انڈیا کے لیے دفاعی ساز و سامان کے شعبے میں ’خود انحصاری‘ کا حصول کتنا مشکل ہے؟

راج ناتھ سنگھ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/RAJNATHSINGH

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ
    • مصنف, سروج سنگھ
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی، دہلی

انڈیا کی مرکزی حکومت نے دفاعی شعبے میں ’آتم نربھر انڈیا‘ یعنی ’خود کفیل انڈیا‘ کا نیا نعرہ بلند کیا ہے جس کے تحت ملک کی وزارتِ دفاع نے 101 اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ان اشیا میں آرٹلری گنز، اسالٹ رائفلز، ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ، ریڈار اور دیگر دفاعی ساز و سامان شامل ہے۔

ان اشیا کی ملک سے باہر درآمد پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ اس پابندی کو دسمبر 2020 سے دسمبر 2025 کے درمیان مرحلہ وار انداز میں نافذ کیا جائے گا۔ وزارت دفاع کے مطابق اس فیصلے سے ملکی صنعت کو فروغ ملے گا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ان اشیا کی فہرست وزارت دفاع نے تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد تیار کی ہے جن میں فوجی، نجی اور سرکاری شعبے کی صنعتیں بھی شامل ہیں اور اس کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں جنگی ساز و سامان کی تیاریوں کے سلسلے میں انڈیا کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

انڈیا کے دفاعی اخراجات

حال ہی میں سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کی سالانہ رپورٹ بھی سامنے آئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق انڈیا فوجی شعبے میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ اس فہرست میں امریکہ پہلے جبکہ چین دوسرے نمبر پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق انڈیا نے سنہ 2019 میں دفاعی شعبے میں 71 ارب ڈالر خرچ کیے جو سنہ 2018 کے مقابلے میں 6.9 فیصد زیادہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2019 میں چین نے دفاع کی مد میں 261 ارب ڈالر جبکہ امریکہ نے 732 ارب ڈالر خرچ کیے۔ انڈیا فوجی مصنوعات کی سب سے زیادہ خریداری روس سے کرتا رہا ہے اور اس کے بعد امریکہ، اسرائیل اور فرانس کا نمبر آتا ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق انڈیا فوجی شعبے میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے

رپورٹ کے مطابق انڈیا کے دفاعی اخراجات میں اس لیے بھی اضافہ ہوا ہے کیونکہ پاکستان اور چین کی سرحدوں پر صورتحال کشیدہ ہے۔

لیکن کیا وزارت دفاع کے نئے اعلان کے بعد اگلے پانچ برسوں میں یہ تصویر بدل جائے گی؟ کیا انڈیا کا دفاعی شعبے میں خود کفیل ہونے کا خواب اگلے پانچ سالوں میں پورا ہو جائے گا؟ اس بارے میں ملک کے دفاعی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کی آرا مختلف ہیں۔

اس وقت کس حد تک دفاعی شعبہ خود کفیل ہے

دفاعی امور کے ماہر راہل بیدی کا کہنا ہے کہ راج ناتھ سنگھ کے بیان میں کوئی نئی بات نہیں ہے، یہ نئی بوتل میں پرانی شراب والی بات ہے۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2013 میں دفاعی خریداری کے طریقہ کار میں بھی یہی بات کہی گئی تھی اور آج بھی انڈیا میں جو دفاعی ساز و سامان تیار کیا جا رہا ہے اس میں استعمال ہونے والے کئی پرزے بیرون ملک سے ہی بن کر آتے ہیں۔ بہت سارے دفاعی آلات جو انڈیا میں تیار ہو رہے ہیں وہ لائسنس کی بنیاد پر تیار کیے جاتے ہیں۔

لائسنس کی بنیاد پر بنائے جانے کا مطلب یہ ہے کہ فوجی ساز و سامان تیار کرنے کا لائسنس غیر ملکی کمپنی کے پاس ہے اور اس غیر ملکی کمپنی نے انڈیا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کی وجہ سے وہ یہ مصنوعات انڈیا میں بنانے کے قابل ہوتی ہیں۔

وزارت دفاع کے نئے حکم میں ابھی تک کوئی واضح حوالہ نہیں مل سکا ہے کہ آیا لائسنس کی بنیاد پر بنائے جانے والے سامان کو بھی ’دفاعی شعبے میں خود انحصاری‘ سمجھا جائے گا؟

راہل بیدی کا کہنا ہے کہ جب تک غیر ملکی کمپنیاں دفاعی سودوں میں اس حد تک مداخلت کرتی ہیں تب تک دفاعی سامان میں خود انحصاری حاصل کرنے کا نعرہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔

انڈین لڑاکا طیارہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسنہ 2019 میں انڈیا نے دفاعی شعبے میں 71 ارب ڈالر خرچ کیے جو سنہ 2018 کے مقابلے میں 6.9 فیصد زیادہ ہیں

لائٹ کامبیٹ طیارے

لائٹ کامبیٹ ایئر کرافٹ کا انجن اور بہت سارے دوسرے پرزے انڈیا بیرون ممالک سے برآمد کرتا ہے اور پھر انھیں جوڑ کر یہ طیارے انڈیا میں تیار ہوتے ہیں۔ کیا دفاعی سازوسامان میں ’خود انحصاری‘ کے نئے نعرے کا مطلب یہ ہو گا کہ لڑاکا طیاروں کے انجن مکمل طور پر انڈیا میں بننا شروع ہو جائیں گے؟ یا انجن کو انڈین لائٹ جنگی طیارہ سمجھا جائے گا چاہے وہ غیر ملکی ہی کیوں نہ ہو؟ اس کی وضاحت انڈین حکام کے بیانات یا احکامات سے نہیں ہو سکی ہے۔

راہل بیدی کا کہنا ہے کہ انڈیا میں لائٹ کامبیٹ ایئر کرافٹ سنہ 1983 میں بننا شروع ہوئے تھے۔ ’37 برسوں میں اس کا بنیادی ماڈل مارک 1 ہی ہم انڈیا میں بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مارک اے اس کا فائٹر (جنگی) ماڈل ہو گا جس کا پروٹو ٹائپ ابھی تک انڈیا میں تیار نہیں ہوا ہے۔ اسے بنانے میں چار سے پانچ سال لگیں گے۔‘

وزارت دفاع کی جانب سے جن 101 اشیا پر درآمدی پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں لائٹ کامبیٹ طیارے بھی شامل ہیں جنھیں اب دیسی ساختہ یا مقامی طور پر تیار کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ابھی اس طیارے کو بنانے کے لیے بیرون ممالک سے پچاس فیصد سامان لیا جاتا ہے تو مستقبل میں اس کو کم کرنے اور انڈیا میں چیزیں بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس طیارے کا انجن اور اس میں استعمال ہونے والے ہتھیار سب باہر کے ہیں۔

اسی طرح کی کہانی لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹر کی بھی ہے۔ اس کا انجن فرانس سے آتا ہے اور انڈیا ایروناٹکس لمیٹڈ میں یہ دوسرے پرزوں کے ساتھ اسمبل کیا جاتا ہے۔

فوجی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بلٹ پروف جیکٹ

راہل بیدی کا کہنا ہے کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے لیے انڈیا کو ڈیزائن اور ڈیویلیپمنٹ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہو گی۔

راہل نے بلٹ پروف جیکٹ کی ایک مثال دے کر کہا کہ ’انڈیا میں 1990 کی دہائی سے اسے بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

فی الحال اترپردیش کے کانپور میں ایک نجی کمپنی میں یہ بنائی جاتی ہے۔ لیکن اس جیکٹ کو بنانے کے لیے ’کیولر‘ نامی چیز استعمال ہوتی ہے اور آج تک وہ بیرونی ممالک سے منگوائی جا رہی ہے۔

دو سال قبل ملک میں اس کی پیداوار شروع ہوئی ہے لیکن پھر بھی ملک میں اتنی تعداد میں یہ نہیں بنتا کہ ہم انڈیا کو بلٹ پروف جیکٹ میں خود کفیل کہہ سکیں۔

راج ناتھ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/RAJNATH SINGH

رائفل

انڈیا نے اسالٹ رائفل بھی بنانے کی کوشش کی۔ راہل بیدی کہتے ہیں کہ انڈیا نے سنہ 1990 کی دہائی میں ایک دیسی اسالٹ رائفل ’انساس‘ بنائی تھی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی۔

سنہ 2010-2011 میں فوج نے کہا تھا کہ یہ رائفل عملی طور پر موثر نہیں ہے۔ انڈین فوج نے یہ کہتے ہوئے انساس رائفل کو مسترد کر دیا کہ اسے چلانے میں بہت سی دقتیں درپیش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس کے بدلے میں ایک دوسری رائفل چاہتے ہیں۔ اس وقت سے نئی رائفل کے بارے میں آٹھ، نو سالوں سے صرف بات چیت جاری ہے۔

پھر سنہ 2019 میں اتر پردیش کے امیٹھی میں اسالٹ رائفل بنانے کی فیکٹری شروع ہوئی۔ اس میں روس کے ساتھ شراکت کی بات کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی خود اس کا افتتاح کرنے گئے تھے۔ یہ لائسنس پر مبنی معاہدہ بھی ہے لیکن پھر بھی روس کے ساتھ معاہدہ مکمل نہیں ہوا جس کی وجہ سے یہ کام رُکا ہوا ہے۔

کورونا کی وجہ سے بھی کچھ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ در حقیقت دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔

نجی کمپنیاں دفاعی شعبے میں پیچھے کیوں ہیں؟

انڈیا میں سنہ 2001 تک دفاعی شعبے پر ڈی آر ڈی او اور آرڈیننس فیکٹری جیسی سرکاری کمپنیوں کا غلبہ رہا مگر اُس کے بعد حکومت نے نجی کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت دی۔

لیکن آج تک دفاعی سودوں میں ان کا حصہ آٹھ سے دس فیصد سے زیادہ نہیں بڑھا ہے۔ ایل اینڈ ٹی، مہندرا اور بھارت فورج جیسی کچھ کپنیاں دفاعی ساز و سامان کی صنعت میں آگے آ رہی ہیں۔

دفاعی شعبے کی بڑی سرکاری کمپنیوں میں بھی صرف چند ہی نام ہیں جیسے انڈیا ایروناٹکس لمیٹڈ، انڈیا الیکٹرانکس لمیٹڈ، بھارت ڈائنامکس اور بی ای ایم ایل۔

واضح ہے کہ گذشتہ 20 برسوں میں اس صورتحال میں زیادہ بہتری نہیں آئی ہے اور سوال یہ ہے کہ انڈین کمپنیاں دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں ہچکچاہٹ کیوں محسوس کرتی ہیں؟

اس کے متعلق بی بی سی نے اونیش پٹنائک سے بات کی۔ اونیش سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچرز کے رکن ہیں۔ یہ ادارہ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری سے وابستہ ہے۔

اونیش کے مطابق ’ڈیفنس ایک ایسا شعبہ ہے جہاں سرمایہ کاری کرنے پر منافع حاصل کرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اسے چھوٹے بجٹ سے شروع نہیں کیا جا سکتا اس لیے کمپنیوں کو زیادہ سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ انڈیا میں اس شعبے میں سرمایہ کاری کے بعد بھی ریٹرن (منافع وصولی) کی ضمانت نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ فارن کمپنیاں ہم سے بہتر سازوسامان بناتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم ان سے مقابلہ میں پیچھے رہ گئے۔

’بیرون ملک دفاع کے شعبے میں جن کا نام ہے اور جو قابل اعتبار ہیں وہ 70، 80 برسوں سے اس شعبے میں مصروف عمل ہیں۔ انڈین کمپنیاں ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ان مصنوعات کا فروخت بہت کم ہے اور ایسے آلات نہ تو جلدی سے خراب ہوتے ہیں اور نہ ہی انھیں بہت جلد تبدیل کیا جاتا ہے۔‘

اوونیش کا خیال ہے حکومت کے نئے فیصلے سے سرمایہ کاروں کو حوصلہ ملے گا۔ مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اگلے پانچ سات سالوں میں تقریبا 52 ہزار کروڑ کا دفاعی ساز و سامان صرف انڈین کمپنیوں سے خریدے جائیں گے۔ لہذا کمپنیاں یقینی طور پر سرمایہ کاری کے لیے آگے آئیں گی۔

دفاع

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیکن کیا انڈیا کی مصنوعات عالمی معیار کی ہو سکیں گی؟

غزالہ وہاب فورس میگزین کی ایگزیکٹیو ایڈیٹر ہیں۔ ’فورس‘ دفاعی امور سے متعلق ایک ماہانہ رسالہ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے غزالہ کا کہنا ہے کہ ’انڈیا میں کئی برسوں سے دفاعی ساز و سامان کے لائسنس تیار ہو رہے ہیں لیکن دفاع کے میدان میں خود انحصاری کے لیے مرکزی حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ ان آلات کی تحقیق اور ڈیزائن بھی انڈیا میں تیار ہو۔ انھوں نے کہا کہ یہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔

’کسی بھی چیز کی قابلیت کا تجربہ صرف اس وقت ہوتا ہے کہ کون اسے خرید رہا ہے۔ اگر میں کچھ بناؤں اور میرے گھر والے خرید لیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ لیکن اگر میں اپنی مصنوعات کو بازار میں فروخت کرنے کے قابل ہوں تو یہ ایک قابل قدر چیز ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’یہی بات انڈیا میں تیار کردہ دفاعی سازوسامان پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ یہ دیکھنا ہو گا کہ انڈیا جو بھی دفاعی ساز و سامان تیار کر رہا ہے اسے برآمد کرنے کے قابل ہے کہ نہیں۔ یہ سب سے بڑا امتحان ہو گا کہ بیرونی ممالک ہماری مصنوعات میں کتنی دلچسپی لے رہے ہیں یا خرید رہے ہیں۔‘

غزالہ نے مثال دیتے ہوئے انڈیا میں تیار ارجن ٹینک کا ذکر کیا۔ انڈین فوج اس ٹینک کے وزن کی وجہ سے اس کو استعمال نہیں کرنا چاہتی تھی۔ لیکن آخر کار انڈین فوج نے اسے خریدا۔ ’تیجس‘ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، اگرچہ انڈین ایئر فورس نے تیجس کو خریدا لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کے جدید ورژن کا انتظار کریں گے۔

تیجس بننے میں کتنا عرصہ لگا یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور یہ ٹیکنالوجی بیرون ممالک میں کہیں بھی استعمال نہیں ہو رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت انڈیا میں دفاع سے متعلق ایسی کوئی چیز نہیں بنتی جسے یہاں پوری طرح سے تیار کیا جا رہا ہو، ہاں یہ ضرور ہے کہ انڈیا بڑی دفاعی کمپنیوں کی سپلائی چین کا ایک حصہ ہے۔

مثال کے طور پر بوئنگ کمپنی غیر ملکی ہے لیکن اس کے بہت سے حصے انڈیا میں بنتے ہیں جو انڈیا بیرون ملک فروخت کر سکتا ہے۔ پھر یہ ان ممالک میں اسمبل ہوتا ہے۔ انڈیا کی دفاعی ساز و سامان برآمد کرنے کی فہرست بھی ایسی ہی ہے۔

راہل بیدی نے دنیا کے دوسرے ممالک میں انڈیا میں تیار دفاعی اشیا کی مانگ پر دو مثالیں پیش کیں۔

سنہ 2009 کی بات ہے جب انڈیا نے آٹھ ’دھروو‘ ہیلی کاپٹر ایکواڈور کو بیچے تھے۔ ان میں سے چار گر کر تباہ ہو گئے اور ایکواڈور نے باقی کے چار ہیلی کاپٹر انڈیا کو واپس لوٹا دیے اور اس حوالے سے کیا گیا معاہدہ منسوخ کر دیا۔

اسی طرح اناسس رائفل کے ساتھ بھی لگ بھگ یہی کچھ ہوا، یہ رائفل انڈیا نے پڑوسی ملک نیپال کو فروخت کی تھی۔

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دفاعی شعبے کی کمپنیوں کو مختلف پہچان بنانے کی ضرورت ہے جس میں کمپنیوں کو وقت اور رقم دونوں خرچ کرنا پڑتا ہے اور یہ راستہ اتنا آسان نہیں ہے۔