’سیکس کے بدلے ہزاروں پاؤنڈز کی پیشکش‘: سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو روزانہ کتنے فحش پیغام موصول ہوتے ہیں؟

ٹائن لیکسی کلارسن

،تصویر کا ذریعہLEE PALACE

،تصویر کا کیپشنٹائن لیکسی کلارسن کہتی ہیں کہ وہ صرف 19 برس کی تھیں جب انھیں پہلی بار 20 ہزار پاؤنڈز کی پیشکش کی گئی

بی بی سی کے پروگرام وکٹوریا ڈربی شائر کو بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے بڑے انفلوئنسرز کو روزانہ کی بنیاد پر اجنبی لوگ سیکس کے بدلے ہزاروں پاؤنڈز کی پیشکش کرتے ہیں۔

ایک انفلوئنسر کے مطابق سوشل میڈیا مردوں کے لیے اپنے اگلے ہدف کا انتخاب کرنے کا ’ذریعہ‘ بن چکا ہے۔

ریئلٹی شو لوو آئی لینڈ کی سٹار ٹائن لیکسی کلارسن کہتی ہیں ’یہ اعلی سطح کی جسم فروشی ہے، یہ سوچنا بہت خوفزدہ ہے کہ اگر انھوں نے مجھے ایسا پیغام بھیجا ہے تو یقیناً انسٹاگرام پر ہزاروں لڑکیوں کو بھی بھیجا ہو گا۔‘

وہ کہتی ہیں وہ صرف 19 برس کی تھیں جب انھیں پہلی بار رات کے کھانے اور ڈرنکس کے لیے 20 ہزار پاؤنڈز کی پیشکش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

’لیکن لوو آئی لینڈ کی دوسری سیریز میں آنے کے بعد ایک ایجنسی نے انھیں ای میل کی اور دبئی میں پانچ راتوں کے بدلے 50 ہزار پاؤنڈز کی پیشکش کی۔

اس میں بغیر معلومات ظاہر کیے ایک معاہدہ بھی شامل تھا، جس میں کہا گیا تھا اس بات کو خفیہ رکھا جائے گا کہ ان پیسوں کے بدلے انھیں کیا کرنا ہو گا۔

ٹائن لیکسی کہتی ہیں کہ انھیں نے یہ پیشکش مسترد کر دی تھی لیکن انھیں خوف ہے کہ نئے یا جدوجہد کرنے والے ایسے انفلوئنسرز جنھیں مفت میں عیش و آرام کی اشیا نہیں ملتی اور وہ اپنا ’دکھاوا‘ برقرار رکھنے کے لیے دباؤ محسوس کرتے ہیں، وہ اس قسم کے لین دین کا شکار ہو سکتے ہیں۔

روزی ولیمز

،تصویر کا ذریعہROSIE WILLIAMS

،تصویر کا کیپشنروزی ولیمز کے مطابق انفلوئنسرز کے حلقوں میں اس بارے میں بات نہیں کی جاتی ہے

’کچھ لوگوں کے لیے یہ بہت زیادہ پیسہ ہے، یہ زندگی تبدیل کر دینے والی رقم ہے۔‘

’اہم لین دین‘

روزی ولیمز جو لوو آئی لینڈ کے تیسرے سیزن میں شامل تھیں، کہتی ہیں کہ دبئی میں ایک آدمی کا ساتھی بننے کے بدلے انھیں سالانہ ایک لاکھ پاؤنڈز کے ساتھ کپڑوں اور بیگز کی پیشکش کی گئی تھی۔

انھوں نے ہمیں حال میں ملنے والے پیغامات میں سے ایک میسج بھی دکھایا جو خود کو دبئی میں ظاہر کرنے والے ایک شخص کی جانب سے تھا۔ میسج میں کہا گیا تھا کہ انھیں ان کی جانب سے سن کر شاید حیرت تو ہو گی لیکن ان کے پاس ایک ’اہم لین دین‘ جو وہ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔۔ روزی کہتی ہیں کہ اس قسم کے میسجز میں یہ ایک عام فقرہ ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ بڑی رقم ہونے کے باوجود بھی وہ اس لالچ میں نہیں آئیں۔

روزی کہتی ہیں ’یہ شہرت کا وہ پہلو نہیں جس کی وہ امید کرتی تھیں: آپ کو ٹرولنگ کے بارے میں خبردار کیا جاتا ہے، آپ کو خبردار کیا جاتا ہے کہ آپ کی زندگی ڈرامائی انداز میں بدل جائے گی، لیکن آپ کو اس بارے میں خبردار نہیں کیا جاتا کہ آپ کو مرد خرید بھی سکتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس بارے میں انفلوئنسرز کے حلقے میں بات نہیں کی جاتی: ’یا تو ہم ایسے مقام پر نہیں ہوتے جہاں ہم ایسا کر سکتے ہیں یا ہم ایسا کر چکے ہوتے ہیں اور بہت شرمندہ ہوتے ہیں۔‘

’کم تر محسوس کرنا‘

اس پروگرام نے ان انفلوئنسرز کو موصول ہونے والے ایسے کئی پیغامات دیکھے ہیں۔ رابطہ کرنے والوں میں مرد شامل ہوتے ہیں جو براہ راست سیکس کی پیشکش کرتے ہیں جبکہ کچھ ایجنٹس بھی اپنے دولت مند کلائنٹس کے لیے رابطہ کرتے ہیں۔

ہمیں ایک گمنام تحریری ثبوت بھی موصول ہوا جس میں بھیجنے والے نے خود کو برطانوی ریئلٹی سٹار بتایا، ان کا کہنا تھا کہ انھیں سیکس کے بدلے دس ہزار پاؤنڈز کی پیشکش کی گئی۔

’ایزا بیل‘ کہتی ہیں کہ انھیں پہلی بار انسٹاگرام پر ان سے 10 برس بڑے شخص نے رابطہ کیا جب انھوں نے ٹی وی ٹیلنٹ شو مکمل کیا تھا۔

وہ بتاتی ہیں ’ابتدا میں انھیں ڈیزائنر ہینڈ بیگز کی پیشکش کی گئی۔ انھیں اپنے معاشی طور پر مستحکم ہونے پر بہت غرور تھا لہذا وہ میرے لیے بیگز پر سینکڑوں پاؤنڈز خرچ کر کے جنسی تسکین محسوس کرتا تھا۔‘

’میں بھی اپنے فالوورز کو آن لائن مصروف رکھنے کی جدوجہد کر رہی تھی۔ تو میرا خیال ہے کہ میں نے اس لیے یہ آفر قبول کر لی۔‘

سوشل میڈیا

وہ کہتی ہیں کہ 18 ماہ تک وہ روزانہ بات کرتے تھے لیکن کبھی ملاقات نہیں کی تو وہ ان سے ملنے کے بارے میں کافی پرجوش تھیں۔

’جب میں وہاں پہنچی تو وہ کافی خوش تھا۔ ڈنر پر ہم نے شراب پینا شروع کی اور وہ میرے اخرجات پر بات کر رہے تھے۔۔۔ میں نے بتایا کہ مجھ پر پانچ ہزار پاؤنڈ قرض ہے۔ انھوں نے کہا :میرے ساتھ سیکس کرو اور میں تمھیں اس سے دگنا دوں گا۔‘

ایزا بیل بتاتی ہیں کہ وہ ہوٹل کے کمرے میں گئیں اور اس سب سے گزریں۔ ’مجھے اس وقت کمتر اور خود پر غصے کے ملے جلے جذبات کا احساس ہوا۔‘

لیکن وہ زور دیتی ہیں کہ یہ جسم فروشی نہیں ہے۔ ’یہ ایک ٹارگٹڈ رشتہ ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا ہے۔۔۔ جبکہ میرے خیال میں جسم فروشی میں آپ ایک اجنبی کے ساتھ ایک فیس پر رضامند ہوتے ہیں۔‘

انفلوئنسرز کا استحصال

حقوق نسواں کا گروپ ’آبجیکٹ‘، جو خواتین کو جنسی کھلونا سمجھنے کے خلاف مہم چلاتا ہے، کا کہنا ہے کہ اس سے سمجھ آتی ہے کہ خواتین نے ’بہت زیادہ دل للچانے‘ والی آفرز کو کیوں قبول کیا۔

ہیتھر برنسکل ایوانز کہتی ہیں : ’اس سب میں ملوث خواتین جسم فروشی کا لفظ نہیں سننا چاہیں گی۔ سچ یہ ہے کہ پیسوں کے بدلے وہ اپنے جسم بیچ رہی ہیں۔‘

ہیتھر برنسکل ایوانز
،تصویر کا کیپشنہیتھر برنسکل ایوانز کہتی ہیں کہ اس سب میں ملوث خواتین جسم فروشی کا لفظ نہیں سننا چاہیں گی لیکن سچ یہ ہے کہ پیسوں کے بدلے وہ اپنے جسم بیچتی ہیں

’ایسے لوگ خواتین کو ایسی تمام چیزوں کی پیشکش کرتے ہیں جن کی انھیں کامیاب انفلوئنسر بننے کے لیے ضرورت ہوتی ہے لیکن بہرحال یہ استحصال ہے اور خواتین کو پیسوں کے لیے ایسی چیزیں کرنا پڑتی ہیں جن کو وہ اپنے ساتھ منسوب نہیں کرنا چاہتیں، جس سے انھیں شرم محسوس ہوتی ہے۔‘

سیلیبریٹی ایجنٹ راب کوپر کا کہنا ہے کہ صرف خواتین ہی نہیں جن سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک مرد جو آن لائن ہوسٹ کرتا تھا، کو باقاعدگی سے جنسی عمل کرنے کے پیسے آفر کیے جاتے تھے۔

’میں کہوں گا کہ بڑے انفلوئنسر یا ریئلٹی سٹار اس طرح کے پیغامات ہر دن موصول کرتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کوئی ایسا راستہ تلاش کرنا چاہیے جس سے لوگوں کو ان کے اکاؤنٹ کے لیے جوابداہ ٹھہرایا جا سکے، جیسے کہ کسی چیز کو پاسپورٹ یا قومی انشورنس نمبر کے طور پر استعمال کرنا، لہذا اگر وہ بلاک ہیں تو انھیں اپنا اکاؤنٹ بحال کرنے کے لیے درخواست دینی پڑے۔

فیس بک کے ایک ترجمان کا کہنا ہے: ’انسٹاگرام پر جنسی درخواست گزاری کو برداشت نہیں کیا جاتا اور ہمارے قوائد کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والوں پر پابندی لگائی جائے گی۔‘

’ہم چاہتے ہیں کہ انسٹاگرام لوگوں کے اظہار خیال کے لیے ایک محفوظ جگہ بن جائے۔ ہم ہراسانی کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجیز پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔‘