انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو چینی صدر شی جن پنگ کی ’محبت’ سے کیا حاصل ہوا؟

نریندر مودی اور شی جن پنگ

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشننریندر مودی (دائیں جانب) چینی صدر شی جن پنگ (بائیں جانب) کا استقبال کر رہے ہیں
    • مصنف, سلمان روی
    • عہدہ, نامہ نگار بی بی سی

گذشتہ برس اکتوبر میں چین کے صدر شی جن پنگ جب انڈیا کے دورے پر گئے تو ریاست کیرالہ کے شہر ملاپورم میں انڈین وزیر اعظم نے مقامی لباس پہن کر مقامی طور طریقوں سے ان کا استقبال کیا۔

اس دوران کیرالہ میں یہاں کے مشہور ہاتھیوں کا ایک شو بھی ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک اور تجارتی مسائل پر بات چیت بھی ہوئی۔

اس دورے کے فوراً بعد چین کی سرکاری نیوز ایجینسی ژنہوا نے شی جن پنگ کا ایک بیان جاری کیا جس میں چین کے صدر نے کہا تھا کہ ’ڈریگن اور ہاتھی کو آپس میں مل کر ہی ناچنا چاہیے۔ یہی دونوں ممالک کے لیے بہتر راستہ ہے۔‘

انھوں نے آپس کے تنازعات کو 'صحیح طریقے' سے حل کرنے کی پیروی بھی کی تھی۔ لیکن وہ تنازعات کیا ہیں؟ اور کون سے مسائل ایسے ہیں جن کی بات چین نے کی نہ انڈیا نے؟

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

6 برس میں 18 ملاقاتیں

چین نے یہ بھی واضح کیا کہ 'صحیح طریقے' کیا ہو سکتے ہیں۔ چھ برس میں یہ 18ویں بار تھا جب وزیر اعظم نریندر مودی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملے تھے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی ملاقات جولائی 2014 میں ہوئی تھی جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اکثریت سے لوک سبھا کے انتخابات میں فتح حاصل کی اور گجرات کے وزیر اعلیٰ رہ چکے نریندر مودی انڈیا کے وزیر اعظم بنے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ

،تصویر کا ذریعہGRIGORY SYSOYEV

بی جے پی کی انتخابی مہم کا سب سے اہم چہرہ بھی نریندر مودی ہی تھے جنھوں نے اپنے انتخابی جلسوں میں چین کی انڈین سرحد کے اندر داخل ہونے کی کوشش اور پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کو اہم موضوع بنایا تھا۔

لیکن انتخابات میں مودی کی جیت کے بعد دونوں رہنماؤں کی سب سے پہلی ملاقات برازیل میں ہونے والے 'برکس اجلاس' کے دوران ہوئی تھی۔ برکس پانچ ممالک کا گروہ ہے جس میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

اتفاق سے یہ ملاقات بھی ایک ایسے وقت ہوئی جب اپریل 2013 میں چین اور انڈین فوج کے درمیان مشرقی لداخ کے دیپسانگ علاقے میں کشیدگی ہیدا ہو گئی تھی جو تین ہفتوں تک جاری رہی۔

انڈیا نے الزام لگایا تھا کہ چینی فوج نے انڈیا کے اس علاقے پر دعویٰ ظاہر کرنے کے لیے اپنے خیمے گاڑ لیے تھے۔

جولائی 2014 میں برکس اجلاس کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت کے فوراً بعد ستمبر میں ہی چینی فوجوں نے ایک بار پھر ایل اے سی کے چومار سیکٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔

ستمبر 2014 میں شی جن پنگ انڈیا کے دورے پر آئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب انڈیا کے کسی وزیر اعظم نے کسی ملک کے صدر کا دلی کے علاوہ کسی دوسری ریاست میں استقبال کیا ہو۔

شی جن پنگ نے احمد آباد میں وزیرا عظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد اعلان کیا تھا کہ اگلے پانچ برسوں تک تجارت اور دیگر شعبوں کو فروغ دینے کے لیے چین انڈیا میں 20 کھرب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ

،تصویر کا ذریعہMIKE HUTCHINGS

دونوں ممالک کے درمیان کُل بارہ معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ لیکن ان معاہدوں کو کبھی عمل میں لایا گیا یا نہیں، اس بارے میں اب بھی کئی سوال ہیں۔

شی جن پنگ کا احمد آباد میں شاندار استقبال کیا گیا تھا اور دونوں رہنماؤں نے دریائے سابرمتی کے کنارے کافی وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزارا تھا۔

حالانکہ اسی برس نومبر میں شی جن پنگ نے وزیراعظم مودی کو بھی چین آنے کی دعوت دی تھی۔ مگر نریندر مودی آسٹریلیا، میانمار اور فیجی کے دورے پر گئے۔ چین کی جانب سے یہ دعوت نامہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی کوششوں کے بعد آیا تھا۔

انڈیا اور چین کے باہر بھی مودی اور شی جن پنگ ملتے رہے

مئی 2015 میں نریندر مودی چین کے اپنے پہلے دورے پر گئے۔ وہ دنیا کے پہلے رہنما تھے جن کا استقبال چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے شہر جِیان میں کیا تھا۔

باہمی اعتماد، دہشتگردی، سرحد اور دیگر مسائل پر دونوں رہنماؤں نے بات چیت کی اور باہمی رضامندی بھی ظاہر کی۔ تب بھی دونوں رہنماؤں کی وہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ٹہل رہے تھے۔

جولائی 2015 میں روس کے اوفا میں ہونے والے اجلاس کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت ہوئی جس میں انڈیا نے اقوام متحدہ میں لائے جانے والی اس تجویز پر بات کی جس میں 26/11 حملوں کے ملزم زکی الرحمان کی پاکستان میں رہائی کی مخالفت کی گئی تھی۔

اس تجویز پر چین نے اپنے ویٹو کا استعمال کرتے ہوئے روک لگا دی تھی۔

اس کے بعد 2016 میں دونوں رہنما ازبکستان میں پھر ملے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ

،تصویر کا ذریعہMIKHAIL METZEL

اس جلاس میں مودی نے شی جن پنگ سے کہا تھا کہ ’نیوکلیئر سپلائیرز گروپ‘ میں انڈیا کی رکنیت کے بارے میں غور کریں کیوںکہ چین ہمیشہ سے اس کی مخالفت کرتا آیا ہے۔

جی ٹوینٹی اجلاس چین کے ہانگزو شہر میں ستمبر 2016 میں ہوا تھا۔ اس اجلاس کے دوران بھی مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات ہوئی جس میں انڈیا کی جانب سے ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ یا سی پیک پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس راہداری کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہو کر گزرنے پر کام جاری تھا۔

تاہم مودی نے شی جن پنگ سے کہا تھا کہ انڈیا اور چین ایک دوسرے کے سٹریٹیجک مفادات کی عزت کرتے ہیں۔

اس کے بعد 2016 میں چین کے صدر انڈین شہر گووا میں 'برکس' ممالک کے اجلاس میں شرکت کرنے پہنچے۔ اس اجلاس کے دوران بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت اور سیکیورٹی کے مسائل پر بات چیت ہوئی۔

'ون بیلٹ ون روڈ' کے اجلاس میں انڈیا شامل نہیں تھا

مئی 2017 میں چین نے 'ون بیلٹ ون روڈ' کا اجلاس بلایا جس میں انڈیا نے یہ کہتے ہوئے شرکت سے انکار کر دیا کہ یہ تجویز ممالک کی خود مختاری کے خلاف ہے۔

لیکن اسی برس جون میں ڈوکلام میں سڑک کی تعمیر کے معاملے میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان 73 روز تک کشیدگی رہی تھی۔

2017 میں وزیر اعظم مودی کی ملاقات شی جن پنگ سے قزاقستان میں ہوئی تھی جب انڈیا کو ’شنگھائی کوآپریشن آرگینائیزیشن‘ (شنگھائی تعاون تنظیم یا ایس سی او) کا رکن بنایا گیا۔

جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں 2017 میں جی ٹوینٹی ممالک کے اجلاس کے دوران دونوں رہنما پھر ملے اور دونوں کے درمیان کئی مسائل پر بات ہوئی۔ یہ باضابطہ بات چیت نہیں تھی، اس لیے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان کے درمیان کن موضوعات پر بات ہوئی۔

اُسی برس ستمبر میں چین کے زیامین شہر میں برکس ممالک کے اجلاس میں نریندر مودی اور شی جن پنگ پھر ملے۔

ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ جیشِ محمد، لشکرِ طیبہ اور حقانی گروپ کو بین الاقوامی 'دہشتگرد تنظیموں' کی فہرست میں شامل کرنے کے انڈیا کے مطالبے کی چین نے مخالفت نہیں کی تھی۔

اپریل 2018 میں وزیر اعظم نریندر مودی باضابطہ طور پر چین کے دورے پر گئے۔ دونوں ممالک کے سربراہوں کے درمیان باضابطہ مذاکرات ووہان شہر میں ہوئے۔

جون 2018 میں دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی مسائل پر دو طرفہ مذاکرات چین کے گوانگژو شہر میں ہوئے۔ ان میں دونوں ممالک کی حکمت عملی سے متعلق معاملے بھی شامل تھے۔

2014 میں نریندر مودی کے پہلی بار انڈیا کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے اب تک مودی اور شی جن پنگ 18 بار مل چکے ہیں۔ جبکہ 70 برسوں میں نریندر مودی ہی انڈیا کے ایسے وزیر اعظم ہیں جو پانچ بار چین کے دورے پر جا چکے ہیں۔ لیکن اتنی ملاقاتوں کے باوجود سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

چین کی انڈیا میں کتنی سرمایہ کاری؟

جہاں تک چین کی انڈیا میں سرمایہ کاری کا سوال ہے تو چین سے درآمد کے علاوہ انڈیا میں چین کی کوئی خاص سرمایہ کاری نہیں ہو پائی ہے۔

چین کا انڈیا میں 20 کھرب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا جو وعدہ تھا اس میں سے گذشتہ تین برسوں میں محض ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔

اس میں سے دو تہائی سرمایہ کاری ’سٹارٹ اپ کمپنیوں‘ یا ایسی چھوٹی کمپنیوں میں ہوئی ہے جن کا تعلق انٹرنیٹ اور ای کامرس سے ہے۔ چینی کمپنی علی بابا نے پے ٹی ایم، بگ باسکیٹ اور زوماٹو جیسی ایپس میں سرمایہ کاری کی جبکہ دیگر چینی کمپنیوں نے بائجو، فلپکارٹ اور اولا جیسے سٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں میں چین نے انڈیا میں گاڑیاں بنانے کے شعبے میں 876.73 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

حالانکہ ماہرین کا خیال ہے کہ چین نے جو وعدہ کیا اور جو سرمایہ کاری کی ان کا موازنہ کریں تو سرمایہ کاری بہت کم ہے۔