انڈیا میں ’بوائز لاکر روم‘ کا تنازع: ’لڑکے کے کردار کو جانچنے کے لیے لڑکی نے خود ہی فرضی پروفائل سے ریپ کا منصوبہ بنایا‘

،تصویر کا ذریعہPA MEDIA
- مصنف, کملیش
- عہدہ, نامہ نگار، بی بی سی
انڈیا میں گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر لڑکیوں کے ریپ کے بارے میں ہونے والی چیٹ (بات چیت) کا معاملہ سامنے آیا تھا۔
پولیس کی تفتیش میں سامنے آنے والی نئی معلومات سے پتا چلا ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی جس چیٹ میں گینگ ریپ کی بات کی گئی تھی وہ ایک لڑکی کے اکاؤنٹ سے کی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لڑکی نابالغ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی چیٹ انسٹاگرام کے ’بوائز لاکر روم‘ میں نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ سنیپ چیٹ پر دو افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو تھی۔
اس چیٹ میں سدھارتھ نام کی فرضی پروفائل سے گینگ ریپ کی بات کی گئی تھی۔
سائبر کرائم ونگ کے پولیس افسر انییش رائے نے بتایا کہ ’سنیپ چیٹ پر ایک لڑکی نے سدھارتھ نام سے فرضی اکاؤنٹ بنایا تھا۔ لڑکی گینگ ریپ کی بات کر کے ایک لڑکے کے کردار کے بارے میں پتا لگانا چاہتی تھی۔ یہ دو لوگوں کے درمیان ہونے والی چیٹ تھی اور لڑکی کی نیت ریپ کی نہیں تھی، اس لیے قانونی طور پر لڑکی کے خلاف مقدمہ نہیں بنتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ انڈیا میں چند روز قبل سوشل میڈیا پر #BoisLockerRoom اور #GirlsLockerRoom ٹرینڈ کر رہے تھے۔
یہ دونوں چیٹ گروپ ہیں جو فوٹو شیئرنگ نیٹ ورکنگ سائٹ انسٹاگرام پر بنائے گئے تھے۔ چار اور پانچ مئی کو ان کے سکرین شاٹ ٹوئٹر پر گردش کرنے لگے۔
بوائز لاکر روم میں نابالغ لڑکیوں کی تصاویر شیئر کر کے ان پر غیر مناسب آرا کا اظہار کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی مبینہ طور پر ریپ اور گینگ ریپ کی گفتگو پر مبنی سکرین شاٹس بھی وائرل ہو گئے تھے۔
اسی طرح گرلز لاکر روم میں بھی لڑکوں کے بارے میں غیر مناسب آرا کا اظہار کیا گیا تھا اور کچھ تصاویر بھی شیئر کی گئی تھیں۔
سنیپ چیٹ پر کیا ہوا تھا؟

،تصویر کا ذریعہGetty creative stock
پولیس کی تفتیش کے مطابق سنیپ چیٹ پر ایک لڑکی نے سدھارتھ نام سے ایک پروفائل بنایا۔ اس پروفائل سے وہ ایک لڑکے سے بات کیا کرتی تھی۔ لڑکی نے اسی فرضی پروفائل اس لڑکے کو ریپ کا ایک منصوبہ پیش کیا۔ فرضی اکاؤنٹ سے بات کرنے والی لڑکی درحقیقت اپنے ہی ریپ کی بات کر رہی تھی۔
چیٹ میں لکھا تھا ’ہم اس کا آسانی سے ریپ کر سکتے ہیں۔۔۔میں گینگ ریپ کے لیے کچھ اور لڑکوں کو بھی بلا سکتا ہوں۔‘
اس کے جواب میں لڑکے نے ’نو‘ لکھ کر منع کر دیا تھا اور ’سدھارتھ‘ سے اس موضوع پر مزید بات نہیں کی تھی۔
پولیس کو دستیاب معلومات کے مطابق یہ چیٹ صرف ان دو لوگوں کے درمیان ہو رہی تھی۔ پولیس یہ پتا چلانے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ آیا اس موضوع پر مزید بات چیت بھی ہوئی یا آگے کی چیٹ ڈیلیٹ کر دی گئی۔
دلی پولیس کے مطابق ’لڑکی ایسی باتوں کے ذریعے اس لڑکے کا رد عمل، لڑکیوں کے بارے میں اس کے خیالات اور لڑکے کے کردار کے بارے میں معلوم کرنا چاہتی تھی۔‘
پولیس کے مطابق سنیپ چیٹ پر بات کرنے والے یہ دونوں صارفین نابالغ ہیں اور ان کا بوائز لاکر روم نامی گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس معاملے میں استعمال ہونے والے الیکٹرانک آلات پولیس نے ضبط کر لیے ہیں اور مزید جانچ پڑتال کے لیے فرانزک لیبارٹری بھیج دیے ہیں۔
دلی پولیس نے بتایا کہ ’سدھارتھ’ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو چیٹ میں شامل کر کے لڑکے نے اپنے دوستوں کو سدھارتھ کے ارادوں کے بارے میں بتایا تھا۔
ساتھ ہی اس لڑکی کو بھی مطلع کیا تھا کہ سدھارتھ نام کا لڑکا اس کے ساتھ جنسی زیادتی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ لیکن اس وقت کسی کو نہیں پتا تھا کہ خود سدھارتھ ہی وہ لڑکی ہے۔
اس سکرین شاٹ کو لڑکے کے دوستوں میں سے کسی نے تھوڑی دیر کے لیے انسٹا گرام پر سٹوری کے طور پر شیئر کر دیا۔ وہاں سے سکرین شاٹ مزید دوستوں اور ساتھ پڑھنے والوں کے درمیان شیئر ہونے لگا۔

،تصویر کا ذریعہDELHI POLICE
سنیپ چیٹ کی گفتگو کا سکرین شاٹ بوائز لاکر روم میں تھا اور بوائز لاکر روم کے اس سکرین شاٹ سے اسے بوائز لاکر روپ کی چیٹ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ پولیس کے مطابق گینگ ریپ کی چیٹ والا سکرین شاٹ مختلف سٹوڈنٹ گروپس میں شیئر ہو رہا تھا اس لیے اسے بوائز لاکر روم کی چیٹ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
انییش رائے نے بتایا کہ سنیپ چیٹ میں شامل دونوں لوگ، بوائز لاکر روپ میں ایک دوسرے سے کسی طرح رابطے میں نہیں آئے۔ ان کی بات چیت مارچ کے آخر میں ہوئی تھی اور تب تک شاید بوائز لاکر روم گروپ بنا بھی نہیں تھا۔
وہیں بوائز لاکر روم گروپ کی بات کریں تو اس میں شامل 24 افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔ ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ باقی لوگوں کی تلاش جاری ہے۔ بوائز لاکر روم کے ایڈمن کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اس معاملے میں دلی پولیس کے خصوصی سیل نے آئی ٹی اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت ایک ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔
دلی پولیس کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ تین انسٹاگرام اکاؤنٹس کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اس معاملے میں مزید تکنیکی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ تفتیش کے دوران ضبط کیے جانے والے آلات کو فرانزک آڈٹ کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔











