ایران: ایرانی جنگی جہاز سے ’غلطی سے داغے گئے‘ میزائل سے ایرانی بحریہ کے 19 اہلکار ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
خلیج عمان میں پیش آنے والے ایک حادثے کے نتیجے میں ایرانی بحریہ کے نو فوجی ہلاک جبکہ 15 زخمی ہو گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی بحریہ کے ایک معاون جہاز ’کنارک‘ کو مشقوں کے دوران داغا گیا ایک نیا جہاز شکن میزائل غلطی سے جا لگا۔ اس میزائل کا تجربہ ایرانی جنگی جہاز ’جماران‘ کے ذریعے اتوار کو کیا جا رہا تھا۔
ایرانی بحریہ کا جہاز کنارک سمندر میں اہداف پر نشانے لگانے میں مصروف تھا اور جس وقت یہ حادثہ پیش آیا وہ ایک ہدف کے قریب ہی موجود تھا۔
ایران کی بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ کنارک کو کھینچ کر ساحلِ سمندر پر پہنچا دیا گیا ہے اور اب اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ایرانی بحری جہاز کو یہ حادثہ آبنائے ہرمز میں پیش آیا جو دنیا کی اہم ترین آبی گزر گاہ ہے اور دنیا بھر کے ملکوں کو سپلائی کیے جانے والے تیل کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزر کر جاتا ہے۔
ایرانی بحریہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’جسک اور چاہ بہار کے ساحلوں کے قریب اتوار کی شام کو بحریہ کی معمول کی مشقوں، جس میں کئی جنگی جہاز حصہ لے رہے تھے، کے دوران یہ حادثہ ایک ہلکے معاون جہاز کنارک کو پیش آیا جس میں بحریہ کے کئی بہادر اہلکار شہید ہو گئے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کنارک کو تیکنیکی جائزے کے لیے ساحل پر پہنچا دیا گیا ہے لیکن بحریہ کی طرف سے حادثے کی اور کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف میجر جنرل عبدل الرحیم موسیٰ نے ہلاک ہونے والے نو اہلکاروں کے حوالے سے جاری کردہ اپنے ایک تعزیتی بیان میں کہا ہے ’انھوں (اہلکاروں) نے اپنے ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کو وقف کر دیا تھا۔‘

بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا تجزیہ
ایران کی بحریہ میں اس طرح کی غلطی پہلی مرتبہ نہیں ہوئی ہے۔
رواں برس جنوری میں ایران کے دفاعی دستوں نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے دو میزائلوں سے یوکرین کے ایک مسافر بردار طیارے کو نشانہ بنایا تھا۔
ایران سے یہ غلطی ایک ایسے وقت ہوئی تھی جب اسے امریکہ کی طرف سے کارروائی کا شدید خطرہ تھا۔
اتوار کو پیش آنے والا حادثہ انتہائی مختلف حالات میں ہوا ہے۔

یہ واقعہ پہلے سے طے شدہ معمول کی جنگی مشقوں کے دوران پیش آیا ہے جس سے ایران کی بحریہ کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے علاوہ اس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے بارے میں بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے۔
ایران اپنی بحری سرگرمیوں کو وسعت دینے اور اپنے بحریہ کے جنگی ساز و سامان کو بہتر کرنے کی کوشش میں ہے۔
لڑاکا جہاز جماران مقامی طور پر بنائے گئے جہازوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایرانی بحریہ کو ایک نئی جہت دیں گے۔
لیکن اس نئی سروس پر کسی حد تک زیادہ توجہ نہیں رہی ہے۔ یہ پاسداران انقلاب کا جنگی بحری بیڑا ہے جو تیز رفتار چھوٹے جہازوں پر مشتمل ہے اور خلیج عمان سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کو پریشان اور نگرانی کرنے کے لیے اکثر استعمال کیے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNot Specified
ابتدا میں ایرانی ذرائع ابلاغ نے ہی یہ اطلاع دی تھی کے کنارک حادثاتی طور پر ایک جہاز شکن میزائل کی زد میں آ گیا تھا جو کہ جسک کی بندرگاہ کے قریب معمول کی بحری مشقوں میں شامل جماران نامی جہاز سے داغا گیا تھا۔
سرکاری ٹی وی سے اس بارے میں نشر ہونے والی خبر میں کہا گیا کہ کنارک جو ایرانی بحریہ کا ایک ہلکا معاون جہاز ہے وہ اس مشقوں میں شامل جہازوں کے لیے سمندر میں اہداف لگا رہا تھا اور جس وقت یہ حادثہ پیش آیا وہ ایک ہدف کے قریب ہی موجود تھا۔
سرکاری نشریاتی ادارے نے اس حادثے کے بعد کی ایک ویڈیو اپنی ویب سائٹ پر جاری کی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس ویڈیو میں کنارک کو ہونے والا نقصان صاف نظر آ رہا ہے اور جہاز سے دھواں بھی بلند ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا اس وقت عملے کے کتنے افراد جہاز پر موجود تھے۔
ایرانی افواج کے کمانڈر ان چیف میجر جنرل موسوی اور پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے تعزیتی پیغام جاری کیے ہیں۔
کنارک 47 میٹر لمبا ہیڈنجن کلاس کا رسد فراہم کرنے والا جہاز ہے جو ایران نے 1979 کے انقلاب سے قبل ہالینڈ سے حاصل کیے تھے۔











