کیا بالی وڈ پر کانپور کی ’رنگبازی’ کا اثر ہو رہا ہے؟

تنو ویڈز منو

،تصویر کا ذریعہTanuwedsmanu/Eros

    • مصنف, ثمرہ فاطمہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لندن

'ایسا ہے شرما جی، آپ نے ہی پھیلایا ہے، آپ ہی صاف کیجیے یہ رائتا'۔

یہ جملہ 2011 میں ریلیز ہونے والی فلم 'تنو ویڈز منو' میں ہیروئن دوسری ہی ملاقات میں ہیرو سے کہتی ہے اور سینیما ہال میں بیٹھے لوگ ہیروئن کا یہ روپ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔

فلم میں کنگنا رناوت کے کردار یعنی تنوجا تریویدی کا تعلق انڈین ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور سے دکھایا گیا ہے۔

منہ پر پڑنے والے تھپڑ کو 'کنٹاپ' اور بڑھا چڑھا کر باتیں کرنے کو 'بھوکالی' کہنے والے کرداروں کو جب لوگوں نے فلموں میں دیکھا تو شاید عرصے بعد کرداروں میں نیاپن محسوس کیا۔ بول چال کا یہ انداز کانپور میں عام ہے۔

اپنی نفاست کے لیے مشہور شہر لکھنوٴ سے چمڑے کے گڑھ کانپور تک کا فاصلہ گاڑی پر محض دو گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔ لیکن اس شہر نے اپنے تیور اور ’رنگبازی‘ پر لکھنوٴ کی نفاست کو حاوی نہیں ہونے دیا۔

گزشتہ چند برسوں سے انڈیا میں صرف سینیما گھروں میں ریلیز ہونے والی فلموں میں ہی نہیں بلکہ او ٹی ٹی پلیٹفامز پر ریلیز ہونے والی نئی کہانیوں کے لیے بھی ہدایتکار کانپور کا انتخاب کر رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال ہے نوازالدین صدیقی اور رادھیکا آپٹے کی نیٹفلکس فلم 'رات اکیلی ہے'۔

فلم تنو ویڈز منو کے لکھاری ہیمانشو شرما کہتے ہیں کہ 'کانپور کے لوگوں میں ایک غیر معمولی تیور دیکھنے کو ملتا ہے جو آپ کو لکھنوٴ یا بنارس میں نظر نہیں آتا۔ حالانکہ یہ شہر لکھنوٴ سے محض دو گھنٹے کے فاصلے پر ہے لیکن جب یہاں کسی کے پیر پر رکشا چڑھ جاتا ہے تو اس کی زبان سے نکلنے والا جملہ لکھنوٴ یا بنارس سے بہت مختلف ہوتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

دبنگ 2

،تصویر کا ذریعہDabang2/PR

فلمسازوں کی کانپور میں ہی دلچسپی کیوں؟

جب فلموں میں کانپور جیسے شہر کا کوئی کردار 'کیوں' کی جگہ 'کاہے' اور مسئلے کو 'رائتا' کہتا ہے تو وہ ماضی کے کرداروں سے جدا ہی نہیں بلکہ عام لوگوں جیسا بھی لگتا ہے۔ اور شاید ایسے ہی کردار جدید دور کے سینیما کی ضرورت بن چکے ہیں۔

ہمانشو شرما کا خیال ہے کہ 'وہ وقت گیا جب فلموں میں پنجاب کے کھیت اور لندن کی سڑکیں ہوا کرتی تھیں، ایک خاص قسم کے کپڑے ہوتے تھے۔ نوے کی دہائی اور اس کے بعد کچھ برسوں تک فلموں میں ایک خوابوں کی دنیا بِکا کرتی تھی۔ لیکن اب وقت بدل گیا ہے۔ بڑے بڑے شہروں میں آ کر کام کرنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق چھوٹے شہروں سے ہے۔ تو وہ اپنا گھر، اپنا محلہ، اپنی کالونی کیوں نہیں یاد کریں گے؟'

انہوں نے کہا کہ لوگ اب اصل زندگی کی عکاسی کرنے والا کردار چاہتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جس کے لیے بڑی کوٹھیاں اور بنگلے صرف فلمی باتیں ہوتی ہیں اور جس کی زندگی میں گنجاپن اور موٹاپا صبح اور شام جیسی حقیقتیں ہیں، جو عام لوگوں جیسے معمولی گھروں میں رہتا ہے اور گلیوں میں پھرتا ہے، اسے اپنے جیسے کردار جب فلموں میں نظر آئے تو فلمیں اصل لگنے لگیں۔

ہیمانشو شرما نے بتایا کہ 'جب ہم چھوٹے شہروں کی کہانی دکھاتے ہیں تو بہت ضروری ہے کہ ہم اس شہر کی باریکیوں کو سمجھیں اور ان کے ذریعے کہانی سنائیں اور جب بات دلچسپ بولی اور انداز کی آتی ہے تو کانپور شہر کا انداز نایاب ہے۔‘

لیکن چھوٹے شہروں کی انڈیا میں کمی تو نہیں؟ آخر کہانیاں کہنے کے لیے کانپور کا ان دنوں بار بار اتخاب ہونے کی وجہ کیا ہے؟

بالا فلم کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہIDHYAH

،تصویر کا کیپشنایوشمان کھرانہ کی فلم ’بالا‘ بھی کانپور میں فلمائی گئی ہے

کانپور کا طنز اور رنگبازی

سوشل میڈیا سٹار سرشٹی دکشت کو لگتا ہے کہ کانپور کے لوگوں اور وہاں کے طرز زندگی کو ایک ہی لفظ میں بیان کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے 'رنگبازی'۔

سریشٹی کا تعلق خود کانپور سے ہے۔ وہ ایک اداکارہ اور سوشل میڈیا سٹار ہیں اور گزشتہ سات برسوں سے ممبئی میں رہ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر کانپور کے انداز کو بیان کرنے والے ان کے ویڈیوز خوب پسند کیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'وہاں رہنے والوں میں ایک خاص قسم کی رنگبازی، خود اعتمادی اور خود کو دوسروں سے بہتر دکھانے والا طنزیہ انداز ہے۔ مجھے نہیں لگتا وہ انداز میں نے کسی اور جگہ کے لوگوں میں دیکھا ہے۔ ہو سکتا ہے یہی انداز لوگوں میں کانپور والوں کے بارے میں دلچسپی پیدا کرتا ہو۔'

ڈائریکٹر شاد علی کی 2005 میں ریلیز ہونے والی فلم 'بنٹی اور ببلی' میں دکھائی گئی کانپور کی مشہور مٹھائی کی دکان 'ٹھگو کے لڈو' کے نام پر اگر غور کریں تو سرشٹی کی بات میں دم لگتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کا الفاظ کے ساتھ کھیلنے کا مزاج دوسروں سے مختلف اور بے حد دلچسپ ہے۔

سرشٹی دکشت کہتی ہیں کہ 'طنز اور حاضر جوابی کانپور والوں کا بہت ہی عام انداز ہے جس کے بارے میں انہیں خود نہیں پتا۔ میں خود جب ایسے بات کرتی ہوں تو ممبئی میں رہنے والے لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ تمہارے دماغ میں ایسی باتیں آتی کہاں سے ہیں؟'

گزشتہ چند برسوں میں انڈین فلموں میں کانپور کی کہانیوں اور وہاں کے کرداروں کی بھرمار سے یہ بات تو پکی ہے کہ وہاں کی زبان اور لہجہ محض مختلف ہی نہیں دلچسپ بھی ہے۔

صرف 'رنگبازی' ہی وجہ نہیں

حالانکہ فلم سازوں کے کانپور کو پسند کرنے کے پیچھے صرف یہ ہی واحد وجہ نہیں ہے۔

کانپور اور اس جیسے شہروں کی کہانیاں دکھائے جانے کے پیچھے اہم کردار نئے فلمسازوں کا بھی ہے جنہوں نے فلموں میں نئے لکھاریوں اور چھوٹے شہروں کی کہانیوں کے لیے راستہ بنایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام صرف بڑے شہروں کی کہانیوں کو نہیں دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے ایسی کہانیاں اپنے لیے جگہ بنانے لگیں جن سے عام آدمی خود کو جوڑ سکتا ہے۔

کانپور میں بنی آیوشمان کھرانا کی فلم 'بالا' میں جب لوگوں نے ایک پرانے گھر میں رہنے والے، کسی عام چھوٹے شہر کی سڑکوں پر بائیک پر سفر کرنے والے، معمولی چائے کے سٹال پر چائے پیتے ہیرو کو دیکھا تو انہیں کہانی ان کی اصل زندگی جیسی لگنے لگی۔ اور حال میں ایسی ہی فلموں نے باکس آفس پر کامیابی بھی درج کی ہے۔

سوشل میڈیا سٹار سرشٹی دکشت

،تصویر کا ذریعہSrishti Dixit

،تصویر کا کیپشنسوشل میڈیا سٹار سرشٹی دکشت کا تعلق کانپور سے ہے اور کانپور سے متعلق ان کی ویڈیوز بے حد مقبول ہوتی ہیں

برطانوی آرکیٹیکچر اور پرانے گھروں کے آنگن

انڈیا میں برطانوی نو آبادیاتی دور میں مختلف صنعتوں کا گڑھ ہونے کے سبب کانپور کو 'مانچسٹر آف اِیسٹ' بھی کہا جاتا تھا۔ وہاں کی ایلگن مل، لال املی مل اور جے کے مل نے بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ تاہم بعد میں دیگر شہروں جیسے احمدآباد اور بمبئی میں بھی مواقع پیدا ہونے لگے اور آہستہ آہستہ کانپور کو محض اس کی چمڑے کی فیکٹریوں کے لیے یاد رکھا جانے لگا۔

اس شہر میں آج بھی برطانوی دور کی متعدد عمارتیں موجود ہیں۔ دوسری جانب اس کی تنگ گلیاں اور ان میں پرانے محراب دار در و دیوار اور آنگن والے گھروں نے ابھی شہر سے رخصت نہیں لی ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک غیر معمولی تال میل ہے جو فلمسازوں کو پردے کے لیے دلچسپ کینوس فراہم کرتا ہے۔ شہر کی کوتوالی (پولیس ہیڈ آفس) آج بھی برطانوی دور کی یاد دلاتی ہے۔ یہاں فلم دبنگ 2 کے متعدد سین فلمائے گئے تھے۔

ماضی میں چھوٹے شہروں کی کہانیوں کو سامنے لانے کے لیے فلموں میں لکھنوٴ اور بنارس کو خوب استعمال کیا جا چکا ہے۔ تاہم کانپور کی ان دیکھی گلیوں اور یہاں کے طور طریقے ان کہانیوں میں نیاپن اور تازگی لانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہے۔

یہاں کا بھیڑ بھاڑ والا بڑا چوراہا، دریائے گنگا پر بنا پل، انورگنج ریلوے سٹیشن اور جاجموٴ کی چمڑے کی بدبودار ٹینریاں فلمسازوں کو کہانی کو کسی بھی کنارے لے جانے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

آرٹیکل 15

،تصویر کا ذریعہArticle15/Zee

،تصویر کا کیپشنآرٹیکل 15 بھی ان فلموں میں شامل ہے جس میں یا تو کسی کردار کا یا پوری کہانی کا ہی کانپور سے تعلق دکھایا گیا ہے

دوبارہ غلطی کا خدشہ

فلمساز اور لکھاری ہیمانشو شرما کو خدشہ ہے کہ کانپور کو فلموں میں ان دنوں اتنا زیادہ دکھا کر کہیں بالی وڈ ایک بار پھر وہی غلطی تو نہیں کر رہا جو ماضی میں کی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'بالی وڈ میں یہ ریت رہی ہے کہ کچھ نیا کرنے کے بجائے جو چیز کامیاب ہو جاتی ہے لوگ اسی کو بار بار کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔'

ہیمانشو کا خیال ہے کہ کسی بھی فلمساز کو چاہیے کہ وہ ایمانداری سے کوشش کرتا رہے تاکہ اس کی کہانیاں سچی ہوں۔

انہوں نے کہا 'اگر فلم کا کردار کانپور کا ہے تو دیکھنے والے کو لگنا چاہیے کہ یہ شخص کہیں اور کا ہو ہی نہیں سکتا، یہ کانپور کا ہی ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ اگر بنارس کا کوئی شخص پان تھوک کر کوئی بات کہتا ہے تو اس کا مطلب یے کہ کوئی بہت ہی ضروری بات ہے۔ ورنہ کسی معمولی بات پر وہ پان نہیں تھوکتا۔ صرف یہ سوچ کر فلمیں بنانا کہ کانپور کے کرداروں کے گرد چند فلمیں کامیاب رہیں، صحیح نہیں ہے۔'

کئی فلموں میں کہانی یا کردار کانپور کے ضرور دکھائے گئے لیکن ان کا لہجہ کانپور سے زیادہ بہاری لگتا ہے۔ ہمانشو نے کہا کہ 'اگر لکھنوٴ کے کردار میں وہ نزاکت اور کانپور کے کردار میں وہ تیکھاپن نظر نہ آئے جو آنا چاہیے، تو یہ ناانصافی ہوتی ہے اور ایسا متعدد فلموں میں سامنے بھی آ رہا ہے۔'

گزشتہ برسوں میں بنٹی اور ببلی، تنو ویڈز منو، بالا، آرٹیکل 15 اور دبنگ 2 جیسی متعدد کامیاب فلموں میں یا تو کسی کردار کا یا پوری کہانی کا ہی کانپور سے تعلق دکھایا گیا۔

کانپور میں بجلی کی چوری کے طریقوں پر بھی ایک فلم 'کٹیاباز' بنائی گئی۔ گزشتہ دنوں او ٹی ٹی پلیٹ فارم ہاٹ سٹار پر کانپور کے تین مقامی نوجوانوں کے خوابوں کی کہانی پر ایک فلم ریلیز ہوئی جس کا نام ہی ہے 'کانپوریے'۔