پاکستانی طالبان کے سابق نائب سربراہ شیخ خالد حقانی اور اہم کمانڈر قاری سیف یونس کا افغانستان میں پراسرار قتل

،تصویر کا ذریعہSCREENGRAB
- مصنف, سکندر کرمانی، اشتیاق محسود، سمیع یوسفزئی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مرکزی علاقے میں حال ہی میں دو افراد کی ہلاکت ایک ایسی خبر تھی جس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔
مارے جانے والے بھی شاید اپنی شناخت چھپانا چاہتے تھے۔ ذرائع کے مطابق ان دونوں کے پاس موجود شناختی کاغذات جعلی تھے۔
وہ کابل میں کیا کر رہے تھے اور انھیں کس نے قتل کیا یہ تاحال ایک راز ہے جس کے تانے بانے اس خطے میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسند گروہوں کے باہمی تعلق سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ دونوں افراد کون تھے کم از کم یہ اب واضح ہو چکا ہے۔ پاکستانی خفیہ اداروں اور شدت پسند گروپوں کے ذرائع کے مطابق یہ دونوں افراد پاکستانی طالبان کے سینیئر رہنما تھے۔
مارے جانے والے ایک شخص کا نام شیخ خالد حقانی ہے۔
شیخ خالد حقانی پاکستانی طالبان کی قیادت میں اہم مقام رکھتے تھے اور ماضی میں اس گروہ کے نائب سربراہ بھی رہ چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان پر پاکستان میں اہم سیاستدانوں پر ہونے والے حملوں اور سنہ 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے جس میں 150 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے جن میں سے بیشتر نوعمر بچے تھے۔
مارے جانے والے دوسرے شحص قاری سیف یونس ہے جو پاکستانی طالبان کے ایک کمانڈر تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ رات پاکستانی طالبان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دونوں افراد کی شناخت اور ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے تاہم اس حوالے سے طالبان نے بہت کم تفصیلات فراہم کی ہیں۔
شدت پسندوں کے ایک ذریعے کے مطابق یہ دونوں طالبان کی مرکزی قیادت کے حکم پر کابل میں ایک ’خفیہ ملاقات‘ کے لیے موجود تھے اور بظاہر مشرقی صوبے پکتیکا سے دارالحکومت آئے تھے تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ کس سے ملنے والے تھے۔
پاکستانی خفیہ اداروں کے ایک ذریعے کے مطابق ان افراد کی لاشیں انٹرکانٹینینٹل ہوٹل کے قریبی علاقے سے ملیں۔ یہ وہ ہوٹل ہے جہاں حالیہ برسوں میں دو مہلک حملے ہو چکے ہیں۔
یہ ہلاکتیں گذشتہ ہفتے ہوئیں لیکن تحریکِ طالبان پاکستان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدا میں قیادت نے اس خبر کو چھپانے کا حکم دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق جہاں طالبان کو ان ہلاکتوں سے دھچکا پہنچا ہے وہیں وہ ان سوالات کا سامنا کرنے کو بھی تیار نہیں کہ یہ دونوں افراد کابل میں کر کیا رہے تھے۔
پاکستانی طالبان کے اہم رہنماؤں کا کابل کا سفر کرنا غیرمعمولی ہے۔ یہ گروپ افغان طالبان سے بالکل الگ ہے اور ان کے مقاصد اور حامی بھی ایک نہیں۔ افغان طالبان جہاں ملک میں امریکی قیادت میں موجود غیر ملکی افواج کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک چلا رہے ہیں وہیں پاکستانی طالبان کی کارروائیوں کا ہدف پاکستانی حکام اور تنصیبات ہیں۔
پاکستان پر ایک عرصے سے افغان طالبان کی پشت پناہی کے الزامات لگتے رہے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ افغان حکومت نے جواباً پاکستانی طالبان سے تعلق استوار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ گروپ جو حالیہ برسوں میں کمزور ہوا ہے اب افغانستان کے اس مشرقی حصے میں ٹھکانہ بنائے ہوئے ہے جو حکومت کے کنٹرول میں سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان ہو یا افغانستان دونوں ہی شدت پسند گروپوں کی حمایت سے انکار کرتے ہیں۔
پاکستانی طالبان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں افراد کی ہلاکت امریکی فوج سے ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران ہوئی۔
امریکہ افغان طالبان سے بات کر رہا ہے اور اس کا مقصد ملک میں 18 برس سے جاری لڑائی کا خاتمہ ہے۔ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اس کا کردار کلیدی رہا ہے۔
شدت پسندوں کے ذرائع نے تسلیم کیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں سے منسلک مسلح افراد یا شدت پسند ان ہلاکتوں کے ذمہ دار ہوں۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ دسمبر 2018 میں قندھار میں ایک خودکش حملے میں ایک ایسے ہی بلوچ شدت پسند رہنما کو ہلاک کیا گیا تھا جو افغانستان میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔
اسی طرح افغان طالبان سے منسلک افراد پاکستان میں ہلاک کیے جاتے رہے ہیں۔ سنہ 2013 میں افغان طالبان کے ایک سینیئر رہنما کو اسلام آباد کے نواح میں ایک تندور پر ہلاک کیا گیا تھا۔
پاکستانی طالبان کے ذرائع کے مطابق کابل میں ہلاک کیے جانے والے دونوں افراد کی لاشیں گروپ کے حوالے کی گئیں اور رواں ہفتے انھیں کنٹر میں ایک بڑے جنازے کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا۔
اب یہ لاشیں طالبان کو واپس کیسے ملیں اس سوال کا جواب ہنوز نہیں مل سکا ہے۔













