اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ، ایک ملک کے دو ’صدور‘: افغانستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟

اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, خدائے نور ناصر
    • عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد

افغانستان میں پیر کو نو منتخب صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے اپنے عہدے کا حلف ایک ایسے وقت میں اٹھایا جب عین اسی وقت ان کےسیاسی حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ بھی اسی عہدے یعنی افغان صدر کے لیے حلف اٹھا رہے تھے۔ دونوں نے ٹویٹر پر اپنے ساتھ ’صدراسلامی جمہوریہ افغانستان‘ بھی لکھ لیا ہے۔

کابل میں یہ سیاسی عدم استحکام ایسے وقت میں سامنے آرہا ہے جب گذشتہ چار عشرے میں پہلی بار افغان عوام ’امن‘ دیکھنے کے انتہائی قریب دکھائی دے رہے تھے۔

حال ہی میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط کے بعد بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے لیے دس مارچ کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسی سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ان مذاکرات کا دوسرا دور اعلان شدہ تاریخ پر نہیں ہو سکا۔

الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق اشرف غنی ہی صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں اور وہ ہی افغانستان کے صدر ہیں اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے سفرا، نیٹو، یورپی یونین اور بین الاقوامی برادری کے نمائندوں نے اشرف غنی کی حلف برداری میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم افغان صحافی ہارون نجفی زادہ بتاتے ہیں کہ ایران، روس اور ترکی کے سفیر صدر غنی کی حلف برداری میں شریک نہیں ہوئے۔

دوسری جانب کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ابراہیم صافی کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی حلف برداری کی تقریب میں انھوں نے کسی بھی غیر ملکی سفیر کو نہیں دیکھا۔

اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگرچہ افغان عوام میں موجودہ سیاسی عدم استحکام پر سخت تشویش پائی جاتی ہیں، وہاں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ کو اپنی حلف برداری سے کیوں روک نہیں پائے؟ کیا وہ قانون سے بالاتر ہیں یا پھر اب بھی ’وار لارڈز‘ کی حکمرانی ہے؟

افغان صحافی سمیع یوسفزئی کے مطابق نو مارچ کو ہونے والی ان دو حلف برداریوں کی وجہ سے یہ دن افغانستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن ہے۔

’یہ صرف ایک دن نہیں تھا کہ الگ الگ حلف برداریاں ہوئیں، بلکہ یہ ایک مشکل دور کا آغاز ہے۔‘ ان کے مطابق حکومت اگر پہلے ہی دن ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی حلف برداری نہیں روک سکی تو بعد میں کیا کرسکیں گے۔

تاہم کابل میں موجود صحافی اور تجزیہ کار طاہر زلاند سمجھتے ہیں کہ یہ سیاسی عدم استحکام چند دنوں کے لیے ہے۔ ’میرے خیال میں یہ کشیدگی چند دنوں میں بات چیت کے ذریعے ختم ہو سکتی ہے۔‘

طاہر زلاند اس کی وجہ بین الاقوامی برادری کی اشرف غنی کی حلف برداری میں شرکت سمجھتے ہیں اور ان کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو احساس ہو گیا ہے کہ کسی ملک نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔

’اب ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کوشش کریں گے کہ ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت میں ان کو کچھ دیا جائے۔‘

عبداللہ عبداللہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افغانستان جس سیاسی بحران سے آج گزر رہا ہے یہی بحران 2014 کے صدارتی انتخابات کے بعد بھی پیدا ہوا تھا جب اس وقت بھی ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا اور بعد میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ثالثی کے بعد نیشنل یونیٹی گورنمنٹ بنائی گئی جس میں عبداللہ عبداللہ کو چیف ایگزیکٹو کا عہدہ دیا گیا۔

صحافی اور تجزیہ کار طاہر خان سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں ایک ایسے وقت میں موجودہ سیاسی بحران نے جنم لیا ہے جب وہاں سے امن عمل کے لیے ایک مضبوط اور متحد آواز آنی چاہیے تھی۔ تاہم ان کے مطابق 2014 کا معاہدہ آج بھی افغان صحیح نہیں سمجھتے ہیں اور نہ ہی امریکہ 2014 کا فارمولا آزمائیں گے۔

اشرف غنی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

طاہر خان کے مطابق افغانستان میں آج بھی ’وار لارڈز‘ اور طاقتور شخصیات موجود ہیں جو حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ ’ایک اور فیکٹر افغانستان میں سکیورٹی فورسز کے کمپوزیژن میں زبان کا ہے جسے میں ڈویژن نہیں کہوں گا البتہ ایک اثر ہوتا ہے۔ ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک حکومت ہو، ایک صدر ہو جس کو الیکشن کمیشن نے کامیاب قرار دیا ہو تو کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی دوسرابندہ بھی اٹھ جائے اور اعلان کرے کہ میں بھی صدر کا حلف اٹھاوں گا اور اٹھا بھی لے۔‘

صحافی طاہر زلاند کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور صدر اشرف غنی دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت ان کے آپس کی لڑائی سے زیادہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ضروری ہیں اور اسی لیے وہ اس سیاسی بحران کو طول نہیں دیں گے۔ جبکہ سمیع یوسفزئی اور طاہر خان دونوں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ طالبان کو پہنچ رہا ہے۔

مبصرین کے خیال میں اگر افغانستان میں موجودہ سیاسی بحران طول پکڑتا ہے تو نہ صرف طالبان، داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کے لیے وہاں میدان خالی ہو گا بلکہ اس کے منفی اثرات سے خطے کے ممالک بھی نہیں بچ سکیں گے۔