سوشل میڈیا پر مشہور ہیں نے دنیا بھر سے اپنے شائقین کو اپنے کھانے کی نمائش اور اسے خوبصورت انداز میں قرینے سے سجائی پلیٹوں میں نفاست سے کھانے کے باعث اکٹھا کیا ہوا ہے۔
اور ان کے ٹک ٹاک پر 60 لاکھ سے زائد فالورز تقریباً روزانہ انھیں کھانے سے بھری بڑی بڑی پلیٹوں میں سے نفاست اور سلیقہ سے کھانا کھاتے دیکھتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے ٹک ٹاک پر پوسٹ لگانا ڈھائی برس قبل شروع کیا تھا۔ اور گذشتہ ڈیڑھ برس میں، میں نے 270 کھانے کی ویڈیوز بنائی ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہA.bite
ثنا ان سوشل میڈیا سٹارز کی بڑھتی ہوئی تعداد میں سے ایک ہیں جو انٹرنیٹ کے دو بہت بڑے رجحانات پر ویڈیوز بناتے ہیں۔
- مکبانگ یعنی انٹرنیٹ پر لائیو کھانا کھانے کی ویڈیوز پوسٹ کرنے کا آغاز کوریا سے ہوا تھا اور اسے عام الفاظ میں ’کھانے کی نشریات‘ کہا جاتا ہے۔
- آٹومینس سنسری میرڈیئن رسپانس (اے ایس ایم آر) ایسی ویڈیوز کی کیٹگری ہے جس کا مقصد ان ویڈیوز میں ایسی آوازیں اور شور پیدا کرنا ہے جو جسمانی ردعمل کو ظاہر کرے۔
بعض افراد کے لیے کسی کو کیمرے پر کھانے کا ڈھیر کھاتے دیکھنا اور سننا اچھا نہیں لگتا ہو گا مگر انٹرنیٹ پر یہ رحجان تقریباً دس برس قبل شروع ہوا تھا اور اب یہ ایشیا میں بہت مقبول ہے۔
اب جبکہ کہ چین کی حکومت ملک میں ان ویڈیوز کے خلاف کارروائی کر رہی ہے اور جلد ہی پورے ملک میں ان پر ممکنہ پابندی لگ جائے گی۔
’کلین پلیٹ‘ مہم
ان تمام کارروائیوں کا آغاز چین کے صدر شی جن پنگ کے ایک حالیہ بیان سے ہوا جس میں انھوں نے سب سے ’خوراک کی ضیاع کے خلاف لڑائی کرنے‘ کا کہا ہے۔
امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی جنگ اور گذشتہ ماہ ملک میں بڑے پیمانے پر سیلاب کے باعث فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے چین میں خوراک کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
چین میں ’کلین پلیٹ‘ مہم کا آغاز صدر شی جی پنگ نے یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ کوویڈ 19 نے ملک میں خوراک کی ضیاع کے بارے میں ’خطرے کی گھنٹی‘ بجا دی ہے۔
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’چین کو فوڈ سکیورٹی کے متعلق ذمہ داری کا ثبوت دینا ہے۔‘
جس کے بعد ملک میں سرکاری میڈیا چینلز فوری حرکت میں آئے تھے اور چین کے سرکاری نیوز نیٹ ورک سی سی ٹی وی نے ’مکبانگرز‘ یعنی وہ لوگ جو انٹرنیٹ پر لائیو سٹریمنگ ویڈیوز میں بہت سے خوراک کھاتے یا استعمال کرتے ہیں ان کے بارے میں تنقیدی رپورٹس بنائی تھیں۔

اس کے کچھ عرصہ بعد ہی سوشل میڈیا کمپنیوں نے اس پر کارروائی کی اور اگر کوئی شخص ملک میں انٹرنیٹ پر ’کھانے کے شو‘ یا ’ کھانے کی لائیو سٹریمنگ‘ لکھ کر ویڈیوز تلاش کرتا ہے تو اسے انتباہی پیغامات موصول ہوتے ہیں۔
چین میں مقبول سوشل میڈیا ایپ کیوشیو پر صارفین کو اس قسم کی ویڈیوز تلاش کرنے پر ’خوراک کی بچت کریں، اور مناسب طریقے سے کھانے‘ کے انتباہی پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور ٹک ٹاک کی چینی کمپنی دوین پر صارفین کو ایک پاپ اپ پیغام موصول ہو رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’خوراک کی قدر کریں، اس کو ضائع مت کریں مناسب طریقہ سے خوراک کھائیں اور ایک صحت مند زندگی جیئے۔‘
جبکہ دوسری جانب چین کی ایک مکبانگ سٹار منی نے سرکاری گوانگمنگ ڈیلی پر ایک پروموشنل ویڈیو ڈالی ہے جس میں لوگوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’وہ کھانا ضائع نہ کریں۔‘
ان کے ایک اشتہار میں وہ کہتی ہیں کہ ’دوبارہ گرم کیا گیا کھانا بھی بہت لذیذ ہو سکتا ہے۔‘
لیکن ان میں سے کوئی بھی انتباہی پیغام چین سے باہر کسی بھی چینی سوشل میڈیا ایپ جیسا کہ ٹک ٹاک پر نظر نہیں آ رہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
بی بی سی کے چین میڈیا کی تجزیہ کار کیری ایلین کہتی ہیں کہ ’چین میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز طویل عرصے سے اپنے پلیٹ فارمز پر ایسے مواد رکھنے سے گھبرائے ہوئے ہیں جو ریاست کے اچھے اور اخلاقی رویے کے نظریے کے منافی سمجھا جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق چین میں لائیو سٹریمنگ اور ویڈیو بلاگنگ بہت تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔
کیری ایلن کہتی ہیں کہ ’ لیکن چونکہ ریاست اس زرائع ابلاغ سے عوام کو حاصل ہونے والی نئی آزادیوں سے گھبرا رہی ہے ۔تاہم گھر سے باہر لائیو سٹریم کرنے اور بہکانے والی یا انتہائی دل فریب معلوم ہونے والی ویڈیوز کے متعلق انتہائی سخت قوانین کے باعث بہت سے وی لاگرز نے اس میڈیم پر اپنی ایک خاص پہچان بنانے کے لیے بہت کوشش کی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’لہذا سوشل میڈیا انفلوائنسرز نے صرف گیتوں پر گانے یا کھانے کی ویڈیوز بنانا شروع کر دی۔‘
آن لائن شرمندہ کیا جا رہا ہے
لیکن اب چین میں سب سے زیادہ کامیاب مکبانگ سٹارز جنھیں ’بڑے معدے کے بادشاہ‘ کہا جاتا ہے اور جو سکرین پر زیادہ سے زیادہ کھانا کھا سکتے ہیں، کی ویڈیوز کو چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دھندلایا جا رہا ہے تاکہ ان کی ویڈیوز دیکھنے والے صارفین کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیری ایلن کا کہنا ہے کہ ’صارفین نے اب اپنی کھانے کی ویڈیوز کو خود ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹانا شروع کر دیا ہے۔‘
لیکن اس کے باوجود انھیں یہ خطرہ ہے کہ انھیں آن لائن شرمندہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کی پرانی ویڈیوز دیگر صارفین کے پاس محفوظ ہو سکتی ہیں۔
کیری ایلن کہتی ہیں کہ ’چین میں سوشل میڈیا صارفین نے فوراً ان افراد کو برا بھلا کہنا اور شرمندہ کرنا شروع کر دیا جو کبھی اس چیز کا حصہ تھے جسے راتوں رات ’بیہودہ اور مسرف‘ قرار دیا گیا ہے۔‘
تنہا افراد
مکبانگ سٹار ثنا کے زیادہ تر فالورز کوریا، ویتنام اور تھائی لینڈ میں ہیں۔ لیکن وہ اپنے 50،000 چینی مداحوں کی فکر کرتی ہے جن میں سے بہت سے لوگوں کو تنہا افراد سمجھا جاتا ہے جب وہ اپنے فون یا کمپیوٹرز کے سامنے کھانا کھاتے وقت مشترکہ تجربے کے خواہاں ہوتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں امید کرتی ہوں کہ اس پابندی سے صرف برے ترین چینلز ہی متاثر ہوں گے اور فائدہ مند اور اچھے چینلز کھلے رہے گے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنی ویڈیوز میں زیادہ کھانا نہیں کھاتی اور کوشش کرتی ہوں کہ میں صحت مند خوراک کھاؤں۔‘









