لداخ کی سرحد پر انڈیا، چین تنازع: انڈین فوجی اہلکار کندن اوجھا جو اپنی نوزائیدہ بیٹی کی ایک جھلک بھی نہ دیکھ سکے

،تصویر کا ذریعہRAVI PRAKASH/BBC
- مصنف, روی پرکاش
- عہدہ, صحافی، رانچی
'میرا بیٹا چین کی سرحد پر شہید ہو گیا لیکن حکومت ابھی بھی خاموش ہے۔ یہ دکھ کی بات ہے۔ اب اپنا بیٹا کھو دیا ہے۔ سامنے 15 دن کی نوزائیدہ پوتی ہے۔ دو سال قبل شادی کرکے آنے والی بہو ہے۔ بتائیے ہم لوگ کیا کریں؟ ہم پر ایسی مصیبت آئی ہے کہ ہمیں اب کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے۔ ہمارے سامنے گہرا اندھیرا ہے۔ باہر تیز بارش ہو رہی ہے اور اندر ہم لوگ رو رہے ہیں۔ سب کچھ برباد ہوچکا ہے۔ اب میں اپنے بیٹے کی لاش کا انتظار کر رہی ہوں۔'
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھوانی دیوی کی آنکھیں بھر آئیں۔
بھوانی دیوی انڈین فوج میں شامل کندن کانت اوجھا کی والدہ ہیں۔ 26 سال کے کندن گذشتہ دو ہفتوں سے لداخ رینج کی وادی گلوان میں تعینات تھے۔ پیر کی رات چینی فوجیوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں ان کی موت ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہRAVI PRAKASH/BBC
منگل کی سہ پہر تین بجے انڈین فوج کے ایک افسر نے فون کیا اور انھیں یہ اطلاع دی۔ اس وقت سے گھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔ سب کا رو رو کر برا حال ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھوانی دیوی نے بتایا 'فون کرنے والے نے مجھ سے پوچھا کہ میں کے کے (کندن) کی کيا لگتی ہوں۔ میں نے اسے بتایا کہ وہ میرا بیٹا ہے۔ پھر انھوں نے پوچھا کہ کیا آپ اس وقت بات کر سکتی ہیں؟ جب میں نے ہاں کہا تو انھوں نے بتایا کہ کندن چین کی سرحد پر شہید ہوگئے ہیں۔ وہ میرے بیٹے کی لاش بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے پہلے اس کی باتوں پر یقین نہیں آیا۔ پھر میں نے اس نمبر پر اپنے جیٹھ (شوہر کے بڑے بھائی) کے بیٹے منوج سے فون کرایا۔ اس افسر نے پھر وہی کہا۔ اب ہم بے بس ہیں اور مزید کچھ نہیں کہہ سکتے۔'
کندن اوجھا 15 دن پہلے باپ بنے تھے
کندن اوجھا کی اہلیہ نیہا نے یکم جون کو بیٹی کو جنم دیا۔ یہ لڑکی اس جوڑے کی پہلی اولاد ہے۔ ابھی بچی کا نام تک نہیں رکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے کہ کندن اسے دیکھنے گھر آتے وہ سرحد پر ہی مارے گئے۔ یہ نوزائیدہ بچی اپنے والد سے کبھی نہیں مل پائے گی۔ نیہا اور کندن کی شادی دو سال قبل ہوئی تھی۔
کندن کی والدہ نے بتایا کہ اگر لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو کندن اپنے گاؤں آ جاتا کیونکہ بچے کی ولادت کے لیے ان کی چھٹی 10 مئی سے طے تھی ’لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے چھٹی منسوخ کر دی گئی۔ اس کے بعد سے وہ وہیں تھا‘۔

،تصویر کا ذریعہRAVI PRAKASH/BBC
یکم جون کو بیٹی کی پیدائش پر کندن نے آخری بار اپنی ںسے بات کی تھی۔ اس کے بعد انھیں وادی گلوان میں تعینات کردیا گیا۔ وہاں نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے پچھلے 15 دنوں سے ان کا فون بند تھا جو اب بھی بند ہے۔
کندن اوجھا کے کزن منوج اوجھا نے بی بی سی کو بتایا کہ کندن اپنے تینوں بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا۔ سنہ 2011 میں انھوں نے انڈین فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کے والد روی شنکر اوجھا کسان ہیں۔ یہ خاندان ریاست جھارکھنڈ کے ضلع صاحب گنج کے ڈیہاری گاؤں میں رہتا ہے۔ ان کا گاؤں صاحب گنج کے مضافات میں واقع ہے۔ ان کے دونوں بھائی نوکری پیشہ ہیں۔
ریاستی حکومت کو کوئی سرکاری معلومات نہیں
ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے کندن اوجھا کی موت پر افسوس اور غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انھیں ’جھارکھنڈ کے بہادر بیٹے کندن اوجھا اور دو دیگر فوجیوں کی شہادت پر فخر ہے‘۔
انھوں نے لکھا 'میں انھیں سلام پیش کرتا ہوں۔ جھارکھنڈ کی حکومت اور پوری ریاست کندن کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔'
اسی دوران صاحب گنج کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) ورون رنجن نے بی بی سی کو منگل کو بتایا تھا کہ ’ہمیں ابھی تک (رات پونے دس بجے تک) فوج کی طرف سے سرکاری طور پر کوئی معلومات حاصل نہیں ہوئیں‘۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انھوں نے کہا ’ہمیں یہ معلومات صرف کندن اوجھا کے کنبہ سے ملی ہے۔ ہم نے فوج سے درخواست کی ہے کہ وہ اس کی سرکاری معلومات دے۔ وہاں نیٹ ورک کا بھی مسئلہ ہے۔ ایسی صورتحال میں ہمیں امید ہے کہ بدھ تک سرکاری خط مل جائے گا۔ تاہم اس اطلاع کے بعد میں نے اپنے کچھ عہدیداروں کو ان کے گھر بھیجا ہے اور خاندان کے افراد سے بات چیت کی ہے۔ ہم ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انھیں ہر طرح کی مدد دی جائے گی۔'
ڈی سی ورون نے کہا کہ چونکہ وہاں حالات سخت ہیں اور کوئی سرکاری بات چیت نہیں ہوئی ہے اس لیے ایسی صورتحال میں کندن اوجھا کی لاش جمعرات تک آنے کی امید ہے۔










