انڈیا، چین سرحدی تنازع: چین کے متعلق مودی حکومت کے بیانات میں اتنا تضاد کیوں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, برجیش مشرا
- عہدہ, بی بی سی
انڈیا اور چین کی سرحد پر کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اس معاملے میں آئے دن الزامات اور جوابی الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔
انڈیا میں مودی حکومت کو دو طرفہ چیلنج درپیش ہے۔ پہلا چیلنج چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانا ہے اور دوسرا چیلنج سیاسی ہے۔ چین کے معاملے پر اپوزیشن مسلسل حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے اور حکومت سے جواب طلب کر رہی ہے۔
انڈیا کے شمال مغربی حصے لداخ کی وادی گلوان میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان دو ہفتوں کی پرتشدد جھڑپوں کے بعد ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ حکومت کے بیانات میں کوئی ہم آہنگی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ چین میں انڈین سفیر کے بیان کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی نظر آتی ہے۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق چین میں تعینات انڈین سفیر نے کہا ہے کہ انڈیا امید کرتا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کی اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے چین ایکچوئل لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) پر اپنی طرف واپس جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پی ٹی آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انڈین سفیر وکرم مصری نے کہا: ’انڈیا نے ہمیشہ ہی ایل اے سی پر اپنی طرف کام کیا ہے۔ زمینی سطح پر چینی فوج کے اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں کمی آئی ہے۔‘
خیال رہے کہ انڈین سفیر کا بیان وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان سے بالکل مختلف تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 19 جون کو ایک آل پارٹی میٹنگ میں کہا تھا کہ ’نہ تو کوئی ہمارے علاقے میں داخل ہوا ہے اور نہ ہی کسی پوسٹ پر قبضہ کیا ہے۔‘ تاہم انھوں نے یہ ضرور تسلیم کیا تھا کہ سرحد پر کشیدگی کے دوران 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
مختلف جوابات سے پیدا ہونے والے سوالات
چین میں انڈین سفیر اور وزیر اعظم مودی کے بیانات میں فرق سے یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا مودی حکومت چین کے سامنے اپنی حکمت عملی میں ناکام ہوچکی ہے اور حزب اختلاف نے حکومت سے مسلسل سوالات پوچھ کر مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ حکومت اب اپوزیشن کو جوابات تو دے رہی ہے لیکن ان میں طنز کا پہلو نمایاں ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اے این آئی کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ انڈیا، وزیر اعظم مودی کی سربراہی میں چین کے خلاف سرحد پر اور ملک کے اندر کورونا وائرس کے خلاف دونوں محاذوں پر کامیابی حاصل کرے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اتوار کے روز اپنے سلسلہ وار پروگرام ’من کی بات‘ میں کہا تھا کہ لداخ میں جن لوگوں نے انڈیا پر ٹیڑھی نگاہ ڈالی تھی انھیں سخت جواب دیا گیا ہے۔
لیکن حزب اختلاف کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کی وجہ سے حکومت کی مشکلات میں اضافہ نظر آتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملک میں ایک طبقہ چینی سامان کے بائیکاٹ کی تحریک چلارہا ہے۔ لیکن سفارتی اور معاشی نقطہ نظر سے انڈیا کے لیے یہ آسان نہیں کہ وہ چینی سامان کا مکمل بائیکاٹ کر سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت کس چیز کا دفاع نہیں کر پا رہی ہے؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نریندر مودی اور امت شاہ کو چین کے ساتھ حالیہ تنازعے کا سیاسی طور پر دفاع کرنے میں دشواری ہو پیش آ رہی ہے؟ اپوزیشن بار بار جواب مانگ رہی ہے۔ آخر حکومت پر کس طرح کا دباؤ ہے اور کس حد تک ہے؟
سینیئر صحافی رادھیکا راماسیشن کا کہنا ہے کہ جس طرح سے حکومت کے بیانات سامنے آئے ہیں اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انھیں پریشانی کا سامنا ہے۔ ایک بیان دوسرے بیان کے خلاف نظر آتا ہے اور ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو پریشانی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 'اگر چین کی جگہ پاکستان نے کوئی ایسا کام کیا ہوتا تو شاید انڈیا کی حکمت عملی اور اس کی انتقامی کارروائی مختلف ہوتی۔ لیکن یہاں سامنے چین ہے اور چین کے ساتھ تعلقات کے مدنظر حکومت کہیں نہ کہیں الجھی ہوئی ہے۔‘
’امت شاہ کا کہنا ہے کہ وہ وائرس کے خلاف جنگ اور سرحد پر جنگ دونوں میں چین کو شکست دیں گے۔ لیکن اگر ہم اعدادوشمار پر نگاہ ڈالیں تو حقیقت کچھ اور ہے۔ جنوبی ایشیا پر نظر ڈالیں تو انڈیا میں انفیکشن کے اعداد و شمار سب سے زیادہ ہیں۔ ہم وہ جنگ کہاں جیت رہے ہیں؟‘
ان کا کہنا تھا ’جہاں تک سرحد پر لڑائی کا تعلق ہے تو یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ چین نے کیا اقدامات کیے۔ کتنا قبضہ کیا ہے۔ کہاں قبضہ کیا ہے؟ کیا انڈیا نے چینی فوجیوں کو واپس بھیج دیا؟ کچھ واضح نہیں ہے۔'
وہ کہتی ہیں کہ اگر وزیر اعظم مودی چاہتے تو 'من کی بات' میں وہ واضح انداز میں بتاسکتے تھے کہ انڈیا کس پوزیشن میں ہے۔
بہر حال سینیئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار پردیپ سنگھ اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ انڈیا کے تعلقات فی الحال جیسے بھی ہوں لیکن حزب اختلاف کے کردار پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
انھوں نے کہا: 'ابھی اگر کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کو چھوڑ دیں تو باقی اپوزیشن حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ قومی سلامتی کے معاملے پر حکومت سے ایسے سوالات اٹھانا اچھا نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’اگر آپ دیکھیں تو شرد پوار نے اپنے بیان میں راہل گاندھی کو بھی ایک طرح سے متنبہ کیا ہے۔ قومی سلامتی کا مسئلہ مذاق نہیں ہے، یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جو پارٹی کی سیاست سے بالاتر ہوتا ہے۔ یہ سیاست کا وقت نہیں ہے۔ اگر انھیں حکومت سے سوال کرنا ہے تو اس کے لیے ایک الگ وقت آئے گا۔‘
حزب اختلاف کے جارحانہ رویے نے بھی حکومت کو پریشان کیا ہے۔ یہ بات حکومت یا بی جے پی کے ترجمانوں کے بیانات سے ظاہر ہوتی ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ اگر کانگریس اس معاملے پر سوالات اٹھا رہی ہے تو اسے پارلیمنٹ میں آکر بات چیت کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا ’سنہ 1962 سے آج تک ہر معاملے پر دو دو ہاتھ ہو جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER/NARENDRAMODI
چین کی بات ہوگی تو پھر سنہ 62 کا ذکر بھی آئے گا
امت شاہ کے اس بیان پر رادھیکا راما سیشن کا کہنا ہے کہ سنہ 1962 کی صورتحال مختلف تھی۔ اس وقت جو ہوا وہ تاریخ میں درج ہے۔ پھر لڑائی ہوئی اور انڈیا کو شکست ہوئی۔ وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اس سے انکار نہیں کیا، وہ بھاگے نہیں اور کھلے دل سے شکست تسلیم کی۔ لیکن اگر اتنے سالوں کے بعد بھی سرحدی مسئلہ حل نہیں ہوگا تو سوال تو اٹھیں گے۔
انھوں نے کہا: ’چین کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں لیکن ہم ان کے ساتھ دشمن جیسا سلوک نہیں کرسکتے ہیں۔ ابھی جو واقعات رونما ہوئے اس سے ایسا لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں حکومت اپنی یا انٹلیجنس کی ناکامی کو چھپانے کے لیے پوری طرح سے کانگریس کے خلاف جارحانہ نظر آتی ہے اور کانگریس بھی اس کھیل میں پھنس گئی ہے۔ وہ بھی حکومت کے جال میں الجھ گئی ہے۔ اپوزیشن کی حیثیت سے کانگریس کا کردار بہت مناسب نہیں ہے۔‘
دوسری جانب اسی بارے میں پردیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ جب بھی چین کی بات ہوگی تو سنہ 1962 کا معاملہ بھی آئے گا۔ پاکستان کی بات ہوگی تو 1947، 1965، 1971 اور کارگل کا ذکر کیا جائے گا۔ جب بھی ان ممالک سے متعلق کوئی سلامتی یا سرحد سے متعلق کوئی معاملہ ہوتا ہے تو یہ سارے معاملات سامنے آئیں گے۔ جن معاہدوں پر دستخط ہوئے ان کا بھی تذکرہ کیا جائے گا۔ آج یہ صورتحال اچانک نہیں آئی ہے۔ یہ کئی سالوں سے جاری ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’1962 میں ہم نے اپنی بہت سی زمین کھو دی۔ تو وہ مسئلہ تو باقی رہے گا۔ اور اگر اکسائی چن جیسی جگہ ہمارے ہاتھ سے چلی گئی تو یہ بات تو یہ مسئلہ باقی رہے گا۔ ابھی معاملہ دراندازی کا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یو پی اے کی دس سالہ حکمرانی میں دراندازی نہیں ہوئی یا ایسے حالات پیدا نہیں ہوئے۔ راہل گاندھی کو ان تمام چیزوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ چین اپنی کسی بات پر قائم نہیں رہتا۔ لہذا اس طرح کے حالات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تلافی کے کیا آپشنز ہیں؟
انڈیا نہ تو چین کے خلاف جنگ کا اعلان کر سکتا ہے اور نہ ہی تجارت کے حوالے سے کوئی محاذ کھول سکتا ہے، کیوں کہ چین پر انڈیا کا کہیں زیادہ انحصار ہے۔ ایسی صورتحال میں ہونے والے نقصان اور سیاسی نقصان کی تلافی حکومت کیسے کرے گی؟
اس کے جواب میں پردیپ سنگھ کہتے ہیں کہ جس طرح کے حالات ہیں اس صورت میں تجارت کے بند ہونے پر صرف انڈیا کو نہیں بلکہ چین کو بھی نقصان ہوگا۔ چین کو زیادہ نقصان ہوگا کیونکہ انڈیا اب تک اس کی سب سے بڑی منڈی رہا ہے۔
انھوں نے کہا: ’انڈیا کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر درآمدات بند کردیں تو اس کی تلافی کس طرح ہوگی۔ متبادل کیا ہیں؟ کتنا سامان ہم یہاں بناسکتے ہیں۔ دوسرے ممالک سے کیا درآمد کیا جاسکتا ہے۔ لہذا اس مسئلے کو بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ویتنام جیسے چھوٹے ملک نے برسوں تک امریکہ کا مقابلہ کیا۔ لیکن اگر وہ یہ سوچتا کہ ہمیں نقصان ہوگا تو ویتنام ختم ہوجاتا۔ ہر حالت میں فائدہ نقصان نہیں سوچا جاتا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔‘
اس سوال پر رادھیکا راماسیشن کا کہنا ہے کہ سیاسی نقصان کی تلافی کے لیے حکومت کے پاس براہ راست پروپیگنڈا ٹولز موجود ہیں جو وہ استعمال کریں گے اور چینی سامان کے بائیکاٹ کے بارے میں مستقل آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ چینی سامان کے بائیکاٹ کا مطالبہ بے معنی ہے۔ ہماری روز مرہ کی زندگی میں چینی سامان کا دخل ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
وہ کہتی ہیں: ’بی جے پی کے پاس قوم پرستی واحد حربہ ہے اور وہ اسے استعمال کریں گے۔ اگرچین کی جگہ پاکستان ہوتا تو کہانی مختلف ہوتی۔ لیکن یہاں چین ہے تو حکومت لگام میں ہے اور وہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے راہیں تلاش کررہی ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ انڈین سفیر کے بیان کی وجہ سے حزب اختلاف کو حکومت پر حملہ کرنے کا موقع ملا ہے اور اگر حکومت بیک فٹ پر نظر آ رہی تھی تو وزیر خارجہ ایس جیشنکر کو فورا پریس کانفرنس یا انٹرویو کے ذریعہ اس معاملے پر حکومت کا موقف بیان کرنا چاہیے تھا۔
’وہ یا تو سفیر کے بیان کی تردید کرتے یا یہ بتاتے گا کہ آیا چین انڈین سرحد میں داخل ہوا ہے یا نہیں اور کیا انڈین فوج انھیں واپس سرحد پار بھیجنے میں کامیاب ہوئی ہے؟ وزیر خارجہ کو اس کا واضح جواب دینے کی ضرورت ہے۔‘













